|

مجلہ امکانات کی اشاعت-ایک مکالمہ

Abstract

This section of Imkanat’s first issue documents a written dialogue that took place on a WhatsApp group formed by Dr. Zishan Ahmad Misbahi on 18th June 2026, bringing together nearly seventy scholars from across India to discuss launching an online journal responding to the social, educational, economic, and religious drift facing Muslims today. Dr. Misbahi opens by asking whether such a journal is needed, whether it can succeed, and what shape it should take. The responses that follow are wide-ranging and often disagree with one another. Several scholars welcome the idea and stress that any inter-school platform must build on shared ground rather than old sectarian quarrels. Others raise sharper doubts: one contributor argues that Muslims already have no shortage of platforms, articles, and journals — what’s missing is people willing to read, act, and think seriously — and questions whether “possibilities” is even the right name if real paths forward already feel blocked. Suggestions range from treating the project as a “thinking platform” rather than a conventional journal, to keeping it collective rather than personality-driven, to combining online and print publication. A few contributors, writing partly in English, name poverty, weak education, and sectarian leadership as the deeper problems any journal must eventually address.

کیا روشنی کے  امکانات باقی ہیں؟

ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مزاج عالی! مسلمانوں کی موجودہ سیاسی، سماجی ، تعلیمی، معاشی اور مذہبی ومسلکی صورت حال میں ان پر یک گونہ یاسیت کی فضا طاری ہے۔ کیا ایسے میں یہ ممکن ہے کہ ان کی فکری وعملی تعمیر کے لیے کوئی ایسا آن لائن رسالہ شروع کیا جائے جو یاسیت کی تاریکی میں ان کے لیے امید کے امکانات پر بات کرسکے؟ کیا کسی ایسی بین المسالک آن لائن رسالے کی ضرورت ہے؟کیا کسی ایسے آن لائن رسالے کی افادیت ہے؟کیا اس کی کامیابی کی کوئی امید کی جاسکتی ہے؟اس کا ممکنہ خاکہ کیا ہوسکتا ہے؟اس کے اجرا اور تسلسل میں کن ضروری چیزوں کو ملحوظ خاطر رکھا جانا ضروری ہے؟ اور اس کے لیے کن وسائل و ذرائع کی ضرورت پڑے گی؟احباب ذی وقار میں سے کون کون سے لوگ اپنے طور پر کیا رضا کارانہ خدمات پیش کرسکیں گے؟

مجھے امید ہے کہ احباب کرام اپنی گراں قدر آرا سے مستفیض فرمائیں گے۔

گفتگو، فکر کا ، فکر تحریر کا ، تحریر تحریک کا اور تحریک عمل کا سبب بنے گی۔


بین المسالک علمی اسٹیج  پر مکالمہ یقیناً مفید ہے!

ڈاکٹر اجمل فاروق ندوی، دہلی

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! برادرِ گرامی ! امکانات پر گفتگو، فکری تعمیر اور مسائل کے حل پر غورو فکر اور وہ بھی بین المسالک علمی اسٹیج پر، یقیناً یہ ملت اسلامیہ کے لیے کئی طرح سے انتہائی مفید ہوسکتا ہے۔ محرم کے مبارک مہینے میں اس مبارک سفر کی جانب پہلا قدم بڑھانا بھی فال نیک ہے۔ اس کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارک باد قبول فرمائیں۔💐

تین چار سال پہلے اسی طرح کے بین المسالک رسالے ’’رہ نما‘‘ کا خاکہ بنایا تھا، لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کام یابی نہ مل سکی. ایک دو روز میں گھر پہنچ کر وہ خاکہ جوں کا توں آپ کو بھیج دوں گا. شاید کچھ کام آجائے۔

اپنی بے حیثیتی کے باوجود اس مبارک منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دل و جان سے حاضر ہوں۔


بین المسالک اشتراکات پر کام وقت کی ضرورت ہے!

مولانا شہباز عالم مصباحی ، اسلام پور

بین المسالک امکانات ہندوستانی مسلم امہ کے لیے از حد ضروری ہیں ۔بین المسالک علمی اختلافات ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن ہمیں اشتراكات پر کام کرنا ہے، اختلافات کے لیے دیگر اہل علم ہیں اور یہ کام وہ علمی و تحقیقی طور پر انجام دے رہے ہیں اور دے بھی چکے ہیں ۔

مسلکی اختلافات کے بجائے ملی اشتراکات بھی ہمارے پاس ہیں جن پر ہمیں کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ کام بانٹ لیے جائیں، ہر کام اپنے ذمے نہ لیا جائے ۔ ہمارے ساتھ شیعہ و روافض، اہل حدیث اور دیگر بھی اس سفر میں ہو سکتے ہیں جن سے اہل سنت و اہل تقلید کے اختلافات ہیں اور رہیں گے اور انہیں مٹانا ہمارے بس کا نہیں کہ سب کے پاس اپنے دلائل ہیں اور علمی روایت ۔ فی الحال ہندوستان میں مسلمانوں کو مشترکہ مسائل پر متحد کرنے اور ایک اشتراکی ٹیم تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔


ہر طبقے میں مخلصین موجود ہیں!

مولانا فیضان عزیزی، مراد آباد

ماشاءاللہ !مسلمانوں کی فکری و نظریاتی ہم آہنگی کے لیے منصوبہ بندی کے تحت مشورہ طلب کیا گیا، جو ملی ہم دردی کو واضح کرتا ہے ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کی موجودہ سیاسی، سماجی ، تعلیمی، معاشی اور مذہبی ومسلکی صورت حال میں ان پر یک گونہ یاسیت کی فضا طاری ہے۔اب اس فضا سے باہر نکلنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہوگا، بلکہ کام کا اصل وقت ایسے ہی حالات ہوتے ہیں۔ یقیناً ایسے میں یہ ممکن ہے کہ ان کی فکری وعملی تعمیر کے لیے کوئی ایسا آن لائن رسالہ شروع کیا جائے جو یاسیت کی تاریکی میں ان کے لیے امید کے امکانات پر بات کرسکے، کیوں کہ کسی مسئلہ کے حل کے لیے پہل بات سے ہی ہوتی ہے۔

بین المسالک آن لائن رسالے کی ضرورت اس لیے بھی ہے کیوں کہ ہر مسلک میں مخلصین موجود ہیں جو اس رسالے کے ذریعے اپنی بات رکھ کر امت کے اتحاد میں بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں اور یہی ایسے آن لائن رسالے کی افادیت ہے ۔ اس کی کامیابی کی امید بہت زیادہ ہے، اگرچہ ابتدا میں کچھ مشکلات کا سامنا ہوگا۔

اس کا ممکنہ خاکہ تجربے کار حضرات بہتر بنا سکتے ہیں، لیکن اگر ملی ایشوز پر باتیں ہوں گی تو دھیرے دھیرے سب کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔ ذمہ دار لوگوں کی ٹیم کا ہونا ضروری ہے ،اگر چہ دو تین افراد ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر یہ ماہانہ ہے تو بارہ مرتبہ اور سہ ماہی ہے تو چار مرتبہ کے اخراجات کا تخمینہ لگا کر پہلے اماؤنٹ ضرور جمع کر لیا جائے، پھر دھیرے دھیرے رسالے کی کامیابی پر رسالے کی ضخامت اور شماروں کی تعداد کو بڑھایا جا سکتا ہے ۔ویسے ہر کام پہلے ابتدا چاہتا  ہے،پھر استقامت۔ اللّٰہ کریم ہمیں ابتدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!


چند تلخ سوالات!

ڈاکٹرسید سبطین حیدر زیدی ، مارہرہ

محترم! آپ کی تجویز بظاہر نہایت دلکش معلوم ہوتی ہے، لیکن میرے نزدیک اس نوعیت کے ایک اور آن لائن رسالے کے آغاز سے پہلے چند تلخ سوالات کا سامنا کرنا ضروری ہے۔

  • سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مسلمانوں کو ایک اور رسالے کی ضرورت ہے؟آج صورت حال یہ ہے کہ مضامین، بلاگز، یوٹیوب چینلز، واٹس ایپ گروپس، فیس بک پیجز، آن لائن جرائد اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی کمی نہیں۔ مسئلہ مواد کی قلت نہیں، بلکہ اثر انگیز مواد کی قلت ہے۔ لوگ پڑھ نہیں رہے، عمل نہیں کر رہے، اور سنجیدہ مطالعے کی عادت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
  • دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ’’امید‘‘ کا بیانیہ خود ایک رومانوی تصور تو نہیں؟ کئی مرتبہ قوموں کی اصلاح امید کے نعرے سے نہیں، بلکہ حقیقت کے بے رحم ادراک سے ہوتی ہے۔ اگر بیماری شدید ہو تو معالج کا کام مریض کو تسلی دینا نہیں ،بلکہ تشخیص کرنا ہے۔ مسلسل ’’مثبت سوچ‘‘ کا پیغام کہیں حقیقت سے فرار کا ذریعہ تو نہیں بن جائے گا؟
  • تیسرا سوال بین المسالک ہونے کا ہے۔تجربہ بتاتا ہے کہ ’’بین المسالک‘‘ منصوبے عموماً دو انتہاؤں میں سے ایک کا شکار ہو جاتے ہیں:یا تو وہ اتنے غیر جانب دار بن جاتے ہیں کہ ان کی کوئی فکری شناخت باقی نہیں رہتی۔ یا پھر آہستہ آہستہ کسی ایک فکری دھارے کا غلبہ قائم ہو جاتا ہے اور دوسرے لوگ الگ ہو جاتے ہیں۔ اس لیے سوال یہ ہے کہ کیا بین المسالک پلیٹ فارم واقعی قائم رہ سکتا ہے یا یہ محض ایک خوب صورت خواب ہے؟
  • چوتھا سوال وسائل کا ہے۔ رسالے شروع کرنا آسان ہے، جاری رکھنا مشکل۔ پہلے تین ماہ سب لکھتے ہیں، چھ ماہ بعد چند لوگ رہ جاتے ہیں، ایک سال بعد بانی خود تنہا رہ جاتا ہے۔اس لیے اصل سوال اجرا کا نہیں، تسلسل کا ہے۔
  • پانچواں سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کا اصل بحران فکری ہے یا ادارہ جاتی؟ اگر تعلیمی ادارے کم زور ہیں، معاشی طاقت کم زور ہے، سیاسی نمائندگی کم زور ہے، تو محض مضامین لکھنے سے کیا تبدیلی آئے گی؟ کیا ہمیں ایک اور رسالے کے بجائے ایک اور اسکول، ایک اور اسکالرشپ فنڈ، ایک اور تھنک ٹینک یا ایک اور روزگار پروگرام کی ضرورت نہیں؟ میرے نزدیک اگر ایسا رسالہ شروع بھی کیا جائے تو اسے’’رسالہ‘‘ نہیں ،بلکہ ’’فکری ایکشن پلیٹ فارم‘‘ ہونا چاہیے۔اس کا ہر مضمون کسی عملی اقدام پر ختم ہو۔ہر شمارہ کسی حقیقی مسئلے کا قابلِ عمل حل پیش کرے۔ہر مصنف سے سوال کیا جائے:’’آپ نے جو لکھا ہے، اس کے نتیجے میں قاری کل صبح کیا کرے گا؟‘‘ اگر یہ سوال جواب پا گیا تو رسالہ کامیاب ہوگا۔ورنہ یہ بھی ہزاروں اچھے ارادوں کی طرح ڈیجیٹل قبرستان میں دفن ہو جائے گا۔واللہ اعلم۔

میری رائے میں اصل کم زوری اس تجویز میں نہیں، بلکہ ’’رسالہ‘‘ کے تصور میں ہے۔ 2026 میں لوگ رسالے نہیں پڑھتے، بلکہ مختصر، مسلسل، ملٹی فارمیٹ مواد (WhatsApp, Telegram, YouTube, Podcasts, Short Articles) استعمال کرتے ہیں۔

اگر ’’امکانات‘‘ نام سے کوئی منصوبہ بننا ہو تو شاید اسے آن لائن رسالہ نہیں، بلکہ ایک فکری تحریک (Idea Platform) ہونا چاہیے جس کے اجزا ہوں:* ہفتہ وار مضمون* 5 منٹ آڈیو خلاصہ* ایک انفوگرافک* ایک عملی اقدام* ماہانہ آن لائن مذاکرہ* بین المسالک لیکن اصولی مکالمہ * نوجوانوں پر خصوصی توجہ۔

ورنہ خطرہ یہی ہے کہ یہ بھی ’’ایک اور آن لائن رسالہ‘‘ بن کر رہ جائے۔


قرآن وسنت کو بنیادی قدر کے طور پر پیش نظر رکھا جائے!

مولانا ضیاء الرحمن علیمی، کوشامبی

موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کو جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں فکری انتشار، باہمی بدگمانی، علمی کم زوری اور نوجوان نسل کی دینی و تہذیبی شناخت کا مسئلہ نمایاں ہے۔

ایسے حالات میں مختلف مسالک کے اہلِ علم کے درمیان اشتراکِ فکر و عمل ایک نہایت اہم اور وقت کی ضرورت ہے۔ اس کا مقصد اختلافات کو مٹانا نہیں، بلکہ مشترکات کو بنیاد بنا کر خیر کے کاموں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔اسلام نے بھی باہمی تعاون، حکمت اور حسنِ گفتگو کی تعلیم دی ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المائدہ: ٢) مسلمانوں کے مختلف فقہی و فکری مکاتبِ فکر صدیوں سے علمی روایت کے امین رہے ہیں۔ ان کے درمیان بعض مسائل میں اختلاف ضرور ہے، لیکن قرآن، سنت، ایمان، اخلاق، امت کی خیر خواہی اور دین کی سربلندی جیسے بے شمار میدان ایسے ہیں جہاں مشترکہ جدوجہد کی بڑی گنجائش موجود ہے۔

 ایسا رسالہ جس میں مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے اہلِ علم، مفکرین، اساتذہ اور دانش ور حضرات اپنے مضامین، تحقیقات اور آرا پیش کریں، کئی پہلوؤں سے مفید ثابت ہو سکتا ہے:

  1.  فکری قربت اور باہمی اعتماد کا فروغ: جب مختلف مکاتبِ فکر کے اہلِ دانش ایک ہی علمی پلیٹ فارم پر گفتگو کریں گے تو غلط فہمیاں کم ہوں گی اور ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔
  2.  علمی معیار کی بلندی: مختلف علمی ذوق رکھنے والے افراد کی شرکت سے رسالہ ایک وسیع دائرۂ فکر کا حامل ہوگا اور قارئین کو مختلف زاویوں سے مسائل کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔
  3. مشترکہ مسائل کے حل میں تعاون: تعلیم، معاشرت، اخلاقی تربیت، معاشی مسائل، خاندانی نظام، دعوت و تبلیغ اور امت کے اجتماعی مسائل پر مختلف مسالک کے اہلِ فکر مل کر مؤثر تجاویز پیش کر سکتے ہیں۔
  4.  اختلافِ رائے کا مہذب اسلوب: یہ رسالہ اس بات کی مثال بن سکتا ہے کہ اختلاف کے باوجود احترام، شائستگی اور علمی اصولوں کے ساتھ گفتگو کیسے کی جاتی ہے۔

البتہ ایسے رسالے کی کامیابی کے لیے چند اصولوں کا خیال ضروری ہے:

  • قرآن و سنت کو بنیادی قدر کے طور پر پیش نظر رکھا جائے۔
  • مسلکی مناظرانہ انداز سے گریز کیا جائے۔
  • مشترکات کو فروغ دیا جائے اور اختلافی مسائل کو علمی و مہذب انداز میں بیان کیا جائے۔
  • تمام مکاتبِ فکر کے اہلِ علم کو مساوی احترام دیا جائے۔
  • رسالے کا مقصد امت کی اصلاح، علمی ترقی اور فکری تعمیر ہو۔

خلاصہ یہ کہ مختلف مسالک کے اہلِ دانش کی شرکت سے جاری ہونے والا ایک سنجیدہ علمی و فکری رسالہ عصرِ حاضر میں اتحادِ امت، علمی مکالمے اور مثبت فکری تعمیر کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہ ایسا پلیٹ فارم بن سکتا ہے جہاں اختلاف کے باوجود دل قریب ہوں، علم کا تبادلہ ہو اور امت کے اجتماعی مسائل کے لیے مشترکہ کوششیں سامنے آئیں۔ایسے منصوبے دراصل ’’اختلاف کے ساتھ اتحاد‘‘ (Unity with diversity) کی اس اسلامی روح کی ترجمانی کرتے ہیں جس میں حق کی تلاش، علم کا احترام اور امت کی خیر خواہی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔محب مکرم ڈاکٹر ذیشان مصباحی کی اس سمت میں پیش رفت باعث صد خیر اور اس دور پر فتن میں اپنے حصے کی شمع روشن کرنے کی مبارک کاوش ہے۔فجزاه الله خير الجزاء.


جدید علمی مباحث سے اسلامی علوم کا مکالمہ ضروری ہے!

ڈاکٹر محمد علی ، نئی دہلی

ذیشان مصباحی صاحب! آپ کا شکریہ کہ آپ نے اس گروپ کا حصہ بنایا۔ آپ کے مقاصد اور اس پر لوگوں کے رسپانسس پڑھتا رہا۔ ملے جلے رد عمل آئے ہیں۔ بعض بزرگوں کی طرح سوال کر رہے ہیں، اچھا، یہ کیسے کروگے؟ وہ کیسے ہوگا؟ بعض آپ کے کاندھے سے کاندھا ملا کر اس مسئلے میں آپ کی یاسیت کے مداوا کی کوشش کر رہے ہیں۔ امت میں یاسیت کا ماحول ہے۔ لیکن اس تحریک، حالاں کہ اسے تحریک کا نام دینا جلدبازی ہوگی، کی شروعات آپ کی یاسیت سے اٹھنے والے درد سے ہو رہی ہے۔

میں آپ کو سالوں سے جانتا ہوں ۔ میں نے ہمیشہ آپ کو متحرک پایا ہے۔ مجھے جو پہلا خیال آیا وہ یہ ہے کہ آپ جو کام کر رہے ہیں کرتے جایئے۔ جو آدمی کام کرتا ہے اسے لگتا ہے کہ دوسرے لوگ کیوں نہیں کر رہے۔ میں اس گروپ میں جتنے لوگوں کو جانتا ہوں ان سب کے کاموں کو، بشمول میرے اپنے کام، ملا دوں تب بھی آپ اکیلے کی فکری جہتوں کا احاطہ نہیں کر پائیں گے۔

اس جملے سے کسی کی توہین اور ذیشان مصباحی کی بڑائی کرنا مقصد نہیں ہے۔ ایک حقیقی بات ہے۔

میرے خیال میں اولاً تو آپ کو اپنی تحقیقی کاوشوں پر فوکس کرنا چاہیے، اس سے اگر دو چار لوگ ہی متاثر ہو کر آپ کی روش پر گامزن ہو جائیں تو بتوفیق الہٰی آپ کے مقاصد کو کامیاب ہونے میں بڑی مدد ملے گی اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ رسالہ بھی آنا چاہیے تو علامہ سید سبطین میاں نے جن پوائنٹس پر توجہ دلائی ہے وہ قابل غور ہیں اور شروعات کرنے کے لیے مشعل راہ بن سکتے ہیں۔ وژن یقیناً بڑا ہے، لیکن شروعات آہستہ اور چھوٹے سرے کو پکڑ کر کی جائے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے حلقے میں وسیع المطالعہ اشخاص کی کمی ہے جو اسلامی مغربی روایتی علوم پر دسترس رکھتے ہوں۔ جو ہیں بھی وہ وہی روایتی لکھاری ہیں۔ اچھے الفاظ و تراکیب کے ماہر ہیں، لیکن اگر ان کی لمبی چوڑی تحریر کو نچوڑ دیا جائے تو کچھ برآمد نہ ہو۔ اسی طرح ایسے افراد کی کمی ہے جو حق بات بول سکیں۔

 ابھی کچھ مہینے پہلے احمد جاوید صاحب نے سید سلیمان ندوی صاحب کی ایک کتاب پر پروگرام منعقد کیا تھا۔ میں نے بھی شرکت کی۔ ایسی مجالس اپنے اسلاف کے علمی کارناموں کی یاد اور ان کا جائزہ لینے کے لیے بہت اہم ہوتی ہیں۔ لیکن وہ ایک علمی نشست کے بجائے مرثیہ خوانی کی محفل زیادہ محسوس ہوئی جس میں لوگ مرحوم کی قصیدہ آرائی کرنے کے لیے جمع ہوئے ہوں۔ کتاب کی افادیت، اس کی کمیوں پر گفتگو ہی مفقود تھی۔آپ چاہیں کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، لیکن اسلاف پر علمی تنقید کی جرات نہیں کر پاتے، کیوں کہ علمی تنقید کو بھی تنقیص کے برابر سمجھ لیا گیا ہے، یا پھر تنقید میں محنت لگتی ہے اور تعریف کرنا آسان کام ہے۔

 مجھے بہت افسوس ہوا اور بیچ مجلس سے اٹھ کر میں چلا آیا۔ تو اگر اس گروپ کی بدولت دو تین افراد ہی مل جائیں ،جیسا کہ سید سبطین صاحب نے فرمایا، جوتحقیقی کام کا ذہن رکھتے ہوں، جرات مند ہوں،تو کافی ہوگا۔

تعمیری کام میں جو چیز کارگر ثابت ہو سکتی ہے وہ میں سمجھتا ہوں کہ دھیرے دھیرے اپنے اسلاف کی فکر اور ان کے کردار کو روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔

ہمیں دور استعمار کے علما سے اوپر اٹھ کر ان علما کی تحریر اور فکر کو مشعل راہ بنانے کی ضرورت ہے جو زیادہ پراعتماد تھے، اسلام کے دور عروج میں علمی مثالیں قائم کر رہے تھے اور تقلیدی ذہن کی برائیوں سے بھی پاک تھے۔ ان کی حیات، فکر، اخلاق، اور علمی کارنامے آپ کے رسالے کی زینت بن سکتے ہیں۔ اس سے نوجوانوں کو اپنی تاریخ کو صحیح طرح سے سمجھنے میں مدد ملے گی اور ان کے اخلاق و کردار سے نوجوان روشنی حاصل کریں گے۔ دور جدید کے علمی مباحث سے اسلامی علوم کے مکالمے کو بھی اس رسالے کی زینت بنایا جا سکتا ہے۔

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ریڈرشپ کم ہو گئی، اور لوگ آج کل سوشل میڈیا پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ یہ بات صحیح ہے، لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ پڑھنے لکھنے والے سنجیدہ لوگ ہمیشہ کم ہی رہے ہیں۔ رسالے کی اپنی افادیت ہے، سوشل میڈیا پر بھی توجہ دی جائے، لیکن اگر پچاس چیزوں پر یک بارگی سوچیں گے تو پریشر زیادہ بڑھے گا اور ایک چیز بھی نہیں ہو پائے گی۔ پچاس چیزوں کو منصوبے میں رکھیں اور ایک چیز سے شروعات کریں۔

یہ بھی کہا گیا کہ اتنے سارے رسالے پہلے سے موجود ہیں۔ ہاں! لیکن کوشش یہی ہے کہ اس رسالے کی حیثیت منفرد ہو، بس ہمارے پاس ویسے منفرد افراد بھی میسر ہو جائیں۔یاسیت کی بہت ساری وجوہات ہیں، لیکن مولوی حضرات سب خود کر لیں یہ ممکن نہیں۔ ہم علمی میدان کے لوگ ہیں، اور اس میں بھی مذہبی۔ ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت بھی ہے کہ کیسے دوسرے علوم کی مدد سے مذہبی بیانیے کو مضبوط اور بااثر بنایا جا سکتا ہے۔

یہ کچھ گزارشات تھیں، باقی آپ بہتر سمجھتے ہیں۔ میں اپنی حیثیت بھر تعاون کے لیے ہمیشہ حاضر خدمت ہوں۔


حق بنیاد ہے رجال کی شناخت کی!

ڈاکٹر مجیب الرحمٰن علیمی، سید سراواں

 ہمارے دور کا ایک بڑا فکری المیہ یہ ہے کہ بہت سے مدعیانِ حق نے حق کے اصولوں کو معیار بنانے کے بجائے اپنے اپنے مفادات، وابستگیوں اور حالات کے مطابق الگ الگ اصول وضع کر لیے ہیں۔ جب حق پر کسی دوسرے کے معاملے میں ظلم ہوتا ہے، اصول پامال ہوتے ہیں یا انصاف کا خون کیا جاتا ہے تو اکثر لوگ خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں، لیکن جب وہی معاملہ ان کی اپنی ذات یاحلقے تک پہنچتا ہے تو فوراً نئے اصول، نئی تاویلات، نئی مصلحتیں اور نئے عذر تراش لیے جاتے ہیں، تاکہ اپنے موقف کو بھی درست ثابت کیا جا سکے اور اہلِ حق ہونے کا دعویٰ بھی برقرار رہے۔یہ دوہرا معیار دراصل حق کے اصولوں سے انحراف ہے۔

خداکرے کہ اس تحریک کے توسط سے حق کی بنیاد پر رجال کی شناخت کے امکانات روشن ہوں۔ اہلِ علم کا ایک معروف مقولہ ہے:’’اِعرِف الحقَ تَعرِف أَهلَه‘‘ پہلےحق کو پہچانو، اہلِ حق کو خود پہچان جاؤ گے۔


مجلہ اجتماعی دانش (Collective Wisdom)  کا مظہر ہو!

مولاناناظم اشرف مصباحی، اتر دیناج پور

جیساکہ احباب نے شدید خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ایسا کام ضرور ہونا چاہیے۔ ہر بات اور ہر کام کا ایک اثر ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ منفی باتوں کا اثر جلد نظر آتا ہے اور مثبت باتوں کا اثر دیر سے نظر آتا ہے، لیکن دیرپا ہوتا ہے۔ اس لیے باتیں ہوتی رہنی چاہیے، ہر محاذ ، ہر ٹاپک پر، ہر سطح پر۔انٹرنیٹ الول جلول، بے شرمی اور لایعنی کنٹینٹ سے بھرا ہوا ہے، اگر نہیں ہے تو کام کا مواد، کام کی باتیں، اصلاح کی باتیں، وحدت کی باتیں، محبت کی باتیں اور جوڑنے کی باتیں۔ لہذا اس کمی کو پورا کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

آج بھی نیک روحیں، نیک طبیعتیں ہر مکتب فکر میں موجود ہیں، لیکن ان کی آواز کا کوئی مشترکہ پلیٹ فارم نہ ہونے کی وجہ سے سب بکھرے ہوئے ہیں۔

ایسا کوئی پلیٹ فارم بن جائے تو ایسے سارے لوگ جمع ہونا شروع ہو جائیں گے اور وقت کے ساتھ نئے امکانات و آفاق کے باب یقیناً کھلیں گے۔ یہ دنیا دارالاسباب ہے، اسباب اختیار کریں گے تبھی نتائج برآمد ہوں گے۔ ابتدا ہی میں رسالے کے ایسے واضح اصول و ضوابط مرتب کر دیے جائیں جن سے اس کی شناخت، حدود اور مزاج ہمیشہ متعین رہے۔مثلاً:

  • رسالہ کسی مسلک، جماعت یا شخصیت کا ترجمان نہیں ہوگا۔
  • اختلاف کو علمی، اخلاقی اور مہذب انداز میں پیش کیا جائے گا، کسی کی تحقیر یا تشہیر مقصود نہیں ہوگی۔
  • شخصیات نہیں، افکار، مسائل اور حل موضوعِ بحث ہوں گے۔
  • رسالے کا مقصد رد، مناظرہ اور فتویٰ نہیں، بلکہ تعمیر، مکالمہ اور رہ نمائی ہوگا۔
  • ہر اہم اور حساس تحریر ادارتی بورڈ کے اجتماعی غور و خوض کے بعد شائع ہوگی، انفرادی ذوق یا جذبات کی بنیاد پر نہیں۔
  • اگر کسی جانب سے اعتراض آئے تو اس کا جواب بھی جذبات سے نہیں، بلکہ دلیل، اخلاق اور شفافیت سے دیا جائے گا۔

میرا خیال ہے کہ’’امکانات‘‘ کی اصل قوت یہی ہوگی کہ وہ ایک فرد یا ایک حلقے کا منصوبہ نہ بنے، بلکہ اجتماعی دانش (Collective Wisdom)  کا مظہر ہو۔ اس سے غلطی کے امکانات بھی کم ہوں گے اور کسی ایک فرد کی نسبت رسالے کی شناخت بھی محفوظ رہے گی۔

اس کے باوجود اگر کوئی حلقہ محض تعصب یا پروپیگنڈے کی بنیاد پر اس کو کسی فرقے یا فتنے کا نام دیتا ہے تو یہ ایک الگ مسئلہ ہے، جس سے شاید ہی تاریخ کی کوئی بھی مخلص اصلاحی تحریک مکمل طور پر محفوظ رہی ہو۔ البتہ ہمارے اختیار میں یہ ضرور ہے کہ ہمارے مقاصد، ہمارے اصول، ہماری زبان اور ہمارا طرزِ عمل ہر مرحلے پر اس الزام کی تردید کرتے رہیں۔

اس لیے میری ناقص رائے میں، رسالے کے اجرا سے پہلے اس کا ’’ایڈیٹوریل چارٹر‘‘ مرتب کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ یہی دستاویز مستقبل میں ہماری رہ نمائی بھی کرے گی اور ہماری شناخت کی محافظ بھی ہوگی۔


ہر ایک نے اپنے بت بنا رکھے ہیں!

 محمد احمد سلفی، دہلی

کوئی بھی اپنی فکر سے نیچے اترنے اور غلط کو غلط کہنے کے لیے پہلے تیار تو ہو ۔کسی کو ایک حدیث کا علم ہو گیا تو سمجھتا ہے کہ وہ پوری بخاری جانتا ہے۔ اسی طرح دوسری چیزیں بھی ہیں۔غلام مصطفی ازہری صاحب جیسے کم لوگ ہیں جو سچ کو سچ کہنے کی جرأت کرتے ہوں۔ ہر ایک نے اپنے بت بنا رکھے ہیں اور اسی کو پوجتے ہیں۔تعمیر ملت کا ایک اچھا کام یہ ہو سکتا ہے کہ ہم  میں سے ہر آدمی اپنے اپنے گاؤں سے کم از کم تین بچوں کو اپنے شہر لے جائے اور پہلے حفظ کی تعلیم وہاں مکمل کرائے جو کم خرچ پر ہو سکتی ہے اور اس میں مدد کی جا سکتی ہے تاکہ گاؤں میں تعلیمی بیداری پیدا ہو اور بچوں کا رجحان علم کی طرف جائے اور حفظ کے بعد دیگر علوم میں بچے کی مدد کی جائے۔ یہ میرا کامیاب تجربہ ہے۔


بات اسلام سے شروع ہو!

ڈاکٹر سید نور محمد لکھنوی، مرادآباد

دین اسلام ایک جامع اور آفاقی دستور حیات اور انفرادی و اجتماعی فلسفے کا حامل عالمگیر الٰہی نظام ہے۔ اس کی آفاقیت و جامعیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے، دین اسلام کی مناسب اور صحیح تعبیر و تشریح  کی ضرورت گذشتہ ادوار کے مقابلے اس زمانے میں زیادہ شدید ہے۔اس کے لیے عصر حاضر میں اہل اسلام کو تمام ممکنہ وسائل بروے کار لا کر، دین اسلام کی ترویج و اشاعت کرنی لازمی ہے۔ آن لائن رسالہ بھی فکر و نظر کی تطہیر اور مخلصانہ عمل کی ترغیب و تشویق کی ترویج و اشاعت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس لیے اگر ایسی کوئی کوشش رو بہ عمل آتی ہے تو بے شک یہ ’’اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جانے‘‘ کے مصداق قابل تحسین اقدام ہے۔

جب بات دین اسلام کی آفاقیت و جامعیت کو ملحوظ رکھ کر کی جائے ، تو مسلک کا ذکر غیر ضروری اور لایعنی ہے۔ پہلے مسلک ذہن میں ہوگا، یعنی نیچے سے اوپر کی طرف جائیں گے، تو پھر اسلام اور مسلمان تک رسائی مشکل اور خاصی دشوار نظر آئے گی۔ اس کے برعکس پہلے اسلام ذہن میں ہو ، یعنی اوپر سے شروع کریں، تو بات بہت آسان ہو جائے گی۔ اسی مسلکی تشتت نے مذہبی سطح پر مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو پارہ پارہ کر رکھا ہے، جس کا خمیازہ انہیں سیاسی، معاشی اور سماجی سطح پر بھگتنا پڑتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو توانائی عالمی و خارجی امور میں صرف ہونی چاہیے وہ سمٹ کر علاقائی و داخلی خول میں بند ہو کر دم توڑ دیتی ہے۔

مسلمانوں پر یاسیت کی فضا بھی اسی لیے سایہ فگن ہے کہ وہ معاصر افکار و نظریات اور جدید تعلیم و تکنیک کے دھارے سے عمومی طور پر کٹے ہوئے ہیں ۔ اسی وجہ سے مسلم معاشرہ سیاسی و معاشی سطح پر بھی پس ماندگی کا شکار ہے۔ علاج ایک ہی ہے: صحیح تعلیم و تربیت اور جدید ذرائع و تکنیک کی طرف رہ نمائی، فکری طور پر یہ کام آن لائن رسالے کے ذریعے کسی نہ کسی حد تک انجام دیا جا سکتا ہے۔


اکابر کا تعاون واشتراک ضروری ہے!

شاہ خالد مصباحی، ممبئی

’’امکانات‘‘ جریدے کو تخلیق دینے کا عمل حضرت علامہ مصباحی صاحب کی قابل قدر کوشش ہے، جس کی سراہنا اور عملی تعاون بر وقت ہونی چاہیے۔ لیکن پیر طریقت حضرت سید سبطین میاں مد ظلہ العالی نے جن نکات کی طرف بنیادی طور پر توجہ مبذول کرائی ہے، اس کی کمی جماعت اسلامی خصوصیت کے ساتھ جماعت اہل سنت میں محسوس کی جارہی ہے۔ مصباحی صاحب  نے امکانات رسالے کو جاری کرنے کی صورت میں جو مقاصد بیان کیے ہیں وہ قابلِ ستائش اور ان کی ہمہ وقت علم و ادب کی خدمت کرتے رہنے کا ثمرہ ہے، جس کی ضرورت ڈاکٹر صاحب ایک مخصوص مقصد کے تحت محسوس کر رہے ہیں۔ بہتے ہوئے مواد کو ایک ادارہ جاتی شکل  دے کر قوم و ملت کے لیے نفع بخش بنایا جائے۔

 سید صاحب نے انٹرنیٹ کے ملٹی کمیونیکیشن ذرائع کی طرف اپنی تحریر میں جو نشان دہی فرمائی ہے، وہ قابل غور ہے۔ اس میدان میں مصباحی صاحب ایک مضبوط اور تجربہ کار محاذ گر ہیں۔اس ضمن میں دو عیسائی پلیٹ فارم مثلاً Cru اور Alpha پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے، جو موجودہ  وقت میں ڈیجیٹل مواد فراہم کرنے کے سلسلے میں ایک کامیاب عیسائیIdeal Platform کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ جہاں سے رسالے، جرائد ، مختلف الموضوعات ملٹی میڈیا نیٹ ورک، ملٹی کمیونیکیشن ویب وغیرہ عیسائی آئیڈولوجی کی ترویج کے لیے ایک ادارہ جاتی عمل کی صورت میں، جس کی طرف سید صاحب نے نشان دہی فرمائی ہے، دنیا کے تقریباً ایک سو نوے ممالک میں کام کر رہے ہیں۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جزوی مضبوطی سے لاکھ بہتر کلی مضبوطی ہوتی ہے ۔ اگر ادارہ ہمارا مضبوط ہو تو اس ادارے کے تعاون سے جزوی طور پر ہم بہت سارے کام انجام دے سکتے ہیں۔ اس کی مثال خود آج الحمد للہ! خانقاہ عارفیہ ہے ، لیکن جب حالات پس ماندگی کے شکار ہوں تو ہمارے لیے جزوی کامیابی ہی کسی نہ کسی دن ان شاءاللہ عزوجل ایک مکمل منصوبہ بند ادارہ جاتی کامیابی کے لیے مشعل راہ اور اس کی عملی تصویر بن جائےگی، اگر ہمارے اکابر کا تعاون و اشتراک اور ان کے مشورے شامل حال ہو جائیں۔

مجھے امید ہے کہ مصباحی صاحب جس چیز کی بنیاد رکھنے والے ہیں وہ ان شاء اللّٰہ تعالی جلد ثمر بار ہوگا، کیوں کہ آج ایک جہاں معترف ہے کہ یہ ’’بازو تیرے آزمائے ہوئے ہیں‘‘۔


معاصر صنادید قریش کو ان کے کردار سے پہچانیے!

مولانا وقار احمد ندوی، سعودی عرب

خیال بہت اچھا ہے۔ گرد راہ بننے کو تیار ہیں تو سوچنا کیا ہے۔ شروع  کیجیے، ’’گرد راہ‘‘ یا ’’نشان منزل/سنگ میل‘‘ کچھ تو بن ہی جائیے گا۔ہم جیسے صلح کلیوں سے آپ نے رائے لی، بہت اچھا کیا، لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ یونیورسٹیز کے فارغین اور زیر تعلیم مصباحیوں، قاسمیوں، ندویوں، اصلاحیوں، فلاحیوں، سلفیوں اور سنابلیوں وغیرہم سے رابطہ  کیجیے، ملاقات کا وقت اور جگہ طے  کیجیے، مل بیٹھیے، مشورے  کیجیے، خانقاہوں کو اعتماد میں لیجیے، بڑے مدارس کے ذمہ داروں اور وہاں سے شائع ہونے والے رسائل کے مدیروں کے مشورے اور ان کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش  کیجیے، وقت لیجیے اور پائدار کام  کیجیے۔ وسائل کی فراہمی کا مسئلہ بھی ہوگا ،اسے بھی نظر میں رکھیے۔ مشوروں میں اکابرین کو شامل  کیجیے، لیکن کام صرف اور صرف نسل نو سے لیجیے۔

ہر مکتب فکر کے علما ومشائخ میں ’’اکابر مجرمین‘‘ کی تعداد بہت ہے، انہیں آپ ’’صنادید قریش‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں، انہیں آپ اپنی ایمانی فراست اور ان کے سابق کردار سے پہچانیے اور ان سے گریز  کیجیے۔


امت کا جدید ذہن زرخیز ہے!

احمد جاوید، نئی دہلی

برادرم ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی صاحب نے مسلمانوں کی موجودہ سیاسی، سماجی،تعلیمی، معاشی اور مذہبی صورت حال کی پراگندگی اور اضمحلال پر اپنی فکرمندی کے اظہار کے ساتھ کمیونٹی کی تعمیر فکر وعمل کے لیے ایک آن لائن رسالہ/ پلیٹ فارم کے اجراکی تجویز رکھی تھی جو مایوسی کی تاریکی میں امید کی روشنی ہو۔اور مشورہ طلب کیا تھا کہ کیا کسی ایسے بین المسالک آن لائن رسالے کی ضرورت و افادیت ہے؟ اور اگر ہے تو اس کا خد و خال اور لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے؟ کن وسائل و ذرائع کی ضرورت پڑے گی؟ اور اس کام کے لیے کون کون سے لوگ رضا کارانہ خدمات پیش کرسکیں گے؟

مکتوب گرامی کے مخاطبوں میں راقم بھی شامل تھا، واجب تھا کہ یہ بھی اپنی رائے پیش کرتا ،لیکن تجویز پر ایسی فکر انگیز گفتگو شروع ہوئی کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔ سید سبطین حیدر زیدی صاحب، جناب ناصر مصباحی رام پوری، جناب ساجد الرحمن شبر، جناب فیضان عزیزی، جناب شاہ اجمل فاروق ندوی، جناب شاہ خالد، جناب ناظم اشرف، خود ڈاکٹر ذیشان صاحب کی توضیحات، وقار احمد ندوی کے مختصر نوٹ اور اکثر شرکا کی آرا نے یہ تاثر دیا کہ امت کا جدید ذہن بانجھ نہیں ہے، بلکہ زرخیز بھی ہے اور اس کا قبلہ بھی درست ہے ۔ گرچہ تاخیر ہوئی، دل کی گہرائیوں سے تبریک و تہنیت پیش ہے ،قبول فرمائیں۔ اب جب کہ تجویز کے تقریباً ہر نکتے پر علمی، فکری اور ماہرانہ رائیں آچکی ہیں اور یہ سلسلہ گفتگو لگتا ہے کہ مزید کسی کلام کا متحمل نہیں ہے، معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ:

  1. یہ امر بدیہی ہے کہ کسی رسالہ یا جریدے کا اجرابجائے خود ایک ادارے کا قیام ہے، خواہ وہ شخص واحد کی ادارت میں قائم ہو یا ایک مجلس کے زیر ادارت۔ صحافت یا ماس میڈیا کا یہ مسلمہ اصول ہے، مختلف فیہ مسئلہ یا بحث کا موضوع نہیں اور یہ اس کام کا اصولی نکتہ ہی نہیں، عملی پہلو بھی ہے جو کسی بھی میڈیا انٹرپرایز کی  پالیسی، پروڈکشن اور ٹارگٹ، ہر سہ فریق پر واضح ہونا چاہیے۔ اسے ہم روز اول ہی گرہ باندھ لیں۔
  2. ترسیل عامہ کا ادارہ تین اجزا سے وجود میں آتا ہے، ایک پالیسی اور پالیسی کنٹرول اتھارٹی، دوسرے اس کے کنٹری بیوٹرس یعنی لکھاری اور تیسرے قارئین/ ٹارگٹ آڈینس اور تینوں کے مفادات و جذبات کی تسکین  ادارہ کے مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔
  3. مجلس ادارت یا مدیر کی اہلیت کی پہلی شرط اختلاف رائے برداشت کرنے کا جذبہ اور بروقت فیصلہ لینے کی صلاحیت ہے۔ مدیر کا وسیع المطالعہ اور اتنا جری ہونا کہ بروقت ہاں یا نا کہہ سکے، اس کی کامیابی کی لازمی شرط ہے۔
  4. ’’امکانات‘‘ پر اب تک کے تبادلہ خیالات سے واضح ہے کہ احباب گرامی مجوزہ رسالے/ ادارے کے قیام کی تجویز پر متفق ہیں اور اس کے لیے متذکرہ بالا تینوں سامان مہیا ہیں یعنی اس کے اجراکے لیے پالیسی، پالیسی کنٹرول اتھارٹی، اہل علم و فکر معاونین اور ٹارگٹ آڈینس/قارئین موجود ہیں تو پھر ہمت مرداں مدد خدا!
  5. کوئی بھی علمی یا اصلاحی کام گنے دنوں میں نتائج نہیں دیتا، دیر تک اور دور تک مسلسل و متواتر جدوجہد درکار ہوتی ہے۔ ہمارے زمانے میں اہل اسلام کے مختلف فرقوں اور مسلکوں کے مابین منافرت و مناقشت کو دور کرنا اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کا رخ تعمیری امور کی طرف موڑنا مستقل کام ہے، عارضی یا وقتی چیز نہیں۔ اصلاح احوال کے لیے بنیادی کام اصلاح فکر ہے، ’’امکانات‘‘ پر گفتگو میں شریک اہل علم و دانش کی سنجیدگی غماز ہے کہ ان میں اس کام کی ضرورت کا شعور بھی ہے اور مستقل مزاجی بھی جو اس مشن کی لازمی ضرورت ہے۔ راقم اس کاروان میں شریک رہنے کو اپنی سعادت شمار کرے گا اور جو خدمت بھی درکار ہوگی، حتی المقدور بجا لائے گا۔
  6. مشرق کے معاشروں کو اس وقت اُن ہی حالات کا سامنا ہےجو پچھلی صدی کے نصف اول میں مغربی معاشروں کو درپیش تھے، جب ان کی نئی نسلیں مذہب سے بیزار ہوگئیں، خودغرضی اور لاتعلُقی نے ان کو جکڑلیا اور وہ بائی پولر سنڈروم میں مبتلا ہوگئیں کہ ایک ذراسی کامیابی ان کو انتہائی پرجوش و بے قابو کرنے لگی اور اسی طرح ذراسی ٹھوکر اور ناکامی ان کو مایوس و مضمحل کرنے لگی۔ اس وقت ان میں البرٹ کامو جیسے مفکرین و مصنفین پیدا ہوئے جنھوں نے ان کو اس (ذو قطبی عوارض) سے نکالا اور نیشنل ازم کے بجائے وفاقیت/ انٹرنیشنل ازم اور فلاح بنی نوع انسان یا تنگ نظری کے بجائے کشادہ قلبی اور درد مشترک کے تصور سے ذہنوں کو آراستہ کیا۔

یہی کام عہد وسطی میں صوفی شعرا و مصنفین؛ شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی، شیخ شہاب الدین سہروردی، شیخ اکبر محی الدین ابن عربی، امام غزالی، شیخ سعدی، مولانا رومی اور ان کے معاصرین و متبعین نے کیا تھا۔ آج کے اہل علم و دانش پر بھی یہی ذمہ داری ہے کہ وہ ملت کو حالات کی سنگینی کا کماحقہ احساس بھی دلائیں، اس شعور کی کمی کو بھی دور کریں کہ وہ اپنا لائحہ عمل کس طرح طے کریں اور داخلی انتشار، آپسی تقسیم، فکری بکھراؤ اور اجتماعی ترجیحات کے فقدان سے بھی نکالیں اور مشترک مقاصد کے بجائے جزوی اختلافات اور پرانے تعصبات و تحفظات کی ان گرہوں کو کھولیں جو اجتماعی قوت کو کم زورکرتی ہیں۔

  1.  اب آئیں، اس پلیٹ فارم/ رسالہ کے موضوعات و مضامین کی طرف تو اسے دینی مباحث تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، اس کے بجائے اس میں سائنس، سوشل سائنسز بالخصوص: عمرانیات و سیاسیات، جدید افکار و نظریات، قدیم و جدید فلسفے اور تاریخ و اقتصادیات کے ان مباحث پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے جو ہمارے نوجوانوں کو حیران و مبہوت اور احساس نارسائی میں مبتلا کرتے ہیں۔ ان کی ترسیل کا میڈیم اور تکنیک وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو، لیکن سستا اور لچر ہرگز نہ ہو، معیاری اور تحقیقی مواد نئے، دل چسپ اور ہر سطح ذہن و ذوق کو سامنے رکھ کر لکھے اور تیار کیے جائیں۔

دنیا کی ہر پیداوار، خواہ علمی ہو یا مادی، اس کا کاروبار ضرورت اور مانگ کے اصول پر منحصر ہے اور اس وقت ایک ایسے جریدے اور پلیٹ فارم کی اشد ضرورت ہے جو سنجیدہ اور معیاری بھی ہو اور سب کے لیے غور و فکر اور بحث و تحقیق کا کھلا منچ بھی ہو۔دعا ہے کہ رب کریم نیتوں میں اخلاص اور دلوں میں استقامت پیدا کرے۔


اصل کام تعمیر فکر کا ہے!

مولانا ناصر رام پوری ، رام پور

سب سے پہلے مولانا ذیشان صاحب کی عمر و صحت اور فکر وعمل کے لیے نیک خواہشات اور ایسی تعمیری اور مثبت سوچ اور فکرمندی پر دلی مبارک باد! چند باتیں میں اپنی طرف سے عرض کروں گا:

  1. یاسیت اس معنی میں نہیں ہے کہ کچھ کرنے کے اور آگے بڑھنے کے راستے نہیں بچے یا بہت کم بچے ہیں، بلکہ تقاضوں کے مطابق سلیقے سے ہم کچھ سمجھنا نہیں چاہتے، کچھ کرنا نہیں چاہتے، کرنے والے نہیں ہیں۔
  2. مجھے ’’امکانات‘‘ کے نام سے بھی امید کے بجائے یاسیت کا احساس ہوتا ہے، اس نام سے ایسا لگتا ہے کہ حقیقت میں راستے مسدود ہیں، اس سے مفہومِ مخالف نہ صرف ذہن میں آتا ہے، بلکہ متعین ہوتا ہے جو اُمید افزا نہیں۔ ہم اس نام کے ذریعے ایک ایسے خیال کی تصدیق کر رہے ہیں جس سے ایک حقیقی مومن یا حقیقی رائد و قائد کے لیے اتفاق مشکل ہے۔ کیا سچ میں ہمارے یہ دن آگئے کہ ہمیں اقدامات کے بجائے امکانات کی تلاش کے لیے نکلنا ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ راہ مشکل ضرور ہوئی ہے بند نہیں، مجھے یہ نام سخت مایوس کن لگتا ہے۔
  3. گروپ میں اب تک زیادہ ایسی تجاویز آئی ہیں کہ ’’ہونا کیا چاہیے‘‘ اور پھر اُس کی بھاری بھرکم تفصیل۔ میرے خیال میں ’’ہونا کیا چاہیے‘‘ یہ کاموں کے بہت سے اور بہت بڑے بڑے دروازے کھول دیتا ہے جو ہمارے لیے فی الحال پریکٹیکل نہیں ہے۔ لہذا اس کے ساتھ یہ لحاظ بہت ضروری ہے کہ ہم کر کیا سکتے ہیں، کتنے لوگ ساتھ دیں گے اور کتنے دنوں تک، اور ہمارے پاس دستیاب وسائل کیا ہیں؟ ان ساری چیزوں پر غور کرنے سے دو چیزیں نکل کر آتی ہیں؛ ایک یہ کہ ہمیں واقعی کرنا ہے یعنی نہ کرنے کا ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے، اور دوسرا یہ کہ بہر حال ہم کر کیا سکتے ہیں۔
  4. میرے خیال سے عمل سراسر فکر سے نکلتا ہے اور فکر صرف علم بمعنی معلومات سے نہیں نکلتی، بلکہ بشمول علم بمعنی معلومات، یہ اپنے آپ کو مختلف مصادر سے کشید کرتی ہے، جس میں فراست، تجربات، جذبات وغیرہ شامل ہیں۔ ایسے میں ہم کوئی زیادہ سے زیادہ جامع، لیکن محدود کام کا انتخاب کریں جسے ہم کم وسائل کے ساتھ بھی بہر حال کر لے جائیں۔ اس تناظر میں ناچیز کی رائے ہے کہ ہم اپنا کام تعمیرِ فکر تک محدود رکھیں، باقی چیزیں جو مولانا ذیشان صاحب نے ذکر کیں یا دیگر احباب نے اظہار کیں یا خاموش حضرات کے زیرِ احساس ہیں، وہ عموماً فکر سے بہنے والے مختلف النوع یا مختلف الجہات ضمنی دھارے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہمارے اندر بنیادی طور پر فکر کی کمی ہے یا عمل کی؟ میرے خیال میں اصل بحران فکر کا ہے، کیوں کہ عمل بھی ہم کافی کچھ کر رہے ہیں اور جذبات بھی کم نہیں، لیکن یہ دونوں چیزیں فکری انتشارات یا فکری بے راہ روی سے متاثر ہونے کی وجہ سے بہت مثبت، بہت تعمیری اور بہت مطلوبہ نتیجہ نہیں دے رہی ہیں۔ تعبیرِ دیگر، اجتماعی اہداف کی تکمیل نہیں ہو رہی، ترقی پسند اہداف کی تحصیل نہیں ہو رہی۔

اب یہاں کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس طرح تو افکار و خیالات کی بھی بھر مار ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ یقیناً بھرمار ہے، لیکن افکار کی دنیا میں بہت رطب و یابس ہے، بہت اشتباکات ہیں، بہت التباسات ہیں۔ یہی چیزیں عمل میں ڈھل رہی ہیں، تو جیسی فکر ویسے نتائجِ فکر، جیسا مصدر ویسے صادرات، ’’جیسی تیری مٹھائی ویسی مری فاتحہ‘‘۔

لہذا اولاً ضرورت ہے ایک ایسی وسیع التناظر اصولی گفتگو کی جس سے یہ تضادات یا التباسات مرتفع ہوں اور مخروطی طرز سے کسی ایک نقطہ پر مرتکز ہوں،

اور ثانیاً حاجت ہے اُس گفتگو کو مدلل، مفصل اور مسلسل پیش کرتے رہنے کی؛

یعنی کام کا ایک مرحلہ یہ ہے کہ ایک جامع فکر یا فکرِ افکار تیار ہو اور دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اُس کی تعمیر ہو یعنی اُس کی تصویر ہو، سماج میں اُس کی تغلیب ہو۔

  1.  اب رہا یہ مسئلہ کہ وہ جامع فکر کیا ہے؟ فکرِ افکار کی تشخیص کیسے ہو؟تو اس کے لیے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارے ساتھ مسائل کیا ہیں اور اب تک کن اصولوں پر ہم کام کرتے رہے ہیں اور زمانے کے جبری تقاضے کیا ہیں اور کل ملا کر ہمارے اور زمانے کے تقاضوں کے درمیان گیپ کہاں ہے؟ پھر ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ یہ گیپ ہمارے نفسِ دین کی وجہ سے پیدا ہوا ہے یا ہمارے فہمِ دین کی وجہ سے یا ہمارے عمل بر دین کی وجہ سے؟

مجھے لگتا ہے امتِ مسلمہ کی زبوں حالی پر غور کرتے وقت جہاں ہمیں دیگر درپیش مسائل پر غور کرنا چاہیے، وہیں ایک قدم آگے بڑھ کر ہمیں دین اسلام کے اُن بند پڑے سوتوں کو بھی کھولنے کی ضرورت ہے جن تک عموماً روایتی علما کی فہم نہیں پہنچ سکی یا جنہیں دانستہ انداز کر دیا گیا۔ جب کہ وہ سوتے ہمیں ایسی طاقت دیتے ہیں جو جامع ہے یا ہمارے لیے ایسی جامع طاقت و ہمت کے مصادر ہیں جو آخرت کے ساتھ دنیا میں بھی ہمیں نہایت ضروری، منفرد، لائقِ تقلید اور مثالی کردار ادا کرنے پر ابھارتے اور مجبور کرتے ہیں۔ بہر حال یہ ناچیز کا نقطۂ نظر ہے، لیکن مجھے معلوم ہے کہ کسی معیار اور کسی اونچائی تک پہنچنا اتنا آسان نہیں۔

مولانا ذیشان صاحب جو غالباً ایک فکری رسالہ جاری کرنا چاہ رہے ہیں، ناچیز کی طرف سے اُس کی بھرپور تائید ہے۔ میں مولانا ذیشان صاحب کو تو نہیں، البتہ دیگر بعض احباب سے ضرور یہ گزارش کروں گا کہ جس چیز کو بھی سوچیے، امتِ مسلمہ اور قرآن و حدیث کے لیول پر سوچیے، مشکل کا پائیدار حل تبھی ملے گا۔ ورنہ ترجیحات بدلتے رہنے اور قدم قدم پر اٹکتے رہنے سے وہی حالت بنی رہے گی جو کئی بار لکھنو کی بھول بھلیاں میں داخل ہونے کے بعد نکلنے کے چکر میں انسان کی بن جاتی ہے۔


ہر وہ عمل ضروری ہے جس سے یاسیت کا ازالہ ہو!

مولانا ظفر الدین برکاتی ، دہلی

مسلمانوں کی موجودہ سیاسی ، سماجی ، تعلیمی ، معاشی اور مذہبی و مسلکی صورت حال میں ہر وہ اقدام و پیش قدمی لازمی ہے جو کسی طور بھی یاسیت اور کم ہمتی کو دور کرنے میں معاون ہو۔اس لیے یہ ممکن ہے کہ ان کی فکری و عملی تعمیر و ترقی کے لیے کوئی آن لائن رسالہ شروع کیا جائے ،کیوں کہ آج مسلم سماج کے جس طبقے کی فکری اور عملی اصلاح و فلاح مطلوب ہے ، اس کی اکثریت آن لائن ہو چکی ہے۔

 نظریہ سازی اور فکری تعمیر کی حیثیت بنیادی ہوتی ہے، اس لیے اس سلسلے میں جو بھی قدم اٹھایا جائے وہ مفید ہوگا. ان شاء اللہ!

اب کسی آن لائن یا آف لائن رسالہ کی افادیت و ضرورت پر بحث بے معنی ہے، البتہ کس حد تک اس کی کامیابی کی کوئی امید کی جاسکتی ہے، یہ سوچنا سمجھنا بھی پیش بندی کا حصہ ہے، جسے کرنا چاہیے، لیکن فی الحال میرے پاس اس کے لیے کوئی خاکہ نہیں۔ امکانات گروپ کے تجربہ کار حضرات درست اور مفید رہ نمائی فرمائیں گے اور گفتگوسے فکر ، فکر سے تحریر ، تحریر سے تحریک اور تحریک سے عمل کا راستہ نکلے گا۔ ان شاء اللہ!


سب سے اہم مسئلہ تحفظ ایمان کا ہے!

مولانا نصیر سراجی ، بنارس

مسلسل سفر کی وجہ سے فقیر اب تک اس اہم گفتگو میں شرکت سے محروم رہا ۔ البتّہ جب بھی موقع ملا احباب اور بزرگوں کی قیمتی آرا شوق اور توجہ سے پڑھتا رہا ۔

 اس حقیقت سے ہر شخص با خبر ہے کہ اس وقت اُمت مسلمہ پوری دنیا میں گوناگوں مسائل سے دو چار ہے۔ ہندستانی مسلمانوں کا حال بھی انتہائی ابتر ہے ۔ یہ دینی ، مسلکی ، سیاسی ، تعلیمی ، اخلاقی ، تہذیبی ، اقتصادی ، معاشرتی اور معاشی مسائل میں پوری طرح جکڑے ہوئے ہیں ۔ خواب فروش اور فریب کار سیاسی رہ نما ، کوتاہ نظر اور تحزب پسند علما اور زر پرست مشائخ سے بددل ہو کر قوم مسلم قنوطیت کا شکار ہے ۔ اس کے باوجود اُمید بھری نگاہوں سے مخلص علمااور بے لوث قائدین کو ڈھونڈ رہی ہے۔ وقت کا اہم ترین تقاضا ہے کہ قبل اس سے کہ ان کی متجسس نگاہیں بے نور ہو جائیں ان کے دکھ درد کا مداوا پیش کرنا ہوگا ۔ ممکن ہے آپ حضرات کی یہ پیش رفت ان کے رستے زخموں کے لیے مرہم بن جائے ۔

 فی الحال اس امت کے اتنے مسائل ہیں کہ اگر انھیں معرض تحریر میں لایا جائے تو طویل فہرست تیار ہو جائے ۔ ہر محاذ پر ایک ساتھ کام کرنا دُشوار، بلکہ نا ممکن ہے ۔ ضروری ہے کہ اہم اور اساسی مسائل کی ایک فہرست تیارکرلی جائے ۔ ان میں اہم ترین کو ترجیح دی جائے اور اس طرح ترجیحاتی طور پر تدریجاً پیش رفت کی جائے ۔ میرے خیال میں اس وقت سب سے اہم کام تحفظ ایمان ہے ۔ اسلام دشمن جماعتیں اور افراد تمام ممکنہ وسائل کے ذریعہ غیر مسلموں کو متعصب، بلکہ متشدد اور مسلمانوں کو اسلام کے تئیں تشکیکی بنانے کے لیے بہر صورت کوشاں ہیں ۔ اور وہ اپنے اس ناپاک منصوبے کو رفتہ رفتہ کامیابی کی شکل میں ڈھال بھی رہے ہیں۔ ہندوستان کے ہر شہر سے مسلم لڑکیوں اور لڑکوں کے ارتداد کی الم ناک خبریں برابر آ رہی ہیں اور لاکھوں مسلم اذہان تشکیک کا شکار ہیں ۔ میری رائے ہے کہ تحفظ ایمان کے لیے ہر ممکنہ اقدام کو ترجیح دینا چاہیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے دعوتِ ایمان سے اپنی اسلامی تحریک کا آغاز فرمایا تھا ، وقت کا اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ تحفظ ایمان کے مشن سے کام کا آغاز کیا جائے۔

 اس کے علاوہ مسلم امہ بالخصوص نوجوان طبقہ کی اخلاقی تربیت کی انتہائی ضرورت ہے ۔ مسلم لڑکوں اور لڑکیوں میں فحاشی اور جنسی انارکی کے جرثومے بڑی تیزی سے پھیل رہے ہیں ۔ موبائل کے ذریعے غیر محرموں سے گفتگو ،پھر ملاقات ، اور پھر عفت و عصمت کی تاراجی ۔ اس کے علاوہ نشے کی لت اور ذواقیت پسندی ، یہ ایسے عوامل ہیں جو نئی پیڑھی کے اندر سے روح محمدی نکال رہے ہیں ۔ اعلیٰ تعلیم سے بے توجہی بھی مسلم امہ کا بہت بڑا ایشو ہے ۔ مشترکہ مسائل میں بین المسالکی اتحاد بہت ضروری ہے ،مگر جب نوجوان طبقہ جو ہمارا روشن مستقبل ہے اسلامی عقائد ، اسلامی فکر ، اسلامی منہج ، اسلامی تہذیب ، اور اسلامی تشخصات سے عاری رہےگا تو اتحاد واتفاق کا عمل بھی بے سود ہوگا۔


Major Problems: Poverty and disintegration

Mr. Shahid Mirza, Mumbai

From my lens, the major problem statement that appears to be Poverty and disintegration of the Muslim community. Today, most of our youth (awam and khawaas) are aimless and shameless. Probably the root cause can be linked to poorly managed educational institutions that we operate in or draw knowledge from. Intellectual poverty leads to material & spiritual poverty, which is one of the major causes of downfall.

Our priority one should be establishing good institutions to impart quality education (school + madrasa). How can this be deliberated, and a framework be established? This will help to address some of the questions:

How can we create Leaders & Beautiful human beings whom others will see as an asset for society and not as a burden? How can we make our Education and personality development programs more relevant in this age of AGI (Artificial General Intelligence)

Finally, in my humble opinion, the problem of Sectarianism can only be defeated when the minds are opened through intellectual and spiritual upliftment by quality education and the desire to lead and be the vicegerent of God on this Earth.

Currently, many of our so-called socio-religious leaders are tied to tribal and group affiliations for their personal survival and worldly benefits and do not possess the requisite knowledge to come out of their confines. Please ignore if it sounds harsh or offends anyone.


پہلا کام مختلف الخیال معتدل اصحاب نظر کا اجتماع!

جناب عبد الماجد کرمانی، کشمیر

برادر گرامی ڈاکٹر ذیشان مصباحی صاحب کی ایک تحریر جو امت کے مجموعی درد سے پر تھی، کچھ دیر پہلے باصرہ نواز ہوئی۔ جن باتوں کا ذکر قبلہ ڈاکٹر ذیشان مصباحی صاحب نے کیا ہے احقر پچھلے کئی سالوں سے یہ درد دل لیے اپنی بساط کے مطابق کام کر رہا ہے۔ تاہم حضرت ڈاکٹر صاحب سے گزارش ہے کہ آن لائن رسالہ تو اگلا پڑاؤ ہے، احقر کے خیال میں پہلے وطن کے مختلف الخیال مسالک کے معتدل حضرات کو ایک جگہ جمع کریں، جیسا کہ اپ نے کیا ہے۔ پھر گروپ کا ہی ایک گوگل میٹ ٹائپ پروگرام رکھیں جس میں ہم پہلے آپس میں تعامل و تفہیم کی راہ کو ہموار کریں گے ، عملاًاس کے بعد آف لائن یا آن لائن میگزین کا اجراکیا جائے گا۔ تاہم باتیں امت اور بالخصوص وطن عزیز میں ملت کو درپیش زندہ حالات سے ہوں، تاکہ ان کا حل تلاش کیا جائے اور مزید مستقبل کے لیے ایک Think tank تیار ہو۔

خانقاہ عارفیہ ہی میں اتنی وسعت ہے کہ ان باتوں کو ہم عملی جامہ پہنا سکیں، لہٰذا خانقاہ عارفیہ اس معاملے میں ایک Platform مہیا کرسکتی ہے۔مزید برآں جب ہم رابطے میں رہیں گے، کم سے کم مہینے میں ایک بار گوگل میٹ کے ذریعے تو اس سے پھر مختلف آرا آئیں گی ،جو ہمیں ایک وسیع تناظر دیں گی اور ان حالات میں پریکٹیکل ورک کے لیے رہ نمائی بھی فراہم کریں گی۔


This will help in filling the existing vacuum

Dr. Ahmad Raza Misbahi, Kashmir

First and foremost, I appreciate you for thinking over the socio-political inertia of Indian Muslims in general and our community in particular. Your farsightedness is commendable,  but at the same time it is difficult to identify the real causes of the prevailing disappointment and sluggish behavior. Launching an academic research journal of international standard will surely help in filling the existing vacuum, but it will suffice partially.

Beyond group discussion, the idea to be executed on the ground requires certain prerequisites to be clearly stipulated. For instance,

  1. Nature of the Journal
  2. Prospective Readers
  3. Standard of the Language accordingly.
  4. Resource and Management
  5. Types of Journals (annual/biannual, quarterly, etc.), and
  6. Mode of Journal

If these basic requirements are spelt out, then only one can identify his areas of contribution to your sublime goals. In my personal capacity, it will be my privilege to contribute to your academic endeavors in whatever way your good self-desires.


اللہ اسے اجتماع، تفکیر اور تعمیر کا وسیلہ بنائے!

 ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری، اسلام آباد

’’امکانات‘‘ کے عنوان سے یہ تجویز نہایت مبارک ہے اور فی الواقع وقت کی اہم ترین ضرورت بھی۔ آج فکری انتشار ہے، مسلکی کش مکش ہے، باہمی بدگمانی ہے، نئی نسل کے سامنے تہذیبی و دینی شناخت کا سوال ہے اور اندرون و بیرون سے اٹھنے والے بے شمار چیلنجز ہیں۔ ایسے حالات میں اگر اعتدال و احترام، فکر و تحقیق اور تدبیر و تعمیر کے عنوان سے کوئی علمی و فکری چراغ روشن کیا جاتا ہے تو اسے محض ایک رسالے کا آغاز نہیں، بلکہ ایک ضروری فکری خدمت کی تمہید سمجھنا چاہیے۔میری رائے میں اس کام کو لازماً شروع ہونا چاہیے۔ اختلاف کے آداب، مشترکات کی تلاش، الحاد جدید کا علمی محاکمہ اور مسلکی منازعات پر مہذب مکالمہ، یہ سب وہ میدان ہیں جن میں سنجیدہ اہل علم کو آگے آنا چاہیے۔ اللّٰہ کرے یہ کوشش انتشار کے اندھیروں میں امید کی ایک کرن ثابت ہو اور اہل نظر کے لیے اجتماع، تفکیر اور تعمیر کا ایک مؤثر وسیلہ بنے۔

احقر کی طرف سے امکان بھر اور مقدور بھر علمی تعاون حاضر رہے گا۔ یاد فرمائی کا بے حد شکریہ۔


اہل سنت میں ایسے علمی رسائل کا اجرا ضرور ہونا چاہیے!

 سراج الدین امجد، لاہور

جناب مکرم!تاخیر جواب کے لیے حددرجہ معذرت! آپ کے فکر انگیز منصوبے ، حمیت دینی اور سوز دروں کی تحسین ہر وہ شخص کرے گا جس میں کچھ دینی جذبہ اور غیرت ایمانی موجود ہو ۔ ایسے رسائل کی از حد ضرورت ہے ۔ آج بھی پاکستان میں الشریعہ ، ایقاظ اور محدث جیسے مجلے دیوبندی و اہل حدیث علما کے ہاں سے نکلتے ہیں ۔ مشائخ چشت میں پیر کرم شاہ الازہری بڑی قد آور شخصیت تھے تاہم ان کا رسالہ ضیاے حرم معیار کے حوالے سے تسلی بخش نہیں ۔آپ کے ہاں “تحقیقات اسلامی “ اور دیگر کئی رسائل بڑے عمدہ مضامین شائع کرتے ہیں ۔ اہل سنت کے ہاں پڑھے لکھے طبقات میں اقدار دینی کے فروغ کے لیے نئے رسالہ کے اجرا کی ضرورت ہے ۔ تمہیدی تفاصیل کے لیے معذرت! تاہم اس جذبے کی تحسین ضروری ہے۔ باقی خاکسار بوجوہ ادارتی ٹیم کا حصہ نہیں بن سکتا۔ ہاں! بساط بھر اپنی تائید و تحسین سے دریغ نہیں کریں گے۔


ایک دیرینہ آرزو کی تکمیل

مقصود احمد سمیجو، سندھ

آپ کے نئے علمی پراجیکٹ’’امکانات‘‘ کا تعارف پڑھا اور اس کے مقاصد و اہداف دیکھے۔ سچی بات یہ ہے جو خوشی اس وقت مجھے ہوئی ہے وہ نا قابل بیان ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ میں خود ایسے ماحول میں جی رہا ہوں، جہاں فرقہ وارانہ تعصب کی بھرمار ہے، جہاں روایت سے ہٹ کر سوچنے یا بات کرنے والے کے ساتھ ناقابلِ برداشت رویہ اختیار کیا جاتا ہے، بلکہ فرعی و ذیلی اختلافات تک کو کفر و زندقہ کا عنوان دے کر اختلاف رائے رکھنے والے کو دلیل سے قائل کرنے کے بجائے معاشی و سماجی بائیکاٹ کے ذریعے اپنی رائے سے رجوع کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں ہماری بھی دیرینہ خواہش تھی کہ کوئی ایسا پلیٹ فارم وجود میں آئے جو شعور کی شمع جلائے، جس سے علمی مکالمہ فروغ پائے، تاکہ ماحول کی گھٹن ختم ہوسکے۔ یہی وہ داخلی پرابلم ہے جو امت مسلمہ کو باہر سے لاحق الحاد، ارتداد اور جدید فکری شبہات کی مصیبت کے مزید ہونے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ آپ کا ’’امکانات‘‘ ان دونوں سے سنجیدگی سے نبرد آزما ہونے کا ارادہ رکھتا ہے اور ’’من جَدَّ وَجَدَ‘‘کے فطری اصول پر یہ کوشش ضرور ایک مثبت تبدیلی پر منتج ہوگی۔ان شاء اللہ!


یہ پراجیکٹ ایک اہم اور مستند علمی کاوش ہوگا!

غلام رسول دہلوی،دہلی

خانقاہِ عارفیہ کے متحرک، فعال اور مخلص استاذ و کارکن برادرِ گرامی قدر محترم ڈاکٹر ذیشان مصباحی صاحب کی جانب سے سہ ماہی آن لائن مجلہ ’’امکانات‘‘ پراجیکٹ کا جامع خاکہ نظر نواز ہوا۔ڈاکٹر صاحب عصرِ حاضر کے ممتاز اسلامی محققین کی صف میں شمار ہوتے ہیں۔ اسلامیانِ ہند بالخصوص شمالی ہند کی معاصر دینی فکر پر ان کی علمی و قلمی خدمات کا اثر نہایت قابلِ قدر ہے۔ اب ’’امکانات‘‘ پراجیکٹ کے ذریعہ مختلف مسالک و مکاتبِ فکر کے ۲۰۰ سے زائد علما اور نوجوان محققین کی ایک متحرک ٹیم کی تشکیل ایک نئے علمی افق کی طرف قلمی دعوت ہے۔ اس لحاظ سے ان شاء اللہ یہ سہ ماہی مجلہ اور مکمل پراجیکٹ ایک اہم اور مستند علمی کاوش ثابت ہوگا جس سے مختلف دینی و علمی شعبوں کے طلبہ، اساتذہ اور محققین برابر استفادہ کرتے رہیں گے۔

پراجیکٹ دیکھ کر قلب کو بے حد سرور اور اطمینان حاصل ہوا کہ کوئی قلندرِ علم تو ہے جو اس تحریکی سمت میں خاموشی سے سوچ رہا تھا۔ پراجیکٹ کو ایسی ممتاز علمی شخصیات کی سرپرستی، تعاون اور حوصلہ افزائی حاصل ہے جو بلاشبہہ اس کی کامیابی کی پیشگی ضمانت ہے۔ کسی بھی علمی و تحقیقی ادارے کی اصل قوت اس سے وابستہ اہلِ علم و دانش اور محققین ہوتے ہیں اور یہ نعمت غیر مترقبہ اس پراجیکٹ کو حاصل ہے۔ ساتھ ہی بزرگوں کی دعائیں اور روحانی سرپرستی اس کے وقار، اعتماد اور علمی سفر کو مزید استحکام بخشتی رہیں گی۔

دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر مصباحی صاحب کے علم و عمل میں برکتیں عطا فرمائے اور انہیں اسی طرح علم و ادب کی خدمت کی مزید توفیقات عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین!


امت کے فکری مستقبل کی طرف ایک بامعنی پیش رفت!

پروفیسر معین الدین جینابڑے،دہلی

امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ بخیر و عافیت ہوں گے اور ہمارے مرشدِ گرامی، عارف باللہ  حضرت شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دامت برکاتہم (میاں حضور) کی دعائیں آپ کے شاملِ حال ہوں گی۔آپ کی جانب سے مجوزہ سہ ماہی تحقیقی و فکری مجلہ ’’امکانات‘‘ کا تصوراتی خاکہ بغور پڑھنے کا موقع ملا۔ اس پورے خاکے میں ایک سنجیدہ علمی وژن، فکری پختگی اور ملت کے فکری و تہذیبی مسائل کا گہرا احساس نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔میری رائے میں موجودہ حالات میں اس نوعیت کا علمی اور تحقیقی منصوبہ نہ صرف وقت کی ایک اہم ضرورت ہے، بلکہ امت کے فکری مستقبل کی تعمیر کی سمت میں ایک بامعنی پیش رفت بھی ہے۔ اختلافِ رائے کو علمی مکالمے میں تبدیل کرنے، نوجوان نسل کی فکری رہ نمائی، تحقیقی دیانت، علمی روایت کے احیا اور معاصر مسائل کے متوازن تجزیے پر جو زور دیا گیا ہے، وہ اس منصوبے کو ایک امتیازی حیثیت عطا کرتا ہے۔

برادرِ عزیز! اس منصوبے میں اگر کسی مرحلے پر میری کوئی علمی یا عملی خدمت آپ کے لیے مفید ہو سکتی ہو تو بلا تکلف مطلع فرمایئے۔ اپنی بساط بھر اس علمی کاوش میں شریک ہونا میرے لیے باعثِ سعادت اور باعثِ مسرت ہوگا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کے اس مخلصانہ عزم کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اس منصوبے میں خیر و برکت رکھے، اسے دوام بخشے اور ’’امکانات‘‘  کو اپنے نام کی طرح علم، حکمت اور خیر کے نئے امکانات وا کرنے کا ذریعہ بنائے۔


آف لائن اشاعت بھی  ہونی چاہیے!

مولانا شاہد رضا نجمی، ممبئی

جام نور کے بعد عرصۂ دراز سے ’’امکانات‘‘ جیسے علمی وتحقیقی رسالے کی اشد ضرورت تھی۔ مجھ جیسے تشنہ لب صبح ومسا اس ضرورت کی دہائی دے رہے تھے اور زبان حال و قال پر بس ایک ہی شعر تھا:

ذرا بڑھ کر کوئی منصور کو آواز دے دیتا
نہیں گونجا فضا میں نعرۂ مستانہ برسوں سے

تشکر وامتنان کے تمام کلمات رب تعالیٰ کی رحمت تقدیس پر قربان کہ آپ نے اس پر اپنی عنایات کے بازو پھیلائے اور یہ کہتے ہوئے علم وتحقیق کے مے کدہ سے باہر آئے:

عمریست کہ آوازۂ منصور کہن شد
من از سرِ نو زندہ کنم دار و رسن را

اس علمی وتحقیقی پہل پر آپ کو از حد مبارکبادیاں! الله رب العزت آپ کو اپنی حفظ وامان میں رکھے اور ہم میں آپ کے امثال پیدا فرمائے!! ساتھ ہی بےانتہا ممنون ہوں ان تمام اربابِ علم ودانش کا جنھوں نے اس پہل کو اہل اسلام کے لیے امر ناگزیر بتایا اور اس مشن میں آپ کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی!رب تعالیٰ سبھی کو اجر جزیل سے نوازے!!چند باتیں میں یہاں عرض کرنا چاہتا ہوں اور ان پر غور و خوض کی امید بھی کرتا ہوں:

  1.  ’’اے آئی‘‘ کے ہمہ جہت کمالات اپنے بے کراں عروج پر ہیں اور پوری دنیا ہر وقت ان سے مستفید بھی ہورہی ہے۔ ویب سائٹ کی ڈیزائننگ میں اگر اس سے تعاون لیا جائے تو شاید کام زیادہ آسان ہوجائے۔ اے آئی کے مختلف پلیٹ فارم ایسے موجود ہیں جن کے ذریعے فری میں یا کم از کم ’’کم قیمت‘‘ میں خوب صورت اور دیدہ زیب ویب سائٹ تیار ہوسکتی ہے۔
  2.  آن لائن اشاعت کے ساتھ ’’آف لائن‘‘ اشاعت بھی لازمی طور پر کی جائے۔ بجا کہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، زمانہ آن لائن دنیا میں شفٹ ہورہا ہے، لیکن ایک بڑا طبقہ آج بھی آن لائن سے کہیں زیادہ طویل تحریریں مطبوعہ کتب ورسائل میں پڑھنے کا عادی ہے۔ محض آن لائن رسالے علمی وتحقیقی معاشرے کی تعمیر وترقی میں ابھی وہ کامل مثبت کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں جو آن لائن اور آف لائن دونوں سے حاصل ہوسکتے ہیں۔ مجھے خود اسی طرح ایک علمی وتحقیقی رسالے کی خدمات سے بہرہ وری کا شرف حاصل ہے، رسالہ ایک بڑی تحریک کے زیر انتظام شائع ہوتا ہے، لیکن لاک ڈاؤن کے بعد اس کی اشاعت آن لائن پر منحصر کردی گئی، جس کا شاخسانہ یہ ہوا کہ اس کے قارئین محض درجنوں میں محدود ہوگئے۔ اب عالم یہ ہے کہ تحریک کے علما اور مبلغین بھی اسے پڑھنے کی جانب ملتفت نہیں ہوتے، جب کہ پہلے آف لائن اس کی اشاعت ہزاروں میں ہوا کرتی تھی۔

حاصل کلام یہ کہ امکانات جن اغراض ومقاصد کی خمیر سے تیار ہوا ان کا معتد بہ حصول رسالے کی دونوں طرح اشاعت سے حاصل ہوسکتا ہے۔اس لیے میری گزارش ہے کہ اس پہلو پر مکمل غور کیا جائے اور آف لائن اشاعت بھی روز اول سے کی جائے۔آف لائن اشاعت میں کس قدر خرچ آئے گا اسے معلوم کرلیا جائے اور اس کی ممبر شپ کے لیے کون سا لائحہ عمل بہتر رہے گا، اس پر بھی میٹنگ میں غور و خوض کرلیا جائے!

Keywords: Editorial Planning, Muslim Reform, Collective Wisdom, Interfaith/Inter-School Dialogue, Youth Engagement, Scholarship

Share:

Similar Posts

One Comment

  1. I am glad to know that two scholars from Kashmir shared their views on the topic. Br Majid Kirmani is an enthusiastic young man, having a strong desire for the unity of the ummah.




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *