
سہ ماہی امکانات کی باوقار تقریبِ اجرا میں اصحابِ فکر کا اظہار خیال
نئی دہلی (پریس ریلیز): ’’موجودہ دور میں ایسے لوگ ملک و ملت کی تعمیر کا کام زیادہ بہتر انداز سے انجام دے سکتے ہیں، جو قدیم و جدید دونوں دھاروں سے وابستہ ہوں۔ ہمارے لیے سب سے اطمینان کی بات یہ ہے کہ آج امکانات نامی جس رسالے کی تقریبِ اجراء میں ہم لوگ شریک ہیں اس کی ٹیم میں اکثر لوگ وہ ہیں جو قدیم و جدید اداروں کا سنگم ہیں۔‘‘ ان خیالات کا اظہار پروفیسر اخترالواسع نے سہ ماہی مجلہ امکانات کی باوقار تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اس رسالے کی ٹیم میں مختلف مکاتب فکر اور مختلف مناہجِ فکر سے وابستہ لوگ ہیں۔ یہ بہت بڑی چیز ہے۔ ہم لوگوں کو چاہیے کہ اللہ کا کام خود انجام دینے کی جرأت کرنے کے بجائے وہ کام کریں جو ہمارے کرنے کے ہیں۔ ہمیں عقیدے اور عقیدت کے درمیان فرق کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ میرا خیال ہے کہ مشن امکانات شروع کرنے کے لیے یہ مناسب ترین وقت ہے۔ میں امکانات کی پوری ٹیم کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔‘‘
مولانا حسن سعید صفوی عثمانی ازہری کی زیر صدارت نہرو گیسٹ ہاؤس، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقد ہونے والی تقریبِ اجراء میں اجلاس کے کنوینر جناب احمد جاوید نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس رسالے کا نام ’امکانات‘ بہت سوچ سمجھ کر رکھا گیا ہے۔ امت کا جدید ذہن بانجھ نہیں، زرخیز ہے۔ اس کو بارآور کرنے کے امکانات تلاش کرنا ضروری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ امکانات ایک ایسا پلیٹ فارم بنے جہاں مختلف مکاتب فکر کے لوگ ایک دوسرے کو سن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ امکانات نام بھی ہے اور پیغام بھی۔‘‘ پروفیسر اقتدار محمد خان نے کہا کہ ’’اس وقت ہمارا سب سے بڑا دشمن آپسی انتشار اور مسلکی تعصب ہے۔ اس رسالے کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہوگا کہ اس سے انتشار اور تعصب کی فضا ختم ہو اور ہمارے سامنے تعمیر و ترقی کے نئے امکانات روشن ہوں۔ اس رسالے کے چیف ایڈیٹر میرے عزیز شاگرد ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی کی صلاحیتوں اور معتدل مزاجی کا اعتراف ہم سب کو ہے۔ اس لیے امید ہے کہ یہ رسالہ ہمارے لیے حقیقی امکانات کی راہیں ہموار کرے گا۔‘‘ ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی نے امکانات پروجیکٹ کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ ’’آج ہم امکانات کا اسٹیج اس لیے سجا رہے ہیں کہ ہم یہ غور کر سکیں کہ دو سو سال کے باہمی انتشار اور مناظرے کے بعد ہم غور و فکر، مذاکرے و مکالمے، تحقیق و تفکر اور ایک دوسرے کو سننے کے لیے تیار ہیں یا نہیں؟ آج کی نسل کے پاس اپنی آواز ہے، اگر اسے سنا نہ گیا تو یہ باغی ہو جائے گی۔ اس لیے ضرورت ہے کہ اس نسل کو سنا جائے اور پیار محبت سے اپنی بات بھی سنائی جائے۔‘‘

ڈاکٹر جاوید جمیل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، پوری انسانیت کے لیے بھیجے گئے تھے۔ ان کا مقصد تاریکی کو مٹا کر روشنی کو پھیلانا ہے۔ اندھیرا کوئی چیز نہیں ہے۔ اس کا اپنا کوئی وجود نہیں ہوتا لیکن ہم مسلمانوں نے اسلام کے اس بنیادی مشن کو بھلا دیا ہے۔ ہمیں پوری انسانیت کی رہنمائی کے لیے آگے آنا ہوگا اور اندھیرے کو ختم کرنے کی جدوجہد کرنی ہوگی۔‘‘ اسی طرح مولانا سید سیف الدین اصدق چشتی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ’’آج کے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تنازع اور مخالفت سے بچیں۔ اسلام کے پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ امکانات کا بھی یہی مشن ہونا چاہیے۔ جب ہم یہ کام کریں گے اور امت کو وسطیت پر لانے کی کوشش کریں گے تو ہم دیکھیں گے کہ مختلف مسالک و مکاتب فکر کے حساس لوگ خود ہی نکل نکل کر ہمارے کارواں میں شامل ہوتے جائیں گے۔‘‘

پروفیسر خواجہ اکرام نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں امکانات کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے اپنے لیے ایک بہت نازک مشن منتخب کیا ہے۔ صوفیائے کرام کی ساری جدوجہد کا مرکزی نقطہ رواداری تھا۔ ہمیں اس کو اختیار کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہم لوگوں کو طباعت، اشاعت، ترسیل، منتخب قارئین اور اس جیسے مسائل کو بھی حل کر کے چلنا ہوگا۔ آپ لوگوں نے بہت بڑی پہل کی ہے۔ اس لیے مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دیں۔ ان شاء اللہ کام یابی آپ کے قدم چومے گی۔‘‘
پروفیسر مشاہد حسین رضوی نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’امکانات کے مقاصد آج کے دور میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ آج کی نسل کے پاس معلومات ہیں لیکن اس کو صحیح جہت دینے کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ امکانات اس سلسلے میں اہم خدمات انجام دے گا۔ مستقبل کی دیوار ماضی کی بنیادوں پر کھڑی کی جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں بھی پیچھے کی طرف جانا ہوگا اور تقریباً چودہ سو سال پرانی تاریخ سے کسبِ فیض کرنا ہوگا۔ اس طریقے کو چھوڑنے کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہم سخت آزمائشوں سے دوچار ہیں۔ میں ہر طرح سے امکانات مشن کے ساتھ ہوں۔‘‘
اس تقریب میں مکالمے کا ایک سیشن بھی رکھا گیا تھا، جس میں بالترتیب ڈاکٹر شعیب رضا، جناب شبلی منظور، عبدالعلام، ڈاکٹر مظفر حسین غزالی، اے این شبلی وغیرہ نے اپنے تأثرات کا اظہار کیا اور سوالات کئے جن کا تشفی بخش جواب دیا گیا۔

اجلاس کے جوائنٹ کنوینر جناب شکیل الرحمن نے کلمات تشکر پیش کیے اور مہمانان کرام، شرکائے تقریب اور تمام معاونین کا شکریہ ادا کیا۔ صدر جلسہ مولانا حسن سعید صفوی عثمانی ازہری کی دعا پر یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔
تقریبِ اجراء کے خصوصی شرکاء میں ڈاکٹر محمد ارشد، ڈاکٹر مفتی محمد مشتاق تجاروی، ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ڈاکٹر خورشید آفاق، ڈاکٹر جنید حارث، ڈاکٹر مسیح اللہ، ڈاکٹر محفوظ الرحمن ندوی، مولانا ظفرالدین برکاتی، مولانا منظر محسن، جناب اشرف بستوی، ڈاکٹر ادریس قریشی، محمد احمد مومن، جناب نوراللہ خان فلاحی وغیرہ شامل تھے۔ تقریب کا آغاز مولانا شاہد ازہری کی تلاوتِ قرآن سے ہوا۔ حافظ بلال نے منظوم کلام پیش کیا۔ نظامت کے فرائض مولانا محمد فیضان عزیزی نے انجام دیے۔
