فیصلۂ ہفت مسئلہ-مسلکی مفاہمت کا عارفانہ منشور

ذیشان احمد مصباحی([1])
Abstract
Haji Imdadullah Muhajir Makki (1817–1899), an eminent Sufi and spiritual guide, profoundly shaped the subcontinent’s intellectual and spiritual life through his successors. This paper examines his thought and his landmark work, Faisla-e-Haft Mas’ala, regarded as the nineteenth century’s most significant and conciliatory text—the first genuine attempt to resolve the ummah’s secondary disputes. In that century’s latter half, disagreements over Sufi practices—Milad, Qiyām, ‘Urs, and Fātiha—hardened into factionalism, generating extensive polemical literature.
Seeing this scholarly disagreement calcify into groupism, Haji Sahib urged both sides toward tolerance rather than polemical rigidity. Just as earlier scholars had preserved mutual fellowship despite differing on worship and law, he argued, contemporaries should similarly accommodate disagreement over Milad and Qiyām, Nazr-o-Niyāz, Samā’ and Qawwali, and theological debates like imkān-e-nazīr and imkān-e-kizb (God’s power to create another like the Prophet, and whether falsehood could attach to Him). Only thus could the ummah confront its greater social and political challenges. In essence, Faisla-e-Haft Mas’ala remains a “charter of reconciliation,” whose relevance persists today.
تمہید
انیسویں صدی میں یوں تو ایسی بہت سی کتابیں لکھی گئیں اور بڑے بڑے صاحبان جبہ ودستار اور مدعیان علم و حکمت کی طرف سے لکھی گئیں کہ اگر انہیں زہر میں ڈبوکربیچ چوراہے پر رکھ کر نذر آتش کردیا جاتا تو ان کا تعفن زدہ دھواں بھی ان کے پریشان وپراگندہ مضامین کے بالمقابل اس امت کے حق میں کم زہر ناک ثابت ہوتا، البتہ اس عہد کی کوئی ایسی کتاب جسے چاندی کے ورق پر، سونے کے پانی سے، زمرد کے قلم اور ہیرے کی نب سے لکھا جاسکتا ہے تو خاکسار کی نظر میں وہ صرف ایک ہے اور وہ ہےپیشواے فریقین، امام الطریقین، شیخ العرب والعجم مولانا شاہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ سے منسوب ’’فیصلۂ ہفت مسئلہ‘‘ ، جسے آج بھی ہر مسلک کے ہر بڑے ادارے کے دروازے پر آویزاں کیا جانا چاہیے اور ہر دار الافتا کا منشور بنایا جانا چاہیے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو مختلف مکاتب فکر کے یہ فتویٰ خانے امت کے حق میں شفا خانے بن کر ان کے درد کا درماں اور زخموں کا علاج فراہم کریں گے، نفرت و عداوت، فتنہ وانتشار، الزام وبہتان، بدگمانی وبدزبانی اورتضلیل وتکفیر کا بازار گرم نہیں کریں گے، جیسا کہ گذشتہ دو سو سالوں سے ان کا یہی معمول ہے اور آج کے اس عہد پر آشوب میں بھی امت کے خلاف اٹھنے والے ہر طوفان سے آنکھیں موند کر علیٰ حالہا یہ افتراق وانتشار کے فروغ میں سرگرم عمل ہیں۔فیصلۂ ہفت مسئلہ کے شروع میں’’ گذارش نیازمندانہ‘‘ کے تحت مولانا محمد سعید مہتمم مدرسہ صولتیہ، مکہ معظمہ رقم طراز ہیں:
’’اس رسالہ کی نسبت میرا یہ بیان کرنا شاید بے جا نہ ہوگا کہ دریا کو کوزے میں بند کیا ہے۔ جس محققانہ اور منصفانہ طورپر یہ فیصلہ لکھاگیا ہے، ناظرین خود ملاحظہ فرمائیں گے، بلکہ یہ رسالہ اس قابل ہے کہ تمام مدارس میں طلبہ کو پڑھایا جائے۔([2])‘‘
اس کتاب مستطاب پر پروفیسر نثار احمد فاروقی کا یہ بیان واقعی حقیقت کا ترجمان ہے:
’’فیصلہ ہفت مسئلہ امت کے فروعی اختلافات عقائد کو ختم کرنے کی پہلی مخلصانہ کوشش تھی۔ آج اس کے مضمرات پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ حاجی صاحب نے اتحاد ملی اور وحدت فکر اسلامی کے لیے کیسی عظیم الشان بنیاد ڈالی تھی۔‘‘ ([3])
حاجی امداد اللہ مہاجر مکی
حاجی امداداللہ فاروقی چشتی صابری تھانوی مہاجرمکی (۱۸۱۷-۱۸۹۹ء)نانوتہ ،ضلع سہارن پور میں پیدا ہوئے۔ والد نے آپ کا نام امدادحسین رکھا تھا، لیکن شاہ اسحاق دہلوی نے ’’امداد اللہ‘‘ کہا اور پھر یہی معروف ہوگیا۔ سولہ سال کی عمر میں حفظ قرآن اور ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ مولانا مملوک العلی نانوتوی کے ہمراہ دہلی کاسفر کیا۔ وہاں فارسی کی بعض کتب پڑھیں۔ مولانا رحمت علی تھانوی سے تکمیل الایمان کا درس لیا۔ مشکوٰۃ کاربع مولانا محمد قلندر محدث جلال آبادی سے اور حصن حصین اور فقہ اکبر مولانا عبدالرحیم نانوتوی سے بہ اسانید پڑھ کر فراغ پایا۔ اٹھارہ برس کی عمر میں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے شاگرد اورشاہ اسحاق دہلوی کے داماد شاہ نصیر الدین نقش بندی دہلوی (۱۸۴۰ء)([4]) سے بیعت ہوکر اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے۔ سلسلۂ چشتیہ میں میاں جی نور محمد جھن جھانو ی (۱۸۴۳ء) سے اجازت پائی ۔ ۱۸۴۴ء میں حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔پھر ۱۲۷۶ھ (۶۰/۱۸۵۹ء)میں ہجرت کرکےمکہ معظمہ میں ہی سکونت اختیار کرلی۔
حاجی صاحب ایک جلیل القدر اور وسیع المشرب شیخ طریقت تھے، جنہوں نےاپنے عہد کےاکابر ومشاہیر کو متاثر کیا۔ آپ نے ایک عالم کو مسخر کیا۔ آپ کی ذات بابرکات سےفیض ظاہری وباطنی کے چشمے جاری ہوئے۔ آپ کی کوششوں سے نہر زبیدہ ([5])کی مرمت اور صفائی کی گئی جس کے بعد حجاز میں پانی کی قلت دور ہوئی۔
حافظ فیوض الرحمٰن نے آپ کے۶۸؍ خلفاکے نام لکھے جن میں سے ہر ایک اپنے وقت کا آفتاب و ماہتاب تھا،ان میں سے چند نام یہ ہیں:مولانا محمد قاسم نانوتوی (۱۸۸۰ء)، مولانا فیض الحسن سہارن پوری (۱۸۸۷ء) ، مولانا عبد السمیع رام پوری (۱۹۰۰ء)، مولانا احمد حسن کان پوری (۱۹۰۴ء) ،مولانا محمد حسین الہ آبادی (۱۹۰۴ء)، مولانا رشید احمد گنگوہی(۱۹۰۵ء)، شاہ وارث حسن کوڑہ جہان آبادی(۱۹۰۷ء)،حاجی عابد حسین چشتی (۱۹۱۳ء)، مولانا انوار اللہ خان فاروقی(۱۹۱۷ء)، مولانا قادر بخش سہسرامی (۱۹۱۹ء)، حکیم عبد الحی لکھنوی (۱۹۲۳ء)، شاہ بدر الدین پھلواروی(۱۹۲۴ء)، مولانا خلیل احمد سہارن پوری(۱۹۲۷ء) ، شاہ سلیمان پھلواروی (۱۹۳۵ء)، پیر مہر علی شاہ گولڑوی(۱۹۳۷ء)، مولانا اشرف علی تھانوی(۱۹۴۳ء) وغیرہ۔([6])
آپ کی تصنیفات میں یہ کتب ورسائل شامل ہیں: مثنوی تحفۃ العشاق، غذاے روح، گلزار معرفت، رسالہ درد نامۂ غم ناک، نالۂ امداد غریب، ارشاد مرشد،جہاد اکبر،ضیا ء القلوب، رسالہ وحدۃ الوجود اور فیصلہ ہفت مسئلہ وغیرہ۔
میلاد،فاتحہ اورعرس وسماع کے نہ صرف حامی تھے، بلکہ عامل بھی تھے۔اس کے باوجودآپ کے دامن فیض سے وہ علما بھی وابستہ رہے، جنھوں نے ان مسائل کی تردید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ آپ نے انہی متنازع فیہ مسائل کے حل وتصفیہ کے لیے لکھی تھی، جو اس وقت بھی وحدت ملی کا جامع منشور ہے۔
انوار ساطعہ کی توثیق
علماے دیوبند اور اہل حدیث کی جانب سے ۱۳۰۲ھ [۱۸۸۴ء] میں میلاد وعرس جیسے صوفیانہ مراسم کے خلاف فتویٰ شائع ہوا، ان علما میں سب سے نمایاں نام مولانا رشید احمد گنگوہی کا تھا، جو حاجی صاحب کے مرید وخلیفہ اور محبوب ومعتمد تھے۔اس کے خلاف ملک بھر میں شدید غم وغصہ کا اظہار پایا گیا۔حاجی صاحب کے دوسرے ممتاز خلیفہ مولانا عبد السمیع رام پوری نے اسی سال ’’انوار ساطعہ در بیان مولود و فاتحہ‘‘ لکھی اور اس فتوے کا رد کرتے ہوئے ان تقریبات کے جواز واستحسان کا اثبات کیا۔ چوں کہ حاجی صاحب کا مسلک ومشرب مجموعی لحاظ سے میلاد وقیام اور نیاز وفاتحہ کے قائلین وعاملین والا وہی روایتی تھا، اسی لیے انوار ساطعہ کی اشاعت کے بعد حاجی صاحب نے تو مختلف لوگوں سے زبانی اورتحریری شکل میں انوار ساطعہ کے مضمون سے اپنے اتفاق کا اظہار فرمایا۔ چناں چہ اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’ انوار ساطعہ را از اول تا آخر شنیدم وبغورو تد بر نظر کر دم،ہمہ تحقیق را موافق مذہب ومشرب خود و بزرگان خود یافتم‘‘([7])
چوں کہ حاجی صاحب انتہائی معتدل، صلح پسند اور نرم مزاج تھے اور اختلاف کو افتراق وانتشار بنتےنہیں دیکھنا چاہتے تھے، ساتھ ہی انہیں مولانا گنگوہی کے ساتھ بھی تعلق وہم دردی کا گہرا رشتہ قائم تھا، اس لیےانوار ساطعہ جب ان کی نظر سے گزری تو انہوں نے اس کے مسائل ودلائل کو پسند فرمانے کے ساتھ ’’علماے ہم عصر وہم قافلہ‘‘ کے حق میں بعض الفاظ وتعبیرات میں شدت کا شکوہ بھی کیا۔
مولانا عبد السمیع صاحب نے جب مولانا خلیل اللہ کو خط لکھ کر حاجی صاحب کی بارگاہ میں یہ پیغام بھیجوایا کہ اگلی اشاعت میں وہ حاجی صاحب کے مطابق کتاب کی تصحیح کرلیں گے تو حاجی صاحب کواس بات سے بڑی خوشی ہوئی اور انہوں نے ۲۲؍ شوال ۱۳۰۴/جولائی ۱۸۸۷ء کو مولاناعبد السمیع صاحب کو خط لکھا جس میں کہا گیا ہے کہ جو بات اللہ کے لیے کی جائے اس میں قلم کی سختی اور نفسانیت نہیں ہونی چاہی۔یہ ارباب تحقیق وتہذیب کا شیوہ نہیں ہے۔ جو بات اللہ ورسول کے لیے کہی جائے گی، ان شاء اللہ وہ مقبول ہوگی۔ اگر کوئی شخص اس کا جواب لکھتا ہے تو تم جواب الجواب کے چکر میں نہ پڑنا۔ کیوں کہ تمہارا مقصد اظہار حق تھا اور حق ظاہر ہوچکا۔ حاجی صاحب نے اس مکتوب میں بڑی کشادہ قلبی کےساتھ مضمون کتاب کی تصدیق کی اور لکھا کہ تمہاری کتاب کا مضمون فقیر اور اس کے مشائخ کے مشرب کے مطابق ہے۔ خوب لکھا ہے۔ سلامت رہو۔
’’مطلب کتاب موافق مذہب ومشرب فقیر وبزرگان فقیر است، خوب نوشتید، جزاکم اللہ خیر الجزاء!‘‘([8])
براہین قاطعہ کی توثیق
انوار ساطعہ کی اشاعت (۱۳۰۲ھ /۱۸۸۴ء) کے تیسرے سال ۱۳۰۴ھ/۱۸۸۷ء)براہین قاطعہ منظر عام پر آئی۔ اس کتاب کی اشاعت سے روایتی سنی صوفی حلقے میں شدید اضطراب محسوس کیا گیا۔اس کتاب کی اشاعت پر مشتعل ہونے والوں میں ایک نمایاں نام مولانا نذیر احمدخان رام پوری([9]) کا بھی ہے۔ مولانا نذیر احمد خان (۱۹۰۵ء) رام پور کے تھے، لیکن تعلیم سے فراغت کے بعد مدرسہ طبیہ، احمدآباد،گجرات کو اپنا مسکن بنا لیا ، جس کے بعد آپ رام پور واپس نہیں لوٹے۔آپ نے براہین قاطعہ کے خلاف اسی سخت وتند تیور میں یا اس سے بڑھ کر بوار ق لامعہ لکھی۔ اس سلسلے میں پہلے آپ نے حاجی صاحب کو مکتوب لکھا اور ان سے براہین قاطعہ کے مشمولات سے متعلق ان کی رائے جاننی چاہی اور ان سے گزارش کی کہ ان کے دیوبندی مریدین کی طرف سے اس قسم کی ہرزہ سرائی اب آئندہ نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے براہین قاطعہ پرحسب ذیل اعتراضات بھی کیے:
- پہلا اعتراض– براہین قاطعہ میں یہ لکھا ہے کہ للہ تعالیٰ سے کذب ممکن ہے، اس مسئلہ کی وجہ سےکتب الٰہیہ میں احتمال جھوٹ کا پیدا ہوسکتا ہے۔ یعنی مخالفین کہہ سکتے ہیں کہ شاید قرآن ہی جھوٹا ہے اور اس کے احکام ہی غلط ہیں اور براہین قاطعہ کی اس تحریر کی وجہ بہت لوگ گمراہ ہوگئے۔
- دوسرا اعتراض– براہین قاطعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشریت میں مثل جملہ مخلوقات کے کہہ کر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سب کے برابر کر دیا اور ہامان و فرعون بھی اس اعتبار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برابر ہو گئے۔ یہ بات کفر کی ہے۔
- تیسرا اعتراض– براہین قاطعہ میں مجلس میلاد کو بدعت ضلالہ کہا اور فاتحہ اور محفل میلاد کرنے والوں کو ہنود اور روافض لکھا۔
- چوتھا اعتراض– براہین قاطعہ میں دیو بند کو حرمین شریفین پر ترجیح دی۔
- پانچواں اعتراض– براہین قاطعہ میں لکھا ہے کہ جو ایک وتر نہ پڑھے اس کے ایمان کا کیا ٹھکانا ہے۔پس یہ اعتراض امام صاحب وصاحبين وغیرہ تک جو تین وتر کے قائل ہیں پہنچتا ہے۔ اس سے لازم آتا ہے کہ ان کے ایمان کا بھی ٹھکانا نہ ہو۔ نعوذ باللہ
- چھٹا اعتراض– براہین قاطعہ میں یہ صاف لکھ دیا ہے کہ مسائل مختلف فیہا بین الحنفیہ والشافعیہ میں بلاضرورت دوسرے کے مذہب پر عمل کرے۔([10])
حاجی صاحب نے مولانا نذیر احمد رام پوری کے مکتوب کا جواب لکھوایا اور ان کے اعتراضات کے جوابات دیے۔ یہ جوابی مکتوب براہین قاطعہ کی بعد والی اشاعتوں کے آخر میں چھپتا رہا ہے۔قابل ذکر یہ ہے کہ خلاف توقع یہ مکتوب براہین قاطعہ کی تردید کے بجائے اس کی توجیہ وتوثیق پر مشتمل ہے۔ اس مکتوب میں مذکورہ بالا اعتراضات کے جو جواب دیے گئے ہیں ان کی تلخیص کچھ یوں ہے:
- جواب اول– امکان کذب کے جو معنی آپ نے سمجھے ہیں وہ قطعاً باطل ہے ، اس کا کوئی قائل نہیں۔ نص صریح ہے: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثًا۔ صاحب براہین نے خلف وعید کے سلسلے میں اختلاف کا ذکر کیا ہے اور وہ حقیقت کذب نہیں، بلکہ صورت کذب ہے اور امکان کذب کے معنی یہ ہیں کہ کذب تحت قدرت داخل ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ وعید فرمائے ہیں، ان کے خلاف کرنے پر بھی وہ قادر ہے۔ جیسے اللہ وعدہ فرماتا ہےکہ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْیعنی آپ کے ہوتے ان پر عذاب نہیں نازل کرے گا۔ لیکن اس کے خلاف اس آیت میں فرمایا: “قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَىٰ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا۔ یعنی وہ اس بات پر قادر ہے کہ تم پر عذاب نازل کردے، اگرچہ از راہ شفقت اس کا وعدہ ہے کہ وہ نازل نہیں کرے گا۔ اسی طرح عشرۂ مبشرہ بشارت نبوی کے سبب جنتی ہونے پر یقین رکھتے تھے، اس کے باوجود وہ اللہ سے بہت زیادہ ڈرتے تھے، کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اللہ اس کے خلاف بھی قادر ہے۔یہ مذہب جمیع محققین اہل اسلام صوفیاے کرام وعلماے عظام کا ہے۔
- جواب ثانی– رسول اللہ ﷺکا جملہ بشر کے ساتھ بشریت میں شریک ومثل ہونابنص قرآنی ثابت ہے۔ مگر ایک وصف میں مثل ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ جمیع اوصاف میں مثل ہوں۔ برابری کا دعوی کوئی نہیں کرتا۔ خودبراہین قاطعہ میں آیت إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ کی شرح کے بعد لکھا ہے کہ يُوحَىٰ إِلَيَّ سے آنحضرتﷺ کا علومرتبہ اور امتیاز معلوم ہوگیا۔آپ نےکفر کا قول کرنےمیں جلد بازی کرکے یہ خیال نہ کیا کہ اس کی ضرب کہاں کہاں پڑے گی۔
- جواب ثالث-براہین قاطعہ نے نفس ذ کر میلاد کو بدعت ضلالہ نہیں کہا، قیودات زائدہ محرمہ مکر وہہ کے سبب کہا ہے، اسی طرح عقیدہ باطلہ پر مشا بہت روافض و ہنود کا حکم لگایا ہے۔
- جواب رابع– ایسے ہی براہین قاطعہ میں دیوبند کو حرمین پر ترجیح نہیں دی ہے، بلکہ اس کتاب میں صاف لکھ دیا ہے کہ دیو بند کومثل بازارکے شر البلاد اور حرمین کو مثل مسجد کے خیر البلادسمجھو، مگر فتویٰ میں اعتبار عالم ربانی متقی کا ہے، گووہ کسی جگہ کا ہو۔بنظر تحقیق اس میں کس کو کلام ہو سکتا ہے؟
- جواب خامس-و ترکی بحث میں جو آپ نے لکھا ہے کہ صاحب براہین کا اعتراض امام صاحب و صاحبین تک پہنچتا ہے، یہ محض تعصب با سفاہت ہے۔ صاحب براہین اس شخص کو رد کرتے ہیں جو عموماً ایک وتر پڑھنے والوں پر طعن کرے، کیوں کہ ایک وتر پڑھنے والے بعض صحابہ وائمہ بھی ہیں۔
- جواب سادس– براہین میں کہیں نہیں لکھا کہ مسائل مختلف فیہا بین الحنفیہ و الشافعیہ میں بلا ضرورت دوسرے مذہب پر عمل کرنا درست ہے۔ شاید آپ کو امام ابن ہمام کے قول سے جو دربارہ تراویح نقل ہے، یہ شبہہ پیدا ہوا۔
توثیق یا تلبیس
مولانا نذیر احمد خان رام پوری کے نام حاجی صاحب کے مذکورہ بالامکتوب کے حوالے سے خود مولانا نذیر خان صاحب نے جو انکشاف کیا ہے، وہ چونکانے والا ہے۔ اس سے مذکورہ بالا توثیق تلبیس میں بدل جاتی ہے۔
مولانا رام پوری نے البوارق اللامعہ کے شروع میں’’ کید نہم‘‘ کے تحت لکھا ہے کہ براہین قاطعہ کی اشاعت کے بعد اس خاکسار نے حاجی صاحب کو اس مضمون کا ایک مکتوب لکھا: ” صاحبان براہین آپ کے مریدان رشید ہیں۔ ان کو آپ منع کر دیں کہ لوگوں کو گمراہ نہ کریں۔ براہین قاطعہ میں یہ یہ عقائد باطلہ اور اعمال کا سدہ درج کیے ہیں۔‘‘
اس کےچند ماہ بعد ایک مکتوب ان لوگوں نے طبع کرایا اور ظاہر کیا کہ یہ خط حاجی صاحب کاہے جو مولانا نذیر احمد خان رام پوری مدرس مدرسہ طیبہ،احمد آباد، گجرات کے نام مکہ معظمہ سے آیا ہے۔ اس کی تمہید میں صاحبان براہین نے یہ بھی لکھا کہ ’’حاجی صاحب نے یہ جواب مولوی نذیر احمد خان کو روانہ کر دیا ہے، جو چاہے ان سے دریافت کرلے۔‘‘
اس مکتوب کا جو خلاصہ معتقدان براہین نے شائع کیا، یہ ہےکہ ’’براہین قاطعہ میں عقائد حقہ ہیں، تمہاری سمجھ میں نہیں آئے۔‘‘اور اس کے حاشیہ میں تو سفاہت اور بلادت وغیرہ بہت سے الفاظ خاکسار نذیر احمد اور جناب مولوی احمد حسن صاحب پنجابی کی نسبت لکھا ،کہ وہ نہ سمجھے نہ بوجھے، رسالہ در باب امتناع کذب باری تعالیٰ لکھنے کو بیٹھ گئے ۔‘‘
مولانا نذیر صاحب اس کے بعد بڑے سخت تیور میں لکھتے ہیں:
’’ اس تمہید میں جو ان مکاروں نے لکھا کہ حاجی صاحب نے یہ جواب نذیر احمد کو روانہ کر دیا ہے، اس کے مقابلہ میں تو احقر اسی آیت کی تلاوت پر اکتفا کرتا ہے: لعنة الله علی الکاذبین یعنی وہ جواب میرے پاس نہیں آیا اور ان مکاروں کو اس کی نقل پہونچ گئی۔‘‘
’’ احقر نے فاضل کامل مولانا مولوی سکندر خان صاحب واصل خالص پو ری نزیل ممبئی کو لکھا کہ یہ خط میرا جناب حاجی امداد اللہ صاحب کی خدمت میں کسی اہل علم معتمد علیہ کے ہمراہ روانہ کر دیں۔ اس خط میں فقط حاجی صاحب سے استفسار اس امر کا کیا تھا کہ یہ خط جو صاحبان براہین نے آپ کے نام سے چھپوایا ہے، فی الحقیقہ آپ کا ہے یا نہیں؟ آپ ان عقائد کے جو براہین میں مندرج ہیں معتقد ہیں یا نہیں ؟ فقط۔‘‘
’’ فاضل ممدوح نے وہ خط مولا نا مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری کے ہمراہ مکہ معظمہ کو حاجی صاحب کی خدمت میں روانہ کر دیا۔ جناب حاجی صاحب نے اس کا جواب بسبیل ڈاک بشہر احمد آبادگجرات مدرسہ طیبہ میں میرے پاس ابلاغ فرمایا۔ حاجی صاحب کے اس مکتوب کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’ایک مدت سے بوجہ ضعف بصارت میں اپنے ہاتھ سے خط نہیں لکھتا ہوں، ضرورت کے وقت دو سرے شخص کے ہاتھ سے لکھوا دیا کرتا ہوں۔ چناں چہ وہ خط بھی جو معتقدان براہین قاطعہ نے چھپوایا ہے، میں نے اپنے ہاتھ سے نہیں لکھا۔ کاتب نے اپنے علم پر اعتماد کر کے مضمون مذکور لکھ دیا ہوگا اور براہین قاطعہ میں جو عقائد فاسدہ اور اعمال کا سدہ مذکور ہیں، وہ سرا سر میرے عقائدو اعمال کے مخالف ہیں ۔ میں ہرگز ان عقائد و اعمال کا معتقد و عامل نہیں ہوں ۔ فقط۔‘‘([11])
تقدیس الوکیل کی توثیق
مولانا غلام دستگیر اپنے سفر حرمین میں حاجی صاحب سے مسلسل رابطے میں رہے۔ اپنی کتاب تقدیس الوکیل پر وہاں مقیم علماے عرب وعجم سے تصدیقات وتقریظات حاصل کیں۔اس سیاق میں آپ حاجی صاحب کی توثیق کے بھی متمنی تھے، لیکن حاجی صاحب نے پوری کتاب کی توثیق کے بجائے ربیع الاول ۱۳۰۸ھ/ اکتوبر ۱۸۹۰ء کو مکہ معظمہ میں مولانا قصوری سے ایک مختصر تحریر لکھوائی جس میں کسی کانام لیے بغیر براہین قاطعہ کے برخلاف امتناع کذب ونظیر، بشریت مصطفیٰ ﷺ، وسعت علم رسالت اور مجلس میلاد کے تعلق سے اپنا موقف لکھا، جسے تقدیس الوکیل کے آخر میں شامل کیا ہے۔ اس پر حاجی صاحب نے بھی مہر تصدیق ثبت کی ۔مولانا قصوری کی اس تحریر کے خاص حصے یہ ہیں:
- ’’جاننا چاہیے کہ شرعاً و عرفاً و عقلاً امکان کذب حق سبحانہ و تعالیٰ محال اور ممتنع ہے، اور ایسا ہی امکان نظیر سرور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم محال و ممتنع ہے۔‘‘
- ’’بشریت وغیرہ میں سرور کائنات علیہ الصلوۃ والتسلیمات سے جملہ بنی آدم کو مساوی جاننا محققین کی تصریح کے خلاف ہے۔‘‘
- ’’ شیطان لعین کی وسعت علم اور احاطہ زمین کو نصوص قطعیہ سے ثابت جاننا اور عالم علوم الاولین والآخرین صلی اللہ علیہ وآلہ وعترتہ اجمعین کی وسعت علم کو بلادلیل محض قیاس فاسد سے ثابت کہنا اور اس کو شرک سے تعبیر کرنا اور آپ کے علم شریف کو معاذ اللہ! شیطان کےعلم سے کم لکھ دینا، یہ آپ کی سخت تو ہین ہے۔‘‘
- ’’ مجلس مولود شریف مروجہ عرب وعجم کو کنہیا کے جنم سے مشابہت دینی اور بدعت سیئہ و حرام کہنا اور اس مجلس کے قیام کو جو بنظر تعظیم ذکر خیر و رعایت ادب کے مستحسن جانا گیا ہے، حرام بلکہ شرک و کفر لکھ دینا اور فاتحہ ارواح اولیاء و صلحاوسائر مومنین کو برہمنوں کے اشلوک پڑھنے کے مشابہ کہنا سخت قبیح کلمات ہیں۔‘‘
’’حضرت حاجی صاحب موصوف نے اس تحریر کو ملاحظہ فرما کر حضرت مولانا بالفضل والکمال اولیٰنا الحاج الحافظ محمد عبدالحق صاحب کی خدمت میں بھیجا، تو انہوں نے اس پریہ لکھا:
حامِداً ومُصَلِّياً ومُسْلِماً، ما كُتِبَ في هذا القِرطاسِ صحيحٌ لا ريبَ فيه، واللهُ سبحانهُ وتعالى أعلمُ وعِلمُهُ أتمّ.حرّرهُ محمد عبد الحق عُفيَ عنه
پھر حضرت حاجی صاحب نے یہ تحریر فرمائی:
’’ تحریر بالا صحیح اور درست ہے اور مطابق اعتقاد فقیر کے ہے، اللہ تعالیٰ اس کے کا تب کو جزائے خیر دے۔
بے سبب گر عز بما موصول نیست
قدرت از عزل سبب معزول نیست‘‘([12])
فیصلۂ ہفت مسئلہ
حاجی صاحب کے اپنے ہی خلفا اور منتسبین کے بیچ۱۸۸۴ء سے ۱۸۹۴ء تک تحفظ سنت و روایت اور رد بدعت و وہابیت کے نام پر جو اک نئی جنگ برپا تھی، اس کی شعلہ افشانی ہر دن بڑھتی جارہی تھی۔ اس بیچ طرفین کے لوگ حاجی صاحب سےاصلاح پذیری کے بجائے ان کے نام پر اپنی اپنی دکان چمکانے میں جٹے تھے۔ حاجی صاحب دیکھ رہے تھے کہ ان کی شخصی ملاقاتیں اور نصیحتیں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لارہی ہیں، بلکہ ہر شخص ان کا حوالہ دے کر اپنی ڈفلی اور زور زور سے پیٹتا جا رہا ہےاور اب یہ اختلاف علمی دائرے سے نکل کر تحزب پسندی اور گروہ بندی کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔
حاجی صاحب نے مناسب سمجھا کہ اب فریقین کے اختلاف کو ختم کرنے یا انہیں متحد کرنے کے بجائے، انہیں اختلاف کو برداشت کرنے کی دعوت دی جائے اور بتایا جائے کہ اگر فریقین ایک دوسرے کو مطمئن نہ کرسکیں تو جنگ کو طول دینے کے بجائے ہر شخص کو اپنے موقف وریاست میں رہنے کی آزادی ملنی چاہیے۔ جس طرح عہد قدیم میں علما کے بیچ بے شمار علمی وفکری اختلافات ظہور پذیر ہوئےاور تصفیہ واتحاد نہ ہونے کی صورت میں ہر عالم اور ہر حزب کو اس کے موقف پر رہنے کی اجازت دی گئی، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسی سبق کو پھر سے دہرا دیا جائے اور جس طرح عبادات واحکام کے حدیثی احکام میں علمی اختلاف کی بنیاد پر ہر گروہ کو دائرہ اسلام وسنیت میں داخل تسلیم کیا گیا، ان نئی رسوم وعادات کے باب میں بھی یہ گنجائش پید اکی جائےاور اس طرح مسلمانان عصر جو مختلف سیاسی وسماجی چیلنجز سے نبردآزما ہیں، ان مسلکی وفروعی مسائل میں اختلاف کے ساتھ جینا سیکھ لیں۔
حاجی صاحب نے یہ بھی مناسب جانا کہ دوسرے پر تھوپے بغیر اپنا ذاتی فکر وعمل بھی واضح کردیا جائے تاکہ کسی کو کسی طرح کا التباس نہ رہے۔ حاجی صاحب کی یہ کتاب علمی اختلاف کا دروازہ کھولتی ہے اور تحزب پسندی اور مسلکیت کی جڑ کاٹتی ہے۔ اسی لیے راستے کا یہ وہ پتھر بن گئی ہے جسے چومتا ہر کوئی ہے، لیکن اٹھانے کی جرات کسی میں نہیں۔
سال اشاعت
اندازہ یہ ہے کہ فیصلۂ ہفت مسئلہ ۱۸۹۴ء میں لکھی گئی اور اس کی پہلی اشاعت غالباًمطبع انتظامی،کان پور سے جنوری ۱۸۹۵ءمیں سامنے آئی، اس لیے کہ اس کے آخر میں مطبع انتظامی کے مہتمم جناب عبد الواحد صاحب کی تحریر ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ حاجی محمد سعید مہتمم مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے واسطے سے ان کے پاس چھپنے کے لیے آیا ہے اور مصنف ممدوح کی اصل تحریر مہری ودستخطی مطبع ہٰذا میں محفوظ ہے۔جناب عبدالواحد صاحب نے اپنے نام کے ساتھ ۲۵؍ رجب ۱۳۱۲ھ کی تاریخ لکھی ہے، جو ۲۱؍ جنوری ۱۸۹۵ء کے موافق بنتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ رسالہ جناب سعید صاحب مذکور کی ہی فرمائش پر لکھا گیا تھا، جیسا کہ سرورق پر اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ کتاب کے شروع میں ’’گذارش نیازمندانہ‘‘ کے نام سے محمد سعید صاحب کی ایک مختصر تحریربھی ہے، جس کے آخر میں انہوں نے ۱۳؍صفر ۱۳۱۲ھ کی تاریخ لکھی ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ اگست ۱۸۹۴ء میں یہ کتاب لکھی جاچکی تھی۔
مولانا تھانوی کا قلم
فیصلۂ ہفت مسئلہ کی پہلی اشاعت کے سرورق پر حاجی صاحب کے نام سے پہلے مصنف یا مولف لکھنےکے بجائے از افادات لکھا ہوا ہے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ اس کتاب کو حاجی صاحب نے بہ نفس نفیس اپنے قلم سے نہیں لکھا ہے۔ اس کی توثیق مزید مولانا تھانوی کی محولہ بالا ضمیمہ فیصلہ ہفت مسئلہ سے ہوتا ہے، جس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ فیصلہ ہفت مسئلہ کے لیے جو قلم استعمال کیا گیا ہے، وہ مولانا تھانوی کا ہے۔ مولانا تھانوی رقم طراز ہیں:
’’ اشرف علی تھانوی خادم آستانہ حضرت شیخ المشائخ سید السادات مولانا و مرشدنا الحافظ الحاج الشاہ محمد امداد اللہ صاحب ضُوعِفت بر کاتُھم اپنے پیر بھائیوں اور دیگر ناظرین فیصلہ ہفت مسئلہ کی خدمت میں عرض رسا ہے کہ رسالہ فیصلہ ہفت مسئلہ جوبباعث اس کے کہ بوجہ ضعف قوی جسمانیہ، حضرت ممدوح کو خود قلم مبارک سے لکھنے میں تکلف ہوتا ہے، بحکم حضرت محمود بعبارت اس خادم کے بغرض محاکمہ بعض مسائل تحریرہو کرتقریباً عرصہ چار سال کا ہوا، کہ شائع ہوا ہے۔‘‘ ([13])
اس اقتباس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف قلم، بلکہ الفاظ وعبارات بھی مولانا تھانوی کے ہیں، حاجی صاحب کےصرف افادات ومعانی ہیں، لیکن ظن غالب ہے کہ حاجی صاحب تھوڑے تھوڑے بولتے رہے ہوں گے اور ان کے بعینہ مفہوم کو مولانا تھانوی الفاظ کا جامہ پہناتے رہے ہوں گےاور پھر تحریر کے بعد حاجی صاحب نے بغور ایک ایک لفظ پڑھا یا سنا ہوگا اور حسب ضرورت اصلاح وترمیم کرائی ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ موقع بہت حساس تھا۔ محاکمہ میں اعتدال وانصاف مقصود تھا، جس کا کامل اظہار اس کتاب سے ہوتا بھی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ یہ کتاب جب من حیث المجموع علماے دیوبند کے مسلک -علی الاقل عملی-کے خلاف ثابت ہوئی تو حلقۂ یاران طریقت میں کہرام مچ گیا اور پھر حاجی صاحب کی عبارات کی توجیہ وتاویل کا ایک سلسلہ چل پڑا، تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ حاجی صاحب کا فکر ومنہج علماے دیوبند سے ہم آہنگ ہے۔ اس کی ضرورت اتنی شدید محسوس کی گئی کہ اس کے لیے خود مولانا گنگوہی اور مولانا تھانوی کو بھی سامنے آنا پڑااور اسی سیاق میں مولانا تھانوی نے فیصلہ ہفت مسئلہ کی اشاعت کے چار سالوں بعد ضمیمہ فیصلہ ہفت مسئلہ لکھا۔([14]) نیز مولانا تھانوی نے ’’تنبیہات وصیت‘‘ کے اندر تنبیہ دہم کے ذیل میں ۶۹؍ نمبر پر فیصلۂ ہفت مسئلہ کا ذکرکیا ہے اور اس کے ساتھ یہ نوٹ بھی لگایا ہے:
’’بارشاد حضرت حاجی صاحب، جس کے بعض مضامین کی عبارت خلاف تحقیق کے موہِم ہے، جس کی تفصیل حضرت مولانا گنگوہی قدس اللہ سرہ کی ایک تحریر سے جو اس کے متعلق ہے اور اس تنبیہ کے آخر میں ملحق ہے، معلوم ہوگی، جس کے ساتھ میں حرفاً حرفاً موافق ہوں۔‘‘([15])
آغاز کلام
کتاب کے سرورق پر پہلی لائن میں سورۂ حجرات کی یہ آیت ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ (آیت:۱۰) یعنی بے شک اہل ایمان بھائی بھائی ہیں، اس لیے اپنے دو بھائیوں کے بیچ مصالحت کراؤ۔اس کے بعد رسالے کے تعارف میں مکتوب ہے:’’سالبۂ عناد وفساد وجالبۂ وداد واتحاد وزنگ اختلاف را مصقلہ مسمیٰ بہ فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘یعنی رسالہ فیصلہ ہفت مسئلہ عناد وفساد کو ختم کرنے والا، محبت واتحاد کو پیدا کرنے والا اور زنگ اختلاف کو دھلنے والا ہے۔
حاجی صاحب نےاس کتاب میں جملہ مسلمانوں کو اور بالخصوص اہل محبت کو مخاطب کیا ہے۔ انہوں نے اس میں پہلی بات یہ کہی ہے کہ’’باہمی اتفاق باعث برکات دنیوی ودینی اور نا اتفاقی موجب مضرت دنیوی ودینی ہے۔‘‘ اس بات کی اہمیت آج پہلے سے زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آئی ہے، کاش مسلکی جنگ میں الجھی ملت اس بات کا ادراک کرسکے۔
تمہید کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ انیسویں صدی کے ربع آخر میں جن مسائل میں کفر وایمان کے مورچے برپا تھےاور جن پر علماے عصر مرنے مارنے پر تلے ہوئے تھے، حاجی صاحب کی نظر میں ان کی حیثیت فروعی مسائل کی تھی اور ان میں سے بیشتر کی نوعیت فقط نزاع لفظی کی تھی۔ فرماتے ہیں:
’’آج کل بعض مسائل فرعیہ میں ایسا اختلاف واقع ہوا ہے جس سے طرح طرح کے شرور وفتن پیدا ہورہے ہیں اور خواص کا وقت اور عوام کا دین ضائع ہو رہا ہے، حالاں کہ اکثر امور میں محض نزاع لفظی ہے اور مقصود متحد۔‘‘
اس عبارت میں حاجی صاحب کے یہ الفاظ بھی بڑے معنی اور داعیانہ ہیں کہ ان مسائل میں ’’خواص کا وقت اور عوام کا دین ضائع ہو رہا ہے۔‘‘گویا جس کام کو علماے عصر دینی فریضہ سمجھ کر کر رہے تھے وہ حاجی صاحب کی نظر میں محض ضیاع وقت تھا اور صرف یہی نہیں، بلکہ جسے وہ عوام کے ایمان وعمل کی حفاظت کا ذریعہ سمجھ رہے تھے وہ حاجی صاحب کی نگاہ میں عوام کے دین کی بربادی کا سامان تھا۔ آنے والے وقت نے بتایا اور ہر صاحب انصاف اس بات کا اعتراف کرے گا کہ حاجی صاحب کی یہ بات صحیح ودرست ثابت ہوئی۔
حاجی صاحب تالیف کتاب کے پس منظر میں اپنا دردِ دل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’’عموماً مسلمانوں کی اور خصوصاً اپنے تعلق والوں کی یہ حالت دیکھ کر نہایت صدمہ ہوتا ہے۔ اس لیے فقیر کے دل میں آیا کہ مسائل مذکورہ کے متعلق مختصر سا مضمون قلم بند کرکے شائع کردیا جائے۔ امید قوی ہے کہ یہ نزاع وجدال رفع ہوجاوے۔‘‘
آگے لکھتے ہیں:’’اس وقت میں اختلافات اور مختلفین کثرت سے ہیں ، مگر فقیر نے انہیں مسائل کو لیا جن میں ’’اپنی جماعت‘‘ کے لوگ مختلف ہیں۔‘‘
تمہید کے آخر میں لکھا:’’حق تعالیٰ سے امید ہے کہ یہ تحریر باعث رفع فساد باہمی ہو۔۔۔کوئی صاحب اس تحریر کے جواب کی فکر نہ کریں، کیوں کہ مقصود میرا مناظرہ کرنا نہیں۔‘‘
۱-مسئلہ میلاد وقیام
حاجی صاحب سب سے پہلے میلاد کو زیر بحث لائے ہیں۔ تمہید میں انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ترتیب مسائل میں اس مسئلے کو مقدم کریں گے جو زیادہ متنازع ہوگا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے اور افسوس ہوتا ہے کہ مجلس میلاد مصطفیٰ ﷺ انیسویں صدی کے ربع آخر کے علماے ہند کے بیچ سب سے زیادہ متنازع مسئلہ تھا۔
حاجی صاحب نے اس بحث کے شروع میں سب سے پہلے نقطۂ اتحاد کو ذکر کیا ہے کہ ذکر میلاد مصطفیٰ ﷺ متفقہ طور پر باعث خیرات وبرکات ہے۔ اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ’’ صرف کلام بعض تعینات وتخصیصات وتقئیدات میں ہے، جن میں بڑا امر قیام ہے۔‘‘
حاجی صاحب کے بقول ان تعینات وتخصیصات میں علماے عصر مختلف الخیال ہیں۔ اکثر علما ان کی اجازت دیتے ہیں اور بعض ان سے منع کرتے ہیں۔یہاں حاجی صاحب کا لفظ ’’ اکثر‘‘ قابل توجہ ہے۔
حاجی صاحب کے بقول علماے عصر کا یہ اختلاف دلیل کی بنیاد پر ہے۔جواجازت دیتے ہیں ان کی دلیل وہ نصوص ہیں جن میں ذکر رسول اکرم ﷺ کے فضائل وارد ہیں اور وہ نصوص مطلق ہیں، ان کی کوئی خاص شکل متعین نہیں ہے اور جو منع کرتے ہیں ان کی دلیل حدیث رسول كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ( ہر بدعت گمرا ہی ہے) ہے۔
حاجی صاحب کے بقول:’’بدعت اس کو کہتے ہیں کہ غیر دین کو دین میں داخل کرلیا جائے ۔‘‘اس اصول کی روشنی میں انہوں نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص میلاد کی تخصیصات ان کی ہیئت ووقت وتاریخ وغیرہ کو نماز روزے کی طرح عبادت مقصودہ نہیں سمجھتا، بلکہ فقط عمل مباح سمجھتا ہے تو پھریہ بدعت ومذموم نہیں ہےاور اگرکوئی یہ سمجھتا ہے کہ اگر ان تخصیصات کی پابندی نہیں کی گئی تو ثواب ہی نہیں ملے گاتو یہ بدعت ومذموم ہے۔بقول حاجی صاحب ’’دونوں صورتوں میں تعدی حدود ہے۔‘‘مجلس میلاد میں نبی کریم ﷺ کی جلوہ افروزی کو کفر وشرک کہنے کو بھی حاجی صاحب نے’’حد سے بڑھنا‘‘ کہا ہے اور اس کے عقلی ونقلی امکان بلکہ وقوع کی بات کی ہے۔پھر حاجی صاحب اپنا معمول لکھتے ہیں:’’مشرب فقیر کا یہ ہے کہ محفل مولد میں شریک ہوتا ہوں، بلکہ ذریعۂ برکات سمجھ کر اپنے گھر پر ہر سال منعقد کرتا ہوںاور قیام میں لطف ولذت پاتا ہوں۔‘‘اس بحث کے آخرمیں مذکورنصائح میں سے چند کا خلاصہ یہ ہے:
- یہ مسئلہ اختلافی ہے اور ہر فریق کے پاس اپنے موقف کے حق میں دلائل ہیں،اس لیے خواص اپنی تحقیق پر عمل کریں اور اس اختلاف کو مثل حنفی شافعی اختلاف کے سمجھیں، ایک دوسرے کی تفسیق وتضلیل نہ کریں۔
- ایک دوسرے کی رعایت کریں، چناں چہاگر مانع قیام عامل قیام کی محفل میں چلا جائے تو بہتر ہے کہ عامل قیام اس میں قیام نہ کرے اور اگر کوئی ایسی مجلس ہو جہاں قیام ہو رہا ہو تو مانع قیام بھی قیام کرلے، بشرطےکہفتنہ نہ ہو۔
- ام میں جو غلو ہے ، اس سے منع کرنا چاہیےاور مناسب ہے کہ قائلین میلادہی منع کریں اور نرمی سے کریں۔
- عوام کو چاہیے کہ اپنے معتمد عالم کی تحقیق پر عمل کریں اوردوسرے علما سے تعرض یا ان کی گستاخی نہ کریں۔
- جو ضوابط یہاں بیان کیے گئے وہ دیگر اختلافی مسائل میں بھی یکساں معتبر ومفید ہیں۔
۲-نیاز وفاتحہ
حاجی صاحب یہاں اپنا مدعا واضح کرتے ہوئے ر قم طراز ہیں:
’’اس میں بھی وہی گفتگو ہے جو مسئلہ مولد میں مذکور ہوئی۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نفس ایصال ثواب بارواح اموات میں کسی کو کلام نہیں ۔ اس میں تخصیص وتعیین کو موقوف علیہ ثواب کا سمجھے یا واجب فرض اعقاد کرے تو ممنوع ہے اور اگر یہ اعتقاد نہیں، بلکہ کوئی مصلحت باعث تقئید ہیئت کذائیہ ہے تو کچھ حرج نہیں ۔جیسا بمصلحت نماز میں سورت خاص معین کرنے کو فقہاے محققین نے جائز کہا ہے۔‘‘
فاتحہ کی روایت کے سلسلے میں حاجی صاحب نے لکھا ہے کہ اسلاف کھانا سامنے رکھ کر فاتحہ نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ ایصال ثواب کی نیت سے مسکین کو کھانا کھلادیا کرتے تھے اور بس۔ پھر جس طرح بعد میں نماز کی نیت زبان سے کرنے کو مستحسن سمجھا گیا، اسی طرح بعد میں کچھ لوگوں نے زبان سے بھی دعا کرنا شروع کیا کہ یا اللہ اس کھانے کا ثواب فلاں کو پہنچا دے۔ پھر بعد میں یوں بھی ہونے لگا کہ کھانا سامنے رکھ کر یہ دعا کی جانے لگی ۔ پھر کسی کو خیال ہو کہ اس دعا کے ساتھ کچھ آیات بھی پڑھ دی جائیں تو قبولیت دعا کی امید بڑھ جائے گی اور جمع بین العبادتین ہوجائے گا۔ اس طرح سے آہستہ آہستہ فاتحہ کی مروجہ شکل developہوگئی۔
فاتحہ مروجہ اور اس کی ہیئت کذائیہ کے سلسلے میں باب انصاف واعتدال کھولتے ہوئے رقم طراز ہیں :
- عوام میں جو غلو ہے، اس کی اصلاح کی جائے، سرے سے فاتحہ سے ہی نہ روکا جائے۔
- عوام کے غلو کے سبب خواص کا عمل نا روا نہیں ہوگا۔
- اس میں دوسری قوموں سے تشبہ بھی نہیں ہے، کیوں کہ تشبہ اس وقت تک رہتا ہے جب تک وہ عادت اس قوم کے ساتھ اس طرح سے خاص ہو کہ جو شخص بھی وہ عمل کرے وہ اسی قوم سے سمجھا جائے۔
- غوث پاک کی گیارھویں، دسواں ، بیسواں، چہلم، ششماہی ، برسی، شیخ احمد عبد الحق ردولوی کا توشہ، شاہ بو علی قلندر کی سہ منی، شب برات کا حلوہ اورایصال ثواب کے دوسرے طریقےسب اسی قاعدے پر مبنی ہیں۔
- ’’ مشرب فقیر کا اس مسئلے میں یہ ہے کہ فقیر پابند اس ہیئت کا نہیں ہے، مگر کر نے والوں پر انکار نہیں کرتا ۔‘‘
آخر میں اہل اسلام کو نصیحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فریقین کو آپس میں مل جل کر رہنا چاہیے۔ اس میں بحث اور قیل وقال کی چنداں حاجت نہیں، اس سے فریقین کو بچنا چاہیے۔ عوام کو ان کے غلو سے منع کیا جانا چاہیے، لیکن جیسا کہ میلاد کے بیان میں گزرا کہ یہ کام بھی قائلین فاتحہ کو کرنا چاہیے اور نرمی کے ساتھ کرنا چاہیے۔
حاجی صاحب اس جنگ کی نفسیات سے کتنے باخبر تھے اس کا اندازہ کیجیے۔ فرماتے ہیں کہ ایک دوسرے کو وہابی اور بدعتی نہیں کہنا چاہیے۔افسوس کہ فریقین اس زمانے سے آج تک یہی کرتے آرہے ہیں کہ ایک فریق دوسرے کو بدعتی کہہ کر اس کا مذاق اڑاتا ہے اور اسے گمراہ ثابت کرتا ہے اور یہی کارنامہ دوسرا پہلے کو وہابی کہہ کر انجام دیتا ہے۔حاجی صاحب ایک حد تک علمی اختلاف واستدلال کے تو قائل تھے،لیکن اس قسم کی لفاظی اور ’’تنابز القاب‘‘ پر مبنی لفظی جنگ کے قطعاً خلاف تھے۔یہ روش تحقیق کی جگہ تعصب کو بڑھاوا دیتی ہے۔
۳-عرس وسماع
حاجی صاحب نے عرس کے جواز کی بنیاد حدیث رسول : نَمْ كَنَوْمَةِ الْعَرُوسِ پر رکھی ہے، کہ قبر میں بندۂ صالح سے کہاجاتا ہے کہ عروس[دلہن] کی طرح آرام کر، کیوں کہ ’’موت مقبولان بارگاہ الٰہی کےحق میں وصال محبوب حقیقی ہے۔ ‘‘اس کے ساتھ ہی انعقاد عرس کی مزید حکمتیں بیان کرتے ہیں، مثلاً:
- عام اہل اسلام کے لیے ایصال ثواب مستحسن ہے تو صالحین کے لیے بدرجۂ اولیٰ ہونا چاہیے۔
- اس موقع سے شیخ کے مریدین کو آپس میں ملنے کا موقع ملتا ہے جو باعث ازدیاد محبت وبرکت ہے۔
- محفل عرس میں مشائخ کی شرکت ہوتی ہے اور یہ طالبین کے لیے انتخاب شیخ کا حسین موقع ہوتا ہے۔
- یوم وفات کو یوم عرس مقرر کرنے میں ’’اسرار خفیہ‘‘ ہیں، جن کا اظہار ضروری نہیں۔
- بعض سلاسل طریقت میں’’ تجدید حال‘‘ اور ’’ازدیاد ذوق وشوق‘‘ کے لیے سماع کا بھی رواج ہے۔
عرس کے خلاف سب سے بڑا اعتراض حدیث رسول: لا تتخذوا قبری عیدا. کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ حاجی صاحب اس کی توضیح میں رقم طراز ہیں: ’’اس کے صحیح معنی یہ ہیں کہ قبر پر میلہ لگانا اور خوشیاں کرنا اور زینت وآراستگی ودھوم دھام کا اہتمام یہ ممنوع ہے، کیوں کہ زیارت مقابر واسطے عبرت اور تذکر آخرت کے ہے، نہ غفلت وزینت کے لیے‘‘
اس سلسلے میں ایک دوسرا اشکال آیت کریمہ وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (عراف:۲۰۴) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، کیوں کہ اس آیت میں تلاوت قرآن کے وقت خاموش رہنے کا حکم ہے، جب کہ عرس کے موقع پر بعض جگہ سب زور زور سے قرآن پڑھتے ہیں۔حاجی صاحب اس تعلق سے لکھتے ہیں :
- خارج نماز میں علما نے اس خموشی کو مستحب لکھا ہے، اس لیے ’’ترک مستحب پر اتنا شور وغل نامناسب ہے۔‘‘
- اگر اسے کو ئی شخص واجب ہی سمجھتا ہے تو اسے ایک ساتھ زور سے تلاوت کو منع کرنا چاہیے،عرس کو نہیں۔
اس کے ساتھ ہی از روے انصاف حاجی صاحب نے ایسے اعراس میں شرکت کو ناجائز کہا ہے جہاں مروجہ رقص اور سجدۂ قبور جیسے ممنوع امور انجام پاتےہوں۔البتہ وہ سماع -خواہ بالمزامیر ہو یا بلامزامیر- کو مختلف فیہ کہتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے نزدیک مذہب تحقیق امام غزالی والا ہے کہ مانع عوارض ہوں تو ممنوع ہے، ورنہ مباح۔
حاجی صاحب کے مطابق وہ احادیث جو سماع کے خلاف پیش کی جاتی ہیں خبر واحد ہیں اور محتمل تاویل ہیں، گو تاویل بعید ہی سہی اور صاحب سماع کے غلبۂ حال کا بھی احتمال ہے۔ ایسی صورت میں کسی پر اعتراض کرنامشکل ہے۔
اس سلسلے میں حاجی صاحب نے اپنا مشرب یہ بتایاہے کہ وہ ہر سال اپنے مرشد کی روح پاک کو ایصال ثواب کرتےتھے، قرآن خوانی ہوتی، وقت میں گنجائش ہوئی تو میلاد بھی پڑھی جاتی ہے، پھر کھانا کھلایا جاتا ہے اور ان سب کا ثواب مرشد کی روح کو بخش دیا جاتا۔البتہ انہیں سماع کاکبھی اتفاق نہیں ہوا، نہ بالمزامیر کانہ بلامزامیر کا۔ مگر دل سے اہل دل پر کبھی اعتراض نہیں کیا۔ان کے نزدیک ریاکار ضرور مردود ہے، لیکن اس کا تعین مشکل ہے۔اس مسئلے میں بھی فریقین کو یہی کرنا چاہیے کہ عرس وسماع کرنے والے نہ کرنے والوں کو متبع سنت سمجھیں اور نہ کرنے والے کرنے والوں کو اہل محبت جانیں۔ ایک دوسرے پر انکار نہ کریں اور عوام کے غلو کی محبت سے اصلاح کریں۔
۴- نداے غیر اللہ
حاجی صاحب نے اس مسئلے میں بھی طرفین کو دعوت احتساب دی ہے اور انصاف کے تقاضے کو ملحوظ رکھتے ہوئے دونوں کو اعتدال پر قائم رہنے اور حد سے تجاوز کرنے سے روکا ہے۔ حاجی صاحب کہتے ہیں کہ اگر کسی کو پکارنا صرف اسے یاد کرنے، اپنے شوق لقا کا اظہار کرنے اور اظہار حسرت فراق کے لیے ہو، جیسے ایک عاشق اپنے معشوق کو پکارتا اور اپنے دل کو تسلی دیتا ہے تو اس میں کوئی گناہ وحرج نہیں۔
اس حصے میں حاجی صاحب نے نداے غیر اللہ کے جواز کی صورت بتادی اور جو علی الاطلاق اسے حرام کہتے ہیں انہیں متنبہ کردیا۔ لیکن اس کے اگلے حصے میں نداے غیر اللہ کو علی الاطلاق جائز سمجھنے والوں کو متنبہ کرتے ہیں:
- غیر اللہ کو پکارنے والا یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہماری پکار سن لیں گے تو اس کی بھی مختلف صورتیں ہیں۔ اگر پکارنے والا اپنے تصفیۂ باطن سے اس مقام پر فائز ہے کہ دور سے ہی منادیٰ کا مشاہدہ کر رہا ہے تو اس کے لیے یہ عمل جائز ہے۔
- اگر اس کا مشاہدہ نہیں کر رہا ، لیکن اسے معلوم ہے کہ فلاں ذریعے سے وہ بات مطلوب تک پہنچ جائے گی تو بھی جائز ہے، جیسے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرکے درود بھیجنا کہ یہ فرشتوں کے واسطے سے ان تک پہنچ جاتا ہے۔
- دور سے کسی ولی کو پکارنا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ سن لے گا، یہ اس کے حق میں علم غیب کا دعویٰ کرنا ہے اور شرک کے مشابہ ہے۔البتہ اس پر بے دھڑک کفر وشرک کا حکم لگادینا بھی جرأت ہے۔کیوں کہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے باخبر کردے اوریہ شرک نہیں۔ مگر چوں کہ امکان کو وقوع لازم نہیں ، اس لیے ایسی نداکی اجازت نہیں۔
- حاجی صاحب نے یہاں پر ایک استثنا اس ندا کا کیا ہے جو نص میں مذکور ہے کہ صحرا میں اگر کوئی راہ بھول جائے تو کہے یا عباد الله اعینونی۔ حاجی صاحب نےنص کی وجہ سے اس کے جواز کو مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
- حاجی صاحب نےاسی ضمن میں یا شیخ عبد القادر جیلانی شیئاً لله کے جوازکا ذکر کیا ہے، لیکن اس میں بھی شرط رکھی ہے کہ حقیقی متصرف اللہ کو جانے، غوث پاک کا نام فقط تبرک کے لیے لے، ورنہ یہ بھی سبب شرک ہوسکتا ہے۔
چوں کہ یہ نازک موڑ ہے، جہاں عوام کی گمراہی کا امکان ہے، اس لیے حاجی صاحب کہتے ہیں کہ جو لوگ اس نیت سے منع کرتے ہیں، اس نیت کے ساتھ ان کا منع کرنا بھی درست ہے۔ اور جو صحیح عقیدے کے ساتھ پکارتے ہیں، ان کے لیے جائز ہے، البتہ عوام سے دریافت کرکے ان کے عقیدے کی اصلاح ہونی چاہیے۔
حاجی صاحب نے یہاں ایک اصولی بات کی ہے کہ اگر کوئی عمل اصلاً درست ہو، لیکن اس میں کوئی خرابی بھی در آئی ہو تو اگر یہ ظن غالب ہو کہ یہ شخص اس فاسد عمل کو نہیں چھوڑے گا تو اسے اس عمل سے نہیں روکنا چاہیے، کہ بجز فساد کچھ حاصل نہیں، البتہ اس کے عمل میں جو فاسد عناصر داخل ہیں ، ان پر متنبہ کرے کہ یہ اسلامی اخوت کا تقاضا ہے۔
حاجی صاحب آخر میں اپنا مشرب لکھتے ہیں:
’’ایسی ندا میرا معمول نہیں، ہاں! بعض اشعار میں ذوق وشوق سے صیغۂ ندا برتا گیا۔‘‘
حاجی صاحب نے یہاں بھی اصلاح عوام کاوہی طریقہ تجویز کیا ہے، جو گذشتہ مسائل میں بیان ہوا۔
۵– جماعت ثانیہ
جماعت ثانیہ سے متعلق شدت جوش کو کم کرنے کے لیے سب سے پہلے یہ لکھا کہ’’یہ مسئلہ سلف سے مختلف فیہ ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے کراہت وامام ابویوسف سے بعض شرائط کے ساتھ جواز منقول ہےاور ترجیح وتصحیح دونوں جانب موجود ہے۔‘‘ حاجی صاحب نصیحت کرتے ہیں کہ’’اس میں بھی گفتگو کو طول دینا نازیبا ہے، کیوں کہ جانبین کو گنجائش عمل ہے۔‘‘ اس کے بعدان دونوں اقوال میں احسن تطبیق فرماتے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:
’’ دونوں قول میں تطبیق یوں دی جاسکتی ہے کہ اگر کوئی شخص کاہلی اور سستی سے جماعت اولیٰ ترک کرتا ہو تو اسے جماعت ثانیہ سے روکا جائے گا، کیوں کہ اس سے اسے تنبیہ ہوگی اور اگر کسی عذر کے سبب کسی کی پہلی جماعت چھوٹ گئی تو اس کے حق میں دوسری جماعت کے ساتھ پڑھنا تنہا پڑھنے سے بہتر ہے۔‘‘ ملخصاً
اس کے بعد شدت اختلاف سے بچنے اوراختلاف کےباوجود باہمی الفت ومحبت کا رشتہ استوار رکھنے کی نصیحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ عمل در آمد اس مسئلے میں بھی ایسا ہی رکھنا چاہیے کہ ہر فریق دوسرے فریق کو عمل بالدلیل کی وجہ سے محبوب رکھے اور جہاں جماعت ثانیہ نہ ہوتی ہو وہاں تنہا پڑھ لے، خواہ مخواہ جماعت نہ کرے اور جہاں ہوتی ہو وہاں شریک ہو جائے، مخالفت نہ کرے۔‘‘
احکام عملیہ میں علمی اختلاف کی صورت میں حسن تعامل کی کتنی خوب صورت تطبیق پیدا فرمائی ہے۔ یقیناً یہ کام ایک مصلح وقت ہی کا ہوسکتا ہے، جو واقعی امت میں صلاح ووفاق پیدا کرنے کا آرزومند ہو، ایسے مصلحین جو اصلاح کے نام پر فساد برپا کرنا چاہتے ہیں، یا جو دوسروں کے گھر میں بھی اپنی تحقیق کو نافذ کرنے میں کوشاں ہوتے ہیں، حاجی صاحب کی یہ حکیمانہ باتیں کبھی بھی ان کے حلق سے نہیں اتر سکتیں۔ یہاں تو حال یہ ہے کہ ہر شخص غیر اعلانیہ پیمبر بنا بیٹھا ہےکہ ہر مسجد کے اندر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانا چاہتا ہے۔ اسے موقع ملے توفاتحہ کی تھالیں پھینک دے، مزارات توڑ دے، امام حرم کے متوازی اپنا امام کھڑا کردے، لوگوں کے ہاتھوں میں مشین فٹ کردےکہ وہ چاہے نہ چاہے رفع یدین کرتے رہیں اور ایک پر سکون ملک میں اسلامی ریاست کا پرچم لہراکر عوام کو ذبح کرادے۔
حاجی صاحب نے اختلافی مسائل میں اپنی تحقیق پر اپنے گھر میں عمل کرنے کا راستہ دکھایاہے، دوسروں سے بلاوجہ الجھنے سے روکا ہے، آپ کے گھر میں کوئی آجائے تو ممکنہ حد تک آپ اس کی رعایت کریں، اس کا درس دیا ہے، لیکن آپ خود دوسرے کے گھر میں جائیں تو وہاں اس کے مطابق عمل کریں، اپنی تحقیق پیش کرکے فساد نہ مچائیں، اس کی دعوت دی ہے۔
حاجی صاحب نے بتایا ہے کہ اس قسم کے جتنے اختلافی مسائل ہیں، ان میں طرفین کے پاس دلائل ہیں، لہٰذا ان کی بنیاد پر ایک دوسرے کو دین وسنیت سے خارج کرنا درست نہیں، نہ ہی کسی ایک جانب غلو کرنا روا ہے۔ دوسروں کے لیے عذر تلاش کریں اور اپنا احتساب بھی جاری رکھیں، یہ ہے حاجی صاحب کے فلسفۂ اصلاح کی روح۔
۶،۷-امکان نظیر وامکان کذب
اگر یہ کہا جائے کہ برصغیر ہند کے اندر انیسویں صدی میں مسلمانوں کے بیچ یہی دونوں عقائد سب سے زیادہ متناع فیہ تھےتو شاید یہ غلط نہیں ہوگا۔اس پر جو لے دے مچی تھی اس کی تفصیل اوراق گذشتہ میں آچکی ہے۔ چوں کہ مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا خلیل احمد سہارن پوری، مولانا عبد السمیع رام پوری اور مولانا احمد حسن کان پوری جیسے حاجی صاحب کے خلفا بھی اس میں involve تھے اور ہوا ایسی تیز وتند تھی کہ شعلے بجھنے کا نام نہیں لے رہے تھے، اس لیے حاجی صاحب نے فیصلۂ ہفت مسئلہ میں ان دونوں اعتقادی مسائل کو بھی شامل رکھا اور مختصر لفظوں میں جتنا کچھ کہہ دیا ، انصاف یہ ہے کہ کوئی صلح پسند اس میں مزید اضافہ نہیں کرسکتا۔ان مسائل میں حاجی صاحب کے طرز فکر کا خلاصہ یہ ہے:
- ان کی تحقیق، فقہ وکلام کے بجائے علم الحقائق سے ہے، اس لیے ان کی گتھی ہر شخص پر نہیں کھل سکتی۔
- ہر مسلمان پر اجمالی طور سے دو باتوں کا عقیدہ رکھنا ضروری ہے، ایک یہ کہ اللہ ہرشے پر قادر ہے اور دوسری یہ کہ وہ ہر نقص سے پاک ہے۔
- رہی یہ تحقیق کہ کون سی بات ایسی شے ہے جواس کے تحت قدرت ہے اور کون سی بات نقص ہے جس سے وہ پاک ہے، تو جہاں کوئی ایسا مقام آئے کہ دلائل متعارض ہوجائیں، یعنی ایک عالم دلیل کی بنیاد پر ایک چیز کو داخل قدرت کہے اور دوسرا اسے عیب سمجھ کر خارج قدرت کہے ، تو ایسے دقیق مقام کی تحقیق کے ہم مکلف نہیں ۔
- عجب نہیں کہ اس قسم کے بال کی کھال نکالنا دین میں ممنوع ہو، جیسا قضا وقدر کے مسئلے میں قیل وقال اسی لیے ممنوع ہے کہ یہ مسئلہ انتہائی پیچیدہ اور مجموعۂ اشکالات ہے۔
- ان دونوں مسئلوں کے عقلی ونقلی دلائل بھی بظاہر متعارض ہیں،ان میں شدید اشکالات ہیں،اس لیے ان میں بھی قیل وقال کی اجازت نہیں۔
- کسی کو بحث کا بہت شوق ہو تو اسے چاہیے کہ خلوت میں زبانی بحث کرے، عوامی تقریر وتحریر سے بچے۔
- اگر کوئی قلم ہی اٹھانے پر مجبور ہو تو اسے چاہیے کہ متعلقہ عالم کو خط لکھے، کتاب نہ لکھے۔
- اور اگر کوئی کتاب لکھنے ہی پر مصر ہو تو اسے چاہیے کہ عربی میں لکھے، تاکہ یہ دقیق باتیں عوام سے دور رہیں۔
- اورعوام پر تو بہر حال ان مسائل سے سکوت واجب ہے۔
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم! کیا بلند سوچ ہے اس مصلح کی اور کتنی حکیمانہ باتیں ہیں اس حکیم دانا کی! دوسری طرف وہ ’’علماےحق‘‘ ہیں جنہوں نے ان مسائل کو کوچہ وبازار کا موضوع بنادیا، ہر ایرا غیرا ، جاہل ان پڑھ گنواران مسائل کی بنیاد پر دوسرے کو رب تعالیٰ کی قدرت کو محدود کرنے والا یا اسے نقائص سے متصف کرنے والا بتاکراس پر کفر کے فتوے ایشو کرنے لگا۔ ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم!
وصیت
مذکورہ بالا سات متنازع ترین مسائل میں حاجی صاحب کے فیصلے کی تلخیص دو نکات میں کی جاسکتی ہے:
- یہ اختلافات علمی ہیں، ان کے سبب کسی کی تضلیل وتفسیق روا نہیں،نہ تشدد روا ہے، جو طرفین کرتے ہیں۔
- ان میں حاجی صاحب کا اپنا معمول روایتی طرز عمل سے مربوط ہے، اگرچہ فریق ثانی کو گمراہ نہیں سمجھتے۔
کتاب کی سطر سطر سے یہ نکات واضح ہیں، جس کی تصدیق کے لیے براہ راست کتاب سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حاجی صاحب کو بھی اس کا بخوبی ادراک رہا ہوگا۔ اب یہ دو نکات بھی پیش نظر رکھیے کہ اس وقت فریق ثانی کی نمائندگی مولانا رشید احمد گنگوہی کر رہےتھے جو حاجی صاحب کےخلفا میں ممتاز شخصیت کے مالک تھے اور کسی کے دل کو تکلیف پہنچے یہ حاجی صاحب کے دل کو ہر گز گوارا نہیں ہوسکتا تھا۔اب وصیت کا جائزہ لیجیے۔
حاجی صاحب وصیت میں کہتے ہیں کہ یہ سب مسائل ظنی ہیں اور ’’ظنیات میں اپنے علم وتحقیق پر وثوق نہ کریں۔‘‘ اپنی ہدایت کے لیے رب تعالیٰ سے دعا کریں، خصوصاً نماز میں خشوع وخضوع سے اھدنا الصراط المستقیم پڑھیں۔تزکیۂ باطن کے لیے ’’اہل اللہ کی صحبت وخدمت اختیار کریں، خصوص عزیزی جناب مولوی رشید احمد صاحب کے وجود بابرکت کو ہندوستان میں غنیمت کبریٰ ونعمت عظمیٰ سمجھ کر ان سے فیوض وبرکات حاصل کریں۔‘‘ حاجی صاحب کی حکمت وبصیرت کو داد دیجیے کہ ان کے فیصلے سے سب سے زیادہ جسے رنج ہوسکتا تھا اسے اہل ہند کے لیے ’’نعمت عظمیٰ ‘‘قرار دے کر اس کی دل داری کر رہے ہیں۔
آگے لکھتے ہیں کہ ’’مولوی صاحب موصوف جامع کمالات ظاہری وباطنی کے ہیں اور ان کی تحقیقات محض للّٰہیت کی راہ سے ہیں۔ ہرگز اس میں شائبۂ نفسانیت نہیں۔‘‘مزید لکھتے ہیں:’’جو [ان کے]موافق و معتقد ہیں ، ان کو چاہیے کہ مولوی صاحب کی مجلس میں ایسے قصوں کا تذکرہ نہ کیا کریں اور اپنے جھگڑوں میں ان کو شریک نہ کیا کریں۔‘‘ یہاں حاجی صاحب نے نہایت لطیف پیرائے میں مولانا گنگوہی کی طبعی شدت کی طرف اشارہ کردیا ہے اور ان کی تحقیقات جدیدہ سے اپنا اختلاف درج کراتے ہوئے ان کے لیے بھی عذر تلاش کرلیاہے۔
حیرت ہے کہ مولانا گنگوہی کے موافقین کو اس پوری کتاب میں صرف یہی حصہ ازبر ہے اور دوسری طرف ان کے مخالفین اسی حصے سے غافل ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے جب فیصلۂ ہفت مسئلہ کو چھاپا تو سرے سے اس وصیت کو ہی حذف کردیا۔ مولانا خلیل خان برکاتی نے تو اس حذف کے لیے وجہِ جواز بھی تلاش کرلی:
’’وصیت کے عنوان سے شاہ صاحب نے جو کچھ تحریر کیا، اسے ہم نے قابل توضیح نہ جانااور اس عبارت کو ہاتھ نہ لگایا[بلکہ حذف کردیا] کہ فتنہ خوابید بہ[یعنی فتنہ چھپا رہے تو بہتر ہے]۔‘‘([16])
وصیت کے بعد حاجی صاحب نے مثنوی معنوی سے ہاتھی اور چار اندھوں کا قصہ نقل کیا ہے، جس سےمذکورہ بالا اختلافات کے تعلق سے حاجی صاحب کے نقطۂ نظر کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
ما بعد محاکمہ
حاجی امداد اللہ مہاجرمکی ، جنہیں واقعی حکیم الامۃ المحمدیہ کہنا چاہیے، نے جس اخلاص، اعتدال، د ل سوزی اور جامعیت کے ساتھ اتحاد امت کے لیے فیصلۂ ہفت مسئلہ لکھا تھا، افسوس کہ طرفین نے اسے قبول نہیں کیا۔ فیصلۂ ہفت مسئلہ کی اشاعت کے بعد ہمیں کئی طرح کا رد عمل نظر آتا ہے۔بعض حضرات نے ان مسائل میں خاموشی برت لی، بعض نے حاجی صاحب کے خلاف دبے لفظوں میں اپنا احتجاج وانکار درج کرانے کی کوشش کی تو بعض حاجی صاحب کے آدھے ادھورے جملے نقل کرکے فیصلۂ ہفت مسئلہ کو بھی اپنی تائید وتوثیق میں پیش کرنے لگے۔اس سلسلے میں سب سے پہلا رد عمل ہمیں خود مولانا گنگوہی کا دیکھنے کو ملتا ہے، جس سے ہمارے مذکورہ تجزیہ کی تائید و توثیق ہوتی ہے کہ یہ محاکمہ مجموعی اعتبار سے مولانا گنگوہی کے فکر ومنہج کے خلاف تھا۔ سائل دریافت کرتا ہے: ’’[رسالہ ہفت مسئلہ] کی نسبت حاجی صاحب سلمہ کی [طرف] غلط ہے یا نہیں، کیوں کہ اس میں تائید اہل بدعت اور اہل حق علماء محققین کی مخالفت ہے۔‘‘
جواب میں پہلے تو یہ لکھا کہ امکان کذب،امکان نظیر، جماعت ثانیہ اور نداے غیر اللہ سے متعلق تو کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے اہل حق کی مخالفت لازم آئے، ’’اب رہے تین مسئلے قیود مجلس مولودکے اور قیود ایصال ثواب کے اور عرس بزرگان دین کا کرنا ، سو اس میں وہ خود لکھتے ہیں کہ دراصل یہ مباح ہیں۔ اگر ان کو سنت یا ضروری جانے ، بدعت وتعدی حدود اللہ تعالیٰ اور گناہ ہے اور بدون اس کے کرنے میں وہ اباحت لکھتے ہیں، ہم لوگ منع کرتے ہیں تو وجہ یہ ہے کہ ان کو رسوم اہل زمانہ سے خبر نہیں کہ یہ لوگ ان قیود کو ضروری جانتے ہیں، لہٰذا [وہ] باعتبار اصل کے مباح لکھتے ہیں اور ہم لوگوں کو عادت عوام سے محقق ہوگیا ہے کہ یہ لوگ ضروری اور سنت جانتے ہیں۔‘‘([17])
مولانا اشرف علی تھانوی کو بھی چار سالوں بعد حاجی صاحب کے فیصلے پر ضمیمہ لکھنا پڑا اور پھر اس بات کا بھی اقرار کرنا پڑا کہ مولانا گنگوہی کی مذکورہ بالا تحریر ’’کے ساتھ میں حرفاً حرفاً موافق ہوں۔‘‘([18])غور کیجیے کہ مولانا گنگوہی نے حاجی صاحب سے اپنے اختلاف کے جواز کے لیے کس صفائی سے حاجی صاحب کو ’’عرف اہل زمانہ سے بے خبر‘‘ لکھ دیا۔ یہ بھی قابل غور ہےکہ حاجی صاحب اپنی بے خبری پر مبنی موقف کے سبب اگر’’اہل بدعت‘‘ کے زمرے میں نہیں آتے تو پھر یہی گنجائش اس زمانے کے دیگر علما ومشائخ کے لیے کیوں نہیں پیدا کی گئی کہ انہیں بالالتزام ’’اہل بدعت‘‘ کہا گیا۔
دوسری طرف فیصلۂ ہفت مسئلہ کو اپنے موقف کی تائید اور علماے دیوبند کے خلاف ثابت کرنے کی مہم تیز کی گئی، لیکن یہ نہ دیکھا گیا کہ حاجی صاحب علماے دیوبند کو اہل سنت کہتے ہیں اور ان کے اختلاف کو مبنی بر دلیل سمجھتے ہوئے طرفین کو بحث وجدل سے منع کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
کتابیات
- حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، فیصلہ ہفت مسئلہ، مراد آباد، شمس المطابع پریس(غالباً ۱۳۱۲ھ/ ۱۸۹۴ء)
- مولانا اشرف علی تھانوی، امدادالمشتاق، اردو بازار،دہلی،مکتبہ برہان، ۱۹۸۰ء
- ڈاکٹر حافظ فیوض الرحمٰن، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور ان کے خلفا، کراچی،مجلس نشریا ت اسلام، ۱۹۸۴ء
- مولانا عبد السمیع رام پوری، انوار ساطعہ بر حاشیہ براہین قاطعہ، مطبع ہاشمی، ۱۳۰۴ھ
- مولانا خلیل احمد سہارن پوری، براہین قاطعہ، مطبع ہاشمی، ۱۳۰۴ھ
- مولانا غلام دست گیر قصوری، تقدیس الوکیل،لاہور، نوری کتب خانہ
- خواجہ عزیز الحسن مجذوب ، اشرف السوانح،مظفر نگر،انڈیا،مکتبہ تالیفات اشرفیہ
- مولانا اشرف علی تھانوی، تنبیہات وصیت،میرٹھ، تجارتی پریس،محررہ ماہ صفر ۱۳۳۰ھ/۱۹۱۲ء
- مفتی محمد خلیل خان برکاتی،توضیحات وتشریحات فیصلۂ ہفت مسئلہ،لاہور،فرید بک اسٹال ، ۱۹۸۶ء
- مولانا رشید احمد گنگوہی، فتاویٰ رشیدیہ، مبوب بطرز جدید، کراچی،دار الاشاعت
حاشیہ
[1] – استاذ جامعہ عارفیہ، سید سراواں، کوشامبی، یوپی
[2] – مراد آباد، شمس المطابع پریس، مولانا سعید نے اپنے نام کے ساتھ ۱۳ صفر ۱۳۱۲ھ[اگست ۱۸۹۴ء] کی تاریخ لکھی ہے۔
[3] – مولانا اشرف علی تھانوی، امدادالمشتاق( اردو بازار،دہلی،مکتبہ برہان، ۱۹۸۰ء)ص:۲۸
[4] – شاہ نصیر الدین، سیداحمدرائے بریلوی (۱۸۳۱ء)کی تحریک جہاد کے اہم رکن تھے، سید صاحب کے بعد تحریک کی تنظیم وقیادت فرمائی۔
[5] – نہر زبیدہ سعودی عرب میں واقع وادی نعمان (طائف کے قریب) سے شروع ہوکر عرفات، مزدلفہ اور منیٰ کےمقدس مقامات سے گزرتی ہوئی مکہ مکرمہ کے قریب پہنچتی تھی۔اسے عباسی ملکہ زبیدہ نے بنوائی تھی جس نے صدیوں تک اہل مکہ اور حجاج کو پانی فراہم کیا۔ اب اس میں پانی نہیں بہتا بلکہ ایک قدیم آثار کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔
[6] – ڈاکٹر حافظ فیوض الرحمٰن، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور ان کے خلفا، (کراچی،مجلس نشریا ت اسلام، ۱۹۸۴ء)
[7] -دیکھیے انوار ساطعہ کا نظر ثانی والے ایڈیشن(۱۳۰۷ھ/۱۸۹۰ء)کا اختتامیہ، مکتوب بنام مولانا رام پوری، مرقومہ یازدہم رجب ۱۳۰۴ھ
[8] – مولانا عبد السمیع رام پوری، انوار ساطعہ، نور اول، لمعہ ثانیہ، کرامت نامہ جناب حاجی صاحب[9] – آپ نے تاعمرنکاح نہیں کیا۔ احمدآبادمیں آپ کے علم و فضل اور طبابت کی کافی شہرت تھی۔ ندوۃ العلما کے خلاف کئی رسائل لکھے۔دیگر تصنیفات میں رسالہ منتقمات عن اہل الضالات، ا لنذیر الاحمد،امطارالحق اورالسیف المسلول علی منکرعلم غیب الرسول اہم ہیں۔مہر پر یہ مصرع کندہ ہوتا:’’پئے مفسدان شد محمد نذیر‘‘
[10] – مولانا نذیر احمد رام پوری کے یہ اعتراضات براہین قاطعہ کے آخر میں تلخیصاً شائع ہوتےرہے ہیں۔اصل مکتوب ہمارے پیش نظر نہیں ہے۔
[11] – مولانا قصوری کا سفر حرمین ۱۳۰۷ھ(۱۸۹۰ء)میں ہوا تھا۔ اس سےحاجی صاحب کی توثیق وتردید کی تاریخ کا تعین کیا جاسکتا ہے۔
[12] -مولانا غلام دست گیر قصوری، تقدیس الوکیل(لاہور، نوری کتب خانہ)، ص: ۴۴۳، ۴۴۴
[13] – خواجہ عزیز الحسن مجذوب ، اشرف السوانح(مظفر نگر،انڈیا،مکتبہ تالیفات اشرفیہ ، ۱۹۸۷ء): ۳/۳۵۳
[14] – دیکھیے اشرف السوانح: ۳/۳۵۳، راقم السطور کو یہ محقق نہیں ہوسکا کہ یہ ضمیمہ پہلی بار کب شائع ہوا تھا۔
[15] – مولانا تھانوی، تنبیہات وصیت(میرٹھ، تجارتی پریس،محررہ ماہ صفر ۱۳۳۰ھ/۱۹۱۲ء) ص: ۹
[16] – مفتی محمد خلیل خان برکاتی،توضیحات وتشریحات فیصلۂ ہفت مسئلہ(لاہور،فرید بک اسٹال ، ۱۹۸۶ء)، ص: ۳۱۱
[17] – مولانا رشید احمد گنگوہی، فتاویٰ رشیدیہ، مبوب بطرز جدید( کراچی،دار الاشاعت)، ص: ۱۵۸
[18] – مولانا تھانوی، تنبیہات وصیت(میرٹھ، تجارتی پریس،محررہ ماہ صفر ۱۳۳۰ھ/۱۹۱۲ء) ص: ۹
KEYWORDS: Haji Imdadullah, Faisla-e-Haft Mas’ala, Refutation of innovation and Wahhabism, Milad, Scholarly disagreement, Moderation

