مسلکی اختلافات- نفسیاتی و شرعی بنیادیں
Abstract
This paper argues that human disagreement stems not merely from intellectual causes but from psychology, and that temperamental diversity-like variation in taste-is a natural reality rooted in divine wisdom. Six psychological theories-cognitive dissonance, need for cognitive closure, motivated reasoning, mindlessness versus mindfulness, terror management theory, and social identity theory-reveal how deeply one’s inner psychological makeup shapes opinion-formation and insistence. Islamic law absorbed this same psychological reality into a balanced framework by dividing the Qur’an into muhkamāt (clear, decisive verses) and mutashābihāt (ambiguous, allegorical verses): restricting temperamental latitude in the muhkamāt safeguarded the ummah’s unity, while permitting it in the mutashābihāt honoured human nature.
The enduring differences among the great Imams exemplify this principle. The research concludes that religious disagreement, kept within proper limits, is not a flaw but a mercy consonant with human nature—a source of the ummah’s intellectual breadth and progress. The only path for believers, then, is to adopt the etiquette of disagreement, tolerate one another’s differences, and never impose one’s own opinion.
ایک فکری ا ضطراب
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ مسلمانوں کا آپس میں اختلاف کیوں ہے؟ یہ اختلافات اور فرقے ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہےہیں؟ فرقہ بندی کی ممانعت کے باوجود یہ فرقے کیوں بنتے چلے جارہے ہیں؟ان میں سے ہر فرقہ خود کو برحق کہتا ہے، آخر حقیقت میں برحق کون ہے؟ اسلام اور فرقہ میں کیا فرق ہے؟ ہر فرقہ اپنے موقف پر دندان شکن دلیل دیتا ہے، اس کےباوجود یہ اختلافات ختم کیوں نہیں ہوتے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ان فرقوں کے مسائل اس قدر پیچیدہ ہیں کہ ایک حل کرو تو دوسرا مسئلہ سر اٹھالیتا ہے؟ اعتراضات و جوابات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، لیکن یہ اختلافات، فرقے، انتشار اور جھگڑے ہیں جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا یہ مسلمان اب مسلمان نہیں رہے؟ کیا اللہ نے کوئی ایسا واضح فریم ورک عطا کیا ہے جس سے یہ انتشار و افتراق کا سلسلہ ختم ہوجائے؟ یا نعوذ باللہ اسلام ہی میں کوئی کمی ہے؟ کیا ہمارا دین ہی ناقص ہے جس کی وجہ سے ایسا ہورہا ہے؟ایک عالم دوسرے عالم کا دشمن، ایک پیر دوسرے پیر کا حاسد، ایک مدرسہ دوسرے مدرسے کا مخالف، ایک ادارہ دوسرے ادارے کے خلاف، ایک تحریک دوسری تحریک سے نبرد آزما، اگر سب لوگ اللہ و رسول کی اطاعت کا دم بھرتے ہیں تو یہ کیسی اطاعت ہے جو انہیں ایک دوسرے کا جانی دشمن بنا دیتی ہے؟ یہ کیسی فرماں برداری ہے کہ قرآن و حدیث کی صریح آیات و احکام کی خلاف ورزی کرنے سے باز نہیں آتے؟ آئیے ہم ان سارے سوالات کی بنیادی وجہ (root cause)کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں!
تمہید
اختلاف انسانی زندگی کا ایک ایسا مستقل اور ناقابلِ انکار پہلو ہے جس سے کوئی معاشرہ، کوئی دور اور کوئی مذہبی روایت مستثنیٰ نہیں رہی ہے۔ جب بھی دو یا زائد افراد کسی ایک معاملے یا مسئلے پر غور کرتے ہیں تو اکثر ان کی آرا میں کسی نہ کسی درجے کا فرق پیدا ہو جاتا ہے، خواہ وہ معاملہ دنیوی ہو یا دینی۔ عام مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ انسان کسی نظریے یا مسئلے سے محض دلیل کی بنیاد پر متفق یا مختلف نہیں ہوتا ،بلکہ اس کے پیچھے اس کی اپنی ذہنی ساخت، جذباتی رجحانات اور شخصیت کے وہ پہلو کارفرما ہوتے ہیں جنہیں وہ خود بھی مکمل طور پر محسوس نہیں کر پاتا۔
یہ مقالہ اسی حقیقت کی تحقیق پر مبنی ہے کہ اختلاف کی جڑیں اور بنیادیں محض علمی یا استدلالی نہیں، بلکہ نفسیاتی اور شرعی بھی ہیں۔ انسان کا مزاج ہی وہ سانچہ ہے جس میں ڈھل کر رائے تشکیل پاتی ہے۔ اورجس طرح ذوق میں اختلاف اورتنوع ایک طبعی اور مسلمہ حقیقت ہےکہ کسی کو میٹھا پسند ہے تو کسی کو نمکین، کسی کو ٹھنڈک بھاتی ہے تو کسی کو تپش، بالکل اسی طرح فکری و اعتقادی میدان میں بھی مزاج کا یہی اختلاف و تنوع مختلف الآرا انسانوں کو جنم دیتا ہے۔ اور یہ مختلف الآرا انسان مختلف افکار و نظریات اور مذاہب و مسالک کا سبب بنتے ہیں۔ یہ اختلاف اورتنوع کوئی عارضہ یا خرابی نہیں، بلکہ خالقِ کائنات کی اس حکمت کا مظہر ہے جس نے انسانی فطرت کو یکسانیت کے بجائے تنوع پر استوار کیا۔
اسی بنیادی حقیقت پر مبنی یہ مقالہ دو محوروں/ابواب پر بحث کرے گا۔ پہلا محور/باب نفسیاتی ہے کہ وہ کون سے داخلی میکانزم ہیں جن کی بدولت انسان اپنی رائے سے چمٹا رہتا ہے، اسے تبدیل کرنے سے گریز کرتا ہے، اور بسا اوقات دلیل کے مقابلے میں اپنی انا کو ترجیح دیتا ہے؟ اس ضمن میں مغربی نفسیات کے چند اہم ترین نفسیاتی نظریات کا مطالعہ کیا جائے گا۔دوسرا محور/باب شرعی ہےکہ کیا اسلام نے اس فطری نفسیاتی تنوع اور اختلاف کو تسلیم کیا ہے؟ اور اگر ہاں، تو اس نے اسے کس طرح منظم کیاہے کہ یہ تنوع اور اختلاف، انتشار اور گمراہی کا سبب نہ بنے، بلکہ رحمت اور وسعت کا ذریعہ بن جائے؟ اس سوال کا جواب قرآن کریم کی اس بنیادی تقسیم میں تلاش کیا گیا ہے جو سورۂ آلِ عمران کی ساتویں آیت میں بیان ہوئی ہے یعنی محکمات اور متشابہات کی تقسیم۔ محکمات میں اجتہاد اور رائے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رکھی گئی تاکہ امت کی وحدت اور بنیادی عقائد و احکام میں یکسانیت باقی رہے، جب کہ متشابہات میں انسان کے مزاج، فہم اور استعداد کے مطابق غور و فکر اور رائے کی گنجائش باقی رکھی گئی۔
ہمارا مقصود یہ ثابت کرنا ہے کہ شریعتِ اسلامی کی یہ تقسیم کوئی خالص فقہی یا اصولی تدبیر نہیں، بلکہ انسانی نفسیات کے عین مطابق ایک الٰہی حکمت ہے جو انسان کی فطری ساخت سے ہم آہنگ ہے۔ چناں چہیہ تحقیق محض ایک نظری بحث نہیں، بلکہ اس امر کی وضاحت بھی ہے کہ علما و ائمہ کے مابین صدیوں سے چلا آ رہا اختلاف کیوں مذموم نہیں، بلکہ وہ فطری اور بابرکت ہے، بشرطےکہ وہ اپنی حدود کے اندر رہے۔اور وہ کون سی حدود ہیں؟ جنہیں فلانگتے ہی معاشرہ بدامنی اور مسلکی نزاعات کے دلدل میں پھنس کر تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔
باب اول: نفسیاتی بنیادیں
اصل موضوع کے تجزیےسے قبل ، ضروری ہے کہ ایک بنیادی حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائےکہ انسانی مزاج فطری طور پر متنوع ہے اور یہ تنوع کسی نقص کا نتیجہ نہیں، بلکہ حسن تخلیق کا حصہ ہے۔
۱. حسیات اور ذوق و مزاج میں اختلاف
روزمرہ زندگی میں سب سے آسان اور قابلِ فہم مثال ذائقے کی ہے۔ ایک ہی دستر خوان پر بیٹھے دو افراد میں ایک کو میٹھا کھانا مرغوب ہوتا ہے تو دوسرے کو نمکین، ایک کو تیز مرچ مصالحہ پسند ہے تو دوسرے کو سادہ اور پھیکا ، لیکن کوئی اس بات پر معترض نہیں ہوتا کہ میٹھا پسند کرنے والا غلط ہے یا نمکین پسند کرنے والا صحیح، کیوں کہ یہ معاملہ محض ذوق کا ہے، حق و باطل کا نہیں۔ یہی مثال رنگوں کی پسند، موسموں کی رغبت، آواز اور موسیقی کی طرف میلان،یہاں تک کہ مطالعے کی نوعیت میں بھی نظر آتی ہے۔ کوئی تاریخ پڑھنا پسند کرتا ہے تو کوئی فلسفہ، کوئی شاعری میں سکون پاتا ہے تو کوئی سائنسی مضامین میں۔یہ تمام مثالیں اس بات کی گواہ ہیں کہ تنوع اور اختلاف کوئی نادر یا غیر معمولی چیز نہیں، بلکہ انسانی فطرت کا معمول ہے۔ اگر حسیات اور جسمانی رغبتوں میں یہ اختلاف فطری اور قابلِ قبول تسلیم کیا جاتا ہے تو یہاں سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان کی ذہنی و فکری ساخت اس اختلاف سے مستثنیٰ ہے؟ اس مقالے کا بنیادی موقف یہ ہے کہ ہرگز نہیں، بلکہ فکری اور اعتقادی میدان میں بھی وہی اصول کارفرما ہے جو ذوقی اور حسی میدان میں کارفرما ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ فکری میدان میں اس تنوع کے نتائج زیادہ گہرے اور دور رس ہوتے ہیں؛ کیوں کہ یہاں معاملہ محض پسند و ناپسند کا نہیں، بلکہ حق و باطل کے فہم کا ہوتا ہے۔
۲. شخصیت کے پانچ بڑے عوامل کا نظریہ
انسانی طبیعت کے مطالعے میں یہ سوال ہمیشہ سے مرکزِ نگاہ رہا ہے کہ آخر انسان اپنی رائےاور اپنے عقیدے سے چمٹا کیوں رہتا ہے؟ حالاں کہ سامنے والے کا موقف زیادہ مضبوط اور دلائل سے پر ہوتا ہے۔ جدید نفسیات نے اس سوال کا جواب کئی زاویوں سے تلاش کیا ہے۔ شخصیت کے پانچ بڑے عوامل کا نظریہ (Five Big Personality Traits) یعنی ذہنی کشادگی ، فرض شناسی، اجتماعیت پسندی، موافقت پذیری اور جذباتی استحکام۔([2]) اسی فطری ساخت کو پانچ پیمانوں میں بیان کرتا ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اختلافِ رائے پر انسان کا اصرار محض ایک دلیل کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس میں اس کی جبلت، اس کی انا اور اس کی روحانی حالت کا گہرا عمل دخل ہوتا ہے۔
اول: ذہنی کشادگی (Openness) – تجدد اور جمود کا پیمانہ: ذہنی کشادگی کی تعریف یہ ہے کہ انسان نئے افکار، نئے تجربات اور روایت سے ہٹ کر سوچنے کی صلاحیت کس حد تک رکھتا ہے۔ جس شخص میں یہ عنصر کم زورہو، وہ ہر نئی بات کو محض اس بنا پر رد کر دیتا ہے کہ وہ اس کے لیے نئی ہے اوروہ اس سے واقف نہیں ، نہ کہ اس بنا پر کہ وہ غلط ہے۔ اس کے علاوہ لیون فیسٹنگر (Leon Festinger) کا نظریۂ علمی تنافر (Cognitive Dissonance Theory) پوری طرح اس نظریے سے ہم آہنگ ہے۔ ([3]) فیسٹنگر کے مطابق جب کوئی نئی معلومات انسان کے پرانے عقیدے سے ٹکراتی ہے تو ذہن میں ایک ناخوشگوار تناؤ پیدا ہوتا ہےاور اس تناؤ کو ختم کرنے کا آسان ترین راستہ نئی معلومات کو رد کرنا ہوتا ہے، نہ کہ پرانے عقیدے پر نظرثانی کرنا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں کم’’ ذہنی کشادگی ‘‘ والا شخص سب سے زیادہ آسانی سے پھنستا ہے۔ اس کے لیے تنافر کو برداشت کرنے سے کہیں آسان ہے کہ وہ نئی بات کو سنے بغیر رد کر دے۔
قرآن کریم نے سابقہ اقوام کے انکار کی جو تصویر کھینچی ہے، اس میں بارہا یہ جملہ دہرایا گیا ہے کہ وہ اپنے آباو اجداد کے طریقے پر اڑے رہے – یہ دراصل کم کھلے پن اور تجدد سے فرار کی صریح مثال ہے۔ دوسری طرف، اجتہاد کی روایت میں جو ذہنی کشادگی مطلوب ہے وہ اسی عنصر کے اعتدال کی وجہ سے ہے۔نہ ایسی کھلی طبیعت کہ ہر نئی بات بلا تحقیق قبول کر لی جائے، نہ ایسی بند طبیعت کہ حق بات بھی محض نئی ہونے کے سبب رد کر دی جائے۔
دوم: فرض شناسی (Conscientiousness) – محاسبۂ نفس کی نفسیاتی بنیاد: اس خصوصیت کے حامل افراد اپنے وقت، چیزوں اور کاموں کو ترتیب سے رکھتے ہیں۔ اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں اور وقت کے پابند ہوتے ہیں۔اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت کرتے ہیں۔جذبات یا وقتی فائدے کے بجائے عقل اور اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر ایک طالب علم روزانہ اپنا ہوم ورک وقت پر کرتا ہے، اپنے کمرے کو صاف رکھتا ہےاور امتحانات کی تیاری پہلے سے کرتا ہے، تو نفسیاتی زبان میں اس کی شخصیت کو انتہائی فرض شناس (Highly Conscientious) کہا جائے گا۔
فرض شناسی کا عنصر انسان کے نظم، ضبطِ نفس اور اپنے فیصلوں کے مؤثر ہونے کا پیمانہ ہے۔ جس شخص میں یہ عنصر مضبوط ہو وہ اپنے موقف پر نظرثانی کرنے سے پہلے اسے تولتا ہے، جانچتا ہے اور خود اپنا محاسبہ کرتا ہے۔
بعض لوگوں میں ابہام اور غیریقینی کیفیت برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، چناں چہ وہ جلد از جلد کسی نتیجے پر پہنچ کر اس دروازے کو بند کر لینا چاہتے ہیں، چاہے وہ نتیجہ درست ہو یا نہ ہو۔نظم و ضبط کی وہی طلب جو انسان کو محنتی بناتی ہے، اگر حد سے بڑھ جائے تو اسے سوچے سمجھے بغیر جلد بازی میں فیصلہ کرنے پر بھی مجبور کر سکتی ہے۔قرآن میں اس حقیقت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے:إِنّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا -بےشک انسان بڑا ہی جلد باز اور حریص پیدا ہوا ہے۔ (المعارج:۱۹)
سوم: اجتماعیت پسندی (Extraversion) -اختلافِ رائے کے اظہار میں سماجی کردار: اس کو اردو میں ’’بیرون بینی‘‘، ’’خارج پسندی‘‘، یا ’’ملنساری ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔علم نفسیات کی اصطلاح میں اس سے مراد انسان کی وہ صفت ہے جس کے تحت وہ بیرونی دنیا، سماجی میل جول اور لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے سے توانائی حاصل کرتا ہے۔ اس کے برعکس صفت کوIntroversion(اندروں بینی یا تنہائی پسندی) کہتے ہیں۔اس صفت کے حامل افرادنئے لوگوں سے ملنا، محفلوں میں جانا اور دوست بنانا پسند کرتے ہیں۔یہ عام طور پر خوش مزاج ہوتے ہیں اور اپنی خوشی کا کھل کر اظہار کرتے ہیں۔ گروہ یا مجمعے میں کھل کر بات کرتے ہیں اور اپنے خیالات کو دل میں رکھنے کے بجائے زبان پر لانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔اجتماعیت پسندی کا عنصر بتاتا ہے کہ انسان معاشرتی میل جول اور گروہ میں شمولیت سے کتنی توانائی حاصل کرتا ہے۔ جو لوگ اجتماعیت پسندی کے پیمانے پر زیادہ ہوں، ان کے لیے اپنے حلقے، اپنی جماعت یا اپنے مسلک سے وابستگی محض ایک فکری تعلق نہیں، بلکہ ایک سماجی ضرورت بن جاتی ہے۔ چناں چہاختلاف کے وقت وہ دلیل کا جائزہ لینے سے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ اگر میں نے اپنے گروہ کے موقف سے رجوع کیا تو میری اپنے حلقے میں حیثیت اور تعلق متاثر ہوگا۔ یہ وہی نفسیاتی دباؤ ہے جسے اسلامی اصطلاح میں ’’عصبیت‘‘ کہا جاتا ہے – یعنی گروہی وابستگی کی وہ صورت جو حق و باطل کے معیار پر نہیں، بلکہ تعلق کی بنیاد پر فیصلہ کرواتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصبیت کی جس شدت سے مذمت فرمائی، وہ دراصل اسی نفسیاتی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ گروہی وابستگی انسان کے انصاف پر پردہ ڈال سکتی ہے۔
چہارم: موافقت پذیری (Agreeableness)- تواضع اور کبر کے مابین: اردو میں اسے’’خوش اخلاقی‘‘، ’’موافقت پسندی‘‘، یا ’’صلح جوئی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔علم نفسیات کے عوامل خمسہ ماڈل میں اس صفت سے مراد انسان کا وہ رویہ ہے جس کے تحت وہ دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک، ہمدردی، اور تعاون کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتا ہے۔ ایسے لوگ معاشرے میں امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنا پسند کرتے ہیں۔اس صفت کے حامل افراد دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں اور ان کی مدد کے لیے تیار رہتے ہیں۔ لوگوں کی نیت پر جلدی شک نہیں کرتے اور مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ اپنی تعریف خود کرنے کے بجائے عاجزانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔بحث و تکرار سے بچنے کے لیے یہ اکثر دوسروں کی بات مان لیتے ہیں۔موافقت پذیری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان دوسروں کے ساتھ نرمی، تعاون اور ہمدردی سے پیش آتا ہے یا مقابلہ اور سختی سے۔ جن افراد میں یہ عنصر کم ہو، وہ اختلاف کے موقع پر ہار ماننے کو اپنی ذات کی شکست تصور کرتے ہیں۔
پنجم: جذباتی استحکام (Emotional Stability) – اضطراب اور اطمینانِ قلب: جذباتی استحکام، جسے نفسیات میں بالعکس’’یوروٹیسزم‘‘کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس بات کا پیمانہ ہے کہ انسان دباؤ اور تناؤ کے لمحات میں اپنے آپ کو کس حد تک سنبھال سکتا ہے۔جن لوگوں میں جذباتی استحکام کم ہو، ان کے لیے اپنے عقیدے پر اٹھنے والا سوال محض ایک فکری چیلنج نہیں رہتا، بلکہ ا ضطراب اور بےچینی کا باعث بن جاتا ہے، چناں چہ ان کا ذہن لاشعوری طور پر ایسی دلیلیں تلاش کرنے لگتا ہے جو اس اضطراب کو فوری طور پر رفع کر دیں، چاہے وہ دلیلیں کم زورہی کیوں نہ ہوں۔اسلامی تصورِ نفس میں اس کے مقابل ’’نفسِ مطمئنہ‘‘ کا ذکر ملتا ہے۔ وہ نفس جسے قرآن کریم نے ’’يَاأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ‘‘کے خطاب سے نوازا، یعنی وہ نفس جو سکون اور اطمینان کی اس منزل پر پہنچ چکا ہو جہاں حق بات سننے اور اسے قبول کرنے میں کوئی داخلی اضطراب مانع نہیں ہوتا۔(الفجر: 27–28)ذکر، دعا اور توکل کی وہ تمام تعلیمات جو قلبی سکون پر زور دیتی ہیں، دراصل جذباتی استحکام کے اسی عنصر کی تربیت ہیں، کیوں کہ جس دل میں اضطراب ہو، وہ دلیل کو غیرجانبداری سےسننے اور پرکھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔
نتیجہ: اختلاف کی بنیاد، دلیل میں نہیں،انسانی فطرت میں ہے: مذکورہ بالا تجزیے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جب دو انسان کسی مسئلے پر اختلاف کرتے ہیں تو وہ محض دو دلیلوں کا ٹکراؤ نہیں ہوتا، بلکہ دو مختلف ساختوں، دو مختلف نفسیاتی رجحانات اور بسا اوقات دو مختلف انا(Ego) کے تصادم کا مظہر بھی ہوتا ہے۔کم ذہنی کشادگی رکھنے والا فرد نئی بات کو پوری طرح سمجھے بغیر ہی اس سے متنفر ہو سکتا ہے۔ فرض شناسی کی غیر متوازن شدت اسے جلد فیصلہ کرنے یا مروجہ موقف سے ہٹنے میں تردد کا شکار کر سکتی ہے۔ زیادہ گروہی وابستگی بعض اوقات اسے اپنے مکتبِ فکر یا جماعت کی حمایت میں حق بات قبول کرنے سے روک دیتی ہے۔ کم موافقت پذیری اختلاف کو علمی مسئلے کے بجائے ذاتی انا کا مسئلہ بنا دیتی ہے، جب کہ جذباتی عدمِ استحکام مخالف دلیل سننے سے پہلے ہی اضطراب، دفاعی رویے یا شدید جذباتی ردِ عمل کو جنم دے سکتا ہے۔یہ سب کے سب دراصل انسان کی اسی فطری ساخت کے مختلف مظاہر ہیں جسے شخصیت کے پانچ بڑے عوامل بیان کرتے ہیں۔ یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ انسان کا اپنی رائے سے چمٹے رہنا محض ایک فکری عمل نہیں، بلکہ اس کی فطرت، اس کی نفسیاتی ساخت اور اس کی روحانی حالت کا ایک مشترکہ نتیجہ ہے اور جو شخص اپنے اندر ان پانچوں عوامل کا شعوری ادراک اور اعتدال پیدا کر لے، وہی حق بات کو دلیل کی بنیاد پر قبول کرنے کی حقیقی صلاحیت پیدا کر سکتا ہے۔
۳. ذہنی ساخت اور مذہبی اختلافات
اسی طرح ذہنی ساخت کے حوالے سے یہ بات بھی معلوم ہے کہ کچھ افراد فطری طور پرتجزیاتی (Analytical) ذہن رکھتے ہیں جو ہر بات کو تفصیل اور جزئیات میں پرکھتے ہیں، جب کہ کچھ افراد مجموعی (Intuitive) ذہن رکھتے ہیں جو کسی بات کے کلی تاثر پر اکتفا کرتے ہیں۔ یہ فرق کسی کی کم علمی یا زیادہ علمی کا نتیجہ نہیں، بلکہ خالص ذہنی ساخت کا فرق ہے اور یہی فرق دینی مسائل میں بھی جھلکتا ہے۔مثلاً :بعض علمادقیق تفصیلات اور جزئی احکام میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو بعض کلی مقاصد اور روحِ شریعت پر زور دیتے ہیں۔ دونوں اپنی جگہ درست اور ایک دوسرے کے معاون ہوتے ہیں، محض مزاج کا فرق انہیں مختلف رویوں کی طرف لے جاتا ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ خاندانی پرورش، معاشرتی ماحول، تعلیمی پس منظر اور زندگی کے تجربات بھی مزاج کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں۔ جدید تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ شخصیت کے بنیادی خدوخال کا اچھا خاصا حصہ پیدائشی اور فطری ہوتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اختلافِ رائے کی بنیادیں کسی حد تک انسان کی پیدائشی ساخت میں پیوست ہیں اور یہی وہ نکتہ ہے جو اسے ایک فطری اور الٰہی حکمت کے دائرے میں لے آتا ہے۔
کیا یہ تنوع نقص ہے یا حسنِ تخلیق؟: اگر تنوع کو محض ایک نقص یا خرابی سمجھا جائے تو لازم آئے گا کہ خالقِ کائنات نے انسانوں کو ناقص بنایا، جو کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور کمالِ تخلیق کے منافی ہے۔ اس کے برعکس قرآن کریم متعدد مقامات پر تنوع کو اپنی نشانیوں میں شمار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اسی کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف ہے، بیشک اس میں جاننے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔(الروم: ٢٢) اگر زبانوں اور رنگوں کا تنوع اللہ کی نشانی اور حکمت ہے، تو مزاج اور فہم کا تنوع بھی اسی حکمت کے تسلسل میں سمجھا جانا چاہیے۔
اسی طرح انسانوں کے قبیلوں اور اقوام میں تقسیم کو بھی قرآن نے تعارف اور باہمی افہام و تفہیم کا ذریعہ قرار دیا ہے، نہ کہ فخر و مباہات یا تکبر و غرور کا۔ اگر تمام انسان ایک ہی مزاج، ایک ہی سوچ اور ایک ہی فہم پر پیدا کیے جاتے تو نہ علم میں وسعت پیدا ہوتی، نہ استنباط کے نئے دروازے کھلتے اور نہ ہی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا ہوتی۔ چناں چہ یہ تنوع دراصل ایک نعمت ہے جو انسانی معاشرے کو محض یکسانیت کی بے رونقی سے نکال کر ایک زندہ، متحرک اور کثیر الجہتی وجود عطا کرتی ہے، بشرطےکہ اسے صحیح رخ پر استعمال کیا جائے۔
۴. مزاج کا تنوع اور رائے کی تشکیل کا مرحلہ
پچھلے باب میں یہ واضح ہوا کہ مزاج کا تنوع ایک فطری اور مسلمہ حقیقت ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تنوع عملی طور پر کن نفسیاتی میکانزم کے ذریعے رائے کی تشکیل، اس پر اصراراور بالآخر اختلاف کی صورت اختیار کرتا ہے؟ جدید نفسیات نے اس ضمن میں کئی اہم نظریات پیش کیے ہیں جن میں سے پانچ کو یہاں تفصیل سے زیرِ بحث لایا گیا ہے۔
اول:ادراکی تضاد – Cognitive Dissonance (لیون فسٹنگر): امریکی ماہرِ نفسیات لیون فسٹنگر(Leon Festinger) نے ١٩٥٧ء میں اپنی معرکہ آرا تصنیف میں یہ نظریہ پیش کیا کہ جب انسان کے ذہن میں دو متضاد خیالات، یا اس کے عمل اور عقیدے کے درمیان تضاد پیدا ہوتا ہے، تو اسے شدید ذہنی بے چینی محسوس ہوتی ہے جسے ’’ادراکی تضاد‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس بے چینی سے نجات پانے کے لیے انسان لاشعوری طور پر تین میں سے ایک راستہ اختیار کرتا ہے: یا تو وہ اپنے عمل کو بدل لیتا ہے، یا اپنے عقیدے کو تبدیل کر لیتا ہے، یا پھر وہ نئی توجیہات اور دلائل تراش کر اپنے موجودہ عقیدے کو ہی درست ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے اور یہی سب سے عام صورت ہے ۔
دینی اختلافات کے تناظر میں یہ نظریہ نہایت وقیع ہے۔ جب کوئی شخص برسوں کسی خاص فقہی مسلک، عقیدے یا تشریح پر عمل پیرا رہا ہو، تو کسی نئی اور مضبوط دلیل کے سامنے آنے پر بھی وہ اپنے سابقہ موقف کو تبدیل کرنے کے بجائے نت نئی توجیہات تلاش کرتا ہے، کیوں کہ موقف بدلنا اسے یہ تسلیم کرنے پر مجبور کرے گا کہ وہ برسوں غلطی پر تھا۔ اور یہ اعتراف انسانی انا کے لیے نہایت گراں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمی مباحث میں محض دلیل کی قوت اکثر رائے بدلنے کے لیے کافی نہیں ہوتی، کیوں کہ مقابلہ دلیل کا دلیل سے نہیں، بلکہ دلیل کا انا اور نفسیاتی سکون سے ہوتا ہے۔
دوم: ذہنی یقین کی طلب- Need for Cognitive Closure (اری کروگلانسکی): ماہرِ نفسیات اری کروگلانسکی(Arie W. Kruglanski) نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ہر انسان میں کسی نہ کسی درجے میں ’’یقین کی طلب‘‘ پائی جاتی ہے، یعنی ابہام اور غیر یقینی کیفیت سے نکل کر ایک واضح اور حتمی جواب تک پہنچنے کی خواہش۔ جن افراد میں یہ طلب زیادہ شدید ہوتی ہے، وہ کسی مسئلے پر جلد از جلد ایک حتمی رائے قائم کر لیتے ہیں اور پھر اس رائے سے چمٹے رہتے ہیں، نئے شواہد یا متبادل نقطہ ہاے نظر کے لیے ذہن بند کر لیتے ہیں۔ اس کے برعکس جن افراد میں یہ طلب کم ہوتی ہے، وہ ابہام کو برداشت کرتے ہیں، کھلے ذہن کے ساتھ متعدد امکانات پر غور کرتے رہتے ہیں، اور جلد بازی سے حتمی فیصلہ نہیں کرتے۔دینی مسائل میں یہ فرق نہایت نمایاں ہے۔ کچھ افراد کا مزاج یہ چاہتا ہے کہ ہر مسئلے کا ایک ہی، واضح اور حتمی حل ہو، اور وہ کسی بھی ایسی تشریح سے بے چین ہو جاتے ہیں جو ابہام یا احتمال کا دروازہ کھلا رکھے۔ ایسے افراد اکثر سخت گیر (Rigid) موقف اختیار کرتے ہیں۔ دوسری طرف وہ افراد جن کا مزاج ابہام کو برداشت کر سکتا ہے، وہ متشابہات اور مختلف فیہ مسائل میں نرمی اور وسعت کا رویہ اپناتے ہیں۔ یہی نفسیاتی فرق بہت سے فقہی و کلامی اختلافات کی اصل جڑ ہے۔
سوم: مقصدی استدلال – Motivated Reasoning (زیوا کوندا): ماہرِ نفسیات زیوا کوندا نے ١٩٩٠ء میں یہ ثابت کیا کہ انسان کا استدلال کبھی بھی مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں ہوتا۔ جب کسی نتیجے تک پہنچنے میں انسان کا کوئی جذباتی، نظریاتی یا سماجی مفاد وابستہ ہو، تو اس کا ذہن لاشعوری طور پر ایسے دلائل، شواہد اور تشریحات کو زیادہ اہمیت دیتا ہے جو اس کے پہلے سے موجود موقف کی تائید کرتے ہیں اور مخالف شواہد کو یا تو نظر انداز کر دیتا ہے یا ان میں کم زوری تلاش کرنے میں غیر معمولی مہارت دکھاتا ہے۔ اسے ’’تصدیقی تعصب‘‘ (Confirmation Bias) بھی کہا جاتا ہے۔دینی اختلافات میں یہ نظریہ اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ کیوں دو عالم ایک ہی آیت یا حدیث کو پڑھ کر مختلف نتائج اخذ کرتے ہیں؟ ہر ایک کا ذہن لاشعوری طور پر اپنے پہلے سے قائم فہم، مسلک یا مکتبِ فکر کی تائید میں دلیل تلاش کرتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ایسا کرنے والا بدنیتی پر مبنی ہو، بلکہ اکثر یہ عمل مکمل طور پر لاشعوری اور نیک نیتی پر مبنی ہوتا ہے، مگر اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ اختلاف مزید گہرا ہو جاتا ہے۔
چہارم:بے توجہی بمقابلہ ہوشیاری – Mindlessness vs Mindfulness (ایلن لینگر): ماہرِ نفسیات ایلن لینگر نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان اکثر اوقات ’’بے توجہی‘‘ (Mindlessness) کی کیفیت میں زندگی گزارتا ہے، یعنی وہ روایتی زاویوں، پہلے سے طے شدہ تصورات اور خودکار ردعمل کے سانچوں میں سوچتا ہے، نئے تناظر یا متبادل امکانات پر غور نہیں کرتا۔ اس کے برعکس ’’ہوشیاری‘‘ (Mindfulness) کی کیفیت میں انسان ہر صورتحال کو نئے سرے سے، کھلے ذہن کے ساتھ دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دینی روایت میں بہت سے افراد اپنے آبائی مسلک، خاندانی روایت یا مقامی رواج کو محض ’’بے توجہی‘‘ اور بے شعوری کے ساتھ اپناتے ہیں، بغیر اس کے کہ کبھی اس پر تنقیدی نظر ڈالیں یا متبادل تشریحات کا جائزہ لیں۔ یہ رویہ اختلاف کو مزید سخت بنا دیتا ہے؛ کیوں کہ ایسے افراد کے لیے اپنے موقف کا از سرِ نو جائزہ لینا ذہنی طور پر تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو علما و طلبہ ’’ہوشیاری‘‘کے ساتھ علمی مسائل کا مطالعہ کرتے ہیں، وہ اختلاف کو کشیدگی کے بجائے علمی افزائش کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
پنجم: معاشرتی شناخت کا نظریہ – Social Identity Theory (ہنری تاجفل): ماہرِ نفسیات ہنری تاجفل نے ١٩٧٩ء میں یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان کی خودی کا ایک بڑا حصہ اس گروہ کی شناخت سے وابستہ ہوتا ہے جس سے وہ تعلق رکھتا ہے، خواہ وہ قومی، لسانی، مسلکی یا مذہبی گروہ ہو۔ انسان اپنے گروہ (In-group) کو دوسرے گروہوں (Out-group) کے مقابلے میں برتر اور درست سمجھنے کی فطری نفسیاتی رغبت رکھتا ہے، کیوں کہ اپنے گروہ کی برتری ثابت کرنا اس کی اپنی شناخت اور خود اعتمادی کو تقویت دیتا ہے۔دینی مسالک و مکاتبِ فکر کے اختلافات میں یہ عنصر نہایت نمایاں ہے۔ بسا اوقات کسی خاص مسلک یا مکتبِ فکر سے وابستگی محض علمی قناعت کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ خاندانی، علاقائی اور سماجی شناخت کا معاملہ بن جاتی ہے۔ ایسی صورت میں کسی دوسرے مسلک کی رائے کو تسلیم کرنا محض ایک علمی مسئلے کا اعتراف نہیں رہتا ،بلکہ اپنی گروہی شناخت پر سمجھوتہ محسوس ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اختلاف علمی دائرے سے نکل کر گروہی اور عصبیتی رنگ اختیار کر لیتا ہے۔
خلاصہ: مزاج- رائے کی تشکیل میں کیوں مؤثر ہوتا ہے؟: مذکورہ بالا نظریات،اگرچہ الگ الگ زاویوں سے پیش کیے گئے ہیں،لیکن سب کے سب ایک مشترکہ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان کی رائے کبھی بھی خالص اور غیر جانب دار عقلی عمل کی پیداوار نہیں ہوتی، بلکہ اس کے مزاج، شخصیت، جذباتی ضروریات اور سماجی شناخت کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہے۔ ادراکی تضاد کانظریہ بتاتا ہے کہ انسان اپنے سابقہ موقف کے دفاع میں نئی توجیہات تراشتا ہے۔ ذہنی یقین کی طلب بتاتی ہے کہ کچھ افراد ابہام برداشت نہیں کر سکتے۔مقصدی استدلال بتاتا ہے کہ ذہن لاشعوری طور پر اپنی پسندیدہ رائے کی تائید تلاش کرتا ہے۔ بے توجہی بمقابلہ ہوشیاری بتاتی ہے کہ روایتی سانچے از خود سوچنے کی صلاحیت کو محدود کر دیتے ہیں۔ خوفِ فنا کا نظریہ بتاتا ہے کہ عقائد پر اصرار دراصل وجودی تحفظ کی طلب ہے اور معاشرتی شناخت کا نظریہ بتاتا ہے کہ گروہی وابستگی رائے کو مزید مضبوط کر دیتی ہے۔
۵. اختلاف ذہانت
اسی طرح اللہ نے ہر انسان کو ایک خاص مزاج، ذوق، طور طریقہ اور ذہانت عطافرمائی ہے۔چناں چہماہرینِ نفسیات کے مطابق انسانی ذہانت کی چار قسمیں ہیں:
- عقل مندی کی ذہانت (IQ- Intelligence Quotient) یہ انسان کے فہم کی سطح کا پیمانہ ہے۔ انسان کو ریاضی کو حل کرنے، چیزیں یاد کرنے اور سبق یاد کرنے کے لیے IQ کی ضرورت پڑتی ہے۔
- جذباتی ذہانت (EQ- Emotional Quotient) یہ لوگوں کے درمیان تعلقات استوار کرنے، دوسروں کے جذبات کو پہچاننے اور ان کا مؤثر ردعمل دینے کی صلاحیت کو جانچتا ہے۔
- سماجی ذہانت (SQ- Social Quotient) یہ طے کرتا ہے کہ انسان دوسروں کے ساتھ سماجی تعلقات کس حد تک بہتر طریقے سے قائم کرتا ہے اور برقرار رکھتا ہے۔
- مشکلات سے نبرد آزما ہونے کی ذہانت (AQ- Adversity Quotient) مشکلات اور پریشانیوں سے لڑنے کی صلاحیت کی پیمائش کرتا ہے۔
ہر انسان میں یہ چاروں ذہانت یکساں نہیں ہوتی، بلکہ اس کی مقدار میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ بعض لوگوں میں عقل کا غلبہ ہوتا ہے تو بعض زیادہ جذباتی ہوتے ہیں۔بعض دوستیاں کرنے میں تیز ہوتے ہیں تو بعض مشکلات سے نبرد آزما ہونے سے ڈر جاتے ہیں۔ پھر ان میں سے ہر ایک کے کئی لیئرز ہوتے ہیں، مثال کے طور پر انسان کا جو IQ ہوتا ہے، بعض لوگوں میں چیزوں کو یاد رکھنے کی صلاحیت (Memorization intelligence) زیادہ ہوتی ہے تو بعض لوگوں میں منطقی ذہانت (Logical intelligence) کا مادہ زیادہ ہوتا ہے وہ چیزوں کو بہتر طریقے سے تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ فطری اختلافات اللہ کی تخلیقی حکمت کا مظہر ہیں، جس سے انسان کی انفرادی اہمیت کا ثبوت ملتاہے۔
۶. اجتماعی زندگی کے اختلافات
جس طرح ہر انسان انفرادی سطح (individual level) پر مختلف مزاج و طبیعت کا حامل ہوتا ہے اسی طرح قومی ، گروہی، قبائلی اور جماعتی سطح پر بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ہر قوم اور قبیلے کا مزاج اس کی تہذیب، ثقافت، جغرافیہ، تاریخ، اور سیاسی نظام سےتشکیل پاتا ہے۔ ہر قوم کی اپنی زبان ہوتی ہے اور ہر زبان کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے۔ اسی طرح جغرافیائی اعتبار سے بھی لوگ مختلف ہوتے ہیں، کچھ مسطح علاقوں (Flat areas) میں رہتے ہیں، جب کہ بعض پہاڑی علاقوں میں اور بعض ساحلی علاقوں میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے ہر علاقے کی خوراک اور غذائیت میں بھی فرق ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر، جغرافیہ قوموں کی ثقافت، معیشت اور معاشرتی ڈھانچے کو شکل دیتا ہے اور ان میں فرق پیدا کرتا ہے۔جن علاقوں میں قدرتی وسائل دستیاب ہیں وہاں کی معیشت اچھی ہوتی ہے اور اس سے ان کے رویے پُرسکون ہوتے ہیں، جب کہ سخت جغرافیائی حالات میں رہنے والے لوگ زیادہ محنتی اور سخت مزاج ہوتے ہیں۔ جنگوں یا غلامی کے تجربات سے قوموں میں عدم تحفظ اور جدوجہد کا رجحان بڑھتا ہے۔ جن علاقوں میں لوگوں کے درمیان طبقاتی فرق ہوتا ہے وہاں جدوجہد اور نفرت کا پایا جانا عام ہے،جب کہ مساوات والے ماحول میں دوستانہ مزاج فروغ پاتا ہے۔ تعلیم یافتہ قومیں ترقی پسند جب کہ کم تعلیم یافتہ روایت پسند اور قدامت پرست ہوتی ہیں۔ جمہوری معاشروں میں افراد زیادہ خود اعتماد ہوتے ہیں، جب کہ آمرانہ نظاموں میں لوگ محتاط زندگی بسر کرتے ہیں اور خوفزدہ رہتے ہیں۔مختلف جغرافیائی علاقوں کے موسمی حالات، قدرتی وسائل اور ماحولیاتی حالات قوموں کے مزاج اور طرز زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
خلاصۂ گفتگو
اب تک کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ انفرادی سطح پر ہر انسان کی طبیعت، ذہانت اور مزاج مختلف ہوتے ہیں۔اسی طرح قومی و اجتماعی سطح پر بھی جغرافیہ ، ثقافت، معیشت، اور معاشرتی ڈھانچے کے اعتبار سے بھی الگ اور منفرد ہوتے ہیں۔ اِن سارے انفرادی واجتماعی اختلافات و حالات سے ہر انسان کا ایک مجموعی مزاج اور شاکلہ بنتا ہے۔ یہ شاکلہ اس انسان کی ایک خاص پہچان ہوتی ہے جس کی چھاپ اُس کے تمام کاموں اور رویوں اور رائے میں نظر آتی ہے اور اس کا اثر انسان کی پوری زندگی پر پڑتی ہے۔قرآن میں ہے: قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ(بنی اسرائیل: ۸۴) آپ فرمادیجئے! سب اپنے اپنے شاکلہ پر عمل کرتے ہیں۔
ان تمام اختلافات و تنوع اور مغربی نفسیاتی نظریات کا حاصل یہ ہے کہ اختلاف کو محض ’’کج فہمی‘‘ یا ’’گمراہی‘‘کے زاویے سے دیکھنا ایک نامکمل تجزیہ ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان ایک منفرد نفسیاتی ساخت لے کر پیدا ہوتا ہے اور یہی ساخت اسے کسی خاص فہم، تشریح یا موقف کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ہمیں اگلے باب کی طرف رہ نمائی کرتا ہے، جہاں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ کیااسلام نے اس نفسیاتی حقیقت کو تسلیم کیا ہے؟ اگرہاں، تو اسے کن اصولوں اور ضابطوں کے تحت منظم کیا ہے؟
باب دوم: شرعی بنیادیں
شریعت میں اختلافِ طبائع کی گنجائش
پچھلے باب میں یہ واضح ہوا کہ انسانی مزاج کا تنوع رائے کے اختلاف کی اصل جڑ اور بنیادہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا اسلام نے اس فطری حقیقت کو نظر انداز کیا، یا اسے تسلیم کرتے ہوئے ایک ایسا ضابطہ وضع کیا جو تنوع کو رحمت میں بدل دے اور انتشار سے بچائے؟ اتنے سارے اختلافات اورتنوع (Differences and diversity) والے انسانوں اور دنیا بھر میں موجود ملکوں، قوموں، قبیلوں اور جماعتوں میں بٹے ہوئے لوگوں کے لیے ایک ایسے جامع قانون اور دستور العمل (Constitution) کی ضرورت تھی جو سب کے لیے مفید ہو ، سب کی رہ نمائی کرتا ہو اور ہر ایک کی جان، مال، عزت، آبرو، نسل اور دین کی حفاظت ہوسکے۔ چاہے وہ کسی بھی قوم یا رنگ و نسل سے تعلق رکھتے ہوں۔ ہرزمانے کے لیے قابل عمل اور ہر دور میں Applicable ہو اور چوں کہ اللہ نے انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے اس لیے اللہ چاہتا ہے کہ انسان قرآن میں غور و فکر کرتا رہے۔ اللہ کی عطا کی ہوئی ذہانت اور عقل کو استعمال کرکے اس قانون کو اپنے علاقے اور اپنی قوم کے لیے اسے قابلِ عمل اور آسان بنانے کی کوشش کرے، ساتھ ہی کائنات میں پھیلی اللہ کی نشانیوں کو عبرت کی نگاہ سے دیکھے اور اپنے خالق و مالک کی معرفت میں ترقی کرتا رہے، تاکہ اللہ کی دی ہوئی عقل کا استعمال بھی ہو اور اس دین کی جامعیت کے ساتھ اس کے اندر لچک (Flexibility) بھی باقی رہے ۔
چناں چہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار غور و فکر کرنے، تدبر کرنے اور عقل استعمال کرنے کا حکم دیا۔ ارشاد ہوتا ہے: اَفَلَا تَعْقِلُونَ (البقرہ: 44) کیا تم عقل نہیں رکھتے؟ أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (محمد: 24) کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (الرعد: 4) یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ( البقرہ: 242)اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کو واضح کرتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔اسی طرح اللہ چاہتا ہے کہ انسان کوئی بات کرے تو دلیل کے ساتھ کرے۔ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ (البقرہ: 111) اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔
قرآن عظیم میں بار بار غور و فکر، تدبر اور عقل کے استعمال کی تاکید میں کثرت سے آیات و احکامات موجود ہیں جن میں انسان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے احکامات کو سمجھنے کے لیے اپنی عقل اور فہم کا استعمال کرے اور صرف دلیل کی بنیاد پر اپنی زندگی گزارے۔لیکن یہاں ایک پیچیدہ مسئلہ یہ تھا کہ انسان کے اندر عقل کے ساتھ ساتھ بشری کم زوریاں بھی ہیں ، وہ ایک ایسی مخلوق ہے جو بھول چوک اور خطا و نسیان کا مجموعہ ہے۔ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ([4]) (البقرہ: 286) وہ ایک نفس پرست اور خواہشات کے پیچھے بھاگنے والی مخلوق ہے: إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ([5]) (یوسف: 53)ظاہر ہے ایساانسان جب قرآن میں غور کرے گا تو اس کی نفس پرستی اور جہالت کا اثر بھی آئے گا۔اور اس میں اس قدر تحریفات کردے گاکہ یہود و نصاریٰ کی طرح پورا دین ہی مسخ ہوکر رہ جائےگا۔اس لیے اللہ نے انسان پر نفسانی خواہشات کی پیروی حرام کردی۔ فرمایا: وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللّهِ([6])(ص: 26) أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاہُ ([7]) (الجاثیہ: 23)لیکن جو اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرکے خواہشات کا اتباع کرے گا تو اللہ نےاسے ہدایت سے محروم کرنے کا تازیانہ سنا دیا۔ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَاءَهُمْ ۚ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللّهِ([8])(القصص: 50)اور اس کے قلب و نظر پر مہر لگ جانے کی سزا سنائی: وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً([9]) (الجاثیہ: 23)یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ خواہشات کی پیروی کرنا نہ کرنا، انسان کے اختیار میں ہے، چاہے تو فرماں برداری کرتے ہوئے رُک جائے یا نافرمانی کرتے عذاب الٰہی میں گرفتار ہوجائے۔لیکن بھول چوک تو انسانی اختیار میں نہیں ہے، کیوں کہ بھول چوک کہتے ہی اسے ہیں جس میں بے اختیار اور بغیر عزم و ارادہ کے کوئی غلطی ہوجائے۔ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا([10]) (طٰہ: ۱۱۵)تو اللہ نے یہاں چھوٹ دے دی کہ ٹھیک ہے اگر اخلاص کے ساتھ قرآن میں غور وخوض کیا اور غلط معنی سمجھ گئے تو اس پر تمہیں قصور وار نہیں ٹھہرایا جائے گا، بلکہ تمہارے اخلاص کا ثواب ضرور ملےگا۔حدیث پاک میں ہے: إذا حَكَمَ الحاكِمُ فاجْتَهَدَ ثُمَّ أصابَ فَلَهُ أجْرانِ، وإذا حَكَمَ فاجْتَهَدَ ثُمَّ أخْطَأَ فَلَهُ أجْرٌ. ([11]) یعنی جس نے قرآن و سنت میں غور فکر کیا اور اس نے صحیح سمجھا تو اسے ڈبل ثواب ملے گا اور اگر حکم الٰہی کو سمجھنے میں غلطی ہوجائے تب بھی اخلاص کے ساتھ کوشش کرنے کا ایک ثواب ضرور دیا جائے۔
ساری خصوصیات کا جامع قانون
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ جو قانون بننا چاہیے وہ مندرجہ ذیل چیلنجز کو پورا کرتا ہو:
- چوں کہ اللہ سارے جہانوں کا رب اور رسول سارے جہانوں کے لیے رحمت ہیں، تو آنے والا قانوں سارے جہانوں کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ کسی ایک خطہ یا گروہ کے لیے۔
- چوں کہ اللہ نے انسانوں کو عقل عطا فرمایا ہے اور عقل استعمال کرنے پر بار بار تحریض فرمایا ہے جس کا تقاضا ہے کہ وہ صرف اندھی پیروی نہ کرے، بلکہ غور و فکر سے بھی کام لے۔
- چوں کہ اللہ نے انسان کو نفس بھی عطا فرمایا ہے اور اللہ یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ انسان اپنے نفس کی پیروی میں قانون الٰہی کی پیروی میں کوتاہی کرے یا اس میں لفظی و معنوی تحریف کردے کہ’’ عقل عیار ہے سو بھیس بنالیتی ہے‘‘۔
- چوں کہ اللہ نے اپنی کتاب کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے اور ایک جامع دین و قانون کے لیے ضروری بھی ہے تو اس میں کوئی تحریف یا تبدیلی بھی نہیں ہونی چاہیے۔
اب یہاں پر سب سے اہم سوال یہ تھا کہ اتنی ساری خصوصیات کے ساتھ آخر قانون کیسے بنایا جائے؟جس میں دنیا کے ہر انسان کے مزاج کا خیال رکھاجائے، ہر زمانے میں قابل عمل ہو، لوگ اس میں اپنی عقل استعمال کرکے اپنے علاقے اور قوم کے حساب سے اسے ڈھال سکیں اور ذرہ برابر ذاتی مفادات اور نفسانی خواہشات کا شائبہ بھی نہ پایا جائے؟١۔
۱. محکمات و متشابہات-قرآن کی حکیمانہ تقسیم
انسانوں کے لیے تو یہ ممکن نہیں تھا ؛کیوں کہ جیساکہ گزرا کہ اس کا علم محدود اور ناقص ہے، ذاتی مفادات اور نفس کا غلام ہے ، اس کا بنایا ہوا قانون کسی خاص علاقے اور زمانے کے لیے تو قابل عمل ہوسکتا ہے، پوری دنیا کے لیے اور ہر زمانے کے لیے نہیں، یہ انسانوں کے بس کی بات نہیں تھی۔ لیکن اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ إِنَّ اللّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ(البقرہ:۲۰) اور اس کے لیے ہر کام آسان ہے۔ وَذَٰلِكَ عَلَى اللّهِ يَسِيرٌ(تغابن:۷) اللہ تعالیٰ نے اس کا جو حل نکالا وہ بڑا ہی لاجواب اور آسان ہے۔اس کے لیے اللہ نے قرآن کی آیتوں کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ پہلے حصے میں ان احکامات اور اَوامر و نواہی (Do and Don’ts) کو بیان کردیا جس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ، یہ دین کی اصل روح ہے جو محفوظ اور Secure ہیں۔ جس میں سواے نبی آخرالزماںﷺ کے کسی کوتغیر وتبدل کی اجازت نہیں۔ ان کو آیات محکمات کے ذریعے بیان کیا۔اصطلاح میں اسے مجمع علیہ مسائل کہتے ہیں۔دوسرے حصے میں ان مسائل کو رکھا جن میں حالات، زمانہ، علاقہ اور خاص احوال کی بنا پر تبدیلی ہوسکتی ہے۔ ان آیات میں انسانوں کو غور و فکر کرنے کی اجازت دی بشرطےکہ محکمات یعنی پہلے حصے سے کوئی ٹکراؤ اور مخالفت نہ ہو۔ چناں چہ پروردگار عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
هُوَ الّذِىْ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ فَاَمَّا الّذِيْنَ فِىْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَآءَ تَاْوِيْلِهٖۚ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيلَهٗ اِلَّا اللّٰهُ و الرّٰسِخُوْنَ فِى الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّااُولُوا الْاَلْبَابِ ۔(آل عمران:۷)
ترجمہ:اللہ وہی ہے جس نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے۔ اس کی بعض آیات محکم ہیں جو کہ ام الکتاب ( اصل کتاب ) ہیں، اور اس کی بعض آیات متشابہہ ہیں تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے، وہ فتنہ جوئی اور اپنے باطل مقصد کے لیے متشابہ آیات کی ایسی تاویل کرتے ہیں جو محکمات کے خلاف ہیں۔ حالاں کہ متشابہ کی حقیقی تاویل ،اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور علماے راسخین یہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور صرف عقل والے ہی نصیحت قبول کرتے ہیں۔
محکمات: جہاں مزاج کی گنجائش ختم – اجتماعی وحدت کی بنیاد
محکمات میں اللہ تعالیٰ نے رائے اور اجتہاد کی گنجائش عملاً ختم کر دی، کیوں کہ یہ وہ بنیادیں ہیں جن پر پوری امت کا اجتماعی وجود، اس کی وحدت اور اس کی شناخت قائم ہے۔ اگر توحید، رسالت، آخرت، نماز کی فرضیت، شراب کی حرمت جیسے قطعی مسائل میں بھی ہر شخص کو اپنے مزاج کے مطابق رائے قائم کرنے کی اجازت دی جاتی، تو دین کا کوئی مستقل ڈھانچہ باقی نہ رہتا اور امت ایک منتشر ہجوم میں بدل جاتی۔ یہاں شریعت نے انسانی نفسیات کی اس کم زوری کو مدنظر رکھا کہ اگر ہر بنیادی مسئلے کو رائے کی نذر کر دیا جائے تو نفس کی پیروی دین کی حقیقت کو ہی نگل جائے گی۔چناں چہمحکمات کی حکمت یہ ہے کہ یہ انسان کے نفس اور مزاج پر ایک قطعی حد کھینچ دیتی ہیں، جہاں تک انسان اپنی خواہش یا فہم کے مطابق رائے قائم کرنے کا مجاز نہیں، بلکہ اسے سرِ تسلیم خم کرنا لازم ہے۔ یہ دراصل انسان کو اس کی اپنی نفسیاتی کم زوریوں سے، جیسا کہ پچھلے باب میں مقصدی استدلال اور ادراکی تضادکے حوالے سے بیان ہوا، محفوظ رکھنے کی ایک الٰہی تدبیر ہے۔ اگر ہر شخص کو اپنے مزاج کے مطابق بنیادی عقائد کی تشریح کا اختیار مل جاتا تو ہر انسان اپنی خواہش کے مطابق ایک نیا دین تراش لیتا۔
متشابہات: فہم و استنباط کے تنوع کا میدان
اس کے برعکس متشابہات اور جزئی فقہی مسائل میں شریعت نے وسعت اور گنجائش رکھی، تاکہ انسان کا فطری تنوع، جو پہلے باب میں بیان ہوا، دبایا نہ جائے، بلکہ اسے دین کے دائرے کے اندر ہی اظہار کا موقع میسر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہی مسائل میں، جیسے نماز کے بعض جزئی احکام، بعض معاملات کی تفصیلات، اور بہت سے اجتہادی مسائل میں، ایک سے زائد آرا کی گنجائش موجود ہے، اور یہ تمام آرا اپنی جگہ قابلِ احترام سمجھی جاتی ہیں۔
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ متشابہات میں رائے کی گنجائش کوئی کم زوری‘‘ یا ’’خلا‘‘ نہیں، بلکہ ایک باقاعدہ حکمتِ الٰہی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہر جزئی مسئلے کو بھی محکم اور قطعی بنا سکتا تھا، مگر اس نے ارادۃً بعض مسائل میں ابہام اور احتمال باقی رکھا تاکہ اہلِ علم اپنی فہم، مزاج اور استعداد کے مطابق اجتہاد کر سکیں اور یوں دین کی وسعت اور لچک برقرار رہے۔ یہی وہ اصول ہے جس کی بنیاد پر امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ’’میری رائے درست ہے، مگرخطا کا احتمال رکھتی ہے اور دوسرے کی رائے غلط ہے، مگر درست ہونے کا احتمال رکھتی ہے‘‘([12]) یہ جملہ دراصل متشابہات اور اجتہادی مسائل کے دائرے کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔
اختلافِ ائمہ-نظری اصول کا عملی مظہر
فقہی مکاتبِ فکر – احناف، مالکیہ، شوافع، حنابلہ – کے مابین صدیوں سے چلا آ رہا اختلاف دراصل اسی اصول کا عملی نمونہ ہے۔ ان ائمہ کرام کے سامنے قرآن و سنت کی نصوص یکساں تھیں، مگر ان کے فہم، مزاج، علاقائی ماحول اور اصولِ استنباط میں فرق کی بنا پر مختلف نتائج برآمد ہوئے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مزاج قیاس اور تعلیلِ احکام کی طرف زیادہ مائل تھا، جب کہ امام مالک رحمہ اللہ کا مزاج اہلِ مدینہ کے عملِ متوارث کو ترجیح دینے کی طرف مائل تھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے حدیث اور اصولِ فقہ کی تدوین میں زیادہ باقاعدگی اختیار کی، جب کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا رجحان زیادہ تر نصوص کی ظاہری دلالت پر عمل کرنے کی طرف تھا۔یہ اختلاف کبھی بھی عداوت یا تکفیر کا باعث نہیں بنا، بلکہ یہ ائمہ ایک دوسرے کا احترام کرتے اور ایک دوسرے کی رائے کو محتمل الصواب سمجھتے تھے۔ یہی وہ مثالی نمونہ ہے جو آج کی امت کے لیے رہ نما اصول ہونا چاہیےیعنی اجتہادی و متشابہ مسائل میں اختلاف کو باہمی احترام کے ساتھ برداشت کرنا اور اسے تفرقہ و عداوت کا ذریعہ نہ بنانا۔
سیمنٹک دلالت اور نفسیاتی فیکٹر
لسانیات کے میدان میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ الفاظ کی دلالت (Semantic Meaning) ہمیشہ قطعی اور یک رخی نہیں ہوتی، بلکہ بہت سے الفاظ ایک سے زائد معانی کا احتمال رکھتے ہیں اور قاری کا ذہنی پس منظر، مزاج اور نفسیاتی رجحان اس بات کا تعین کرتا ہے کہ وہ کس معنی کو ترجیح دے گا۔ یہ محض ایک لسانی مسئلہ نہیں، بلکہ نفسیات اور دلالتِ لفظی کے سنگم پر کھڑا ایک اہم موضوع ہے۔
قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ کی تفہیم میں یہی اصول کارفرما ہے۔ جب کوئی لفظ اپنے اندر ایک سے زائد لغوی یا اصطلاحی احتمال رکھتا ہو، تو مفسر یا فقیہ کا نفسیاتی رجحان- یعنی آیا وہ سختی کی طرف مائل ہے یا نرمی کی طرف، ظاہری معنی کی طرف مائل ہے یا باطنی و مجازی معنی کی طرف – اس بات کا تعین کرتا ہے کہ وہ اس لفظ سے کیا نتیجہ اخذ کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ متشابہات میں اختلاف کی جڑ محض نص کا ابہام نہیں، بلکہ نص کے ابہام اور قاری کی نفسیاتی ساخت کا امتزاج ہے۔لفظ کا احتمال + مفسر کا مزاج = متنوع تعبیر۔
محکمات و متشابہات اور اس کی تفصیلات نقشے کی صورت میں
| قِسم | ۱. محکمات مجمع علیہ مسائل | ۲. متشابہات اجتہادی مسائل |
|---|---|---|
| توضیح | یعنی دین کا محفوظ حصہ جس میں نبی ﷺ کے سوا کسی کو عقل استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ | یعنی دین کا وہ حصہ جس میں اہل علم مجتہدین کو عقل استعمال کرنے اور غور و فکر کے ساتھ اجتہاد کی اجازت ہے۔ |
| تعریف | یہ وہ آیات ہیں جو واضح، صاف اور قطعی معنی رکھتی ہیں۔ یہ آیات اسلامی تعلیمات کی بنیاد ہیں اور ان میں کوئی ابہام ہوتی۔ یہ آیات شریعت، عقائد اور اخلاق سے متعلق ہوتی ہیں،ان آیات کو’’اُمُّ الْكِتَابِ‘‘یعنی کتاب کی اصل بنیاد اور دین کی روح کہا جاتا ہے۔ | یہ وہ آیات ہیں جن کا مفہوم مکمل طور پر واضح نہیں ہوتا یا ان کے کئی معانی ہو سکتے ہیں۔ ان آیات کا مقصد انسان کو تدبر اور غور و فکر کی دعوت دینا ہوتا ہے۔ ان آیات میں بعض اوقات ایسے امور بیان کیے جاتے ہیں جو انسانی عقل اور تجربے سے بالاتر ہوتے ہیں، |
| مثال | اللہ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، روز قیامت اور تقدیر پر ایمان لانا۔ عبادات میں نماز، روزہ، زکوة، اور حج کی فرضیت،نمازوں کے اوقات اور ان کی فرض رکعتوں کی تعداد اور ان کے مجمع علیہ مسائل۔معاملات میں انصاف، دیانت داری اور امانت داری۔ اخلاقیات میں سچ بولنا، انصاف کرنا، مہربانی اور درگزر کرنا، جھوٹ، غیبت، چغلی، حسد، بغض اور کینہ وغیرہ برائیوں سے بچنا محکم اور مجمع علیہ عقائد ومسائل ہیں۔ | عذابِ قبر، دیدارِ الٰہی، روح و نفس اور علامات قیامت وغیرہ مباحث۔یَد (ہاتھ)، وجہ (چہرہ) وغیرہ اللہ کے صفات۔ اس کے علاوہ عقائد میں اشعری، ماتریدی، حنبلی ،معتزلہ اور شیعہ، سنی اختلافات۔حنفی، شافعی، حنبلی اور مالکی فقہی اختلافات، حنفی سلفی اختلافات میں تقلید وعدم تقلید کا مسئلہ،رفع یدین، آمین بالجہر، قرات خلف امام اور بیس رکعت تراویح وغیرہ مسائل۔دیوبندی بریلوی اختلافات میں میلاد و فاتحہ، سلام و قیام، انگوٹھا چومنا،نور و بشر، سایۂ رسول ، نداے یا رسول اللہ، وسیلہ اور استغاثہ وغیرہ۔ |
| حکم | یہ مجمع علیہ مسائل ہوتے ہیں اس لیے اس کا حکم یہ ہے کہ ان کی تصدیق کرنا اور ان پر عمل کرنا فرض وواجب ہے ۔ ان کا انکار کرنے والا بلاشبہ کافر ہے۔ | یہ مختلف فیہ مسائل ہیں ان کا حکم یہ ہے کہ جس کو جو معنی سمجھ میں آئے اس پر عمل کرے۔ کسی کو یہ اختیار نہیں کہ ایک دوسرےپر اپنی رائے مسلط کرے یااس بنا پر کسی پرلعن طعن کرے۔ |
محکم و متشابہ کی تقسیم کی وجہ
ذرا غور فرمائیں! اگر اللہ رب العزت پورے قرآن میں صرف محکم آیات ہی نازل فرماتا تو انسان کو عقل استعمال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی، اگر قرآن و سنت میں غور و فکر اور تدبر کی گنجائش نہ ہوتی تو انسانی شعور محدود ہو جاتا، مسائل کا حل مشکل ہو جاتا، اجتہادکا دروازہ بند ہی رہتا،روحانی ترقی رک جاتی اور دین میں سختی اور جمود آ جاتا۔ اس کے برعکس اگر ساری آیتیں متشابہات ہوتیں تو لوگ دین کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال کر یہود و نصاریٰ کی طرح اسے تباہ و برباد کردیتے۔
تطبیق و نتائج
جس طرح ذوق میں میٹھے اور نمکین کی پسند کا فرق کسی کو غلط یا صحیح ثابت نہیں کرتا، بلکہ محض مزاج کا اظہار ہوتا ہے، بالکل اسی طرح متشابہات اور اجتہادی مسائل میں مختلف آرا کا وجود کسی ایک فریق کو دوسرے پر فوقیت نہیں دیتا، بلکہ یہ محض مزاج، فہم اور استعداد کے فطری فرق کا عکس ہوتا ہے۔
تاہم اس تشبیہ کی ایک اہم حد بھی سمجھنی ضروری ہے: جس طرح ذوق میں تنوع کے باوجود بعض چیزیں – جیسے حرام غذا کا استعمال -کسی کے ذاتی مزاج سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتیں، بالکل اسی طرح دینی میدان میں بھی محکمات کا دائرہ کسی کے مزاج یا ذوق سے مستثنیٰ نہیں۔ محکمات میں تنوع کی اجازت نہیں، کیوں کہ وہ امت کی وحدت کی بنیاد ہیں، جب کہ متشابہات میں تنوع کو گنجائش دی گئی کیوں کہ وہ انسانی فطرت کے احترام کا تقاضا تھا۔
عملی سطح پر اس تحقیق کے کئی اہم اسباق ہیں۔ سب سے پہلے، علمی مکالمے میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مخالف رائے رکھنے والا شخص لازمی طور پر بدنیت یا کم علم نہیں، بلکہ اس کا مزاج اور نفسیاتی ساخت اسے اس نتیجے تک لے گئی ہے۔ دوسرایہ کہ اپنی رائے پر نظرثانی کرتے وقت انسان کو چاہیے کہ وہ ادراکی تضاد اور مقصدی استدلال جیسے میکانزم کا ادراک رکھے تاکہ وہ محض انا کی خاطر غلط موقف پر ڈٹا نہ رہے۔ تیسرایہ کہ اجتہادی مسائل میں اختلاف کو مسلکی و گروہی عصبیت کی بنیاد بنانے کے بجائے علمی وسعت کا ذریعہ سمجھا جائے۔ اور چوتھا محکمات اور متشابہات کے فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ طے کیا جائے کہ کہاں اختلاف کی گنجائش ہے اور کہاں نہیں۔
اسی حقیقت کی طرف قرآنِ مجید نے بھی رہ نمائی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد ﷺ سے فرمایا: فَذَكِّرْ إِنّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌلَسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ (الغاشیہ:۲۲) یعنی آپ نصیحت کرتے رہیے، آپ تو صرف نصیحت کرنے والے ہیں، آپ ان پر مسلط یا جبر کرنے والے نہیں ہیں۔جب اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ رسول ﷺ کو بھی لوگوں پر اپنی بات بزورِ طاقت و قوت منوانے کا اختیار نہیں دیا، تو عام اہلِ ایمان اس حکم کے زیادہ پابند ہیں کہ وہ دلیل، حکمت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ اپنی بات پیش کریں، لیکن دوسروں کو اپنے فہم اور رائے کا پابند بنانے اور جبراً منوانے کی کوشش نہ کریں اور یہ ہمیشہ کے لیے ذہن و فکر میں بسالیں کہ اگر آپ کی رائے پر عمل کرنا اتنا ہی ضروری ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسے آیات محکمات کے ذریعے بیان فرمادیتا۔ جب اللہ نے گنجائش رکھی ہے تو آپ بندہ ہوکر اللہ و رسول سے آگے بڑھنے کی جرأت نہ کریں، ورنہ فساد فی الارض کے مرتکب قرار دیے جائیں گے۔ یہی طرزِ عمل اختلاف کو نزاع بننے سے روکتا ہے اور اسلامی معاشرے میں علمی وسعت، باہمی احترام اور وحدت کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بنتا ہے۔قرآن و احادیث اسی کی رہ نمائی کرتی ہیں اوریہی طرز عمل صحابہ، ائمہ، صوفیہ ، محدثین و مفسرین اور جملہ سلف صالحین کا رہا ہے جس پر ان شاء اللہ ہم آئندہ روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔
کتابیات
- القرآن الكريم
- محمد بن إسماعيل البخاري، صحيح البخاري، دار طوق النجاة، بيروت
- مسلم بن الحجاج القشيري، صحيح مسلم، دار إحياء التراث العربي، بيروت۔
- د. طه جابر العلواني، أدب الاختلاف في الإسلام، المعهد العالمي للفكر الإسلامي
- أبو حامد محمد الغزالي، المستصفى من علم الأصول، المكتبة التجارية الكبرى، مصر۔
- Festinger, Leon. (1957). A Theory of Cognitive Dissonance. Stanford: Stanford University Press.
- Kruglanski, Arie W. (2004). The Psychology of Closed-Mindedness: Social and Cognitive Dimensions. New York: Psychology Press.
- Kunda, Ziva. (1990). “The Case for Motivated Reasoning.” Psychological Bulletin, 108(3), 480–498.
حاشیہ
[1] – استاذ: جامعہ عارفیہ، سید سراواں، کوشامبی، یوپی، 8382858806
([2])- Robert R. McCrae and Paul T. Costa Jr., “Validation of the Five-Factor Model of Personality across Instruments and Observers,” Journal of Personality and Social Psychology 52, no. 1 (1987): 81–90.
([3])Festinger, Leon. A Theory of Cognitive Dissonance. Stanford, CA: Stanford University Press, 1957.
([4])اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کریں تو ہماری گرفت نہ فرما۔
([5])ے شک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے۔
([6])اور خواہشاتِ نفس کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں گی۔
([7])کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشات کو اپنا خدا بنا لیا؟
([8])جان لو کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں اور اس سےبڑھ کر گمراہ کون ہو سکتا ہے!
([9])اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کر دیا، اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔
([10])آدم علیہ السلام سے بھول ہوگئی اور ہم نے ان کا عزم و ارادہ نہیں پایا۔
([11])راوی: عمرو بن العاص – امام بخاری، صحيح البخاری (٧٣٥٢) [صحيح]
([12])-رَأْيِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الخَطَأَ، وَرَأْيُ غَيْرِي خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ (ڈاکٹر طٰہ جابر العلوانی- ادب الاختلاف فی الاسلام )
KEYWORDS: Difference of opinion, Human psychology, Muhkamāt and mutashābihāt, Disagreement among the Imams, Etiquette of disagreement


