روشن خیالی کی روایت

Abstract
Dr. Muhammad Ali traces the intellectual tradition of Enlightenment as it developed in the West and examines its relevance to Muslim societies today.He begins by rejecting the claim that Islam anticipated Enlightenment, arguing instead that these ideas took distinct shape within a specific European historical context, most notably through Immanuel Kant’s 1784 essay “What is Enlightenment?” Kant defined enlightenment as humanity’s emergence from self-imposed immaturity, requiring the courage to use one’s own understanding rather than deferring to others out of laziness or fear. The author acknowledges that Muslim societies absorbed the material and institutional structures born of the Enlightenment — scientific knowledge, educational frameworks, philosophical vocabulary — while never fully internalizing the ethical values that should accompany such a system, comparing this to a medical system stripped of ethical constraints becoming purely a vehicle for profit. The essay’s central argument concerns contemporary Muslim educational and religious institutions, where deference to seniority and misplaced notions of “adab” (etiquette) and “maslahat” (expediency) suppress independent thought.
مغرب میں روشن خیالی کی تحریک کا آغاز ہوئے صدیاں گزر گئیں۔ اس تحریک نے اپنے بطن سے ان گنت نئی تحریکوں کو جنم دیا اور جدید دنیا کی تشکیل کی۔ اس جدید دنیا میں فرد کی وقعت و حرمت اس کے خیال کی وسعت اور خود مختاری سے طے کی جاتی ہے۔ یہ دعویٰ کرنا کہ اسلام نے بہت پہلے ہی حرمت انسانی کے خاکے میں اس شق کو جوڑ دیا تھا، پورے طور پر صحیح نہیں ہے، کیوں کہ ہم جس روشن خیالی کی بات کر رہے ہیں وہ تاریخ کے ایک خاص سیاق میں پروان چڑھی اوراس کے بعد ہی اسے انسانی قدروں میں ایک مقدس مقام حاصل ہوا۔ روشن خیالی کیا ہے؟ اس سوال پر تحریک کے دور آغاز میں ہی یورپی فلسفیوں نے غورو خوض کرنا شروع کر دیا تھا۔
مشہور فلسفی امانوئل کانٹ نے 1784ء میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون، What is Enlightenment?میں اس موضوع پر اظہار خیال کیا۔کانٹ کا خیال تھا کہ روشن خیال بننے کے لیے ایک شخص کا درج ذیل دو حالتوں سے پاک ہونا ضروری ہے:
- پہلی حالت کو وہ نا بالغی یا ناپختگی کا نام دیتا ہے، یعنی یہ ایک ایسی حالت ہوگی جہاں ایک شخص کسی دوسرے شخص کی رہ نمائی کے بغیراپنے علم و مشاہدے کو استعمال میں لانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔
- دوسری حالت کو وہ خود ساختہ نابالغی کا نام دیتا ہے، یعنی یہ نابالغی اور اپنی فکر و علم پر عمل نہ کر پانے کی حالت اس کی خود ساختہ ہو، اس میں اتنی جرات اور حوصلہ ہی ناپید ہو کہ بذات خود اپنی فکر اور اپنے علم کو بروے کار لا سکے۔ وہ مزید کہتا ہے کہ انسان کو ان دونوں کیفیتوں سے نکالنے کے لیے اسے غور و فکر اور بولنے کی آزادی دینا لازمی امر بن جاتا ہے، ورنہ ان کے خیال میں معاشرے کا بڑا حصہ سست اور بزدل ہوتا ہے، جو غور و فکر کا ذمہ دوسروں پر ڈال کر، اپنے ضمیر کو گروی رکھ کر، خود کو ان کا مطیع بنا لیتا ہے۔
کانٹ کا یہ تجزیہ دراصل اس معاشرتی سیاق میں سامنے آیا جب سائنس کی جدید دریافتیں پرانے فکری ڈھانچوں کو توڑنے پر مصر تھیں۔ چرچ ،یا بلفظ دیگرمذہبی اتھارٹی کی دیواریں اپنی قدیم بنیادوں سےکھسک کھسک کر سمٹتی جا رہی تھیں۔ کانٹ اور اس زمانے کے دوسرے فلسفیوں کی نگاہ میں انسان ترقی ، دوسرے معنوں میں، روشن خیالی یا فکر کی آزادی کی طرف گامزن تھا۔ اس پر بحث ہوتی رہتی ہے کہ کانٹ یا ہیگل کے بعد سے اب تک انسان کس حد تک روشن خیال ہوا ہے، جسے چھیڑنے کی یہاں ضرورت نہیں ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس دوران سائنسی دریافتوں نے انسان کی فکر ، دنیا کو دیکھنے کے نظریات، اور خدا، انسان، کائنات کے باہمی رشتوں کی تفہیم کو یکسر بدل دیا۔
روشن خیالی کی تحریک اور اس سے پیدا ہونے والے افکار و نظریات نے دیر سے ہی سہی، لیکن مشرقی مذہب و تہذیب پر کبھی استعمار اور کبھی دوسرے راستوں سے اپنے اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ وہ اثرات کتنے مثبت اور کتنے منفی ثابت ہوئے، ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ افکار اتنے بااثر تھے کہ مشرقی دانش وروں نے، بشمول مسلم، چاہے ان کی فکر کا تعلق مذہب سے ہو یا نہ ہو، بعض اوقات بغیرتنقیدی نظر ڈالے انہیں اپنی معاشرتی اور مذہبی فکر کا حصہ بنا دیا۔ اب حال یہ ہے کہ اگر آپ فکر کے ان خارجی اور داخلی دھاگوں میں فرق کرنا چاہیں تو نہیں کر پائیں گے، اور اگر اس عمل میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تو کچھ فرق نہیں پڑے گا، کیوں کہ اب ان کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔یہی حال مسلم تہذیب کا بھی ہوا۔ روشن خیالی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خارجی افکار ہماری اسلامی یا مسلم تہذیب کا اس طرح سے حصہ بن چکے ہیں کہ انہیں الگ کرنا مانو ایسا ہے جیسے مختلف رنگوں سے مل کر بنی ایک تصویر کے کچھ رنگ مٹا دیے جائیں، یعنی پھر وہ مسخ ہو کر رہ جائے گی۔
یہ بات صحیح ہے کہ ہماری معاشرتی اور مذہبی فکر یورپ کی اس عظیم تحریک سے متاثر ہوئی، لیکن یہ اثر گیری ہنوز ادھوری ہے۔ ہم نے اس سے پیدا ہونے والے نظام کو مستعار لیا، سائنسی علوم سے استفادہ کیا، تعلیمی ڈھانچوں کو اس کے سانچے پر ترتیب دیا، اس کی فلسفیانہ گتھیوں کو بہت حد تک سلجھانے میں بھی کامیاب ہوئے، لیکن اس سارے نظام سے پیدا ہونے والی اخلاقی قدروں کو ہم آج تک اپنے معاشرے کا حصہ نہیں بنا پائے۔ ظاہر ہے ایک نظام کو بعض اخلاقی قدروں کا پابند ہونا لازمی ہے تاکہ اس کے منفی اثرات سے تکریم انسانی کی حفاظت کی جا سکے۔ فرض کیجیے علم طب کے نظام سے اگر اخلاقی قدروں کو نکال دیا جائے تو مریض ڈاکٹر کے ہاتھوں میں نفع کمانے کا محض ایک ذریعہ بن کر رہ جائے گا، جیسا کہ ہم سرمایہ دارانہ نظام کے اثر سے پیدا ہونے والی منفی طبی اخلاقیات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
روشن خیال ہونے کے لیے کانٹ نے چند چیزوں کا ذکر کیا ہے، اگر ان کا اعادہ کریں تو وہ انسان کا بذات خود اپنے مشاہدہ و فکر پر جرات کے ساتھ عمل کرنا ہے، جس کے لیے اسے فکری آزادی کا میسر ہونا لازمی ہو جاتا ہے۔ فکر کی آزادی کا میسر ہونا ایک معقول بات ہے۔ دور جدید کے دانشور و فلاسفہ ایک وسیع حد تک فکری آزادی کے وکیل رہے ہیں، حالاں کہ مطلق آزادی کی بات لغو ہو جاتی ہے۔ کانٹ کی نظر میں فکری آزادی کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ انسان بحیثیت شخص اپنی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہو جائے۔ ہمارے معاشرے میں بھی فرد کی فکری آزادی کے تصور نے اجماع کی صورت حاصل کر لی ہے اور یہ تصور اتنا عقلی اور بدیہی لگتا ہے کہ اس کے درست ہونے کے لیے ہمیں کسی نص کا حوالہ دینے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ اب ذرا اس سوال پر غور کریں کہ کیا یہ تصور اب تک ہماری معاشرتی قدروں کا حصہ بن پایا ہے؟ اس سوال پر مختلف جہتوں سے اور معاشرے کے مختلف طبقوں کے حوالوں سے غور کیا جا سکتا ہے، لیکن میں اسےاپنے معاشرے کے علمی حلقوں تک محدود رکھ کر دیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں ایک ایسے عالم یا دانشور کے بارے میں بات کر رہا ہوں جس کا علم و مشاہدہ کسی ایک بات کو صحیح یا غلط تصور کرتا ہے، لیکن اسے برسرعام کہنے کی جرات نہیں کر پاتا، پھر ہم ایسے شخص سے یہ توقع بھی نہیں کر سکتے کہ اس میں اسے لکھنے کا بھی حوصلہ ہو۔ ظاہر ہے ایسے شخص کو بزدل کہا جائے گا، لیکن اس کی بزدلی ایسے ظالم معاشرتی نظام کی پیداوار ہے جس نے اس شخص کی کھلے دل سے بولنے اور لکھنے کی آزادی کو سلب کر لیا ہے۔یہ نظام ایک پیچیدہ مشینری کے تحت کام کرتا ہے، جس میں ملوث افراد بیک وقت فاعل بھی ہوتے ہیں اور مفعول بھی، جس کی آزادی سلب ہو رہی ہے وہ بھی اور جو کر رہا ہے وہ بھی، دونوں ہی مل کر اس نظام کو ممکن بناتے ہیں۔ اس نظام کے خدو خال حیا، شرم، اور خوف و مصلحت کے تانے بانوں سے بنے گئے ہیں ، جس پر مذہب اور ادب کا لیپ لگایا گیا ہے۔
ایسے ادارے کو فرض کیجیے جس کی ذمہ داری اہل علم افراد کی تشکیل کرنا ہے۔ ہمارے معاشرے میں موجود دونوں ہی نوعیت کے ، دینی اور غیر دینی، اداروں کی بات کیجیے۔ ان اداروں سے منسلک افراد کے درمیان مراتب کے لحاظ سے جو درجہ بندی ہے، مثلاً: طالب علم اور استاد کے درمیان، جونیر پروفیسر اور سینیر پروفیسر کے درمیان، ادارے یا شعبے کے صدر اور دوسرے اساتذہ کے درمیان، یہ درجہ بندی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ مرتبے میں بلند شخص کی بات نہ کاٹی جائے ،چاہے کتنی ہی غیر علمی کیوں نہ ہو، اور کمتر درجے سے تعلق رکھنے والے کی بات نہ سنی جائے، چاہے کتنی ہی معقول و علمی کیوں نہ ہو۔ دینی حلقوں میں بڑوں کی عقلی اور علمی اعتبار سے غیر معقول بات کو بھی مان لینا یا اس پر خاموشی اختیار کر لینا ادب کہلاتا ہے، اور غیر دینی حلقوں میں مصلحت۔ حالاں کہ اکثر اوقات یہ دونوں الفاظ اپنی جگہیں بدلتے رہتے ہیں اور ان میں کوئی بنیادی فرق بھی نہیں ہوتا۔ مصلحت یا ادب کے نام پر حق بات کہنے سے باز رہنے کو ہم ادب یا مصلحت کی اخلاقیات کہہ سکتے ہیں، جو موجودہ ادارتی نظام میں ہر شخص یا تو دوسروں کے رویوں سے سیکھتا ہے یا اس پر انہیں لاد دیا جاتا ہے۔ ہر نیا آنے والا کبھی شرم اور کبھی خوف کے تحت خود کو اس نام نہاد اخلاقیات کے سانچے میں بالآخر ڈھال لیتا ہے۔
اب ذرا غور کیجیے، وہ عالم اور دانشور جس نے اس طرح کے نظام میں تربیت پائی ہو ، ارادے کا کتنا کم زور ہوگا۔ تعلیمی اداروں کے ’’ادب‘‘ کی منفی اخلاقیات کے پیہم حملوں نے اس کے ضمیر کو کس قدر پامال کر دیا ہوگا۔ اس کی فکر ہمیشہ اس درجہ بندی کی اخلاقیات کے درمیان گردش کرتی رہے گی اور ایسی نفسیات اس پر حاوی ہو جائے گی جس میں ارادے کی قوت کا فقدان ہوگا، اس کی فکر ہمیشہ دوسروں کی تصدیق کی خواہاں ہوگی اورمصلحت کا بھوت اسے فرار کی راہ اختیار کرنے کے لیے اکساتا رہے گا۔ ایسے دانشور سے بھلا کوئی قیادت کی امید کیسے رکھ سکتا ہے؟اس کی فکر کا ایک ایک ریشہ عدم اعتماد، شک اور تذبذب کے ارتعاش سے کانپتا رہتا ہے، پھر اسے سکون صرف اور صرف تقلید و مصلحت کے آغوش میں ہی نصیب ہوتا ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں چانک تعلیمی اداروں کی بات کیوں کرنے لگا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا علمی معاشرہ تعلیمی اداروں سے بنتا ہے، اور اہل علم و دانش ہمیشہ کسی نہ کسی حیثیت سے ان اداروں سے وابستہ رہتے ہیں۔ اس لیے جب ہم اہل علم کے حوالے سے اس بنیادی اخلاقی قدر کی بات کر رہے ہیں تو مناسب یہی ہے کہ پہلے ان اداروں پر غور کیا جائے جہاں یہ حضرات تربیت پاتے بھی ہیں اور تربیت دیتے بھی ہیں۔ زمانے کی لے سے لے ملاتے ہوئے یہ ادارے یہی راگ الاپیں گے کہ ان تعلیمی اداروں میں فرد کو فکر کی آزادی میسر ہے، لیکن میرا تجربہ اس کے برعکس ہے۔ یقیناً آپ کا بھی یہی تجربہ رہا ہوگا۔ کسی بھی قدر کا تعلق اصل میں قول نہیں، بلکہ عمل سے ہوتا ہے اور جب تک یہ قدر ہمارے عمل کا حصہ نہیں بن جاتی، ہم دور جدید کی اس نعمت سے محروم ہی رہیں گے۔روشن خیال ہونا کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہنا اور اسے ظاہر کرنا اعلی انسانی قدروں میں سے ہے۔ اس کی بعض شکلیں ہمیں خود اپنی روایت میں ملتی ہیں۔ مثنوی کے اس شعر کو ہی لیجیے:
ای برادر تو همان اندیشهای
ما بقی تو استخوان و ریشهای
رومی کے خیال میں انسان ہونے کی حقیقت اس کی فکر میں مضمر ہے، باقی جو ظاہر ہے وہ تو بس ہڈی و گوشت کا ایک ڈھیر ہے۔ اگر انسان کے اندر سے اس کی فکر نکال دی جائے، یا اسے دبا دیا جائے تو پھر اس میں بچے گا ہی کیا۔ اب صائب تبریزی کو سنیے:
معنی انسان نگنجد از بزرگی در جہاں
سادہ لوح آن کس کہ گوید ہست انسان زیر پوست
صائب کے خیال میں تمام جہان بھی تکریم انسانی، جو اس کے معانی میں پوشیدہ ہے، کا احاطہ نہیں کر سکتا، جو لوگ انسان سے صرف جسم مراد لیتے ہیں وہ نادان ہیں۔ انسان کی حرمت، اس کی تکریم ، اس کی فکر اور قوت اظہار یعنی نطق سے ہے۔ یہی چیز اسے دوسرے حیوانات سے الگ کرتی ہے۔ علم انسان کو روشنی فراہم کرتا ہے، لیکن فکر اور ضمیر کی جرات اس کے اندر کی اپج ہے۔ہم کہتے ہیں کہ علم کسی شخص کو انسان بناتا ہے۔ لیکن یہ انسان بنانے کے عمل کے کیا معنی ہیں؟ کیا صرف چیزوں کا علم ہو جانا انسان بن جانے کے مترادف ہے؟ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ علم فرد کے اندر قوت فکر پیدا کرتا ہے، تلاش و جستجو کی جانب مہمیز کرتا ہےتاکہ فرد اپنی ذات، کائنات اور خدا کے بارے میں غور و خوض کرسکے، اس کے اندر ارادے کی قوت پیدا ہو سکے۔ یہ ساری چیزیں اس کے وجود میں پیدا ہوتی ہیں اور اس کے رویوں، زبان و تحریر کے ذریعے خارج میں ظاہر ہوتی ہیں۔ لیکن اگر ماحول سازگار نہ ہو تو یہ ظہور متاثر ہوتا ہےاور ایک بگڑی و بھدی سی شکل لے کر سامنے آتا ہے۔
ہماری مذہبی اور علمی روایت میں ظاہر اور باطن کی یکسانیت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ دور جدید میں روشن خیالی کی تحریک نے اس تصور کو مضبوط فلسفیانہ بنیادیں فراہم کر کے اس کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔ ادب و مصلحت کی موجودہ معاشرتی قدروں میں منفی تحول(negative transformation) پیش آیا ہے جو ہماری دینی اور علمی دونوں ہی روایات کے خلاف ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم معاشرتی سطح پر ان اخلاقیات پر غور کریں، افراد کو ان کے ضمیر کی بات کہنے کی آزادی فراہم کریں،خاص طور سےتعلیمی اداروں میں، تاکہ ہمارے دانشوروں میں حق بات کہنے اور سننے کی جرات پیدا ہو سکے۔
Keywords: Enlightenment, Immanuel Kant, Intellectual Freedom, Adab and Maslahat, Institutional Hierarchy, Human Dignity

