اصلاحِ امت کی قرآنی اخلاقیات

Abstract
In the blessed 112th verse of Surah al-Tawbah, Allah Almighty describes the comprehensive qualities of believers that form the foundation for building a righteous individual, an ideal family, a wholesome society, and a strong ummah. This verse is not merely a statement of a few acts of worship or moral qualities; it is a comprehensive Qur’anic charter that guides every important aspect of life, from the reform of the individual to the building of society.
The religious, moral, intellectual, and social challenges facing the Muslim ummah today — religious inaction, moral decline, sectarianism, materialism, family breakdown, intellectual confusion, and weakness in da‘wah — all find their effective remedy within this blessed verse. It is therefore essential that the qualities of the believer it describes be not only correctly understood but also put into practice in both individual and collective life, so that the Muslim ummah may recover its true identity, character, and dignity.
اصلاحِ امت کی قرآنی اخلاقیات
مولانا منصور عالم برکاتی ([1])
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَلتَّائِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّائِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاهُوْن عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِۚ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ۔ (سورہ توبہ،آیت۱۱۲)
ترجمہ: ’’توبہ کرنے والے، عبادت گزار، اللہ کی حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور اے محبوب! ایمان والوں کو (جنت کی) خوش خبری سنا دیجیے۔‘‘
زیرِ نظر مقالے میں ان قرآنی اوصاف کا عصرِ حاضر کے حالات کے تناظر میں جائزہ لیا جائے گا اور یہ واضح کیا جائے گا کہ امتِ مسلمہ کی انفرادی و اجتماعی اصلاح کے لیے ان پر عمل کس قدر ناگزیر ہے۔
التَّائِبُونَ : اصلاحِ امت کا نقطۂ آغاز
اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کے اوصاف میں سب سے پہلے التَّائِبُونَ کا ذکر فرمایا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انفرادی اور اجتماعی اصلاح کا نقطۂ آغاز توبہ ہے۔ توبہ محض گناہوں پر ندامت کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سچے دل سے رجوع، معصیت سے کنارہ کشی اور آئندہ زندگی کو احکامِ الٰہی کے مطابق گزارنے کے پختہ عزم کا نام ہے۔ جب تک فرد اپنے باطن کی اصلاح نہیں کرتا، معاشرے کی اصلاح بھی ممکن نہیں ہوتی۔
آج امتِ مسلمہ جن دینی، اخلاقی، فکری اور معاشرتی بحرانوں سے دوچار ہے، اس کی ایک بڑی وجہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کے بجائے دوسروں کو اپنی زبوں حالی کا ذمہ دار ٹھہرانا ہے۔ قرآن ہمیں یہ حقیقت سمجھاتا ہے کہ اجتماعی تبدیلی کی بنیاد انفرادی اصلاح پر قائم ہوتی ہےاور انفرادی اصلاح کا پہلا زینہ توبہ و استغفار ہے۔
عصرِ حاضر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر مسلمان اپنے ایمان، عبادات، معاملات، اخلاق، حقوقُ اللہ اور حقوقُ العباد کا غیر جانب دارانہ محاسبہ کرے، اپنی لغزشوں پر اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کرے اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح مساجد میں توبہ و استغفار کی ترغیب کو عام کیا جائے، گھروں میں دینی ماحول پیدا کیا جائےاور نوجوان نسل میں یہ شعور بیدار کیا جائے کہ عزت، سکون، استحکام اور کامیابی کا حقیقی راستہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اس کی اطاعت میں مضمر ہے۔ جب توبہ انفرادی عمل سے بڑھ کر اجتماعی شعور بن جائے گی تو اصلاحِ امت کی راہ خود بخود ہموار ہونے لگے گی۔
الْعَابِدُونَ: عبادت، مومن کی زندگی کا محور
اہلِ ایمان کی دوسری صفت بیان الْعَابِدُونَ فرمائی گئی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کے بعد بندۂ مومن کی زندگی کا سب سے نمایاں وصف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی کامل بندگی ہے۔ عبادت کا مفہوم محض چند رسمی اعمال کی ادائےگی تک محدود نہیں، بلکہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے زندگی کے ہر شعبے کو اس کی رضا کے تابع بنا دینا ہی حقیقی عبادت ہے۔
آج امتِ مسلمہ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ عبادت کو صرف نماز، روزہ اور چند دیگر شعائر تک محدود سمجھ لیا گیا ہے، حالاں کہ اسلام انسان کی پوری زندگی کو عبادت کا رنگ عطا کرتا ہے۔ تجارت، ملازمت، تعلیم، دعوت، خدمتِ خلق، معاشرت اور دیگر تمام جائز امور، اگر رضاے الٰہی اور اتباعِ سنت کی نیت سے انجام دیے جائیں تو وہ بھی عبادت بن جاتے ہیں۔
عصرِ حاضر میں امت کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ ایسی نسل تیار کی جائے جو عبادت کو محض رسم نہیں، بلکہ مقصدِ حیات سمجھے، نماز کی پابند ہو، قرآنِ کریم سے مضبوط تعلق رکھتی ہو، سنتِ نبوی کو اپنی عملی زندگی کا معیار بنائے اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھے۔ یہی حقیقی عبادت انسان کو گناہوں سے محفوظ رکھتی، اس کے کردار کو سنوارتی اور فرد و معاشرے میں تقویٰ، دیانت اور احساسِ ذمہ داری کو فروغ دیتی ہے۔
الْحَامِدُونَ : شکر و حمد سے تعمیرِ امت
اہلِ ایمان کی تیسری صفت الْحَامِدُونَ بیان فرمائی گئی ہے۔ حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفاتِ کاملہ اور اس کی بے شمار نعمتوں پر دل، زبان اور عمل سے اس کی تعریف و ثنا کرنا ہے۔ حمد کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ بندہ ہر حال میں اپنے رب کی رضا پر راضی رہے، اس کی نعمتوں کا اعتراف کرے اور انہیں اسی کی اطاعت میں صرف کرے۔ یہی کیفیت انسان کے اندر شکر، قناعت، صبر، توکل اور حسنِ ظن جیسی اعلیٰ صفات پیدا کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (سورۂ ابراہیم: 7)ترجمہ:اور جب تمہارے رب نے اعلان فرما دیا کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں ضرور تمہیں اور زیادہ عطا فرماؤں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب سخت ہے۔
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ شکر گزاری صرف ایک اخلاقی وصف نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں اضافے اور ان کے دوام کا بنیادی ذریعہ ہے۔ یہی اصول افراد پر بھی لاگو ہوتا ہے اور اقوام پر بھی۔
عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ شکر کے بجائے شکایت، قناعت کے بجائے حرص اور امید کے بجائے مایوسی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کو نظر انداز کرکے صرف محرومیوں اور مشکلات کا تذکرہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ناشکری، بے اطمینانی اور احساسِ محرومی معاشرتی زندگی پر غالب آ جاتا ہے۔
قرآنِ کریم ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ شکر گزار افراد اور اقوام ہی حقیقی ترقی اور استحکام سے بہرہ مند ہوتی ہیں۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر کرتا ہے، انہیں دین و ملت کی خدمت اور بھلائی کے کاموں میں صرف کرتا ہے اور ہر حال میں اپنے رب کی حمد بجا لاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نعمتوں میں برکت اور اضافہ فرماتا ہے، اس کے دل کو اطمینان سے بھر دیتا ہے اور اسے مادی و روحانی ترقی کی راہوں پر گامزن کر دیتا ہے۔
لہٰذا اصلاحِ امت کا ایک اہم تقاضا یہ ہے کہ معاشرے میں شکوہ و شکایت، مایوسی اور ناشکری کے بجائے حمد و شکر، قناعت، امید، توکل اور رضاے الٰہی کی فکر کو عام کیا جائے۔ یہی وہ قرآنی منہج ہے جو افراد کی شخصیت سنوارتا اور امت کی اجتماعی زندگی کو استحکام بخشتا ہے۔ اسی حقیقت کو رسولِ اکرم ﷺ نے نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا کہ مومن کی ہر حالت اس کے لیے خیر کا باعث ہے، بشرطےکہ وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہے، نعمت پر شکر ادا کرے اور مصیبت پر صبر اختیار کرے۔ چناں چہ حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ ۔وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ: إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ ،فَكَانَ خَيْرًا لَهُ ۔وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ ،فَكَانَ خَيْرًا لَهُ۔([2])
’’مومن کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے، اس کا ہر معاملہ اس کے لیے باعثِ خیر ہے، اور یہ سعادت صرف مومن ہی کو حاصل ہے۔ اگر اسے خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے، چناں چہ یہ اس کے لیے خیر بن جاتی ہے، اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے، یہ بھی اس کے لیے خیر ہوتی ہے۔‘‘
یہ حدیث اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ شکر، صبر اور حمدِ الٰہی مومن کی دائمی صفات ہیں۔ خوش حالی اسے ناشکری میں مبتلا نہیں کرتی اور آزمائش اسے مایوسی کا شکار نہیں بناتی، بلکہ وہ ہر حال میں اپنے رب کی حمد بجا لاتا، اس کا شکر ادا کرتا اور اس کے فیصلوں پر صبر و رضا کا مظاہرہ کرتا ہے۔ عصرِ حاضر میں جب شکایت، بے صبری اور احساسِ محرومی کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے، اس نبوی تعلیم کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اپنانا اصلاحِ امت کے لیے ناگزیر ہے۔
السَّائِحُونَ :مجاہدۂ نفس اور کردار سازی
اہلِ ایمان کی چوتھی صفت السَّائِحُونَ بیان فرمائی گئی ہے۔ مفسرینِ کرام کی ایک بڑی جماعت، جن میں حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن مسعود اور دیگر اکابر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم شامل ہیں، اس سے ’’روزہ دار‘‘مراد لیتی ہے، کیوں کہ شریعتِ اسلامیہ میں رہبانیت اور بے مقصد سیاحت کے بجائے روزے کو مجاہدۂ نفس کا بہترین ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ روزہ انسان کو خواہشاتِ نفس پر قابو پانے، صبر و تحمل اختیار کرنے اور تقویٰ کی دولت حاصل کرنے کی تربیت دیتا ہے۔
امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ نے ’’السَّائِحُونَ‘‘ کی تفسیر میں مفسرین کے دو مشہور اقوال نقل کیے ہیں۔ پہلا اور جمہور مفسرین کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد ’’روزہ دار‘‘ ہیں۔ یہی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہم اور دیگر سلفِ صالحین سے منقول ہے، اور امام ابن کثیر سمیت اکثر مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ روزہ دار کو ’’سائح‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کہ جس طرح مسافر بہت سی خواہشات اور آسائشوں سے دور رہتا ہے، اسی طرح روزہ دار بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کھانے، پینے اور دیگر نفسانی خواہشات سے اجتناب کرتا ہے۔ مزید یہ کہ سیاحت کا اصل مفہوم مسلسل سفر اور حرکت ہے، اور روزہ دار بھی مسلسل اطاعتِ الٰہی، ضبطِ نفس اور مجاہدۂ نفس کے سفر پر گامزن رہتا ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ’’السَّائِحُونَ‘‘سے مراد علم کے طلب گار یا اللہ تعالیٰ کی راہ میں سفر کرنے والے لوگ ہیں، کیوں کہ حصولِ علم، دعوتِ دین، جہاد، ہجرت اور دیگر دینی مقاصد کے لیے سفر بھی عبادت اور تزکیۂ نفس کا ذریعہ ہے۔
امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے ان اقوال کو نقل کرنے کے بعد یہ لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے کہ خواہ روزہ مراد لیا جائے یا طلبِ علم و دعوت کے لیے سفر، دونوں صورتوں میں اصل مقصد نفس کی تربیت، خواہشات پر قابو پانا، اللہ تعالیٰ کی معرفت میں ترقی کرنا اور روحانی کمالات حاصل کرنا ہے۔ یہی حقیقت اس صفت کو اصلاحِ نفس اور تعمیرِ کردار کا ایک مؤثر قرآنی اصول بنا دیتی ہے۔عصرِ حاضر میں اس صفت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان روزے کی ظاہری صورت کے ساتھ اس کی حقیقی روح، یعنی ضبطِ نفس، تقویٰ، صبر، استقامت اور تزکیۂ باطن کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، اور علم، دعوت اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے کیے جانے والے اسفار کو بھی خالص رضاے الٰہی کے لیے انجام دیں۔ یہی طرزِ عمل اصلاحِ امت کے قرآنی منہج سے ہم آہنگ ہے۔([3])
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ. ’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘ (سورۂ البقرۃ: 183)
رسول اللہ ﷺ نے بھی روزے کو نفس کی اصلاح کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:’’الصِّيَامُ جُنَّةٌ‘‘([4])’’روزہ (گناہوں اور عذاب سے بچانے والی) ڈھال ہے۔‘‘
عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ، بالخصوص نوجوان نسل، نفسانی خواہشات، سوشل میڈیا کے بے جا استعمال، بے حیائی، فضول مشاغل، وقت کے ضیاع اور فکری انتشار جیسے فتنوں سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں روزے کی حقیقی روح کو زندہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ روزہ صرف رمضان المبارک کی ایک وقتی عبادت نہیں، بلکہ ضبطِ نفس، تقویٰ، صبر، اعتدال اور خود احتسابی کی مستقل تربیت ہے، جس کے اثرات سال بھر انسان کے کردار، اخلاق اور طرزِ زندگی میں نمایاں طور پر ظاہر ہونے چاہیے۔
لہٰذا اصلاحِ امت کے لیے ضروری ہے کہ روزے کو محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا عمل نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے تزکیۂ نفس، تعمیرِ کردار اور تقویٰ کے حصول کا عملی ذریعہ بنایا جائے۔ جب افراد اپنے نفس پر قابو پانا سیکھ جائیں گے تو معاشرہ بھی اخلاقی پاکیزگی، اعتدال اور ذمہ داری کے اوصاف سے آراستہ ہو جائے گا۔
الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ :نماز سے تعلق اور تعمیرِ کردار
اہلِ ایمان کی پانچویں اور چھٹی صفت الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ بیان فرمائی گئی ہے، جس سے مراد نماز قائم کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نماز کا ذکر رکوع اور سجدہ کے ذریعے فرمایا، کیوں کہ یہ دونوں اعمال نماز کے سب سے نمایاں ارکان اور بندگی کی کامل علامت ہیں۔ رکوع اور سجدہ محض جسمانی افعال نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی، خشوع، اطاعت اور کامل سپردگی کا عملی اظہار ہیں۔ جو بندہ اخلاص کے ساتھ اپنے رب کے سامنے جھکتا ہے، اس کی زندگی اطاعتِ الٰہی، تقویٰ اور حسنِ اخلاق سے آراستہ ہو جاتی ہے۔
امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ، قاضی بیضاوی رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ رکوع اور سجدہ کا ذکر نماز سے بطورِ کنایہ کیا گیا ہے، اس لیے کہ قیام اور قعود جیسی ہیئتیں عام زندگی میں بھی پائی جاتی ہیں، لیکن رکوع اور سجدہ ایسے مخصوص افعال ہیں جو عبادت کو عام عادت سے ممتاز کرتے ہیں اور نمازی کی شناخت بن جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ قیام اللہ تعالیٰ کے حضور تواضع و ادب کا ابتدائی درجہ ہے، رکوع اس کا درمیانی مرحلہ اور سجدہ بندگی، عاجزی، خشوع اور تعظیمِ الٰہی کا اعلیٰ ترین مقام ہے۔ اس لیے رکوع اور سجدہ کا خصوصی ذکر اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ نماز کا اصل مقصد بندۂ مومن کے دل میں خشوع، انکساری اور کامل اطاعت پیدا کرنا ہے۔([5])
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ (سورۂ العنکبوت: 45) ’’بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے نماز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ([6])
’’دین کی بنیاد اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے۔‘‘
عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کو جن اخلاقی، معاشرتی اور فکری بحرانوں کا سامنا ہے، ان کی ایک بڑی وجہ نماز کی حقیقت سے دوری ہے۔ اگر نماز میں رکوع و سجدہ کی روح، یعنی خشوع، تواضع، اخلاص اور کامل بندگی پیدا ہو جائے تو یہی نماز انسان کو گناہوں سے بچاتی، اس کے اخلاق سنوارتی اور معاشرے میں عدل، دیانت اور تقویٰ کو فروغ دیتی ہے۔ اس لیے اصلاحِ امت کے قرآنی منہج کا تقاضا یہ ہے کہ نماز کو محض ایک رسمی عبادت نہ سمجھا جائے ،بلکہ اسے بندگیِ الٰہی، تزکیۂ نفس اور تعمیرِ کردار کا سب سے مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔
عصرِ حاضر میں اگر مساجد آباد ہوں، نوجوان نماز کے پابند بنیں، گھروں میں نماز کی تلقین کی جائے، والدین خود اپنی اولاد کے لیے عملی نمونہ بنیں اور نماز کو محض ایک رسمی عبادت کے بجائے تربیتِ نفس، تزکیۂ باطن اور اصلاحِ کردار کا مؤثر ذریعہ سمجھا جائے تو معاشرے میں ایک حقیقی اخلاقی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ جو قوم اپنے رب کے حضور رکوع و سجدہ کے ساتھ جھکنا سیکھ لیتی ہے، اللہ تعالیٰ اسے عزت، استقامت اور باوقار زندگی عطا فرماتا ہے۔ اس لیے اصلاحِ امت کے قرآنی منہج میں اقامتِ نماز کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، کیوں کہ یہی وہ عظیم عبادت ہے جو بندے کو اپنے رب سے مضبوط تعلق عطا کرتی، اس کے باطن کو پاکیزہ بناتی اور اسے فحشا و منکرات سے بچانے کی عملی تربیت فراہم کرتی ہے۔
الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ: نیکی کا فروغ، اصلاحِ امت کی بنیاد
اہلِ ایمان کی ساتویں اور آٹھویں صفت’’الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ‘‘ بیان فرمائی گئی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں نیکی کو فروغ دینا اور برائی کی روک تھام کرنا ہر صاحبِ ایمان کی بنیادی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ’’معروف‘‘ سے مراد ہر وہ عمل ہے جسےعقلِ سلیم نے قبول کیا ہو اور شریعت نے پسند فرمایا ہو، جب کہ’’منکر‘‘ ہر وہ قول و فعل ہے جسے شریعت نے ناپسند فرمایا ہو۔ یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ معروف ومنکر کے ذیل میں فقہا نے وہ امور مراد لیے ہیں، جن کے خیر یا شر ہونے پر مسلمانوں کا اتفاق ہو، مختلف فیہ امور معروف ومنکر میں نہیں آتے، اس لیے وہ امر ونہی کے ذیل میں بھی نہیں آتے۔
الغرض! ایک مومن نہ صرف خود نیکی اختیار کرتا ہے، بلکہ حکمت، خیر خواہی اور حسنِ اخلاق کے ساتھ دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیتا ہے اور حتیٰ الامکان برائی سے روکنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔
امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر دینِ اسلام کے نہایت اہم اجتماعی فرائض ہیں، یہاں تک کہ علماے اصول نے ان کے احکام و مسائل پر مستقل ابواب قائم کیے ہیں۔ آپ مزید فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جہاد کی طرف بھی لطیف اشارہ موجود ہے، کیوں کہ ایمان کی دعوت دینا، باطل کی مزاحمت کرنا اور اللہ تعالیٰ کے دین کو سربلند کرنا بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی عظیم صورتوں میں سے ہے۔ نیز نہی عن المنکر کا فریضہ خصوصیت کے ساتھ صبر، حکمت اور استقامت کا متقاضی ہے، کیوں کہ برائی سے روکنے والے کو بسا اوقات مخالفت، اذیت اور دشمنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے اس عظیم فریضے کی ادائےگی ہمیشہ علم، بصیرت، حکمت، صبر، حسنِ اخلاق اور خیر خواہی کے ساتھ ہونی چاہیے۔([7])
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ أُمَّةٌ يَّدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ(سورۂ آلِ عمران: 104)’’اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘
دعوتِ دین کے طریقۂ کار کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
ادْعُ إِلٰى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ(سورۂ النحل: 125)
ترجمہ:اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور لوگوں سے ایسے طریقے سے گفتگو کرو جو بہترین ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ۔([8])
’’جو شخص کسی نیکی کی رہ نمائی کرے، اسے بھی اس نیکی پر عمل کرنے والے کے برابر اجر ملے گا۔‘‘
عصرِ حاضر میں ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ نیکی کو صرف ذاتی عبادت تک محدود کر دیا گیا ہے، جب کہ قرآنِ کریم اسے اجتماعی فریضہ قرار دیتا ہے۔ معاشرے میں خیر، دیانت، امانت، عدل، حیا، حسنِ اخلاق اور دینی شعور اسی وقت فروغ پائے گا جب ہر مسلمان اپنے دائرۂ اختیار میں اصلاح کا فریضہ انجام دے۔
علما، ائمہ، خطبا، معلمین، والدین، اساتذہ، تاجر، ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد اور معاشرے کے تمام بااثر طبقات پر لازم ہے کہ وہ اپنے قول و عمل کے ذریعے نیکی کی دعوت عام کریں۔ تاہم دعوت کا اسلوب ہمیشہ حکمت، نرمی، خیر خواہی، حسنِ اخلاق اور صبر پر مبنی ہونا چاہیے، کیوں کہ سختی، تحقیر اور تلخ لہجہ دلوں کو قریب کرنے کے بجائے دور کر دیتا ہے۔ جب امر بالمعروف کا یہ قرآنی منہج معاشرے میں رائج ہوگا تو اصلاحِ امت کی مضبوط بنیاد استوار ہوگی اور خیر و بھلائی کا ماحول پروان چڑھے گا۔
وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ: برائی کی روک تھام اور معاشرتی اصلاح
اہلِ ایمان کی نوویں اوردسویں صفات میں سے ایک اہم صفت وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ بیان کی گئی ہے، جو امر بالمعروف کا لازمی تقاضا اور اسلامی معاشرے کی اصلاح کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ’’منکر‘‘سے مراد ہر وہ قول، فعل یا طرزِ عمل ہے جسے شریعت نے ناپسند فرمایا ہو اور جو فرد و معاشرے میں فساد، بے راہ روی اور اخلاقی انحطاط کا سبب بنے۔ امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہی عن المنکر کا فریضہ نہایت عظیم ذمہ داری ہے، کیوں کہ برائی سے روکنے والے کو بسا اوقات مخالفت، اذیت اور دشمنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے اس فریضے کی ادائےگی علم، حکمت، صبر، حسنِ اخلاق اور خیر خواہی کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اسلام صرف نیکی کو فروغ دینے ہی کا حکم نہیں دیتا بلکہ برائی کے سدِّباب کو بھی اجتماعی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ (سورۂ آلِ عمران: 110)ترجمہ:تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی بھلائی کے لیے ظاہر کی گئی، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
قرآنِ کریم نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ساتھ ساتھ ذکر فرما کر اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ معاشرے کی اصلاح صرف نیکیوں کے فروغ سے مکمل نہیں ہوتی، بلکہ برائیوں کی مؤثر روک تھام بھی اتنی ہی ضروری ہے۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذٰلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ۔ ([9]) ’’تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے، اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل میں اسے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کم زوردرجہ ہے۔‘‘
عصرِ حاضر میں فحاشی، جھوٹ، سود، رشوت، بددیانتی، نشہ، ظلم، گھریلو تشدد، تعلیمی بدعنوانی، معاشی بے ایمانی اور سوشل میڈیا کے ذریعے گناہوں کی تشہیر جیسے منکرات تیزی سے معاشرے میں پھیل رہے ہیں۔ اگر ان برائیوں کے مقابلے میں اہلِ ایمان خاموشی اختیار کر لیں تو معاشرے کی اخلاقی بنیادیں کم زورہو جاتی ہیں اور اجتماعی فساد جنم لیتا ہے۔
اس لیے اصلاحِ امت کے قرآنی منہج کا تقاضا ہے کہ منکرات کی روک تھام انفرادی، خاندانی، تعلیمی، سماجی اور قانونی ہر سطح پر علم، حکمت، عدل، صبر اور حسنِ اخلاق کے ساتھ کی جائے، تاکہ ایک صالح، پرامن، باکردار اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب اسلامی معاشرہ تشکیل پا سکے۔
وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ: شریعت کی پاسداری، اصلاحِ امت کی ضمانت
اہلِ ایمان کی آخری صفت وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ بیان فرمائی گئی ہے، جو سابقہ تمام صفات کی جامع تکمیل اور ان کا عملی خلاصہ ہے۔ ’’< style="font-size: 22px;"span class="font-naskh">حدودُ اللہ‘‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ تمام احکام، فرائض، واجبات، حلال و حرام اور اخلاقی و معاشرتی ضابطے ہیں جو اس نے اپنے بندوں کی ہدایت و فلاح کے لیے مقرر فرمائے ہیں۔ اس لیے ایک حقیقی مومن صرف عبادات ہی کا پابند نہیں ہوتا، بلکہ اپنی پوری زندگی کو شریعتِ اسلامیہ کے تابع رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ ایک نہایت جامع صفت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کے تمام اوامر و نواہی، عبادات، معاملات، معاشرت اور دیگر شرعی احکام شامل ہیں۔ آپ مزید فرماتے ہیں کہ اگرچہ فقہ کی کتابوں میں ظاہری اعمال و احکام کی تفصیل بیان کی گئی ہے، لیکن شریعت کا اصل مقصود صرف اعضا کے اعمال کی درستی نہیں، بلکہ دل کی اصلاح، اخلاص، تقویٰ، خشیت، توکل، صبر اور دیگر اعمالِ قلب کی تکمیل بھی ہے، کیوں کہ ظاہری عبادات درحقیقت باطنی تزکیہ اور قلبی اصلاح ہی کے لیے مشروع کی گئی ہیں۔ اس اعتبار سے ’’حدودُ اللہ‘‘ کی حفاظت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی ظاہری اور باطنی، دونوں زندگیوں کو اللہ تعالیٰ کے احکام کا پابند بنا لے۔([10])
امام رازی رحمہ اللہ کی اس توضیح سے واضح ہوتا ہے کہ ’’حدودُ اللہ‘‘ کی حفاظت محض چند عبادات کی ادائےگی کا نام نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں شریعتِ اسلامیہ کی مکمل پاسداری کا تقاضا کرتی ہے۔ اسی حقیقت کو قرآنِ کریم نے متعدد مقامات پر نہایت تاکید کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا (سورۂ البقرۃ: 229)
’’یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں، پس ان سے تجاوز نہ کرو۔‘‘
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولٰٓئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (سورۂ البقرۃ: 229)
’’اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کریں، وہی ظلم کرنے والے ہیں۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ ‘‘([11])
’’حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں‘‘
عصرِ حاضر میں ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بہت سے مسلمان عبادات کی ادائےگی کا اہتمام تو کرتے ہیں، لیکن معاملات، تجارت، معیشت، معاشرت، خاندانی زندگی، عدل و انصاف اور امانت داری جیسے شعبوں میں شریعت کے احکام کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالاں کہ اسلام صرف مسجد تک محدود دین نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی حدود کی پابندی کا مطالبہ کرتا ہے۔
اس لیے اصلاحِ امت کا تقاضا ہے کہ حلال و حرام کا صحیح شعور عام کیا جائے، معاملات میں دیانت و امانت کو فروغ دیا جائے، عدل و انصاف کو قائم کیا جائے، خاندانی نظام کو شریعت کے مطابق استوار کیا جائے اور انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں قرآن و سنت کو معیار بنایا جائے۔ جب امت اللہ تعالیٰ کی حدود کی حفاظت کو اپنی دینی، اخلاقی اور اجتماعی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنی ظاہری و باطنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھال لے گی، تو اس کی عبادات، معاملات، اخلاق اور معاشرت سب سنور جائیں گے، اور یہی حقیقی اصلاحِ امت کی ضمانت ہے۔
عصرِ حاضر میں امت کے زوال کے چند اسباب
سورۂ توبہ کی اس مبارک آیت میں بیان کردہ اوصافِ مومن کی روشنی میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج امتِ مسلمہ کا زوال محض خارجی اسباب کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کے بنیادی اسباب دینی، اخلاقی، فکری اور عملی کم زوریاں ہیں۔ جب امت ان قرآنی اوصاف سے دور ہوئی تو اس کے نتیجے میں مختلف نوعیت کے انفرادی اور اجتماعی بحران پیدا ہوئے۔ ان میں خصوصیت کے ساتھ درج ذیل امور قابلِ ذکر ہیں:
- قرآنِ کریم کی تعلیمات سے عملی دوری۔
- سنتِ نبوی ﷺ سے غفلت اور اسوۂ رسول سے بے اعتنائی۔
- نماز، دینی تعلیم اور روحانی تربیت میں کم زوری۔
- فرقہ وارانہ تعصب، باہمی اختلافات اور نفرتوں کا فروغ۔
- اخلاقی انحطاط، جھوٹ، خیانت، رشوت اور بددیانتی کا عام ہونا۔
- نوجوان نسل کی دینی، فکری اور اخلاقی تربیت سے غفلت۔
- وقت، صلاحیتوں اور وسائل کا غیر مفید اور بے مقصد مصروفیات میں ضیاع۔
اصلاحِ امت کا عملی لائحۂ عمل
امتِ مسلمہ کی حقیقی اصلاح کا آغاز اپنی ذات سے ہونا چاہیے، کیوں کہ انفرادی اصلاح ہی اجتماعی اصلاح کی بنیاد ہے۔ اس کے بعد گھر، مسجد، مدرسہ، اسکول، محلہ اور پورے معاشرے تک اصلاح کا دائرہ بتدریج وسیع کیا جائے۔ قرآنِ کریم کی تعلیمات کو عام کیا جائے، نماز کی پابندی کو ایک اجتماعی دینی تحریک کی صورت دی جائے، نوجوانوں کی دینی، فکری اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے، خاندان کو دین، اخلاق اور کردار سازی کا پہلا مرکز بنایا جائے، اختلافات میں اعتدال، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کو علم، حکمت، بصیرت، خیر خواہی اور حسنِ اخلاق کے ساتھ ادا کیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ سورۂ توبہ کی آیت 112 میں بیان کردہ نو صفات ہی اصلاحِ فرد، اصلاحِ خاندان، اصلاحِ معاشرہ اور اصلاحِ امت کا جامع قرآنی منہج ہیں۔ جب یہ صفات مسلمانوں کی عملی زندگی کا حصہ بن جائیں گی تو امت کی وحدت، دینی قوت، اخلاقی استحکام اور اجتماعی سربلندی دوبارہ بحال ہو سکتی ہے۔
اختتامیہ
اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کی ان تمام مبارک صفات کا ذکر فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا:
وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ’’اور مومنوں کو خوش خبری سنا دو۔‘‘
امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بشارت کا تعلق انہی اہلِ ایمان سے ہے جو ان مذکورہ صفات سے آراستہ ہوں۔ گویا گزشتہ آیت میں جس عظیم بشارت کا وعدہ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ کے الفاظ میں فرمایا گیا، اسی کی مزید تاکید یہاں وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ کے ذریعے کی گئی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا، نصرت، دنیا کی عزت اور آخرت کی کامیابی انہی اہلِ ایمان کے لیے ہے جو توبہ، عبادت، حمد، مجاہدۂ نفس، نماز، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور حدودِ الٰہی کی حفاظت کو اپنی زندگی کا شعار بنا لیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ سورۂ توبہ کی یہ ایک ہی آیت ایک کامل مومن کی شخصیت، ایک صالح خاندان، ایک پاکیزہ معاشرہ اور ایک مثالی امت کی تشکیل کا جامع قرآنی منشور پیش کرتی ہے۔ اس میں فرد کی اصلاح، خاندان کی تربیت، معاشرے کی پاکیزگی اور امت کی سربلندی کے بنیادی اصول نہایت جامع انداز میں بیان کر دیے گئے ہیں۔ اگر ان اوصاف کو اخلاص، استقامت اور شعوری طور پر انفرادی و اجتماعی زندگی میں اختیار کر لیا جائے تو امتِ مسلمہ اپنے بہت سے دینی، اخلاقی، فکری اور معاشرتی مسائل پر قابو پا سکتی ہے۔
لہٰذا اگر امتِ مسلمہ اپنے کھوئے ہوئے وقار، اتحاد اور عروج کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے محض جذباتی نعروں، وقتی جوش اور ظاہری دعووں پر اکتفا کرنے کے بجائے اپنی عبادات، اخلاق، معاملات، معاشرت، معیشت اور اجتماعی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق استوار کرنا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی حفاظت کو اپنا دائمی شعار بنانا ہوگا۔ یہی سورۂ توبہ کی آیت 112 کا جامع پیغام، اصلاحِ امت کا قرآنی منہج اور عصرِ حاضر کے مسلمانوں کے لیے ایک متوازن، مؤثر اور قابلِ عمل لائحۂ عمل ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان مبارک صفات کو سمجھنے، ان پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے اور ان کے ذریعے اپنی ذات، اپنے خاندان، اپنے معاشرے اور پوری امت کی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
کتابیات
- امام ابو الحسین مسلم بن حجاج قشیری نیشاپوری،صحیح مسلم،دارالکتب العلمیہ ،بیروت۔طباعت:۲۰۱۱ء
- امام محمد بن عیسی ترمذی ،جامع ترمذی،ناشر:دار الفجرللتراث،قاہرہ،طباعت:۲۰۱۱ء
- امام فخرالدین رازی شافعی،التفسیر الکبیر او مفاتیح الغیب:مکتبہ توفیقیہ،امام الباقر الاخضر،سیدنا الحسین،طباعت:۲۰۰۳ء قاہرہ
- علامہ لیاقت علی رضوی ،حنفی،شرح تفسیر جلالین شبیر برادز،زبیدہ سنٹر، اردوبازار، مارچ ۲۰۱۴ء،لاہور
حاشیہ
[1] – دارالفکر الاسلامی دارالاشاعت،جامعہ آل رسول، خانقاہ قادریہ برکاتیہ ،بڑی سرکار، مارہرہ مطہرہ، یوپی، 9792680525
[2] – امام مسلم بن حجاج ،صحیح مسلم، (بیروت:دار الکتب العلمیہ ،۲۰۱۱ء)کتاب الزہد والرقائق، حدیث: 2999،ص:۱۱۴۴۔
[3] – امام فخرالدین رازی شافعی،التفسیر الکبیر او مفاتیح الغیب،(قاہر:المکتبہ التوفیقیۃ ،۲۰۰۳ء) ص:۱۷۶، جلد ۱۶۔
لیاقت علی رضوی ،تفسیر صباحین اردو شرح تفسیر جلالین،جلد۳،(لاہور: شبیر برادز،زبیدہ سنٹر،اردوبازار،مارچ ۲۰۱۴ء) ص:۲۹۹۔
[4] – صحیح بخاری،رقم :۱۸۹۴۔ صحیح مسلم ،کتاب الصیام،رقم:۱۱۵۱،ص:۴۱۶
[5] – امام فخرالدین رازی شافعی،التفسیر الکبیر او مفاتیح الغیب،(قاہر:المکتبہ التوفیقیۃ ،۲۰۰۳ء) ص:۱۷۷، جلد ۱۶۔
[6] – جامع ترمذی،باب ما جاء في حرمۃ الصلاۃ حدیث: 2616
[7] – امام فخرالدین رازی شافعی،التفسیر الکبیر او مفاتیح الغیب، (قاہر:المکتبہ التوفیقیۃ ،۲۰۰۳ء) ص:۱۷۷، جلد ۱۶۔
[8] – صحیح مسلم، کتاب الامارۃ ،حدیث: 1893۔شاملہ:۴۸۹۹
[9] – صحیح مسلم، کتاب الایمان،حدیث: 49،شاملہ،رقم:۱۷۷
[10] – ملاحظہ ہو: امام فخر الدین رازی، مفاتیح الغیب، تفسیر سورۃ التوبۃ، آیت: 112، ج: 16، ص: 179۔
[11] – صحیح بخاری، حدیث: 52؛ صحیح مسلم، حدیث: 1599
Keywords: Reform of The Ummah, Ethics of Da‘Wah, Qualities of the Caller (Da’i), Causes of DeclineThe Qur’anic Solution

