مجلس مذاکرہ۔ امکانات

دین کے جامع تصور سے متعلق مجلس مذاکرہ میں اہل علم کا اظہار خیال اورامکانات کے لائف ٹائم ممبرز کی خدمت میں اعزازی اسناد کی تقسیم
مورخہ ۴ اکتوبر ۲۰۲۶ء، بروز اتوار، مکتبہ الاحسان، جامعہ عارفیہ، سید سراواں میں ’’مجلس مذاکرہ اور تقسیم اسناد‘‘ کے عنوان سے ایک مکالماتی نشست منعقد ہوئی۔ نشست کی صدارت مخدوم گرامی مولانا حسن سعید صفوی نے کی، جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر مجیب الرحمن علیمی نے انجام دیے۔ نشست میں مختلف ارباب اہل علم و فکر نے شرکت کی اور دین کے جامع تصور، نئی نسل کی فکری تربیت اور موجودہ دور میں دینی کام کی ضرورت و ترجیحات پر گفتگو کی۔یہ مجلس ممبئی سے آئے ہوئے چند مسلم پروفیشنلز کے لیےخصوصی طور پر منعقد کی گئی تھی۔
گفتگو کا آغاز مولانا ضیاء الرحمن علیمی سے ہوا۔ انھوں نے دین کے جامع تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دین محض عبادات کا نام نہیں، بل کہ اس کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ قرآن کریم کی آیت : ’’إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‘‘ دین کی اسی جامعیت کو واضح کرتی ہے۔ دین میں عبادات کے ساتھ معاملات، تعلقات، اخلاقیات اور سماجی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔ اس لیے دین کو زندگی کے کسی ایک گوشے تک محدود کر دینا ، اس کے جامع تصور کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔
مولانا غلام مصطفیٰ ازہری نے نئی نسل کی فکری اور روحانی ضرورتوں کی طرف توجہ دلائی۔ انھوں نے کہا کہ انسان جسم اور روح کا مجموعہ ہے۔ جس طرح جسم کے لیے مناسب اور صحت بخش غذا ضروری ہے، اسی طرح روح کی سیرابی اور فکری نشوونما کے لیے درست، مستند اور معیاری مواد کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نئی نسل کو صرف اپنی بات سنانے کے بجائے اسے سننے اور اس کے سوالات و اعتراضات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس کی صحیح رہ نمائی کی جا سکے۔ اگر اس جانب توجہ نہ دی گئی تو ممکن ہے کہ نئی نسل ہم سے دور ہوتی جائے اور سوشل میڈیا کے ذریعے غیر معیاری اور غیر مستند مواد سے متاثر ہو کر دین سے بھی دوری اختیار کر لے۔
اسی تناظر میں انھوں نے تجویز پیش کی کہ وقتاً فوقتاً آن لائن نشستوں کا اہتمام ہونا چاہیے، جہاں لوگوں کو کھل کر گفتگو کرنے کا موقع ملے، ان کے سوالات سنے جائیں اور دین کے جامع تصور کے حوالے سے سنجیدہ گفت و شنید کی جائے۔ ان کے نزدیک اس طرح کی کوششوں کا مقصد محض معلومات کی فراہمی نہیں، بل کہ دین کو لوگوں کے دلوں میں اتارنا ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر سید قمر الاسلام نےمجلہ امکانات کے تعارف کے ذیل میں مسلم معاشرے کی موجودہ صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر امت کے اجتماعی رویے کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے پیغمبر اکرم ﷺ سے مختلف جہتوں میں اپنی وابستگی قائم کی، لیکن آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کے ساتھ اپنا الگ لیبل وابستہ کر لیا ، جو سراسر ان کے ساتھ بے وفائی ہے۔ انھوں نے کلمۂ توحید کو اس فکر کی بنیادی اساس قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ امکانات اختلافات کو ختم کرنے کا دعویٰ نہیں کرتا، بل کہ کلمۂ توحید کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے اور ٹیبل ٹاک کی فضا ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ باہمی گفتگو اور افہام و تفہیم کے ذریعے مشترک دینی بنیادوں کو مضبوط کیا جا سکے۔
اس کے بعد امکانات کے لائف ٹائم ممبرز ڈاکٹر سیدقمر الاسلام، جناب سید ظفراور جناب عطاء اللہ کی خدمت میں امکانات کے ڈائریکٹر مولانا حسن سعید صفوی کے ہاتھوں اعزازی سرٹیفیکٹ پیش کی گئی۔

Sayed Zafar Ali

Attaullah Shafiullah Khan

Syed Qamrul Islam
بعد ازاں سیشن اوپن ہوگیا، جس میں مختلف شرکا نے اظہار خیال فرمایا۔جناب عطاء اللہ خان نے امکانات کے تصور اور اس کے مقاصد کو مزید واضح کرنے کی گزارش کی۔ اس پر چیف ایڈیٹر ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی نے کہا کہ امکانات فکری انتشار کے اس دور میں، جب ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کا حوصلہ کم ہوتا جا رہا ہے، امکانات اشتراک اور اتحاد کی راہ ہموار کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اگرچہ اس فکر کے پس پشت ایک وسیع تر منصوبہ موجود ہے، تاہم اس کی ابتدا ’’امکانات میگزین‘‘ سے کی گئی ہے۔ اسے دو سال تک تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کے بعد اس کے تجربات اور نتائج کی روشنی میں آئندہ کے مراحل کے بارے میں غور کیا جائے گا۔
سی اے جعفر نے امکانات کو تحریری صورت کے ساتھ ساتھ آن لائن، آڈیو اور ویڈیو کے مختلف ذرائع تک لے جانے کی تجویز پیش کی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایک ایسا آن لائن سیشن شروع کیا جانا چاہیے جس میں ہفتہ وار یا پندرہ روزہ نشست کا اہتمام ہو، تاکہ نئی نسل کے ساتھ براہ راست مکالمہ قائم ہو اور اس کی فکری تربیت کا سلسلہ جاری رہے۔
معاذ بھائی ممرا نے موجودہ نسل کے مطالعاتی رجحانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کی نئی نسل کتابوں کے مقابلے میں سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرتی ہے۔ اس لیے اگر امکانات کے مضامین ویڈیو یا آڈیو کی صورت میں سوشل میڈیا پر دستیاب ہوں تو نئی نسل کے لیے ان سے استفادہ زیادہ آسان ہو جائے گا۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر اس کام کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے کام کا میدان بھی ہے اور وہ اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔
اس موقع پر نسیم صاحب نے ایک اہم سوال اٹھایا کہ دین کے نام پر پہلے ہی متعدد پروجیکٹ کام کر رہے ہیں، تو ایسے میں ’’امکانات‘‘ کی ضرورت کیا ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی نے کہا کہ دین کے نام پر کام تو بہت ہو رہا ہے، لیکن اکثر کوششیں کسی نہ کسی ایک پہلو تک محدود ہو جاتی ہیں۔ کوئی حدیث پر کام کرتا ہے تو فقہ سے صرف نظر کرتا ہے، کوئی فقہ پر کام کرتا ہے تو تصوف کو نظر انداز کرتا ہے۔مزید صرف نظر انداز نہیں، انکار تک عام ہوتا جا رہا ہے۔ امت کے عمومی فکری منظرنامے میں یہ یک رخی کو ہی اصل دین قرار دیا جانا ایک نمایاں مسئلہ بن چکا ہے، ایسے میں امکانات دین کے کسی ایک پہلو کو دوسرے پہلو کی نفی کے ذریعے پیش کرنے کے بجائے تمام دینی جہات سے استفادے کا داعی ہے۔ اس کی تشکیل اور ادارتی بورڈ کی ساخت بھی اسی جامع اور متوازن فکر کی عکاسی کرتی ہے۔ مزید یہ کہ بہت سے دینی و فکری کام کسی ایک فرد یا چند افراد کی سطح تک محدود رہتے ہیں، جب کہ امکانات کسی ایک فرد، ادارے یا گروہ کی مرضی پر قائم نہیں، بل کہ شورائیت کے اصول کو بنیاد بناتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش ہے۔
عدنان صاحب نے اس جانب توجہ دلائی کہ امکانات کے مضامین کے ہندی تراجم بھی شامل کیے جانے چاہیے اور اس سلسلے میں مصنوعی ذہانت (AI) سے مدد لی جا سکتی ہے، تاکہ دینی و فکری مواد کا دائرۂ استفادہ مزید وسیع ہو۔
آخر میں صدر مجلس مولانا حسن سعید صفوی نے صدارتی کلمات اور دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔ صدر موصوف نے فرمایا ہمیں نہ صرف اپنے شیوخ اور اساتذہ کا اکرام کرنا چاہیے، بلکہ ہر اس شخص کا اکرام کرنا چاہیے جو جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو تسلیم کرتا ہو، خواہ وہ ہمارے کسی شیخ یا استاذ کا مخالف ومنکر ہی کیوں نہ ہو۔


اسلام ایک کامل اور مکمل دین ہے۔ یہ ایک آئیڈیالوجی، ایک نظام اور ایک تحریک ہے۔ عموماً یہ کہا جاتا ہے، جیسا کہ اس مضمون سے شروع میں بھی کہا گیا ہے کہ عبادات، معاملات، تعلقات اور اخلاق اس کے مختلف اجزاء ہیں۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ اسلام کے تین نمایاں اجزاء ہیں۔ ایمانیات، عبادات اور اخلاقیات۔ اخلاق معاملات و تعلقات میں دینی احکامات کی پابندی ہی کا نام ہے۔ معاملات و تعلقات کو درست طور پر انجام دینا ہی اخلاق ہے۔