ملٹی ڈسپلنری نظام تعلیم سے مذہبی تشدد میں کمی ممکن ہے

Abstract
Professor Syed Shamimuddin Ahmed Mun’emi—custodian of the “Khanqah Mun’emia” and Head of the Arabic Department, Oriental Collage, Ptliputra University, Patna—is a distinguished scholar who has combined spiritual traditions, academic research, and community engagement since the 1990s. Through thirteen questions, Professor Munimi points to a decline in the etiquette of scholarly dialogue within religious circles, explaining that disagreement rooted in harshness and rejection runs counter to Quranic teachings, which call for addressing even those who have strayed from the right path with gentleness and kindness. He attributes the decline in tolerance and dialogue etiquette among young researchers to shortcomings in education, limited reading habits, and confinement in “echo chambers” and calls for the adoption of a multidisciplinary educational system in Islamic religious institutions. On the concept of ta’wil, he distinguishes legitimate scholarly interpretation grounded in textual necessity from illegitimate reasoning, citing classical scholars including Sheikh Sharfuddin Yahya Maneri. He discusses practical steps toward unity and closes by urging young scholars to direct their energy toward research and writing rather than social-media polemics.
پروفیسر سید شمیم الدین احمدمنعمی کے ساتھ ایک مکالمہ
امکانات –(1)آج دینی حلقوں میں علمی اختلاف بہت جلد ذاتی تنقیص، سخت لہجے اور بدتمیزی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ آپ اس صورت حال کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
منعمی صاحب- آپ نے ایک سچائی کی جانب اشارہ کیا ہے۔ یہ بہت افسوس ناک ہے۔ عام طور پر ناپختہ کار اور نابالغ مزاج میں یہ کیفیت پائی جاتی ہے کہ وہ جلد بازی اور عجلت میں اپنی بات کو پیش کرنا چاہتے ہیں یا جلد غصہ و جلال میں آجاتے ہیں یا پھر فوراً جوش و جذبات میں آکر ناگفتہ بہ بک جاتے ہیں، لیکن دینی حلقہ میں یہ بات یعنی سختی و تندی کا بہت جلد بدتمیزی و تنقیص میں بدل جانا افسوس ناک ہے۔ دین کا بنیادی تقاضہ دعوت دین اور داعی بننا ہے اور اس کے لیے قرآن کریم میں انبیاے کرام سے اللہ رب العزت کا ارشاد موجود ہے:
فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى.
(تم دونوں اس سے نرمی سے بات کہنا ،شاید کہ وہ نصیحت حاصل کرے یا خشیت الٰہی کی دولت پا جائے۔)
جس کا سرکش اور گمراہ ہونا خود رب ذوالجلال بیان کررہا ہے اس سے نرمی کا حکم، توجسے ہم اپنی صوابدید سے گمراہ یا غلط سمجھتے ہیں اس کی تنقیص یا تذلیل کیسے صحیح ہوسکتی ہے۔ یہ بیماری نئی نہیں ہے، لیکن اس زمانہ میں یہ اپنے عروج پر ہے۔ مطالعہ کی کمی، Over confidence اور ہدف و نشانہ کو پانے کی عجلت شاید اس کی وجوہات ہیں۔ دین کی روح ہمیں یہ تعلیم دیتی ہے کہ خشیت الٰہی کا دامن ہاتھ سے چھوٹنانہیں چاہیے۔ ایسے معاملات میں خشیت کے دو تقاضے ہیں:
الف: ہمارا مقصد اگر ان کی اصلاح ہے تو داعی کو خود مرقع خشیت بن کر نعمت خشیت بانٹنے کی نیت کرنی چاہیے۔
ب: اگر ہمارا ان کے بارے میں فیصلہ غلط ہوا تو ہمارا لہجہ و طریقہ عنداللہ عذاب و عاقبت کا سبب ہمارے لیے بنے گا۔
امکانات-(2)آپ کی نظر میں نوجوان علما میں برداشت، حلم اور آداب مکالمہ کی کمی کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟
منعمی صاحب-نوجوان علما میں برداشت، حلم اور آداب مکالمہ کی کمی پائی جا رہی ہے، یہ حقیقت ہے۔ اس کی وجوہات کی جانب بڑھنے سے پہلے یہ عرض کردوں کہ نوجوان علما میں الحمدللہ! ایسے اشخاص بھی نظر آرہے ہیں جو صاحب حلم بھی ہیں، صابر بھی اور آداب مکالمہ میں لائق پیروی بھی۔ ان صفات کی کمی، بعض میں، اپنے اساتذہ سے تلمذاً آئی ہے اور بعض میں وسعت مطالعہ کے فقدان نے جارحیت پیدا کی ہے اور بعض Multi disciplinary ماحول سے نا آشانا ہیں یعنی ایک ہی ماحول ایک ہی فضا میں سانس لینے کی وجہ کر حقیقت کے ایک ہی رخ کو ہمہ جہت سمجھ بیٹھے ہیں۔
امکانات-(3)کیا ہماری دینی درسگاہوں میں ’’آداب اختلاف‘‘ اور ’’اخلاقیات مناظرہ‘‘ کی تعلیم پہلے کے مقابلے میں کم زورہوئی ہے؟ اگر ہاں، تو اس کی اصلاح کیسے ممکن ہے؟
منعمی صاحب- جی درست فرمایا ! ہماری دینی درس گاہوں میں آداب اختلاف اور اخلاقیات مناظرہ کی تعلیم و تربیت پہلے کے مقابلے میں کم زورہوئی ہے۔ کسی ایک کتاب کا پڑھا دینا کافی نہیں ہے۔ صحابہ کرام کے اختلافات کن عناوین پر باہم تھے اور اس اختلاف کے باوجود ان کے باہمی تعلقات کیا تھے، اسے باضابطہ پڑھانے کی ضرورت ہے۔
میں سمجھتا ہوں اس پلیٹ فارم سے اہل بیت علیہم السلام کو بطور خاص نصاب میں شامل کرنا چاہیے۔ اس سے ناموافق حالات میں Survive کرنے کے ساتھ ساتھ مخالف و مخاصم کے ساتھ کس طرح صبر و برداشت اور سب وشتم سے بچتے ہوئے مقابل ہوا جاسکتا ہے، یہ سیکھنے کا موقع ملے گا۔
ایسے سیمینار اور مباحثے کا انعقاد بھی ہونا چاہیے جس میں ایک عنوان پر الگ الگ مطمح نظر رکھنے والے اپنا اپنا موقف اور عندیہ رکھیں۔ اکابر پر سیمینار بھی اس سمت میں ایک مثبت کوشش ہوگی مثلاً : شیخ عبدالحق محدث دہلوی، مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری، خواجہ خواجگان معین الدین چشتی، سلطان المشایخ خواجہ نظام الدین اولیا محبوب الٰہی، مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی، حضرت مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، حضرت شیخ علی متقی برہان پوری وغیرہ پر مختلف مکاتب فکر کے لوگ اپنے اپنے مقالے پڑھیں، اس سے بھی باہمی افہام و تفہیم کی فضا ساز گار ہوگی۔ مشائخ صوفیہ باوجود فرق سلاسل، نصاب عمل الفقراء كنفسٍ واحدةٍ کا عملی مظاہرہ کرنے میں ہنوزکامیاب ہیں۔ لہٰذا ان کا مشربی اختلاف و اتحاد بھی نصاب میں داخل کیا جانا چاہیے۔
امکانات-(4)دین میں تاویل کا مفہوم کیا ہے، یہ محمود ہے یا مذموم؟ اس کے حدود اور دائرے کیا ہیں؟
منعمی صاحب- کسی لفظ، عبارت، تعریف یا تعبیر ،منظر یا واقعہ کے مثبت معنی کا اظہار اور حقیقت کا مشاہدہ تاویل کہلاتا ہے۔ تاویل کا لفظ قرآن کریم میں دو معنی میں ملتا ہے۔جب اخوان حضرت یو سف علیہ السلام اور ان کے والدین نے انہیں سجدہ کیا تو انہوں نے فرمایا: هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ [یوسف:100](یہ تو تاویل (حقیقت تعبیر اور عاقبت) ہے میرے پہلے دیکھے ہوئے خواب کی)
تاویل کی نظیر حدیث میں یہ مشہور روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس (رضي الله عنها) کے بارے میں یہ دعا فرمائی:
اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ.
(یا اللہ اسے دین میں سمجھ دے اور انہیں تاویل/ تفسیر سکھا دے۔)
علما کا ایک طبقہ جو ظاہری معنی کی تاویل پر برہم ہوتا ہے ،ان کے مقابلے اہل سنت کے اکابر کا موقف بہت واضح، مدلل اور برحق ہے۔ جس کی صرف ایک مثال مشتے از خروارے قرآن کریم کا ارشاد ہے:
وَ مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى
(جو اس دنیا میں اندھا تھا وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔)
اگر اس ارشاد کو ظاہری معنی پر محمول کیا جائے تو اس دنیا میں ظاہری بینائی سے محروم رہنے والوں کا کیا قصور ہے کہ اس کے نتیجے میں وہ آخرت میں بھی نابینا ہوں۔ ظاہر ہے اس کی تاویل نور نبوت، حقانیت وحی کو نہیں دیکھ پانے والے دل کے اندھے، گمراہ، ابنیا و وحی کےمنکرین مراد ہیں۔ اور یہی تاویل ہے۔
علماے اہل سنت کسی معنی ظاہر کی ضرورتاً ایسی تعبیر و تشریح، حقیقت و مراد کے اظہار کو تاویل کہتے ہیں جس کے بغیر کوئی گمراہ ہو رہا ہو یا گمراہ کیا جارہا ہو۔ یہ واضح رہے کہ تاویل کسی حقیقت کو جملہ حقائق کے تناظر میں دیکھنا ہے۔
تاریخ اسلامی کے ہر دور میں ’’تاویل‘‘ محمود رہی ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ دور اول میں تاویل نہیں تھی تو اسے قرآن کریم کی اس آیت کو پیش نظر رکھنا چاہیے جس میں ارشاد ہوتا ہے۔
وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ.
خود بعض صحابہ نے اس کے ظاہر معنی مراد لیے اور اس کی مراد یا تاویل کو خود رسالت مآب ﷺ نے واضح فرمایا۔ اس سے بالکل واضح ہے کہ مراد یا تاویل یا حقیقت تک پہنچانا خود ذات رسالت مآب کی سنت ہے اور ان کی نیابت میں علما کا یہ فرض منصبی ہے۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ تاویل کی نیت اور ضرورت مقصود کی طرف پلٹانا ہو، محمود اور مقصود سے بھٹکانا نہ ہو۔حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری (م782ھ) فرماتے ہیں:
خواص کو چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہو علما کے اقوال کے درمیان جمع و تطبیق کریں تاکہ تمام اقوال پر بری الذمہ ہو سکیں اور کل ان کے خلاف کوئی حجت لازم نہ آئے، بلکہ ان کے لیے حجت ہو۔
(کنزالمعانی،ص:167)
امکانات-(5)علما کے درمیان باہمی احترام، مکالمہ، تعاون اور اتحاد عمل کو فروغ دینے کے لیے آپ کون سے عملی اقدامات تجویز کریں گے؟
منعمی صاحب- علما کے درمیان باہمی احترام، مکالمہ، تعاون اور اتحاد کے جائزے کا ماحصل یہ ہے کہ دوالگ الگ مکاتب فکر کے علماتو دور، ایک مکتب فکر کے علما بھی باہمی احترام، مکالمہ، تعاون اور اتحاد عمل سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں عوام کو بھی ان خوبیوں کا سبق دینے کا جواز روز بروز گھٹتا جا رہا ہے۔
یہ بات یقینی ہے کہ ہمارے پاس ایسے common issues بڑی تعداد میں ہیں، بلکہ روز پیدا ہو رہے ہیں جن کے اثرات تمام مکاتب پر یکساں پڑ رہے ہیں۔ مثلاً: مدرسہ بورڈ کے مسائل کا سیدھا اثر ہر مکاتب فکر کے اساتذہ و مدارس اور نتیجتاً طلبہپر یکساں پڑ رہا ہے۔ اس حوالہ سے دو الگ الگ مکاتب فکر کے ذی علم افراد جب اکٹھے ہوتے ہیں تو نہ صرف متحدہ آواز کا فائدہ مرتب ہوتا ہے ،بلکہ آپس میں باہمی تعاون کا مادہ بھی پیدا ہوتا ہے۔
میں نے بیسیوں سال اس حوالہ سے کوشش کی ہے۔ پٹنہ شہر میں سیکڑوں مساجد، درجنوں خانقاہیں پچاسوں مدارس موجود ہیں، سبھی رمضان کے موقعہ پر اپنا اشتہار شائع کرتے ہیں جس میں اوقات افطار و سحر کا چارٹ بھی شامل ہوتاہے۔ جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ ایک شہر میں اوقات افطار و سحر میں حیران کن اختلاف ہے۔ جب کہ طلوع آفتاب و غروب ماہتاب کے اوقات کا تعلق کسی مسلکی حد کا پابند نہیں ہے۔ چناں چہ الگ الگ اوقات کو مرتب کرنے کے بجائے اگر متفقہ طور پر ایک ساتھ بیٹھ کر تمام مکاتب فکر کے لوگ اس پر غور کریں تو کچھ بات بن سکتی ہے۔ چناں چہ ایک رضا کار ملی و ادبی تنظیم ’’سلسلہ‘‘ نے جس کا صدر دفتر خانقاہ منعمیہ ہے، یہ کوشش کی اور تمام مکاتب فکر کے اہم علما ایک ساتھ بیٹے تو یہ محسوس ہوا کہ کمی صرف مکالمہ کی تھی۔ باہم مکالمہ اور غور و فکر نے طلوع و غروب کے اوقات سے افطار و سحر کو متفقہ متعین کرنے میں گراں بہا کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک المیہ ہے کہ چند برسوں سے یہ مبارک سلسلہ پھر سے ایک بار مسلکی غبار کا شکار ہوکر منزل سے دور ہوگیا۔
امکانات-(6)آخر کون سی وجوہات ہو سکتی ہیں کہ آج اصاغر اکابر کے محتسب بن گۓ؟
جواب- اصاغر کا اکابر کے لیے محتسب ہونے کی صحیح ترجمانی اکبرؔ الہہ آبادی نے کی ہے۔
ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں
کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
ہر اہل دانش کا ذاتی تجربہ ہے کہ مطالعہ اور تجربہ کی قلت جس چیز کو حرف غلط سمجھاتی ہے وہی چیز مطالعہ اور تجربہ کی وسعت کے بعد درست وصحیح سمجھ میں آتی ہے۔ فارسی میں مشہور ہے: ’’خطاے بزرگان گرفتن خطاست‘‘۔ اصل مسئلہ اظہار نقد و احتساب کا ہے۔ اگر کوئی نقد و بتصرہ، تجزیہ و احتساب احسن لب و لہجے میں کیا جاتا ہے جس میں عاجزی و انکساری اور تواضع کے ساتھ دعوت احتساب ہو تو یہ کبھی بھی معیوب نہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب احتساب کے عنوان سے ناشائستگی، بے ادبی اور استہزا کا مظاہرہ ہوتا ہے۔
حاصل کلام یہ کہ وہ احتساب، جس کی نیت کسی کو ذلیل و رسوا کرنا ہو وہ مذموم ہے اور وہ احتساب جس میں اپنی عاقبت و آخرت سنوار نے اور جس کا احتساب کیا جا رہا ہو اس کی خیر خواہی مطلوب ہو تو محمود۔
امکانات- (7) کیا اختلاف کے نام پر کسی عالم کی نیت، کردار یا عقیدے پر حملہ کرنا درست طرزِ عمل ہے؟ اس کی شرعی، اخلاقی اور علمی حدود کیا ہیں؟
منعمی صاحب– اختلاف کے نام پر کسی عالم کی نیت، کردار یا عقیدے پر حملہ کرنا نہ تو اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ شرعی طور پر۔ نیت قلبی ارادے کا نام ہے اور علیم بذات الصد ور صرف اور صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے۔
اختلاف کے نتیجے میں کردار کشی یا عقائد پر حملہ آور ہونا ناقد کی قلاشی کی دلیل ہے۔ اس کی شرعی، اخلاقی اور علمی حدود یہ ہیں کہ زیر بحث یا زیر نقد بات تک بحث کو مرکوز رکھا جائے اور بحث کو عام کرتے ہوئے اس کی ذات، عقائد اور کردار کو نشانہ بنانے سے پرہیز کیا جائے۔مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری (782ھ) سے سوال ہوا کہ کیا حنفی المذہب کے لیے امام شافعی پر طعن کرنا روا ہے؟حضرت مخدوم جہاں نے فرمایا:
’’ہرگز درست نہیں ہے، اس لیے کہ وہ بھی مجتہد اور بزرگ تھے۔ کسی موقع اور محل اجتہاد پر جیسا اجتہاد ان سے واقع ہوا اس کا اظہار بھی ان پر واجب تھا اور وہی ان سے ظاہر ہوا۔ لہٰذا اگر بعض مسائل اجتہاد یہ میں ان کے اجتہاد کو بعض مجتہدین خطا پر محمول کرتے ہیں تو یہ ان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ لہٰذا ان پر طعن کرنا رو ا نہیں ہے۔
ہر دو ہمزاد راہ دین بودند
ہر دو ہم کاسۂ یقین بودند
آن یکی آفتاب محفل و صدر
وان دگر ہمچو بدر در شب قدر
آن بحجت گرفتہ سرمایہ
واین ز سنت بہ بستہ پیرایہ
ہمہ نیکند بی حکومت تو
تو بدی و آن سگ خصومت تو
(دونوں دین کی راہ میں ایک دوسرے کے رفیق تھے، ایمان اور یقین میں ہم پیالہ اور ہم نوالہ تھے، ان میں ایک صدر محفل اور شمع انجمن تو دوسرے شب قدر میں چودھویں کے چاند کی مانند، ایک نے حجت ودلیل کے ساتھ فقہ و فہم کا سرمایہ پیش کیا اور ایک نے پیرائے کوسنت سے آراستہ کیا۔ سب نیک اور درست ہیں، تمہارے فیصلے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہاری برائی تمہاری خصومت کی وجہ سے ہے۔)
اس کے بعد حضرت نے فرمایا کہ اگر کوئی طعن کرے تو امام اعظم طعن کریں، اس لیے کہ انہیں ایک دوسرے کو کہنے اور سننے کا حق پہنچتا ہے۔ لیکن نیچے والوں کو یہ حق نہیں ہے کہ اپنے سے اوپر والوں کو کچھ کہیں۔ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْهُ ‘‘(گنج لایفنیٰ، ص:358،359)
امکانات-(8)نو جوان علما اپنی صلاحیتیں سوشل میڈیا کے تنازعات اور مناظرانہ ماحول کے بجائے تحقیق، تصنیف، تدریس اور امت کی علمی خدمت میں صرف کریں، اس سلسلے میں آپ انہیں کیا نصیحت کریں گے؟
منعمی صاحب-نواجوان علما اگر اپنی صلاحیتیں سوشل میڈیا کے تناز عات اور مناظرانہ ماحول میں صرف کرتے ہیں تو انہیں اس کا احتساب کرنا چاہیے کہ اس میں جس قدر وقت صرف ہوا، اس سے مطالعہ کتب ضروریہ سے دوری ہوئی یا نزدیکی؟ اس محاسبہ کے نتیجے میں یہ اتفاقی نتیجہ سامنے آئے گا کہ یقیناً سوشل میڈیا کی مشغولیت، سنجیدہ مطالعہ، تحقیق و تدقیق اور اکابر محققین کی آرا کی تلاش میں برکت کے بجائے نقص کا سبب بن رہی ہے۔ دوسرے یہ کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ذاتی تحقیق سے دور لیجاتا ہے۔ ذاتی لیا قتوں کا بلوغ سوشل میڈیا کے کثرت استعمال سے نقصان پذیر ہو رہا ہے۔ نوجوان علما کو پوری سنجیدگی کے ساتھ پسندیدہ شعبۂ علم کے سمندر میں غوطہ لگانا چاہیے اور غواصی کے نئے ریکارڈ قائم کرنے چاہیں اور قبل کے غواص کے حال و مزاج کو اچھی طرح جاننا چاہیے۔ جس قدر حصول علم و فہم، تحقیق و تدقیق کی دنیا روشن ہوگی اسی قدر علم و فضل منور و تاباں ہوگا۔
امکانات – (9)اگر کسی عالم کی کسی تعبیر، رائے یا استدلال سے اختلاف ہو تو شریعت، اکابرِ امت اور علمی روایت ہمیں اس اختلاف کو پیش کرنے کا کیا طریقہ سکھاتی ہے؟
منعمی صاحب-علما کے درمیان مکالمہ، تعاون، اتحاد عمل کی کوشش کو علمی اور اکیڈمک حوالوں سے ممکن بنانے کی ہر ممکنہ کوشش ہی نہیں، بلکہ کوششیں ہوتی رہنی چاہیے اور اسی سے باہمی احترام اور شدت میں کمی کے نشانے کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔کسی ایک ہی انداز فکر کوسننے یا پڑھتے رہنے سے قاری اسی موضوع کے دوسرے گوشوں سے لا علم رہتا ہے اور تمام گوشوں اور مثبت و منفی پہلوؤں سے ناواقفیت عالم نہیں، جاہل بناتی ہے۔ اس کے مقابلے اگر کسی موضوع پر آپ مخالف کے نظریے یا دلائل سے بھی واقف ہیں تو آپ اس کا بہتر جواب دے پاتے ہیں یا پھر آپ کے لب و لہجے میں متانت و سنجیدگی اور باہمی احترام کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔
امکانات –(10)نوجوان علما خود کو سماج اور دعوت کے لیے مفید کیسے بنائیں؟
منعمی صاحب-نوجوان علما خود کو سماج اور دعوت کے لیے سازگار بنانے کی سمت ضرور بالضرور قدم بڑھائیں ۔تاریخ میں قدما کے واقعات، ان کی عظمتیں اپنی جگہ مسلم ہیں، لیکن جب تک ان سے موجودہ سماجی معاشی، سیاسی اور علمی تقاضوں کو پورا کرنے اور معاصر مسائل کا مقابلہ کرنے کی قابلیت اور صلاحیت پیدا نہیں ہوتی، ان کے ذکر کو ہم مفید بنانے میں چوک رہے ہوتے ہیں۔
نوجوان علما کو تازہ رسائل و جرائد کا مطالعہ پابندی سے کرنا چاہیے ان کی نظر News کے ساتھ ساتھ Views پر بھی ہونی چاہیے۔ اگر کسی کا رد کرنا ہو تو لب و لہجے کے معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے مخالف کا رخ یا اس کے دلائل سے بھی کما حقہ واقف ہونا چاہیے۔ سماج کے ہر طبقے اور ہر سن و سال کے مسائل پر نظر نہیں ہوگی تو ان کی تحریر و تقریر دورازکار اور غیر مفید ہوگی۔
’’علم‘‘ قیادت کی صفت رکھتا ہے۔ علما قیادت کے لیے موزوں اور مناسب ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر وہ اپنے سماج کی ضرورت کو نہیں سمجھیں گے تو اس کاحل اور اس مسئلہ میں قیادت کا فرض منصبی ادا کرنے سے قاصر رہ جائیں گے۔ سماج میں ہر سن وسال، رنگ و نسل، عقل و فہم کے لوگ ہوتے ہیں اور جب ان کا قائد سب کو لے کر چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو وہ سماج کو منتشر یا تباہ کر دے گا یا پھر اپنی قیادت کو داغدار۔ علما کا لب و لہجہ، اسلوب بیان اور بحیثیت عالم ان کا کردار بھی سماج کو دعوت کے لیے سازگار بنانے میں کلیدی رول ادا کرتاہے۔ داعی جہاں ایک طرف نیک صالح اور ایمانداری کا پرتو ہوتا ہے، وہیں دوسری طرف توسع، تواضع، دانش وری اور بالغ شعور و فکر کا خوگر بھی ہوتا ہے۔
امکانات-(11)عام مسلمانوں کو جب علما کے درمیان اختلاف نظر آئے تو انہیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے، تاکہ نہ وہ کسی کی بے ادبی کریں اور نہ فتنہ و انتشار کا حصہ بنیں؟
منعمی صاحب-جب علما کے درمیان اختلاف نظر آئےاس وقت عام مسلمانوں کو بہت محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہیں اپنے عقائد و نظریات اور اپنے اکابر کا متبع رہتے ہوئے مخالف کی اہانت، تذلیل اور ہرزہ سرائی سے اپنے دامن کو پاک رکھنا چاہیے۔ عموماً عوام کا جذباتی اشتعال کسی سنجیدہ اختلافی عنوان کو بازاری، غیر علمی اور بڑے نقصان و زیاں کا سبب بنا دیتا ہے۔ عوام کو اپنے قائد یا کسی ایک فریق کی حمایت مخلصانہ تو کرنی چاہیے، لیکن نفسانیت سے بچنا چاہیے۔
امکانات-(12) اگر مشایخ کی صحبت نہ ملنے کے سبب نوجوان علما میں تشدد اور بد اخلاقی کا فروغ ہوا ہے تو پھر ان علما کی بدزبانیوں کو کس خانے میں رکھا جائے جن کا اوڑھنا بچھونا ہی کسی خانقاہ میں ہے؟
منعمی صاحب-یقیناً مشایخ کی صحبت عادات و اطوار، جبلت و خصلت میں انقلاب کا باعث بنتی ہے۔ ’’صحبت صالح ترا صالح کند‘‘۔
اگر اوڑھنا بچھونا خانقاہ میں ہو، لیکن روش میں تبدیلی نہ ہو تو اس کے مطلب انہوں نے خانقاہ کو اسٹیشن سمجھ رکھا ہے اور مع ساز و سامان صرف اپنی مرضی کی گاڑی کے انتظار میں ہیں۔ ایسے لوگ گیلی لکڑی کے مانند ہیں۔ یہ نہ خود جل سکتے ہیں اور نہ ہی ان سے چولہا جل سکتا ہے۔ ایک خانقاہ عالم پناہ کا ذکر کر کے اس جواب کو مکمل کرتا ہوں کہ ایک بار حضرت مولانا مظفر بلخی کو بہار کے علما کے ساتھ بحث کا اتفاق ہوا۔
آپ فرماتے تھے کہ مسموع یعنی جو کچھ سننے میں آتا ہے اور مقروء یعنی جو کچھ پڑھا جاتا ہے اور مکتوب یعنی جو کچھ لکھا جاتا ہے اور محفوظ یعنی جو کچھ دلوں میں یاد ہے، درحقیقت وہی کلام نفسی ہے، بغیر حلول کے، اور وہ لوگ کہتے تھے کہ یہ کلام نفسی نہیں ہے، بلکہ کلام نفسی پر دال ہے۔ جب بہت مجادلہ ہوا آپ نے فرمایا کہ تم لوگ کیا سمجھو گے تمہارے استادوں نے نہیں سمجھا ہے۔ یہ بات ان لوگوں کو گراں گزری ،محضر کیا اور مخدوم شیخ مظفر بلخی نے بھی ایک رسالہ لکھا، اس میں دلائل منقول اور معقول بہت لائے ،صبح کو مخدوم جہاں کے حضور میں لےکر آئے، عرض کیا کہ متعلمان بہار نے محضر کیا ہے ،اگر حکم ہو تو جاؤں اور جواب دوں۔ حضرت مخدوم جہاں نے اس رسالہ کو ملاحظہ فرمایا ،ناخوش ہوکر اس رسالہ کو پارہ پارہ کیا اور فرمایا: مولانا! تم میرے پاس مسلمان ہونے کو آئے ہو یا بحث کرنے کو، یہ جو تم نے لکھا ہے، بارے کون سمجھے گا۔ یہ لوگ تو جامد الطبع ہیں۔ جب دیر ہوئی، دو طالب علم مخدوم بلخی کے بلانے کو آپ کے یہاں آئے۔ وہاں سناکہ آپ مخدوم جہاں کے یہاں گئے ہیں۔ یہاں آئے اور شرط آداب بجالا کر بیٹھ گئے۔ حضرت مخدوم جہاں نےفرمایا: ایک تو خود سمجھتے نہیں اور اس پر دوسروں کے ساتھ بحث کرتے ہیں۔ طالب علموں نے جب یہ سنا سمجھا کہ حضرت مخدوم جہاں حضرت مولانا مظفر کے موافق ہیں، پھر گئے۔ جب وہ لوگ دہلی گئے، وہاں کے علمانے وہی باتیں ثابت کیں جو مخدوم بلخی فرماتے تھے۔(وسیلۂ شرف، ص:89،90)
امکانات –(13)امکانات جو ایک آن لائن فکری، تحقیقی اور مکالماتی پلیٹ فارم ہے، قومی و ملی مفاد عامہ کے لیے اس پر صحت مندبین المذاہب و بین المسالک مکالمہ جاری رہے، اس سلسلے میں آپ کے پیغامات اور نصیحتیں کیا ہیں؟
منعمی صاحب-موجودہ انتشار و افتراق، فتنہ و فساد اور تشدد و زیادتی کے ماحول میں مسائل کو مکالماتی پلیٹ فارم تک پہنچانا ہم لوگوں کی اور جملہ اہل شعور اورمخلصین کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔ السعي منّا والإتمام من اللهکے تحت ہم اگر مذہبی یا مسلکی منافرت و مخاصمت کو ختم نہیں کرپا رہے تو اسے ایک مکالماتی نقطہ تک لادینا بھی ہماری بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ قرآن کریم میں ایمان والوں کی صفت یہ بیان کی گئی ہے۔
وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ.
Debate کے فائدے بے شمار ہیں۔ اکثر متشدد آمنے سامنے گفتگو کرنے سے راہ فرار اختیار کرتے ہیں جب کہ مکالمات منکر کو بھی قائل کرانے کا سب سے عمدہ ذریعہ ہیں۔
جن امکانات کو پیش نظر رکھ کر امکانات کا سورج طلوع ہو رہا ہے وہ یقیناً مبارک ومسعود ہیں، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ یہ ایک مثبت اور ضروری کاوش ہے جس کا ہر وہ شخص استقبال کرے گا جو معاشرے کے انتشار سے دکھی اور پریشان ہے۔ امکانات ایک گول مینر کانفرنس ہے جو فریقین کے درمیان باہمی رنج و ملال، شکوہ و شکایت اور درد و غم کو مل بانٹنے کا ایک اہم نقطۂ اتصال ہے جسے ہم فال نیک سمجھتے ہیں۔
Keywords: Islamic Scholarship, Ta’wil (Interpretation), Scholarly Etiquette, Youth Ulama, Khanqah Tradition, Sectarian Dialogue

