|

جنوبی ایشیاکی دلت اقوام اور معاصر ہندوستان:چند نکات

احمد جاوید([1])

Abstract

The history of caste based discrimination, the prejudices and conflicts in India is very long and widespread. It is not a mere coincidence that even in this democratic era, the ‘struggle’ of the Dalit communities continues and the youth who are leading it come from the traditionally depressed and persecuted castes.
The history of the untouchables in India dates back to at least 400 AD, but its roots can be seen in the social conflicts even earlier, when the rational people who opposed ostentation and rituals was persecuted, the Manusmriti (185 BC) compiled by Sumati Bhargava was implemented, reason and logic were declared as anti-religion and the irreligionists (vidharmis) were excluded from society (Bahishkrat).
The Hindu social system created the classes in the form of untouchables and tribals, if Hindu civilization is considered the creator of these classes, it would be more appropriate to call it not a “civilization” but a “conspiracy”. Discrimination and exclusion against them is found throughout South Asia and even among South Asian immigrants.

(الف) تعریف،تعارف اور پس منظر

’’دلت‘‘ ان لوگوں کے لیے ایک خود اختیار ی اصطلاح ہے جنہیں پہلے ’’اچھوت‘‘  کہا جاتا تھا اور جو ہندوجاتیوں کی روایتی درجہ بندی(ورنوں) سے باہر سمجھے جاتے تھے۔ماہرِ معاشیات، قانون داں، سماجی مصلح اور آئینِ ہند کے مرتب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے مطابق ہندوستانی معاشرے میں چھوا چھوت بدھ مت اور برہمن واد (ہندو دھرم) کے درمیان کشمکش کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔

میڈیاکا بعض حصہ اور کچھ ہندوتونوازمصنفین یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ملک میں یہ لعنت (چھوا چھوت/اچھوت پن) صرف بارہ سے تیرہ سو سال پہلے آئی تاکہ اس کا الزام قرونِ وسطیٰ کے حکمرانوں اور  ان کے ہم مذہب لوگوں پر ڈالا جا سکے ، حالاں کہ تاریخی شواہد اس دعوے کی تائیدنہیں کرتے۔ ڈاکٹربھیم راوامبیڈکر کی تحریریں اور تقریریں اس موضوع پر بہت اہم دستاویز  ہیں۔ ان کی تحقیق کے مطابق ہندوستان میں چھوا چھوت کم از کم چار سو عیسوی سے موجود ہے، بلکہ اس کی جڑیں اس سے بھی پہلے کے ان تنازعات میں ملتی ہیں جب رسوم و رواج مخالف عقلیت پسند لوگوں پر مذہبی طبقہ نے سختیاں کیں، مگدھ کی موریہ سلطنت کی عظمتوں کو تباہ کر کے شُنگ سلطنت(۷۳۔۱۸۵ق م ) قائم کی، سُومتی بھارگَو نام کے ایک برہمن کی مرتب کردہ سنہتا(قوانین وضوابط) ’’منوسمرتی‘‘ نافذ کی اور عقل ومنطق کو بددینی اوربددینوں یا ودھرمیوں کو سماج سے خارج قرار دیا گیا۔ امبیڈکر اپنے مشہور’’کولمبیاریسرچ پیپر‘‘میں لکھتے ہیں:

’’ میں منو پرزیادہ سخت لگ سکتا ہوں لیکن مجھے یقین ہے کہ میری طاقت اتنی مضبوط  نہیں ہے کہ اس کے بھوت کو مار سکے۔ وہ شیطان کی طرح زندہ ہے ، سرایت کیا ہوا ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ وہ طویل عرصہ تک زندہ رہے گا۔‘‘([2])

’’راشٹروادی مؤرخین‘‘ کا ایک گروہ بڑی چالاکی اور ڈھٹائی سے یہ دلیل دیتا ہے کہ ویدک ادب اور ’’برہمن گرنتھوں‘‘ میں اچھوتوں کا ذکر نہیں ملتااور ڈاکٹر امبیڈکر نے بھی یہ مانا ہے کہ منوسمرتی میں ’’شودر‘‘ اچھوت نہیں ہیں، لیکن وہ اس تلخ حقیقت کو گول کرجاتے ہیں کہ منوسمرتی میں برہمن، کشتری، ویش اور شودر آریوں کے چار ورن  ہیں، جب کہ غیر آریوں اور مہجورو مقہور اقوام کو منو سمرتی نے ان ورنوں سے باہر رکھا اور ان کے بائیکاٹ کا سخت غیر انسانی ضابطہ دیا۔حد تو یہ ہے کہ جن برہمنوں نے اچھوتوں سے ہمدردی کا اظہار کیا، انہیں بھی اونچی ذاتوں کی صف سے معزول کرکےنچلی ذات میں پہنچا دیا گیا۔ اکناتھ ایک ایسے ہی برہمن تھے جنہوں نے بھگتی تحریک کے دور میں اچھوتوں کے حقوق کی بات کی اور غالباً سب سے پہلےان کے لیے’’اچھوت‘‘ کا لفظ استعمال کیاجب کہ ’’وہ بھی ورن نظام کے  مخالف نہیں تھے‘‘۔([3])

انیسویں صدی کی آٹھویں دہائی کے آخر میں جیوتی راؤ پھولے (1827–1890) نے ہندو سماج میں ظلم و استبداد کا شکار اور دبے کچلے لوگوں کے لیے مراٹھی لفظ ’’دلت‘‘ کااستعمال کیا ۔پھرہنٹرکمیشن(۱۸۸۲ء)کی رپورٹ میں اس کا متبادل ’’Depressed Class‘‘ استعمال کیا گیاتھا ۔دلت لفظ کا استعمال مردم شماری میں دلت طبقات (Depressed Classes) کی پہلی درجہ بندی (1935ء)کے ترجمےمیں بھی کیا گیا ، لیکن یہ اصطلاح ڈاکٹر امبیڈکر کے اختیار کرنے کے بعد زیادہ رائج اور مقبول ہوئی جنھوں نے دلت کی تعریف میں صرف ایک ذات یا نسل نہیں، بلکہ ہر اس مظلوم اور دبے کچلےانسان  کو شامل کیا، جس کوخاص طور پر ہندو دھرم کے چار ورنوں والے نظام سے باہر رکھا گیا تھا اور جو خود کو ’’پنچم‘‘ قرار دیتے تھے یا جن کوگیارہویں صدی کے ممتاز مؤرخ اور ماہرِ عمرانیات ابو ریحان البیرونی نے اپنے معاصر برہمنوں کی زبان میں ’’انتیاج‘‘ لکھا ہے۔اس لحاظ سے  شورد چوتھا ورن ہیں جن کی اکثر ذاتیں آج پچھڑی اور انتہائی پچھڑی ذاتوں کی فہرست میں شامل ہیں اور ان میں سے بعض درج فہرست ذاتوں میں شامل کیے جانے کا مطالبہ کرتی رہتی ہیں، جب کہ دلت پانچواں بلکہ سماج کا اخراج شدہ طبقہ ہیں۔جنوبی ہندوستان میں دلتوں کو ’’آدی دراوڑ‘‘، ’’آدی کرناٹ‘‘ اور ’’آدی آندھر‘‘ بھی کہا جاتا ہے، جن کے لغوی معنی بالترتیب قدیم دراوڑ، قدیم کرناٹ اور قدیم آندھر کے ہیں۔ان الفاظ کا استعمال پہلی مرتبہ 1917ء میں جنوبی ہند کے دلت رہ نماؤں نے کیا، جو یہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کے اصل باشندے وہی ہیں۔

 دلت بنام ہریجن

گاندھی جی نے دلتوں کی شناخت کے لیے پہلی مرتبہ 1933ء میں ’’ہریجن‘‘ کا لفظ استعمال کیا، جو آج ایک نا موزوں ، نامناسب اور ناقابلِ قبول اصطلاح مانی جاتی ہے۔اصل میں ’’ہریجن‘‘ کا لفظ گجراتی بھکتی روایت کے سنت شاعر’’نرسنہ مہتا‘‘ نے کرشن کے بھکتوں کے لیے وضع کیا تھا، لیکن مہتا سے متاثر گاندھی جی نے اسے ایک نیامفہوم دے دیا۔

ذات اور فرقہ کے مسئلے پر گاندھی جی کی ڈاکٹر بھیم راوامبیڈکر اور محمد علی جناح کے ساتھ کئی دہائیوں تک  بحث ہوتی رہی۔ڈاکٹردھننجے کیر جیسے ذی علم مبصر، تاریخ داں اور سوانح نگار نے اپنی کتابوں بالخصوص ’’مہاتماگاندھی: پولٹیشین سنت انارمڈ پروفٹ‘‘ اور’’ڈاکٹربابا صاحب امبیڈکر: لائف اینڈمشن‘‘ میں یہ نوٹ کیا ہے کہ ’’روحانیت پسند گاندھی کا مقدس رویہ بھی کس طرح مسئلے کا حصہ تھا۔‘‘

سینٹر فار پالیسی ریسرچ ، نئی دہلی کے  سینئرفیلواور یونیورسٹی آف پنسلوانیا(امریکہ)میں سینٹرفار اڈوانس سٹڈی آف انڈیا(سی اے ایس آئی) کے وزیٹنگ اسکالرڈاکٹر ڈی شیام بابو اس تعلق سے لکھتے ہیں کہ ’’ذات پات، چھوا چھوت اور ہندو سماج کے بارے میں گاندھی جی کے خیالات اور ڈاکٹر امبیڈکر کے ساتھ ان کی بحثیں عالم آشکار ہیں۔‘‘ اور ’’یہ جاننے کے لیے ایک زیادہ معقول نکتہ یہ ہے کہ مساوات اور انصاف کے لیے دلتوں کی جدو جہد میں گاندھی اب کتنے بامعنی ہیں؟ مختصر جواب ہے’’زیادہ نہیں‘‘۔

وہ یہ نشان دہی بھی کرتے ہیں کہ ’’یہ نتیجہ اخذ کیا جانا ایک بات ہے کہ گاندھی جی کے افکار میں دلتوں کے مستقبل کے لیے کوئی واضح منصوبہ نہیں ہےاور یہ الزام  لگاناکہ انہوں نے ان کی حالت بہتر بنانے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا، بالکل دوسری بات ہے ۔‘‘ ان کی  رائے ہے کہ’’ جنوبی افریقہ میں اپنے قیام کے دوران اور ہندوستان واپس آنے کے بعد بھی گاندھی جی نے خود کو ہندوستانیوں کا نمائندہ بنا کر پیش کیا، حالاں کہ اس وقت ’’ہندوستانی‘‘  کوئی متفقہ قومی شناخت موجود ہی نہیں تھی۔جوں جوں آزادی کی تحریک میں ان کا کردار بڑھتا گیا، ان کی سیاست بھی برطانوی حکومت کے اندر محدود ’’سوراج‘‘ کے مطالبے سے مکمل آزادی کے مطالبے تک پہنچ گئی۔

 گاندھی جی شروع سے آخر تک یہی سمجھتے رہے کہ ہندوستانی ایک قوم ہیں اور وہی ان کے واحد رہ نما ہیں۔ ہندوستانیوں کی ایکتاان کے جذبات وتصورات میں ایک حقیقت رہی ہوگی ،لیکن وہ ایکتاواقعتاً موجود نہیں تھی۔ مسلم اور دلت جیسے گروپ جب اپنی الگ شناخت اور سیاسی حقوق کا مطالبہ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو گاندھی  جی اور دوسرے قوم پرست رہ نماؤں نے انہیں انگریزوں کا آلہ کارقرار دے کر مسترد کر دیا۔‘‘([4])

المیہ تویہ ہے کہ آج ان ہی گاندھی جی کو تقسیمِ ہند کے لیے موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے اور ایسا کرنے والوں کو اس کاذرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ اگر آج ہندوستان اور ہندوستانیوں میں کسی درجے کی وحدت باقی ہے تو وہ گاندھی جی اور ان کے ساتھیوں،معاصرین اور متبعین  کی کوششوں  کا نتیجہ ہے، حالاں کہ آج ان کے افکار سے انحراف کرکے اس ایکتا کو کم زورکیا جا رہا ہے،بلکہ ڈاکٹر امبیڈکر اور گاندھی جی دونوں کے نظریات  خطرے میں ہیں۔

آزادیِ ہند سے چند ہفتے قبل پنڈت جواہر لعل نہرو نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو اپنی نئی کابینہ میں وزیرِ قانون کی حیثیت سے شامل ہونے کی دعوت دی حالاں کہ کابینہ کے بیشتر ارکان کے برعکس نہ تو وہ کانگریس کے رکن تھے اور نہ ہی ان اقدار سے اتفاق رکھتے تھے جن پر نہرو اور تحریکِ آزادی کے دوسرے سرکردہ رہ نماؤں کا ایمان تھا۔ امبیڈکر نہرو کی پہلی پسند نہ تھے، بلکہ یہ گاندھی جی اور کسی حدتک سردار پٹل تھے جن کا یہ خیال تھا کہ آزادی ہندوستان کو ملی ہے، صرف کانگریس کو نہیں،اس لیے مختلف سیاسی رجحانات کی ممتاز شخصیتوں خصوصاً ڈاکٹر امبیڈکر کو حکومت کی قیادت اورتشکیل میں شامل کیا جانا چاہیے۔اسی بنا پر ’’ کانگریس کے ذریعے ان تیس ممتاز شخصیتوں کو آئین ساز اسمبلی کے لیے منتخب کرایا گیا جو کانگریس کے رکن نہیں تھے۔‘‘ ([5])  گاندھی جی کے اس عمل کے پس پشت ان کا ڈاکٹر امبیڈکر اور ان کے ساتھیوں یعنی تحریک آزادی کے دلت فریق کے ساتھ کیاگیا معاہدہ (پونہ پیکٹ)بھی تھا جس پر عمل درآمد ان کی اخلاقی ذمہ داری تھی اور ’’دلت نمائندگی‘‘ کے موضوع پر ڈاکٹر امبیڈکر کی تحریک بھی جو انہوں نے ابھی ترک نہ کی تھی اور تقسیم کے بعد ملک کاماحول اس کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا کہ ان کونیامحاذ کھڑا کرنے کا موقع دیا جائے جوانہوں نے بعدمیں کیا۔  

ڈاکٹرامبیڈکر نے کولمبیا یونیورسٹی سے بیک وقت پانچ مضامین—معاشیات، سیاسیات، فلسفہ، عمرانیات اور بشریات—میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی تھی۔ انہوں نے معاشیات میں پی ایچ ڈی اور ڈی ایس سی کی اوروہ قانون  میں بھی بیرسٹر  تھے۔ ہندو دھرم اور بدھ مت دونوں پر انہیں گہری دسترس حاصل تھی۔ نئے ہندوستان کا تصور پیش کرنے اور آئین تحریر کرنے کے لیے ان سے زیادہ موزوں شخصیت شاید ہی کوئی اور ہو سکتی تھی۔ تاہم یہ گاندھی جی کی دور اندیشی تھی کہ انہوں نے اس  کے لیے ڈاکٹر امبیڈکر کا انتخاب کیا۔

تہذیب نہیں تزویر           

قومی تحریک کے دوران کانگریس میں دو طرح کی اصلاحات پر بحث ہوتی تھی،ایک سیاسی اور دوسری سماجی۔ بعض لوگ دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کے حامی تھے، جب کہ بعض سماجی اصلاحات کے مقابلے میں سیاسی اصلاحات کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ ان کی سماجی اصلاحات کا مطلب خاندانی نظام کی اصلاح تھی، مثلاً: کم عمری کی شادی کی ممانعت، بیوہ کی دوبارہ شادی وغیرہ؛ لیکن ذات پات کے نظام کو ختم کرنا ان اصلاحات میں شامل نہیں تھا۔ جب کہ امبیڈکر کے نزدیک تمام سماجی برائیوں کی جڑ ذات پات کا نظام تھا۔ان کے مطابق کوئی بھی سیاسی انقلاب اسی وقت کامیاب ہو سکتا تھا جب اس سے پہلے سماجی اور مذہبی انقلاب برپا ہو چکا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ذات پات کا نظام صرف محنت کی تقسیم نہیں، بلکہ محنت کشوں کی تقسیم بھی ہے۔ یہ ایک درجہ بند نظام ہے جس میں محنت کشوں کو ایک دوسرے سے بلند و پست درجوں میں بانٹ دیا جاتا ہے۔ یہاں کام کی تقسیم پیدائش کی بنیاد پر ہوتی ہے، جو فطری نہیں ہے۔ اس نظام میں نہ ذاتی دلچسپی کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی صلاحیت اور مہارت کی۔ چناں چہ بہت سے لوگ ایسے پیشوں میں لگے رہتے ہیں جن میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس لحاظ سے یہ نظام معاشی طور پربھی نقصان دہ ہے۔‘‘ ([6]) ان کے مطابق ہندو سماجی نظام نے جن طبقات کو اچھوت اور آدی واسی کی حیثیت دی، اگر اسی نظام کو ان طبقات کا خالق سمجھا جائے تو اسے ’’تہذیب‘‘نہیں، بلکہ انسانیت کو دبانے اور غلام بنانے کی تزویر ہے۔اس کا زیادہ مناسب نام ’’شیطانیت‘‘ہونا چاہیے۔ دوسرے الفاظ میں، ہندو مذہب اور اس کا فلسفہ برہمنوں کے لیے تو جنت ہے، لیکن عام انسان کے لیے جہنم۔ ڈاکٹر امبیڈسمجھتے تھے کہ :’’ ہندو سماج ایک ایسا کثیر منزلہ ٹاور ہے جس میں  نہ  سیڑھیاں ہیں  اور نہ کوئی  دروازہ ۔ہر شخص اس کی  اسی منزل میں مرتا ہے جس میں وہ پیدا ہوتا ہے۔‘‘([7])

ڈاکٹرامبیڈکر جب دلتوں کو بااختیار بنانے اور ذات پات کے خاتمے کی تحریک چلا رہے تھے، اس وقت نہرو نے گاندھی جی کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا:’’ ذات ایک سماجی گروپ ہے جو کام پرمبنی ہے‘‘ہر ذات کسی خاص کام کے لیے بنائی گئی تھی، اس سے کام میں مہارت اور تخصص پیدا ہوتا ہے۔ اس نظام میں بعد میں جمود آ گیا، اس لیے اب یہ جمہوریت کے تقاضوں سے میل نہیں کھاتا۔

ذات پات کے بارے میں نہرو کے خیالات بڑی حد تک وہی تھے جو گاندھی جی، سوامی وویکانند اور سوامی دیانند سرسوتی جیسے مصلحین کے تھے۔ وہ اصلاح کی بات تو کرتے تھے،لیکن اس تصور کو دہراتے تھے کہ ذات پات پیشے یا محنت کی تقسیم پر مبنی تھی اور بعد میں اس میں جمود پیدا ہو گیا، اس لیے اب یہ زمانے کے مطابق نہیں رہی۔ یہی وجہ تھی کہ کانگریس کی سماجی اصلاح کی تحریک جلد ہی کم زورپڑ گئی اور اس کا اصل زور سیاسی اصلاحات پر منتقل ہو گیا۔

میرا پٹیل لکھتی ہیں:

 ’’نظریاتی اعتبار سے نہرو اور امبیڈکر میں بہت زیادہ اختلاف نہیں تھا،لیکن ان نظریات کے عملی نفاذ کے بارے میں ان کے خیالات خاصے مختلف تھے، خصوصاً ذات پر مبنی ریزرویشن، ہندو کوڈ بل، کشمیر اور خارجہ پالیسی جیسے مسائل پر۔ اس کے باوجود نہرو، امبیڈکر کا بے حد احترام کرتے تھے۔ 1956ء میں ان کے انتقال کی خبر سن کر نہرو نے اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا: ’’امبیڈکر ہندوستانی سیاست کی ایک نہایت متنازع شخصیت تھے، لیکن ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کے بارے میں کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ڈاکٹر امبیڈکر اپنی آخری سانسوں تک ذات پات یا ورن نظام کے خلاف لڑتے رہے ، اس سے کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور یہی ان کی غلطی تھی، ورنہ ان کی غیرمعمولی صلاحیتوں کا قائل کون نہیں تھا۔‘‘([8])  

منو وادی قوتیں آج بھی  شہریوں میں حقوق کی مساوی تقسیم کے بجائے کام کی تقسیم پر زوردیتی ہیں۔ ان کا زور اس پر ہوتا ہے کہ’’ہرطبقے میں کام کا بٹوارہ کرنا ہوگا‘‘۔’’معاشرے میں ہر شخص الگ الگ کام کرتا ہے، الگ الگ ذات سے تعلق رکھتا ہے، لیکن ان سب سے پہلے وہ ہندو ہے اور اسے ہندو ہونے پر فخر ہونا چاہیے۔‘‘([9])

مرکزی وزارت محنت و روزگار نے حال ہی میں ’’ شرم شکتی نیتی 2025‘‘  کا مسودہ جاری کیا ہے جس میں  منوسمرتی اور دیگر قدیم متون کو ہندوستانی مزدوروں کی اخلاقیات پر ابتدائی اثرات بتا یاگیا۔ کہا گیا ہے کہ ان عبارتوں نے راج دھرم اور کارکنوں کے فرائض جیسے تصورات کی تشکیل میں مدد کی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں اور مزدور تنظیموں نے اس  کو رجعت پسندانہ اقدام قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایااور کہاکہ یہ عمل آئین ہند کی روح کو مجروح  کرتا ہے۔ مثال کے طورپراس مسودہ کے ایک حصے میں محنت کوایک مقدس فریضہ(Secret duty) اور سماجی قدر(Social Value) کہا گیا ہے، جب کہ ناقدین ان قدیم متون کا پالیسی دستاویزمیں استعمال  جدید،  مبنی برحقوق قانونی فریم ورک اور سماجی انصاف کے لیےخطرہ مانتے ہیں۔([10])

دلت بنام درج فہرست ذات /  قبائل

بھارت کا قومی کمیشن براے درج فہرست ذات (NCSC) ’’دلت‘‘کے لفظ کو سرکاری اصطلاح کے طور پر غیر آئینی قرار دیتا ہے، کیوں کہ موجودہ قانون میں سرکاری اصطلاح ’’درج فہرست ذات‘‘ (Scheduled Caste) ہے۔ تاہم اکثر اہلِ علم کا خیال ہے کہ ’’دلت‘‘ کا دائرہ ’’درج فہرست ذات‘‘ سے زیادہ وسیع ہے اور بعض اوقات اس کا استعمال ہندوستان کے تمام مظلوم اور استحصال زدہ طبقات کے لیے کیا جاتا ہے۔

قومی کمیشن براے درج فہرست ذات (NCSC) کے مطابق ’’درج فہرست ذات‘‘ دلتوں کے لیے سرکاری اصطلاح ہے، کیوں کہ جدید قوانین میں’’دلت‘‘  کا ذکر موجود نہیں، اس لیے سرکاری دستاویزات میں اس کا استعمال مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ 2004ء میں این سی ایس سی نے یہ بھی پایا کہ بعض ریاستی حکومتیں سرکاری دستاویزات میں ’’درج فہرست ذات‘‘ کے بجائے ’’دلت‘‘  کا لفظ استعمال کر رہی تھیں۔

 سرکاری تعریف کے مقابلے میں ’’دلت‘‘کی اصطلاح یقیناً زیادہ وسیع ہے، کیوں کہ اس میں محروم اور پسماندہ برادریوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہو جاتی ہے۔ اس میں خانہ بدوش قبائل اور دیگر سرکاری طور پر درجہ بند طبقات بھی شامل ہیں، جن کی درجہ بندی کی ابتدا 1935ء میں برطانوی حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں ہوئی، جنہیں آج درج فہرست قبائل (Scheduled Tribes)کہا جاتا ہے۔درج فہرست ذات کی قانونی تعریف کی ایک حد یہ ہے کہ اس کے تحت صرف وہی افراد شامل ہو سکتے ہیں جوہندو، بدھ یا سکھ مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ اس کے برعکس ایسے بہت سے افراد بھی ہیں جن کا سماجی پس منظر دلت برادری سے ہے، لیکن وہ عیسائی، مسلمان یا دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے انہیں درج فہرست ذات کا قانونی درجہ حاصل نہیں ہوتا۔ اسی طرح ملک کے مختلف حصوں میں کئی ایسی پسماندہ ذاتیں بھی موجود ہیں جو درج فہرست ذات کے دائرے میں شامل نہیں ہیں، حالاں کہ ان کی سماجی اور معاشی حالت میں زیادہ فرق نہیں پایا جاتا۔

دلتوں کی آبادی

 2011ء کی مردم شماری کے مطابق درج فہرست ذاتیں (Scheduled Castes)پورے بھارت میں موجود ہیں اور ملک کی کل آبادی کا 16.6 فیصد  ہیں۔ ان میں سے تقریباً نصف آبادی چار ریاستوں میں رہتی ہے، یعنی اتر پردیش (21 فیصد)، مغربی بنگال (11 فیصد)، بہار (8 فیصد)اور تمل ناڈو (7 فیصد)۔ ریاست کی مجموعی آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو پنجاب میں درج فہرست ذاتوں کا تناسب سب سے زیادہ، زائد از  32 فیصد ہے، جب کہ میزورم میں یہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔

2011ء کی مردم شماری کے مطابق ملک میں درج فہرست قبائل (Scheduled Tribes)کی آبادی 10.43 کروڑ ہے، جو ملک کی کل آبادی کا 8.6 فیصد بنتی ہے۔ درج فہرست قبائل بنیادی طور پر دو الگ الگ جغرافیائی خطوں میں آباد ہیں: وسطی ہند اورشمال مشرقی ہند۔

درج فہرست قبائل کی نصف سے زیادہ آبادی وسطی ہندمیں مرکوز ہے۔ ان میں نمایاں ریاستیں مدھیہ پردیش (14.69 فیصد)، چھتیس گڑھ (7.5 فیصد)، جھارکھنڈ (8.29 فیصد)، آندھرا پردیش (5.7 فیصد)، مہاراشٹر (10.08 فیصد)، اڈیشہ (9.2 فیصد)، گجرات (8.55 فیصد)اور راجستھان (8.86 فیصد) شامل ہیں۔ دوسرا بڑا خطہ شمال مشرقی ہند ہے، جس میں آسام، ناگالینڈ، میزورم، منی پور، میگھالیہ، تری پورہ، سکّم اور اروناچل پردیش شامل ہیں۔ درج فہرست قبائل کی آبادی کا دو تہائی سے زیادہ حصہ صرف سات ریاستوں میں مرتکز ہے، جن میں مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اڈیشہ، گجرات، راجستھان، جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ شامل ہیں۔

قانونی حدودسے آگے

1850ء سے 1936ء کے دوران برطانوی حکومت جن طبقات کو Depressed Classes (دبے کچلے /دلت طبقات) کے نام سے موسوم کرتی تھی، اگر ان میں تقریباً دو کروڑ دلت عیسائیوں اور دس کروڑ دلت مسلمانوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو بھارت میں دلت آبادی کی مجموعی تعداد تقریباً 32 کروڑ بنتی ہے، جو ملک کی کل آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہے۔دلت محض ایک انتظامی یا قانونی اصطلاح نہیں، بلکہ ایک سماجی، تاریخی اور فکری شناخت بھی ہے۔ اس لفظ کا استعمال ان طبقات کے لیے کیا جاتا ہے جو صدیوں تک ذات پات کے نظام، سماجی امتیاز، معاشی استحصال اور مذہبی تفریق کا شکار رہے ہیں۔ اسی لیے بہت سے سماجی کارکن، دانشور اور دلت تحریک سے وابستہ افراد’’دلت‘‘کی اصطلاح کو صرف ایک قانونی درجہ بندی کے بجائے جدوجہد، مزاحمت، خود اعتمادی اور سماجی انصاف کی علامت سمجھتے ہیں۔

اس کے برعکس ’’درج فہرست ذات‘‘ (Scheduled Caste)اور ’’درج فہرست قبائل‘‘ (Scheduled Tribe)آئینِ ہند کے تحت تسلیم شدہ قانونی اور انتظامی اصطلاحات ہیں، جن کا مقصد ان طبقات کو آئینی تحفظ، تعلیم اور ملازمت میں ریزرویشن، سیاسی نمائندگی اور دیگر فلاحی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ان اصطلاحات کا استعمال بنیادی طور پر سرکاری ریکارڈ، مردم شماری اور آئینی و قانونی معاملات میں کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ’’دلت‘‘ کی اصطلاح قانونی حدود سے کہیں زیادہ وسیع ہے، کیوں کہ یہ ان تمام افراد اور طبقات کومحیط ہے جو کسی نہ کسی شکل میں سماجی محرومی، ذاتی امتیاز یا معاشی استحصال کا شکار رہے ہیں، خواہ وہ آئینی طور پر درج فہرست ذات میں شامل ہوں یا نہ ہوں۔اسی لیے یہ بحث آج بھی جاری ہے کہ آیا’’دلت‘‘ کی اصطلاح کو صرف درج فہرست ذاتوں تک محدود سمجھا جائے یا اسے ایک وسیع سماجی اور سیاسی شناخت کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ اس اختلافِ رائے کے باوجود اس بات پر عمومی اتفاق پایا جاتا ہے کہ ہندوستان میں سماجی انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے قیام کے لیے ان طبقات کی ترقی اور امپاورمنٹ ناگزیر ہے۔

دلت طبقات (Depressed Classes) کے دو گروپ یعنی درج فہرست ذاتیں (Scheduled Castes) اور درج فہرست قبائل (Scheduled Tribes)، جن کی آبادی بالترتیب 16.6 فیصد اور 8.6  فیصد ہے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی کل آبادی کا ایک چوتھائی سے زائد (25.2 فیصد)  ہیں۔ پارلیمنٹ میں بھی ان کی نمائندگی تقریباً اسی تناسب میں  ہے۔ لوک سبھا کے 543 اراکین میں اس وقت درج فہرست ذاتوں کے 84 اور درج فہرست قبائل کے 47 نمائندے ہیں، جب کہ پہلے یہ تعداد بالترتیب 79 اور 41 تھی۔

۱دلت (Dalit)وہ طبقات جو تاریخی طور پر ذات پات کی بنیاد پر سماجی، مذہبی، معاشی اور سیاسی استحصال کا شکار رہے ہیں۔ یہ ایک سماجی اور سیاسی شناخت بھی ہے۔آئین و قانون میں یہ سرکاری یا قانونی اصطلاح نہیں ہے۔
۲درج فہرست ذات Scheduled Castes-SCوہ ذاتیں جنہیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 341 کے تحت صدرِ جمہوریہ نے درج فہرست میں شامل کیا ہے اور جو آئینی مراعات کی مستحق ہیں۔آئینی اور قانونی اصطلاح
۳درج فہرست قبائل Scheduled Tribes-STوہ قبائل جنہیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 342 کے تحت درج فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ان کی الگ قبائلی شناخت، ثقافت اور سماجی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔آئینی اور قانونی اصطلاح

  • ’’دلت‘‘ ایک وسیع سماجی اصطلاح ہے،، جب کہ ’’درج فہرست ذات‘‘اور ’’درج فہرست قبائل‘‘ آئینی اور انتظامی اصطلاحات ۔
  • تمام درج فہرست ذاتیں عام طور پر دلت شناخت سے وابستہ سمجھی جاتی ہیں، لیکن ہر دلت قانونی طور پر درج فہرست ذات میں شامل نہیں ہوتا۔
  • دلت شناخت میں بعض اوقات دلت مسلمان، دلت عیسائی، خانہ بدوش قبائل اور دیگر محروم طبقات کو بھی شامل کیا جاتا ہے، جب کہ آئینی مراعات صرف ان طبقات کو حاصل ہوتی ہیں جوآئین کی دفعہ 341کے تحت جاری کردہ سرکاری فہرستوں میں شامل ہوں۔
  • درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کو آئین کے تحت تعلیم، روزگار، سیاسی نمائندگی اور فلاحی اسکیموں میں خصوصی تحفظ اور ریزرویشن حاصل ہے۔

یہ تعداد اگرچہ کم نہیں، لیکن ان کی آواز پھر بھی کم زورہے کیوں کہ یہ نمائندے بکھری ہوئی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں، دلتوں کے متحد نمائندے نہیں ہوتے ،بلکہ یہ مختلف سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور مختلف نظریات سے وابستہ ہوتے ہیں۔

(ب) امتیاز، اخراج  اور تشدد

پورے جنوبی ایشیا،بلکہ یہاں تک کہ جنوب ایشیائی تارکینِ وطن میں بھی دلتوں کے خلاف امتیازی سلوک پایا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ (HRW) کی ایک رپورٹ کے مطابق دلتوں کے ساتھ برتاؤ ’’چھپے ہوئے نسلی امتیاز‘‘(Hidden Apartheid)کی مانند ہےاور انہیں رہائش، تعلیم اور عوامی سہولیات تک رسائی میں بھی علیحدگی اور امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بھارت کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ذات پات پر مبنی امتیاز اور جنوبی افریقہ کے نسلی امتیاز (Apartheid) کے درمیان مماثلت کی نشاندہی کی تھی۔ ایلینور زیلیئٹ (Eleanor Zelliot) بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہیں، لیکن ان کے مطابق اگرچہ دونوں میں بعض واضح مماثلتیں موجود ہیں، تاہم نسل پرستی (Racism) اور دلتوں کی حالت کی بنیادیں مختلف ہیں، اس لیے ان کے حل بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ آئین ہند نے چھواچھوت  (Untouchability) کو قانونی طور پر ختم کر دیا ہے، لیکن دلتوں پر ظلم اور ان کی محرومی آج بھی ایک حقیقت ہے۔ 2010ء میں کلاس کلوسٹرمائر (Klaus Klostermaier)  نے لکھا کہ دیہی ہندوستان میں دلت آج بھی الگ بستیوں میں رہتے ہیں، سب سے گندے کام انجام دیتے ہیں اور انہیں گاؤں کے نلوں، کنوؤں اور دیگر عوامی سہولیات استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔اسی سال زیلیئٹ نے کہا کہ ’’  گذشتہ ساٹھ برسوں میں نمایاں ترقی کے باوجود دلت آج بھی سماجی اور معاشی اعتبار سے معاشرے کے سب سے نچلے درجے پر موجود ہیں۔‘‘

اگر صحت، متوقع عمر، تعلیم، رہائش اور صاف پانی تک رسائی جیسے اشاریوں (Indicators) پر دلتوں کے معیارِ زندگی کا موازنہ ملک کی عام آبادی سے کیا جائے تو وہ پہلے بھی سب سے پیچھے تھے اور آج بھی سب سے زیادہ محروم ہیں۔یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ گذشتہ سات دہائیوں میں دلتوں کی کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ دلتوں کے ایک طبقے نے یقیناً ترقی کی ہے اور انہیں ریزرویشن (Reservation) کا فائدہ بھی ملا ہے، لیکن آج بھی دلتوں کی اکثریت تقریباً اسی حالت میں زندگی گزار رہی ہے جس میں وہ ایک صدی پہلے تھی۔

شہری علاقوں اور سرکاری شعبے میں دلتوں کے خلاف امتیازی سلوک میں کچھ کمی ضرور آئی ہے، لیکن دیہی علاقوں اور نجی شعبے میں یہ امتیاز پہلے کی نسبت بڑھا ہے۔ ریزرویشن کی موجودہ پالیسی کا زیادہ تر فائدہ انہی لوگوں تک پہنچ رہا ہے جو پہلے ہی اس سے مستفید ہو کر آگے بڑھ چکے ہیں۔ یہ لوگ دلت آبادی کا صرف ۵ سے 10 فیصد ہیں۔

ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے ریزرویشن پر اعتراض کرنے والوں سے کہا تھا کہ یہ محض بیساکھی نہیں، بلکہ ایک ایسا سہارا ہے جو محروم طبقے میں اعتماد اور حوصلہ پیدا کرتا ہے تاکہ وہ خود کو بھی معاشرے اور ریاستی نظام کا حصہ سمجھیں۔ ان کی یہ بھی امید تھی کہ ریزرویشن سے ترقی کرنے والے دلت اپنے ہی سماج کے دوسرے محروم افراد کو بھی معاشرتی دباؤ اور استحصال سے نکالنے میں مدد کریں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ دلت معاشرے کا مراعات یافتہ طبقہ خود کو الگ اور ممتاز سمجھنے لگا اور اپنی برادری کے بجائے سیاسی جماعتوں کا وفادار بنتا گیا حتیٰ کہ وہ ووٹوں کی سیاست میں سوداگر اور ثالث کا کردار ادا کرنے لگا۔

این سی اے ای آر (NCAER) اور میری لینڈ یونیورسٹی کے ایک مشترکہ سروے کے مطابق ہندوستان کی ۲۷فیصد آبادی آج بھی چھواچھوت  (Untouchability)  مانتی اور اس پر عمل کرتی ہے۔ یہ تناسب حقیقت میں اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے، کیوں کہ بہت سے لوگ براہِ راست پوچھے جانے پر اس کا اعتراف کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اگرچہ بعض ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ سروے کے طریقۂ کار کی وجہ سے یہ اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر بھی سامنے  آئے ہو ئے ہو سکتے ہیں۔

سروے کے مطابق ہندوستان بھر میں:

  • ۵۲ فیصد برہمن
  • ۳۳ فیصد دیگر پس ماندہ طبقات (OBC)
  • ۲۴ فیصد غیر برہمن اعلیٰ ذاتیں

چھواچھوت مانتی اور اس  پر عمل کرتی ہیں۔

اسی طرح مذہبی بنیاد پر:

  • ۲۳ فیصد سکھ
  • ۱۸ فیصد مسلمان
  • ۵ فیصد عیسائی

بھی چھواچھوت  کوکسی نہ کسی شکل میں مانتےاور عمل کرتے ہیں۔

سوال:کیا آپ درج فہرست ذات (SC) سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو اپنے باورچی خانے میں داخل ہونے یا اپنے برتن استعمال کرنے کی اجازت دیں گے؟

جن لوگوں نے’’نہیں‘‘ کہا (فیصد):

ذات کے لحاظ سےمذہب کے لحاظ سے
برہمن52٪
اعلیٰ ذات 24٪
او بی سی 33٪
انتہائی پسماندہ 15٪
درج فہرست ذات  22٪
درج فہرست قبائل  13٪
مجموعی اوسط27٪
ہندو35٪
جین 30٪
سکھ 23٪
مسلمان 18٪
عیسائی5٪
بدھ 5٪
دیگر 1٪
کوئی مذہب نہیں 0٪

ماخذThe India Human Development Survey (IHDS-2)

ریاست وار اعداد و شمار کے مطابق یہ لعنت سب سے زیادہ مدھیہ پردیش (53 فیصد) میں پایا جاتا ہے، اس کے بعد ہماچل پردیش (50 فیصد)، چھتیس گڑھ (48 فیصد)، راجستھان (47 فیصد)، بہار (47 فیصد)، اتر پردیش (43 فیصد) اور اتراکھنڈ (40 فیصد) کا نمبر آتا ہے۔مدھیہ پردیش کے گھاٹوانی گاؤں کو سماجی بائیکاٹ کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جہاں بھِیلالا برادری سے تعلق رکھنے والے درج فہرست قبائل (Scheduled Tribe) کے افراد دلت باشندوں کو سرکاری بورویل سے پانی بھرنے کی اجازت نہیں دیتے، جس کے نتیجے میں انہیں آلودہ پانی پینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

نئی دہلی اور بنگلورو جیسے بڑے شہروں میں بھی دلتوں اور مسلمانوں کو کرایے پر رہائش حاصل کرنے کے لیے مکان مالکان کے امتیازی رویّے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گجرات کے ضلع بھاونگر کے گاؤں ٹمبا میں ۲۱؍سالہ دلت نوجوان پردیپ کو صرف اس وجہ سے قتل کر دیا گیا کہ وہ گھوڑی پر سوار ہوا تھا۔

معاشی رواداری کا دور

۱۹۹۰ءکی دہائی میں جب ملک میں معاشی رواداری (Economic Liberalization) کا آغاز ہوا تو اس کے دلتوں پر نمایاں منفی اثرات مرتب ہوئے۔ سرکاری شعبے میں محفوظ (ریزرو) ملازمتوں اور روزگار کے دیگر مواقع کم ہو گئے، جب کہ نجی شعبے میں رائج امتیازی رویّوں نے دلتوں کو مزید نقصان پہنچایا۔ صرف ایک دہائی کے دوران ۱؍ کروڑ 97 لاکھ سرکاری ملازمتوں میں ۱۸؍لاکھ 70 ہزار (9.5 فیصد) کی کمی واقع ہوئی۔ اسی تناسب سے دلتوں کے لیے مختص محفوظ ملازمتوں کی تعداد بھی گھٹ گئی۔دیہی علاقوں میں دلتوں اور غیر دلتوں کے درمیان طاقت کا عدم توازن بڑھتا جا رہا ہے اور دلتوں پر ہونے والے مظالم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت ایسے واقعات کی تعداد تقریباً ۵۰؍ ہزار سالانہ تک پہنچ چکی ہے۔دلتوں اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی ایک بڑی وجہ ملک کی معاشی صورتحال اور عوام کی معاشی مشکلات بھی بتائی جاتی ہے، جنہیں ذاتی مفادات، فرقہ واریت اور سیاسی عناصر مزید تشدد کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

زرعی شعبے میں بڑھتے ہوئے بحران نے کسانوں اور دلتوں کے تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے، چوں کہدلتوں کی اکثریت بے زمین ہے، اس لیے زرعی بحران کا اثر ان پر مختلف انداز میں پڑتا ہے۔ جب کھیتوں میں مناسب کام نہیں ملتا تو ان کے پاس مزدوری کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا، جب کہ غیر دلت کسان بھی معاشی مشکلات کے باعث اسی طرح کے بحران سے دوچار ہیں۔گڑگاؤں (گروگرام) جیسے تجارتی اور صنعتی مراکز میں بعض عناصر مذہبی نعروں کے ذریعے فساد برپا کرتے ہیں، حالاں کہ اس کا مذہب سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔ درحقیقت ان کا مقصد روزگار کے شعبوں پر قبضہ برقرار رکھنا اور ان محنتی، ہنرمند اور باصلاحیت افراد کو نشانہ بنانا ہوتا ہے جو مقابلے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تعلیم اور روزگار کے بڑھتے ہوئے مواقع سے جن دلتوں نے فائدہ اٹھایا، ان کے طرزِ زندگی میں تبدیلی آنا ایک فطری امر تھا، لیکن یہ تبدیلی خود کو سماجی برتری کا دعویدار سمجھنے والے طبقات کے بعض لوگوں کے لیے ناقابلِ قبول ثابت ہوئی۔ اسی وجہ سے دلتوں اور اقلیتوں کے خلاف ناراضی بعض اوقات معمولی واقعات سے بڑھ کر شدید ذاتی اور سماجی تصادم کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں ایک نیا طبقہ بھی وجود میں آیا، جس کے بعض انتہاپسند عناصر دلتوں کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ  دلت سماج کو خوفزدہ کیایا سبق سکھایا جا سکے۔۲۰۱۳ءسے 2017 کے درمیان ایسے واقعات میں۳۳فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ روہت ویمولا، اونا، بھیم آرمی اور بھیما کوری گاؤں جیسے واقعات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ آئینی اقدامات کیے گئے، لیکن وہ دلتوں کی حالت میں متوقع بہتری نہیں لا سکے۔دلت آج بھی بڑی تعداد میں دیہات میں رہتے ہیں۔ غیر دلت آبادی کے مقابلے میں دلتوں کی شہری آبادی میں اضافہ نسبتاً سست رفتار ہے۔ زمین کی ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ تر معمولی کسان یا بے زمین زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ دلتوں کے پاس جو تھوڑی بہت زمین موجود ہے، وہ بھی مختلف وجوہات کی بنا پر ان سے چھنتی جا رہی ہے۔

تعلیم، تحریک اور تنظیم

 ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے دلتوں کی ترقی اور سماجی تبدیلی کے لیے جو بنیادی پیغام دیا تھا، وہ یہ تھا:

’’تعلیم حاصل کرو، منظم رہو، اور جدوجہد کرو۔‘‘

 دلتوں نے تعلیم بھی حاصل کی اور جدوجہد بھی جاری رکھی، لیکن وہ مطلوبہ حد تک منظم نہ ہو سکے۔ جہاں مختلف مظلوم طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر انصاف اور حقوق کی مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیے تھی، وہاں عملی صورتِ حال اس سے مختلف نظر آتی ہے۔

ایک مطالعے میں معلوم ہوا کہ ملک میں دلتوں کی 900 سے زیادہ ذاتیں پائی جاتی ہیں جن کے درمیان اندرونی تقسیم موجود ہے۔ یہ بھی پایا گیا کہ کسی ایک ذات کو زیادہ اہمیت دینے سے ابھرتی ہوئی دلت شناخت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اور درج فہرست ذاتوں کے درمیان باہمی رقابت کو فروغ ملتا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ذات پات پر مبنی تعصب کے خلاف لڑنے کے مقابلے میں دلتوں کو ذات کی بنیاد پر منظم کرنا زیادہ آسان ہے۔ 1990 کی دہائی میں یوپی کی وال میکی اور پاسی برادریوں نے بی ایس پی کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا تھا، کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ یہ جاٹو برادری کی پارٹی ہے،لیکن بعد میں  دلت ذاتوں کے 80 فیصد سے زائد لوگوں نے بی ایس پی کو ووٹ دے کر اقتدار تک پہنچایا۔ 2014 اور پھر 2019 کے لوک سبھا انتخابات اور اس کے بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ ملک کی دلت سیاست ایک پیچیدہ عبوری دور سے گزر رہی ہے۔

محترمہ دروپدی مرمو کا صدرِ جمہوریہ منتخب ہونا اور دوسری طرف منی پور میں نسلی فسادات یا قبائلی خواتین کے ساتھ ہونے والے وحشیانہ تشدد، دو الگ الگ واقعات ہیں اور ان کا ایک دوسرے سے براہِ راست تعلق نہیں ہے، تاہم یہ دونوں واقعات بھارت میں دلت سیاست کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں اور کئی اہم سوالات کو جنم دیتے ہیں۔منی پور میں ریزرویشن کے مسئلے پر دلتوں سے تعلق رکھنے والی دو برادریاں آمنے سامنے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو قتل کر رہی ہیں، گھروں کو نذرِ آتش کر رہی ہیں، جب کہ حکومت  بھی اس  میں اپنے ووٹ بینک کے زیراثر ایک فریق دکھائی دیتی ہے۔ ملک کی دلت سیاست کی سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ ریزرویشن نے دلتوں کو ایک حد تک سہارا ضرور دیا، لیکن ان کی سیاسی، سماجی اور معاشی حالت میں وہ بنیادی تبدیلی نہیں آ سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اس کی ذمہ داری جہاں ملک کی مجموعی سیاست پر عائد ہوتی ہے، وہیں دلت قیادت بھی اس سے بری الذمہ نہیں ہے۔دلت آبادی بھی عموماً حالات کے ساتھ بہہ جایا کرتی ہے اور ذات، برادری اور مذہبی شناختوں میں تقسیم ہو کر اپنی اجتماعی سیاسی قوت کم زورکر دیتی ہے۔ اتر پردیش کے ایک دلت رہ نماکا  قول ہے:’’انتخابات کے وقت ہم ہندو ہوتے ہیں اور باقی تمام وقت دلت۔‘‘

ووٹ بینک اور دلت

سیاسی مباحث میں’’ووٹ بینک‘‘بھارت کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ دنیا کے بہت کم ممالک میں سیاست کا یہ انداز اس شکل میں پایا جاتا ہے۔ ووٹ بینک سے مراد ایسے ووٹروں کا گروپ ہے جو مسلسل کسی ایک مخصوص امیدوار یا سیاسی جماعت کی حمایت کرتا ہے۔ اکثر اس کی بنیاد اس توقع پر ہوتی ہے کہ اس جماعت یا امیدوار سے انہیں کسی نہ کسی قسم کا فائدہ حاصل ہوگا، خواہ یہ توقع حقیقی ہو یا محض تصوراتی اور بعض اوقات یہ دوسرے طبقات کے مفادات کی قیمت پر بھی قائم ہوتی ہے۔

’’ووٹ بینک‘‘ کی اصطلاح سب سے پہلے ممتاز ماہرِ سماجیات ایم این سری نواس نے 1955ء میں اپنے مضمون ’’The Social System of a Mysore Village ‘‘  میں استعمال کی، جہاں انہوں نے اس سے مراد ایک سرپرست (Patron) کے اپنے زیرِ اثر افراد پر سیاسی اثر و رسوخ کو بیان کیا تھا۔بعد ازاں کیلی فورنیا یونیورسٹی، سان ڈیاگو کے سیاسیات کے ماہر ایف جی بیلی (F. G. Bailey) نے اپنی 1959ء کی کتاب’’Politics and Social Change‘‘ میں اس اصطلاح کو مزید وضاحت کے ساتھ استعمال کیا، جہاں اس سے مراد ذاتی اور سماجی قیادت کے انتخابی اثر و رسوخ کو بیان کیا گیا۔

سیاسیات میں ’’ووٹ بینک‘‘ کا تصور برعظیم ہندکی انتخابی سیاست کی ایک منفرد خصوصیت سمجھا جاتا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں اس نوعیت کی سیاست نسبتاً کم دیکھنے میں آتی ہے۔ ابتدائی دور میں ہندوستان میں بعض ووٹ بینک ذات پات کی بنیاد پرتشکیل دیے گئے، لیکن بعد میں مذہب، زبان اور دیگر سماجی شناختوں کی بنیاد پر بھی مختلف ووٹ بینک وجود میں آئے۔

عام طور پر انتخابی سیاست میں ووٹ بینک کو جمہوری اقدار کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔ ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ذات یا مذہب کی بنیاد پر قائم ووٹ بینک سیکولرزم (مذہبی غیر جانب داری) کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ایک دوسری رائے یہ ہے کہ ہندوستان میں غیر ہندو طبقات کو دی جانے والی خصوصی مراعات اور تحفظات کے خلاف شکایات کے تناظر میں ہندو قوم پرست حلقے بھی ووٹ بینک کی سیاست کو ایک مؤثر سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔یعنی ووٹ بینک کی سیاست دراصل معاشرے کو تقسیم کرنے والی پالیسیوں کے ذریعے رائے دہندگان کےمخصوص گروہوں کو منظم کرنے اور انہیں برقرار رکھنے کا ایک طریقۂ کار ہے۔ اس میں طاقت ور سیاسی قوتیں صرف مذہب، زبان یا ثقافت ہی نہیں، بلکہ ذات اور برادری کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ دلتوں کو ان کے مشترکہ مسائل اور بنیادی حقوق سے ہٹا کر، سیاسی جماعتیں سرمایہ، تنظیمی طاقت اور بااثر شخصیات کے ذریعے مختلف شناختوں میں تقسیم کرتی ہیں اور بڑی مہارت سے ان ہی بنیادوں پر اپنی سیاست کو مضبوط کرتی ہیں۔

دلت چیتنا، منڈل اور مودی

۱۹۹۰ء کی دہائی میں منڈل کمیشن کی سفارشات نافذ ہونے کے بعد پسماندہ طبقات (OBC)اور دلتوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ وہ اب پہلے کی طرح کم زورنہیں رہے۔ اعلیٰ ذاتوں، خصوصاً ٹھاکروں کی وہ سابقہ برتری، جس کے باعث وہ خود کو اقتدار اور فیصلہ سازی کا فطری حق دار سمجھتے تھے، کم زورپڑنے لگی ہے۔ تاہم 2014ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی غیر معمولی اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آمد اور 2017ء میں یوگی آدتیہ ناتھ کا اتر پردیش کا وزیرِ اعلیٰ بننا  ایک ایسا سیاسی واقعہ تھا جس نے اس تصور کو بڑی حد تک بدل کر رکھ دیا۔

اس تناظر میں دائیں بازو کےایک’’تھنک ٹینک‘‘  کایہ قول قابل توجہ ہے کہ:’’جہاں سیاسی جماعتیں اپنے وقتی فائدے کے لیے سماج کو ذات، برادری، فرقہ اورمذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں،وہیں دلتوں کی بیداری بڑھتی جا رہی ہے اور وہ خاموش بیٹھنےکو تیار نہیں ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں یہ تصادم بڑھ سکتا ہے۔ اہل فکرونظر لوگوں اور سنجیدہ رہ نماؤں کو اب نئی صورت حال  کا سامنا کرنے کے لیے قدم اٹھاناہو گا۔‘‘([12])

 روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ ذات پات  اور اس پر مبنی تفریق و تصادمات کی تاریخ اس ملک میں کتنی طویل اورکیسی پھیلی ہوئی  ہے اور یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ اس دور جمہور میں بھی  یہ ’’سنگھرش ‘‘جاری ہے اور اس میں زیادہ پیش پیش نوجوانوں کی جماعتیں ہیں ۔ یہ سنگھرش یونہی جاری رہا تووہ دن دورنہیں کہ سماجی تانے بانےکو درپیش  خطرات قابوسے باہر ہوجائیں اورملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے ۔ 


کتابیات

1. منوسمرتی، ہندی، 2020، پربھات پرکاشن، دہلی
2. ابو ریحان البیرونی، کتاب الہند (اردو ترجمہ : سید اصغرعلی)، 1941، انجمن ترقی اردو ہند، دہلی
3. جیوتی راؤ پھولے، غلامگری (ہندی)، 2024، جے بی انٹرنیشنل، آگرہ
4. ڈاکٹر بی آر امبیڈکر، کاسٹ ان انڈیا (کولمبیا ریسرچ پیپر)، 9 مئی 1916، کولمبیا یونیورسٹی ، نیویارک
5. ڈاکٹر بی آر امبیڈکر،(Annihilation of Caste with A Reply to Mahatma Gandhi) ، 1944، نئی دہلی
6. ڈاکٹر بی آر امبیڈکر، باباصاحب ڈاکٹر امبیڈکرس آل رائٹنگس(ہندی)، جلد1 اور جلد7، طبع پنجم 2013، ڈاکٹر امبیڈکر پرتشٹھان، نئی دہلی
7. Dr B R Ambedkar / Dr Ambedkar’s All Writings, Vol 1&7, Dr Ambedkar Pratishthan, New Delhi
8. ڈی۔ شیام بابو، گاندھی اینڈ دلتس، سوراجیہ میگزین، 12 اکتوبر 2016
9. India Since Independence,  2007, Penguin, New Delhi  Bipan Chandra,
10. دھننجے کیر، ڈاکٹر امبیڈکر: لائف اینڈ مشن، 1954، پاپولر پرکاشن، بمبئی
11. دھننجے کیر، مہاتما گاندھی: پولیٹیشین سنت انارمڈ پروفٹ، 1971، پاپولر پرکاشن، بمبئی
12. میرامیراپٹیل ،فرام کاسٹ ریزرویشن ٹو کشمیر……، انڈین ایکسپریس، ۱۴نومبر ۲۰۲۲ء ، نئی دہلی
13. آج تک ڈاٹ ان (نیوز پورٹل) https://www.aajtak.in/india/story/up-moradabad-mohan-bhagwat-rss-hindu-speech-maharashtra-1014658-2020-01-18
14. ڈائریکٹرجنرل روزگار، ڈرافٹ لیبراینڈ امپلائمنٹ پالیسی۔ 2025-10، وزرات محنت و روزگار، حکومت ہند
15. مردم شماری کے ابتدائی خلاصے: درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل، مردم شماری ۲۰۱۱ء، دفتر رجسٹرار جنرل و مردم شماری کمشنر، حکومتِ ہند، 28 اکتوبر 2013
16. آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن،نئی دہلی کا پورٹل’اوآرایف آنلائن’


حاشیہ

[1] –  صحافی و مصنف، دہلی،  9818844546
[2] –  ڈاکٹربی آر امبیڈکر، باباصاحب امبیڈکرآل رائٹنگس(ہندی)، جلد1، طبع پنجم 2013، ڈاکٹر امبیڈکر پرتشٹھان، نئی دہلی، ص 28 و 29
[3] –  ڈاکٹر بی آرامبیڈکر، ڈاکٹر امبیڈکر آل رائٹنگس(ہندی)،طبع پنجم ۲۰۱۳، ڈاکٹر امبیڈکر پرتشٹھان، نئی دہلی، ص ۱۱۴
[4] – ڈی۔ شیام بابو، گاندھی اینڈ دلتس، سوراجیہ میگزین، 12 اکتوبر 2016
[5] – بپن چندر، مردلامکھرجی ، آدتیہ مکھرجی، انڈیا سنس انڈپنڈنس(بھارت : آزادی کے بعد)، بارہویں اشاعت ۲۰۰۷، پن گوئن، نئی دہلی، ص ۴۹(Constituent Assembly)
https://www.dmentor.in/public/frontend/assets/pdf/GS1_PI_India_Since_Independence_(Bipan_Chandra)_@spanneru.pdf
[6] –  ڈاکٹر بی آر امبیڈکر، بابا صاحب ڈاکٹر امبیڈکرس آل رائٹنگس،ج:۱،  ۲۰۱۳ء، ڈاکٹر امبیڈکر پرتشٹھان، نئی دہلی، ص ۶۶
[7] –  ڈاکٹر بھیم راؤ رام جی امبیڈکر ،موک نایک 1، 31جنوری ، 1920 ،ص1(منوگت)
[8] –  میراپٹیل ،فرام کاسٹ ریزرویشن ٹو کشمیر……،انڈین ایکسپریس، ۱۴نومبر ۲۰۲۲ء ، نئی دہلی
https://indianexpress.com/article/research/from-caste-reservations-to-kashmir-the-many-conflicts-between-nehru-and-ambedkar-8266878
[9] – موہن بھاگوت، مرادآباد، 20 جون 2020، آر ایس ایس کے اجتماع سے خطاب۔
https://www.aajtak.in/india/story/up-moradabad-mohan-bhagwat-rss-hindu-speech-maharashtra-1014658-2020-01-18
[10] – ڈائریکٹرجنرل روزگار،ڈرافٹ لیبراینڈامپلائمنٹ پالیسی۔ 2025-10، وزرات محنت و روزگار،حکومت ہند
[11] –  مردم شماری کے ابتدائی خلاصے: درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل، مردم شماری ۲۰۱۱ء، دفتر رجسٹرار جنرل و مردم شماری کمشنر، حکومتِ ہند، 28 اکتوبر 2013-  Census of India 2011, Primary Census Abstract: Scheduled Castes and Scheduled Tribes
[12] – ستیش مشرا، دلت راجنیتی، اوآرایف آنلائن، 17 جولائی 2017-
https://www.orfonline.org/hindi/research/दलित-राजनीति

KEYWORDS: Dalit, Achhut, Harijan Pancham, Antyaj, Scheduled Caste, Scheduled Tribes, Manusmriti, Sommati Bhargava, Discrimination

Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *