آزادانہ فکر و تحقیق پر قدغن لگانے والوں کے خلاف
آزادانہ فکر و تحقیق پر قدغن لگانے والوں کے خلاف
ڈاکٹر نور محمد لکھنوی
حرف دانش سے ہمدم گریزاں ہے کیوں؟
فکر و تحقیق سے ہاے نالاں ہے کیوں؟
غیر معقول باتوں پہ شاداں ہے کیوں؟
اپنے جہل مرکب پہ فرحاں ہے کیوں؟
دید حق سے تری بند مژگاں ہے کیوں؟
مصلحت وقت کی، تیرا یزداں ہے کیوں؟
اشہب فکر در ماندہ، ترساں ہے کیوں؟
رخش حکمت ترا پابجولاں ہے کیوں؟
مرغ کی بانگ اور خر کی آواز میں
فرق ظاہر ہے، پھر بھی تو حیراں ہے کیوں؟
صرف دعویٰ ہے وہ بھی شعوری نہیں
ایسے دعوے پہ آخر تو نازاں ہے کیوں؟
مجھ کو کیا بولنا اور لکھنا ہے کیا
تو کرےگا یہ طے! اتنا ناداں ہے کیوں؟
بات میری غلط ہے، تو ثابت بھی کر
میری برہان سے تو پریشاں ہے کیوں؟
چند مخصوص سانچوں میں محصور ہے
اس پہ گریہ، چمن آج ویراں ہے کیوں؟
ہر چمک دار رخ کا کرے ہے طواف
خون دل اس قدر تیرا ارزاں ہے کیوں؟
بجلیوں کو قفس راس آتا نہیں
برق کو قید کرنے میں غلطاں ہے کیوں؟
علم و تحقیق، تکنیک کا، کارواں
خیمہ زن کوے مغرب میں، یاراں ہے کیوں؟
اس کے حصے میں گلشن بہاروں بھرا
اپنے حصے میں بے آب میداں ہے کیوں؟
خیر خواہوں کے دل میں کسک ہے بڑی
میرے آنگن میں عیش فراواں ہے کیوں؟
پوچھتی ہے بہاروں سے بلبل کی کو
نوریِ بے نوا گل بداماں ہے کیوں؟
