اہل سنت میں نصب و رفض کے بڑھتے رجحانات

تاریخی تشکیل، مولانا احمد رضا خان بریلوی کا موقف اور معاصرعلمی ذمہ داری
ڈاکٹر جلیس اختر نصیری([1])
Abstract
This paper examines Nasb (enmity toward the Prophet’s household) and Rafd (extreme Shi’i hostility toward the first three caliphs, some Mothers of the Believers, and most Companions) as contested theological categories, arguing that early Sunni methodology rejects both extremes, upholding love and honour for both Companions and Ahl al-Bayt.
Focusing on Indian Ahl al-Sunnah, especially the Barelvi tradition, it offers a historical-analytical study of the Shia-Sunni dynamic in Awadh and Lucknow, disputes over Tabarra and praise of the Companions, A’la Hazrat Ahmad Raza Khan Barelvi’s doctrinal stance, the post-Partition minority status of Indian Muslims, and the influence of modern preaching and social media. Pakistan, Bangladesh, and other regions feature only comparatively, to illuminate continuity with the Indian context.
تمہید
خلافت راشدہ سے خلافت بنو امیہ کی طرف انتقال اسلامی سیاسی تاریخ کے ان پیچیدہ ترین مباحث میں سے ہے جس پر گذشتہ چودہ صدیوں کے دوران مورخین، فقہا،متکلمین اور ماہرین سیاسیات نے اپنے اپنے علمی مناہج کے مطابق مبسوط بحثیں کی ہیں۔ سیاسیات کے ماہرین اس مرحلے کو شخصیات کے تقابل یا فضیلت کے بجائے اقتدار کی منتقلی، شورائی قیادت سے موروثی نظام کی طرف ارتقا، ریاستی اداروں کی تشکیل، مرکزیت، قانون کی بالادستی، احتساب، بیوروکریسی، عسکری تنظیم اور نظام حکومت کے تناظر میں دیکھتے ہیں جب کہ فقہا امامت، بیعت، شوریٰ، تغلب اور اطاعت حاکم کے شرعی اصولوں کا جائزہ لیتے ہیں اور مورخین ان واقعات کے اسباب و نتائج کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس لیے اس موضوع کو کسی ایک زاویے سے سمجھنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس مسئلے پر علمی دنیا میں صدیوں سے تحقیق ہو چکی ہے، آج برصغیر میں بالخصوص اہل سنت کے بعض حلقوں میں وہی مسئلہ محدود مطالعے، جذباتی خطابت اور عوامی مناظروں کا موضوع بنتا جا رہا ہے۔ نتیجتاً ایسی بحثیں جن سے نہ کوئی نیا علمی اضافہ ہوتا ہے اور نہ امت کا کوئی عملی مسئلہ حل ہوتا ہے، صرف گروہی وابستگیوں کو مضبوط کرنے اور باہمی انتشار کو ہوا دینے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔
بعض معاصر سیاسی مبصرین موروثی ریاستوں، خصوصاً سعودی عرب میں بنو امیہ کے بعض سیاسی پہلوؤں کی مثبت تعبیر کو موجودہ نظام حکومت کے تاریخی و سیاسی جواز کے تناظر میں بھی دیکھتے ہیں، خواہ اس تجزیے سے اتفاق کیا جائے یا نہ کیا جائے، تاہم اہل سنت کے لیے جن کے اکابر نے صدیوں قبل صحابۂ کرام کے احترام، اہل بیتِ اطہار کی محبت اور تاریخی اختلافات میں اعتدال کا متوازن منہج متعین کر دیا تھا، اس بحث کو دوبارہ عوامی سطح پر زندہ کر کے مسلکی صف بندی کا ذریعہ بنانا نہ تو علمی و فقہی ضرورت ہے نہ تاریخی تقاضا۔ جب ایک موضوع پر تاریخ، فقہ، علم کلام اور سیاسیات کے دائرے میں وقیع علمی سرمایہ پہلے ہی موجود ہو تو اسے عوامی جذبات انگیزی اور باہمی تقسیم کے لیے استعمال کرنا درحقیقت علم کی خدمت نہیں، بلکہ امت کے اندر ایک ایسے فکری انتشار کو فروغ دینا ہے جس کا حاصل علمی ارتقا نہیں، بلکہ نئی گروہ بندی اور فساد فکری کی تشکیل ہے۔
اہلِ سنت کا بنیادی علمی سرمایہ اس باب میں ہمیشہ اعتدال، احترام صحابہ، محبت اہل بیت اور احتیاط زبان پر قائم رہا ہے۔ اکابر اہل سنت نے نہ اہل بیت کے حقوق میں کمی کی اجازت دی اور نہ صحابۂ کرام کی تنقیص کو برداشت کیا۔ ان کے نزدیک ان تاریخی اختلافات پر گفتگو کا معیار انصاف، علم اور حسن ادب تھا نہ کہ جذبات، اشتعال یا فرقہ وارانہ عصبیت۔ ابو جعفر احمد بن محمد الطحاوی نے صحابۂ رسول سے محبت، کسی ایک کی محبت میں غلو نہ کرنے، کسی صحابی سے براءت اختیار نہ کرنے اور ان کا ذکر خیر کے ساتھ کرنے کو اہل سنت کے عقیدے کا حصہ قرار دیا ہے۔
ونحب أصحاب رسول الله ﷺ، ولا نفرط في حب أحد منهم، ولا نتبرأ من أحد منهم، ونبغض من يبغضهم، وبغير الخير يذكرهم، ولا نذكرهم إلا بخير، وحبهم دين وإيمان وإحسان، وبغضهم كفر ونفاق وطغيان. (فقرہ:۹۳)
’’ہم رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابۂ کرام سے محبت رکھتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کی محبت میں بھی حد سے تجاوز نہیں کرتے، اور نہ ہی ان میں سے کسی ایک سے براءت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اس شخص سے نفرت کرتے ہیں جو صحابۂ کرام سے نفرت رکھتا ہو یا ان کا برائی کے ساتھ ذکر کرتا ہو۔ ہم صحابۂ کرام کا ذکر ہمیشہ خیر و احترام کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان سے محبت دین، ایمان اور احسان کا حصہ ہے، جب کہ ان سے بغض رکھنا کفر، نفاق اور سرکشی ہے۔‘‘
اہل سنت وجماعت کے اکابر نے ہمیشہ اس بات پرزور دیا کہ اختلافات کے باوجود امت کی وحدت کو محفوظ رکھنا دینی ذمہ داری ہے۔ وحدت کا مطلب عقائد میں یکسانیت نہیں، بلکہ باہمی احترام، علمی انصاف اور مشترک دینی اصولوں کی حفاظت ہے۔مولانااحمد رضا خان بریلوی، اشرف علی تھانوی، شبیر احمد عثمانی، حسین احمد مدنی اور دیگرعلما کے درمیان متعدد فقہی اور فکری اختلافات کے باوجود ان سب کی علمی روایت میں ایک مشترک وصف یہ تھا کہ دین کے بنیادی مصادر، علمی استدلال اور شرعی آداب کو اہمیت دی جاتی تھی، خصوصا نصب و رفض کے حوالے سے ہندوستان میں دو اہم مسالک بریلوی اور دیوبندی متحد رہے۔ اسی طرح شیعہ سنی اختلافات کی تاریخ میں بھی ایسے ادوار ملتے ہیں جب علمی مباحث جاری رہے، مگر معاشرتی روابط مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شدید علمی اختلاف اور سماجی امن ایک ساتھ موجود رہ سکتے ہیں، بشرطےکہ زبان اور رویہ علمی ہو، اشتعال انگیز نہ ہو۔
زیر نظر مقالہ اسی پس منظر میں کسی شخصیت یا جماعت کے خلاف مقدمہ نہیں، بلکہ اہل سنت کے اسی علمی اور معتدل منہج کی بازیافت کی ایک کوشش ہے۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اہل سنت کی اصل روایت نہ رفض ہے نہ نصب، نہ افراط ہے نہ تفریط، بلکہ ان کا راستہ وہی ہے جس میں تمام صحابۂ کرام کا احترام، اہل بیت اطہار کی محبت، تاریخی انصاف، علمی دیانت اور اختلاف میں ادب سب ایک ساتھ جمع ہو جاتے ہیں۔
عالمی سطح پر مسلم آبادی کی عمومی مذہبی درجہ بندی میں سنی اور شیعہ دو بڑی شناختیں سمجھی جاتی ہیں۔ وسیع سماجی اور مردم شماری کے استعمال میں سنی سے عموماً وہ مسلمان مراد لیا جاتا ہے جو خود کو شیعہ نہیں کہتا اور قرآن، سنت، خلافت راشدہ اور جمہور صحابہ کی منتقل کردہ دینی روایت سے وابستگی ظاہر کرتا ہے۔ اس وسیع دائرے میں سلفی، وہابی، اشعری، ماتریدی اور مختلف فقہی مکاتب شامل ہو سکتے ہیں۔ برصغیر میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور جماعت اسلامی یا مودودی فکر سے متاثر بہت سے لوگ بھی اپنے آپ کو سنی یا اہل سنت کہتے ہیں، اگرچہ ان کے فروعی عقائد، فقہی ترجیحات، صوفیانہ اعمال اور مذہبی سیاست میں نمایاں اختلافات ہیں۔
شیعہ ایک یکساں داخلی وحدت نہیں، بلکہ متعدد اعتقادی اور فقہی روایتوں کا مجموعہ ہے، جن میں اثناعشری، اسماعیلی اور زیدی شناختیں معروف ہیں۔ ہندوستان میں اثناعشری شیعہ روایت بالخصوص اودھ اور لکھنؤ کی تاریخ، مجالس، امام باڑوں، مرثیوں اور عزاداری کے ذریعے نمایاں رہی ہے۔ اس مقالے میں پوری شیعہ آبادی پر لفظ رافضی کا اطلاق نہیں کیا گیا ہے، کیوں کہ سنی مصادر میں بھی مختلف شیعہ فرقوں اور افراد کے عقائد کے درمیان فرق ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اسی طرح ہرسنی تنقید کو ناصبیت کہنا بھی اصطلاحی اور تاریخی احتیاط کے خلاف ہے۔
اس مقالے میں اہل سنت کا لفظ پہلے اپنے عمومی عالمی مفہوم میں استعمال ہوگا، پھر ہندوستانی سیاق میں خاص طور پر سنی بریلوی روایت پر توجہ دی جائے گی۔ اس تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ بریلوی روایت نے ہندوستان میں تعظیم رسالت، محبت اہل بیت، احترام صحابہ، حنفی فقہ اور صوفیانہ ثقافت کو ایک مربوط مذہبی مزاج میں جمع کیا ہے۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی اس روایت کے سب سے موثرعلمی نمائندوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اوشا سانیال لکھتی ہیں:
“Those who follow me (the Prophet) and my sahaba, those, that is, who follow the sunna. There is another riwayat [report] which says, ‘That [elect group] is the jama’at, that is, the great group of Muslims known as the Sawad-e A’zam. Whoever separates himself from it separates himself in hell. That is why the name of the elect group is Ahl-e sunnat wa jama’at.'”
In attending here to the Barelwi definition of themselves as the Ahl-e Sunnat wa Jama’at, the focus shifts … to consideration of the Barelwis as ‘ulama’: as scholars of Qur’an, hadis, fiqh and related fields.
Ahmad Riza saw himself primarily as an ‘alim rather than a sufi, and was so perceived by his followers. Given his belief in the complementary roles of shari’a and tariqa in a Muslim’s life, and his insistence that the shari’a should be accorded precedence over tariqa…’’
’’وہ لوگ جو میری (نبی کی) اور میرے صحابہ کی پیروی کریں، یعنی سنت کی پیروی کریں۔ ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ یہ (نجات پانے والا گروہ) ’’الجماعت‘‘ ہے، یعنی مسلمانوں کی وہ عظیم جماعت جسے ’’سوادِ اعظم‘‘ کہا جاتا ہے۔ جو شخص اس سے الگ ہو گیا، وہ جہنم میں جا پڑا۔ اسی لیے اس نجات یافتہ جماعت کا نام ’’اہلِ سنت وجماعت‘‘ رکھا گیا ہے۔بریلویوں کی اپنی شناخت کو اہلِ سنت وجماعت کے طور پر سمجھنے کے بعد توجہ لازماً اس امر کی طرف منتقل ہوتی ہے کہ انہیں علما کی حیثیت سے دیکھا جائے، یعنی ایسے اہلِ علم جو قرآن، حدیث، فقہ اور متعلقہ علوم کے ماہر ہوں۔
احمد رضا خان بنیادی طور پر خود کو ایک صوفی کے بجائے ایک عالمِ دین سمجھتے تھے، اور ان کے پیروکار بھی انہیں اسی حیثیت سے دیکھتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ ایک مسلمان کی زندگی میں شریعت اور طریقت ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں، تاہم وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ طریقت پر ہمیشہ شریعت کو فوقیت حاصل ہونی چاہیے‘‘۔ ([2])
موضوع، سوال اور منہج تحقیق
صحابہ کرام اور اہل بیت نبوی کے بارے میں اختلاف اسلامی تاریخ کے حساس ترین مباحث میں سے ہے۔ زیربحث شخصیات محض تاریخی کردار نہیں، بلکہ عقیدے، حدیث، خلافت، امامت اور امت کی اجتماعی یادداشت سے وابستہ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی اختلافات سے بعد کی صدیوں میں مستقل مذہبی تعبیرات اختیار کی گئیں۔ بعض مکاتب فکر میں اہل بیت کی مظلومیت اور حق امامت کو شناخت کا مرکز بنایا گیا، جب کہ اہل سنت نے اہل بیت کی محبت کے ساتھ خلفاے راشدین اور جمہور صحابہ کی عدالت و حرمت کو بھی بنیادی حیثیت دی۔
تحقیق کا مرکزی سوال یہ ہے کہ جب ہندوستانی اہل سنت، بالخصوص سنی بریلوی مکتب فکر کی اصولی تعلیمات صحابہ اور اہل بیت دونوں کی تعظیم پر قائم ہیں تو اس کے بعض عوامی حلقوں میں نصب یا رفض سے قریب سمجھے جانے والے رجحانات کیوں نظر آنے لگے ہیں؟
یہ سوال بھی توجہ طلب ہے کہ جب دو انتہاؤں کے درمیان راہ اعتدال پہلے ہی علمی طور پر متعین اور نسبتاً آسان تھی تو معاصراہل سنت کے بعض حلقوں نے اسی معتدل منہج کواختیار کرنے کے بجائے ایسے رجحانات کو کیوں فروغ دیا جو مسلکی کشیدگی اورباہمی تقسیم کا سبب بنے؟
ان سوالوں کے جواب کے لیے اصولی عقیدے، علمااوراداروں کے مناظرانہ بیانیے اورعوامی مذہب وخطابت کے درمیان فرق ضروری ہے۔ کسی خطیب کی غیر محتاط تقریرکو پورے مکتب یا مولانا احمد رضا خان بریلوی کی طرف منسوب کرنا درست نہیں، جیسے کسی قدیم فتویٰ کو اس کے سوال، فقہی سیاق اور اصطلاحی درجہ بندی سے الگ کرکے موجودہ سیاسی حالات پر چسپاں کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
نصب و رفض: مفہوم اور علمی حدود
عربی مادہ ’’ن ص ب‘‘ میں ’’قائم کرنے‘‘ یا’’مقابل کھڑے ہونے‘‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ فرقہ وارانہ اصطلاح میں ناصبی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ یا اہل بیت نبوی سے دینی عداوت رکھے، ان کی ثابت شدہ فضیلت کی تحقیر کرے یا محض بغض اہل بیت کی بنا پر ان کے دشمنوں کی حمایت کرے۔ ابتدائی تاریخ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سیاسی اختلاف رکھنے یا جنگ میں مقابل آنے والے ہر فرد کو اہل سنت نے صرف اسی بنا پر ناصبی نہیں کہا، سیاسی نزاع، اجتہادی خطا اور قلبی عداوت میں فرق رکھا گیا۔([3])
اس تعریف کی رو سے کسی تاریخی روایت کی سند پرتنقید، شیعہ مکتب فکر کے کسی کلامی دعوے کا رد، خلافت شیخین کو برحق ماننا، یا جدید ایران کی کسی سیاسی پالیسی سے اختلاف بذات خود ناصبیت نہیں ہے۔ اس کے برعکس حضرت علی، حضرت فاطمہ، امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہم کی تحقیر یا ان سے دینی دشمنی اہل سنت کے اصول سے متصادم ہے۔ صحابہ کے دفاع کے نام پر کربلا کی اخلاقی معنویت گھٹانا یا اہل بیت کے مصائب کو غیراہم دکھانا بھی اس اعتدال کو مجروح کرتا ہے۔
’’رفض‘‘ کے لغوی معنی ’’ترک یا رد کرنے‘‘ کے ہیں۔ سنی علم کلام میں یہ لفظ بالخصوص ان غالیانہ عقائد کے لیے معروف ہوا جن میں خلافت شیخین کا انکار، جمہور صحابہ کی عدالت کو رد کرنا، ان کی تکفیر یا تنقیص، امہات المومنین پر بہتان یا دوسرے شدید غلو آمیز تصورات پائے جائیں۔ تاہم تمام شیعہ فرقوں اورہر شیعہ فرد کو ایک حکم میں رکھنا روایتی فقہی احتیاط کے مطابق نہیں ہے۔ اہل بیت سے زیادہ عقیدت، امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر غم کا اظہار کرنایا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کے عہد کے اختلافات میں برحق سمجھنا اپنے آپ میں رفض نہیں ہے۔([4])
معاصرعوامی زبان میں دونوں اصطلاحات کو اکثرعلمی حدود سے باہر نکال دیا گیا ہے۔ کبھی شیعہ تعبیرسے اختلاف کرنے والے کسی بھی سنی کو ناصبی کہہ دیا جاتا ہے، اور کبھی شیعہ ایران سے ہمدردی رکھنے والے ہر شخص، عزاداری میں شریک سنی، یا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے تاریخی کردار پر سوال اٹھانے والے کو رافضی کہا جاتا ہے۔ اس توسیع سے اصطلاحیں علمی تجزیے کے بجائے فرقہ وارانہ سبّ و شتم کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ اس مقالے میں نصب و رفض کو اشخاص پر جلدی حکم لگانے کے لیے نہیں ،بلکہ اہل سنت کے اصولی توازن سے دو مختلف انتہاؤں کو سمجھنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
اہل سنت کا اعتقادی توازن
اہل سنت کی روایت میں صحابہ اور اہل بیت کے درمیان کوئی اصولی تضاد نہیں ہے۔ اہل بیت خود صحابہ کرام کے جلیل القدر افراد میں شامل ہیں۔ حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کے فضائل حدیث اور سنی لٹریچر میں مستقل ابواب کے تحت بیان ہوئے ہیں، جب کہ خلفاے راشدین کی ترتیب خلافت اور عمومی ترتیب فضیلت حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کے مطابق تسلیم کی گئی ہے۔
اس ترتیب کا مقصد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقام کو کم کرنا نہیں، بلکہ سنی اجماعی روایت کی وضاحت ہے۔جیساکہ بیان کیا گیا کہ امام ابو جعفر طحاوی نے صحابۂ رسول سے محبت، کسی ایک کی محبت میں غلو نہ کرنے، کسی صحابی سے براءت اختیار نہ کرنے اور سب کا ذکرخیر سے کرنے کو اہل سنت کے عقیدے کا حصہ قرار دیا ہے۔([5])
اس اصول سے اہل بیت سے محبت اور صحابہ کی عمومی عدالت دونوں کی حفاظت ہوتی ہے۔ قرآن، حدیث، سیرت اور شریعت کی عملی روایت بڑی حد تک صحابہ ہی کے واسطے سے امت تک پہنچی ہے، اس لیے ان کی اجتماعی دیانت کو کلی طور پر مجروح کرنا اسلامی علمی روایت کی بنیادوں کو کم زورکرتا ہے۔
دوسری جانب صحابہ کے دفاع کو اہل بیت کی مظلومیت یا ثابت فضائل کے انکار کا ذریعہ بنانے کو بھی سنی منہج نہیں کہہ سکتے۔
برصغیر کے بیشتر سنی بریلوی فقہی طور پرحنفی اوراعتقادی طور پر ماتریدی روایت سے وابستہ ہیں۔ امام طحاوی، امام نسفی اور ان کی شروح میں خلافت راشدہ، صحابہ کی تعظیم اور اہل بیت کی محبت ایک ساتھ بیان ہوتی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے زمانۂ خلافت کے بڑے نزاعات میں برحق سمجھنے کے باوجود مخالف صحابہ کی تکفیر، تفسیق یا سب وشتم کو قبول نہیں کیا گیا۔ مشاجرات صحابہ کو عوامی طعن و تشنیع کا موضوع بنانے کے بجائے علمی احتیاط، حسن ظن اور کف لسان کو ترجیح دی گئی۔
ہندوستان میں تاریخی تشکیل
ہندوستان میں شیعہ سنی تعلقات کی تاریخ محض تصادم کی تاریخ نہیں ہے۔ دہلی سلطنت اور مغلیہ عہد میں مختلف فقہی و اعتقادی جماعتیں ایک مشترک سیاسی و تہذیبی ماحول میں موجود رہیں۔ دربار، فوج، علم، ادب اور صوفی خانقاہوں میں مختلف وابستگیوں کے لوگ ملتے تھے۔ چشتی، قادری، سہروردی اور نقش بندی روایتوں میں اہل بیت کی منقبت، سلام اور ذکرعام تھا، اور شیعہ وسنی عوام متعدد مزارات وخانقاہوں سے عقیدت رکھتے تھے۔ اس تہذیبی اشتراک سے بعد کی سنی بریلوی ثقافت میں محبت اہل بیت کی مضبوط موجودگی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔([6])
اٹھارویں صدی میں مغل اقتدارکی کم زوری کے بعد اودھ ایک طاقت ور نیم خود مختارریاست کے طور پرابھرا۔ اس کے نواب اثناعشری شیعہ تھے۔اس وقت لکھنؤ سیاسی، ادبی اور مذہبی سرگرمیوں کا مرکزبنا۔ امام باڑوں، عزاخانوں، محرم کی مجالس، مرثیہ نگاری اور شیعہ فقہ کی سرپرستی سے شہر کو شیعیت کی نمایاں مرکزیت ملی، مگرساتھ ہی سنی مدارس، مساجد، خانقاہیں اورعلما بھی موجود رہے۔ ایک ہی شہری فضا میں قربت اور رقابت دونوں بڑھے، مذہبی شعائر عبادت کے ساتھ اجتماعی شناخت کے اظہار کا ذریعہ بھی بننے لگے۔ جسٹن جونز رقم طراز ہیں:
For instance, study after study has documented participation by diverse religious communities – Sunnis, Hindus and others – in the nominally Shi’a Muharram festival, held in commemoration of the martyred Imams.
Equally, many studies of these Sufi orders (tariqas) most influential in South Asia, such as the Chishtiya and Qadiriya, have demonstrated how normative Sufi practice has shared certain synergies with Shi’ism. Such orders, most of which trace the lineage of their silsilas back to the Imams, have historically sanctioned devotion to the family of the Prophet as an act of piety, and at local levels Sufi cults of devotion to ‘Ali and his descendants have often overlapped with ‘popular’ Shi’a practice in a way that belies the construction of difference between traditions at the level of some formal clergy.
’’متعدد تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شہداے اہلِ بیت کی یاد میں منعقد ہونے والے، بظاہر شیعہ مذہبی شعار سمجھے جانے والے محرم کے اجتماعات میں سنی، ہندو اور دیگر مذہبی برادریوں کے افراد بھی شریک ہوتے رہے ہیں۔اسی طرح جنوبی ایشیا کے بااثر صوفی سلاسل، مثلاً: چشتیہ اور قادریہ پر ہونے والی متعدد تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ صوفیانہ مذہبی عمل میں بعض پہلو ایسے رہے ہیں جو تشیع کے ساتھ ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ ان سلاسل کی اکثریت اپنے روحانی سلسلے کو ائمۂ اہل بیت تک پہنچاتی ہے، تاریخی طور پر اہلِ بیتِ نبوی سے عقیدت کو تقویٰ و دین داری کا مظہر قرار دیتی ہے اور مقامی سطح پر حضرت علی اور ان کی اولاد سے وابستہ صوفیانہ عقیدت متعدد مواقع پر عوامی شیعہ مذہبی روایت کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ رہی ہے کہ دونوں روایتوں کے درمیان کھینچی گئی رسمی حدبندی پوری طرح نمایاں نہیں رہتی‘‘۔([7])
یہاں احتیاط زمانی اس معنی میں ضروری ہے کہ اودھ کی ابتدائی شیعہ سنی کشمکش کو براہ راست بریلوی رد عمل کہنا درست نہیں ہے، کیوں کہ منظم بریلوی شناخت بعد میں مولانا احمد رضا خان کے عہد میں واضح ہوئی۔ البتہ اس تاریخی ماحول سے وہ سوالات پیدا ہوئے جن سے انیسویں اور بیسویں صدی کے سنی علما نے بحث کی: تبرا کی حدود، صحابہ کی حرمت، عزاداری میں سنی شرکت، اہل بیت سے عقیدت اور سنی شناخت کا باہمی تعلق۔
تبرا اور مدح صحابہ کے تنازعات سے ان بحثوں کوعوامی سطح ملی۔ بعض شیعہ مجالس میں ان شخصیات پر لعن یا سخت تنقید کی گئی جنہیں اہل بیت کے حقوق کا مخالف سمجھا گیا۔ یہ چیز سنی آبادی کے لیے اشتعال کا سبب بنی۔ رد عمل میں مدح صحابہ کے اجتماعات اور جلوس شروع ہوئے اور فضائل معاویہ کے ساتھ خطاے معاویہ کا انکار کیا گیا۔رضی اللہ عنہم۔
مدح صحابہ اپنے اصل مفہوم میں اہل سنت کے مثبت عقیدے کا اظہار ہے، لیکن جب یہ صرف مخالف کے مقابل طاقت کا مظاہرہ یا اشتعال کا ذریعہ بنے تو ظاہر ہے اس سے صرف مذہبی کشیدگی بڑھتی ہے۔ اسی طرح اہل بیت کی منقبت اگرصحابہ کی تنقیص کے ساتھ وابستہ ہو جائے تو وہ اہل سنت کے اصولی منہج سے ہٹ جاتی ہے۔
۱۹۳۸ اور ۱۹۳۹ کے لکھنؤ واقعات میں یہ کشیدگی مذہبی آزادی، شہری حق، جلوس، حکومتی پابندی اور مسلم سیاسی نمائندگی کے سوالوں سے وابستہ ہو گئی۔ گرفتاریوں اوراحتجاج سے متحدہ صوبہ جات کی سیاست متاثرہوئی اورمسلم لیگ کے داخلی اتحاد پربھی اس کا اثر پڑا۔ وینکٹ دھولی پالا اور جسٹن جونز کی تحقیقات سے یہ واضح ہوتاہے کہ یہ تنازعہ صرف اعتقادی اختلاف نہیں تھا، بلکہ نوآبادیاتی نظم، عوامی سیاست اور جدید فرقہ وارانہ شناخت کی تشکیل سے وابستہ تھا۔([8]) اس پس منظرکے بغیراس دورکے سنی رد رفض کی شدت اور مدح صحابہ کی عوامی اہمیت پوری طرح سمجھ میں نہیں آتی۔
مولانا احمد رضا خان بریلوی کا موقف
مولانا احمد رضا خان بریلوی کی فکرمیں تعظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنیادی مرکز ہے۔ اسی نسبت سے اہل بیت، ازواج مطہرات، صحابہ کرام، اولیا اور علما کی تعظیم ان کے مذہبی نظام کا حصہ بنتی ہے۔ ان کی تحریروں میں محبت اہل بیت اوررافضی غلو کی مخالفت ساتھ ساتھ ملتی ہے۔ انہوں نے ناصبی کواہل بیت کا دشمن سمجھا اورایسے رویے کو اہل سنت سے منحرف قرار دیا، جب کہ خلفاے راشدین، امہات المومنین یا صحابہ کی توہین پرمشتمل غالیانہ عقائد کا سخت رد کیا۔([9])
ان کے منہج کا خلاصہ یہ ہے کہ چاروں خلفاے راشدین برحق ہیں، عمومی ترتیب فضیلت حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اورحضرت علی رضی اللہ عنہم کی ترتیب خلافت پر مبنی ہے، اہل بیت کی محبت ایمان اور ادب رسول کا حصہ ہے، اہل بیت سے عداوت ناصبیت ہے، صحابہ کی توہین اہل سنت کے عقیدے کے خلاف ہے اورشیعی غلو اورناصبی عداوت دونوں مردود ہیں۔ امام حسین رضی اللہ عنہ مظلوم اورحق کے عظیم نمائندہ ہیں، مگرمحبت حسین کو صحابہ دشمنی میں بدلنا جائز نہیں۔ اسی طرح دفاع صحابہ کو کربلا کے ظلم یا اہل بیت کے مقام کو گھٹانے کا وسیلہ نہیں بنایا جا سکتا۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مولانا احمد رضا خان بریلوی کا عمومی طریقہ سنی احتیاط اور احترام ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کوافضل اوران کے موقف کو راجح ماننے کے باوجود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت کے سبب سب و شتم کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ نقطہ معاصر ہندوستانی خطابت میں خاص اہمیت رکھتا ہے، کیوں کہ ایک طرف بعض مقررین دفاع صحابہ کو اس طرح پیش کرتے ہیں جیسے اہل بیت کی مظلومیت کا ذکرمشتبہ ہو، اور دوسری طرف بعض افراد محبت اہل بیت کے بیان میں صحابہ کے بارے میں اہل سنت کا احتیاط کھو دیتے ہیں۔ دونوں طرز مولانا احمد رضا خان کے جامع منہج کی ناقص نمائندگی کرتے ہیں۔
مولانا احمد رضا خان کی علمی شناخت کو صرف رد تشیع تک محدود کرنا بھی تاریخی غلطی ہے۔ ان کی علمی کاوشوں کا بڑا حصہ حنفی فقہ، عبادات، عقائد، تعظیم رسالت، تصوف، اصلاح معاشرہ اورعوامی دینی رہ نمائی سے متعلق ہے۔ اوشا سانیال کی تحقیق ان کی تحریک کو ایک حنفی، صوفی اور سنی اصلاحی روایت کے طور پر دکھاتی ہے۔([10]) لہذا کسی جدید تنظیم، مقرریا وائرل کلپ کوان کی طرف منسوب کرنے سے پہلے دیکھا جانا چاہیے کہ آیا وہ ان کے وسیع علمی منہج، فقہی احتیاط اور جامع تعظیمی نظام سے واقعی مطابقت رکھتا بھی ہے یا نہیں۔
تقسیم ہند کے بعد ہندوستانی صورت حال
۱۹۴۷کے بعد ہندوستان اورنئے قائم ہونے والے پاکستان میں شیعہ سنی تعلقات سے مختلف سیاسی سمتیں پیدا ہوئیں۔ ہندوستان میں مسلمان اقلیت بن گئے اور شیعہ و سنی دونوں کومذہبی آزادی، شخصی قانون، تعلیمی اداروں، وقف، سیاسی نمائندگی اور فرقہ وارانہ امن جیسے مشترک مسائل درپیش ہوئے۔ محرم، جلوس اور بعض مقامی تنازعات باقی رہے، مگر قومی سطح پر مشترک اقلیتی حیثیت سے تعاون کے مواقع بھی پیدا ہوئے۔ پاکستان میں ریاستی اسلامی شناخت اور فقہی قانون کے مباحث سے فرقہ وارانہ سوال کو ایک مختلف سطح ملی۔ اس فرق کا ذکر یہاں صرف ہندوستانی ماحول کی خصوصیت واضح کرنے کے لیے ہے۔
ہندوستان میں سنی بریلوی علما کی توجہ بڑی حد تک دینی تعلیم، مساجد و مدارس، خانقاہی روایت، مذہبی آزادی اور اپنی سنی شناخت کے تحفظ پررہی۔ بریلی، بدایوں، کچھوچھہ، مبارک پور، مارہرہ، اجمیر اور دوسرے علمی و روحانی مراکزسے محبت رسول، منقبت اہل بیت اورتعظیم صحابہ کی روایت جاری رہی۔ مقامی سطح پر اختلافات کے باوجود ہندوستانی آئینی نظم اورمذہبی تکثیریت سے فرقہ وارانہ تنظیمی سیاست کو وہ شکل نہیں ملی جو بعض ہم سایہ خطوں میں پیدا ہوئی۔ اس لیے برصغیرکے تمام سنی بریلوی حلقوں کوایک ہی سیاسی تجربے سے تعبیر کرنا درست نہیں لگتا۔
بنگلہ دیش، نیپال، خلیجی ممالک اور برطانیہ میں سنی بریلوی اظہارکی صورتیں بھی جدا ہیں، مگراس مقالے کا موضوع ان کا تفصیلی تقابل نہیں ہے۔ اتنا اشارہ کافی ہے کہ ہجرت، قومی ریاست، اقلیت یا اکثریت کی حیثیت، مقامی قانون اور بیرونی مالی و ابلاغی روابط مذہبی بیانیے کو متاثر کرتے ہیں۔ ہندوستانی صورت حال کو سمجھنے کے لیے خارجی مثالیں معاون ہو سکتی ہیں، مگر انہیں ہندوستان پر مفروضہ حاکم نہیں بنایا جا سکتا۔
محبت اہل بیت، محرم اور سنی شناخت
سنی بریلوی مذہبی ثقافت میں اہل بیت کی محبت محض نظری عقیدہ نہیں، بلکہ نعت، منقبت، سلام، میلاد، ذکر کربلا، ایصال ثواب اور خانقاہی روایت میں زندہ تجربہ ہے۔ اسی وجہ سے ہندوستان کے بہت سے مقامات پر سنی عوام محرم کی مجالس یا عوامی رسوم سے ثقافتی قربت محسوس کرتے ہیں۔ یہ قربت اپنے آپ میں شیعی عقائد کی قبولیت نہیں، فقہی اور اعتقادی حدیں برقرار رکھتے ہوئے امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر غم، ان کے صبر و حق گوئی کا ذکر اور اہل بیت سے محبت اہل سنت کے مذہبی وجدان کا حصہ ہے۔مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ثقافتی اشتراک کواعتقادی یکسانیت سمجھا جائے یا کسی رسم میں شرکت کو پورے فقہی موقف کا قائم مقام بنا دیا جائے۔
اسی طرح ردعمل میں ہرمقامی رسم، تعزیے، مرثیے یا ذکرکربلا کو بلا تفصیل رفض کہنا بھی علمی طور نہیں کہا جاسکتا۔ معتبرعلما کی ذمہ داری ہے کہ وہ عقیدے، فقہ، ثقافت اور مقامی عرف کے فرق کوواضح کریں، جوعمل ناجائز سمجھتے ہیں اس پردلیل کے ساتھ گفتگو کریں اورعوام کواس زبان سے محفوظ رکھیں جو ایک پورے فرقے یا خاندان کو تحقیر کا نشانہ بناتی ہو۔
اہل سنت کی شناخت کا مثبت بیان زیادہ پائیدار ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، اہل بیت کی تعظیم، ازواج مطہرات اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حرمت، چاروں خلفاے راشدین کی حقانیت، اورمشاجرات میں کف لسان۔ اگر شناخت صرف کسی دوسرے فرقے کی نفی سے بنے تو اس میں خوف اور تصادم غالب رہتا ہے، اگر وہ اپنے مثبت اعتقادی واخلاقی اصولوں سے تشکیل پائے تو علمی اعتماد اورسماجی امن دونوں مضبوط ہوتے ہیں۔
معاصر خطابت اور ڈیجیٹل مذہبی فضا
گذشتہ چند دہائیوں میں نصب و رفض کا موضوع کتابی مباحث سے نکل کرعوامی خطابت، ٹی وی، یوٹیوب، فیس بک، واٹس ایپ اورمختصر ویڈیوز کا حصہ بن گیا۔ اکابراہل سنت اوراسلاف کی علمی روایت میں عالم کی حیثیت، اساتذہ، سند، تصنیف، فقہی مہارت، عربی مصادر اورعلمی قبولیت سےمتعین ہوتی تھی۔ آج کسی مقرر کی مقبولیت میں سامعین، فالوورز، جذباتی انداز اور ویڈیو کی رسائی بھی موثر ہونے لگی ہے۔ اس تبدیلی سے دینی علم تک آسان رسائی تو ضرور ہوئی ہے، مگر تحقیق سے کم واقف افراد کو بھی غیرمعمولی مذہبی رسوخ حاصل ہوگیا جو ملت کے لیے بے حد خطرناک ثابت ہوئی۔([11])
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں مختصر، متشدد اور متنازعہ مواد زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ ایک طویل علمی بحث سے چند ثانیوں کا جملہ الگ ہو کر پھیلتا ہے یا وائرل ہوتا ہے، سیاق ختم ہوتا ہے اور مخالف گروہ کے خلاف شناختی علامت بن جاتا ہے۔ ناصبی، رافضی، گستاخ یا گمراہ جیسے الفاظ فقہی شرائط سے الگ ہو کر تبصرے اور نعروں میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس رجحان کو صرف بریلوی مکتب سے منسوب کرنا بھی درست نہیں، بلکہ یہ پورے مسلم ڈیجیٹل ماحول کا مسئلہ ہے، لیکن ہندوستانی اہل سنت کے اداروں کو اپنی روایت کی نمائندگی کے لیے اس کا سنجیدہ جواب دینا ہوگا۔
ہم زیرنظر مقالے کو ایسے وقت میں ترتیب دے رہے ہیں جب جین زی پر ملک گیر بحث چل رہی ہے۔ اصل مسئلہ نسل کا نہیں، بلکہ تربیت کا ہے۔ ہر دور میں کم علم مقرر اوربڑے بڑے محقق دونوں موجود رہے، مگر پہلے غیرمستندآواز کی رسائی محدود ہوتی تھی۔ آج بہت سے نوجوان علما اصل عربی مصادر، جدید جامعات اورتحقیقی جرائد سے وابستہ قابل قدر کام کررہے ہیں، جب کہ کچھ مقبول آوازیں خطابت کو تحقیق کا قائم مقام بنا دیتی ہیں۔ اس لیے نئی نسل کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے علمی تربیت، ماخذ شناسی، تاریخ نویسی، حوالہ جاتی دیانت، میڈیا خواندگی اوراخلاقی جواب دہی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
قرآن مجید کا حکم ہے کہ جس بات کا علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو اور خبر آنے پر تحقیق کرو تاکہ لاعلمی میں کسی قوم کو نقصان نہ پہنچے۔ قرآن مجید کا حکم ہے:
وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ
(اور جس بات کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو (الإسراء 17:36)
یہ بھی ارشاد ہے: إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ. اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو (الحجرات 49:6)۔
نصب و رفض جیسے موضوع میں یہ اصول زیادہ اہم ہے، کیوں کہ غلط نسبت کسی فرد کی عزت، کسی ادارے کی ساکھ اورمقامی امن کو متاثر کرسکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلاعلم فتوی دینے والے جاہل پیشواؤں سے خبردار فرمایاہے۔ لہذا وائرل کلپ، نامکمل اقتباس یا غیر مصدقہ پیغام کسی شخص یا گروہ پراعتقادی حکم لگانے کے لیے کافی نہیں ہے۔
صحیح بخاری (حدیث: 100) اور صحیح مسلم (حدیث: 2673) میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا.
’’بے شک اللہ تعالیٰ علم کو بندوں کے سینوں سے اچک کر نہیں اٹھائے گا، بلکہ علما کو اٹھا لینے کے ذریعے علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گے۔ ان سے مسائل پوچھے جائیں گے، وہ علم کے بغیر فتویٰ دیں گے، نتیجتاً خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘([12])
علمی اور سماجی ذمہ داری
ہندوستانی مدارس میں فقہ، حدیث، تفسیر اور کلام کے ساتھ تحقیق کے اصول، تاریخ نویسی، ماخذ شناسی، تقابلی فرقہ وارانہ مطالعہ، جدید ابلاغیات اور ڈیجیٹل اخلاقیات شامل کی جا سکتی ہیں۔ مقصد روایت کو کم زور کرنا نہیں، بلکہ طلبہ کے اندریہ صلاحیت پیدا کرنا ہے کہ وہ روایت کی سند، سیاق، اصطلاح اورجدید استعمال میں فرق کرسکیں۔ خانقاہیں اپنے تاریخی کردار کے مطابق محبت، اخلاق، روحانیت اور باہمی احترام کے مراکز بنیں اورایسی مجلسوں کی حوصلہ افزائی کریں جن میں اہل بیت اورصحابہ دونوں کا ذکرادب کے ساتھ ہو۔
خطیب اور مبلغ کی ذمہ داری صرف سامعین کو متاثر کرنا نہیں، بلکہ ان کی علمی و اخلاقی تربیت بھی ہے۔ قرآن کریم میں حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین طریق گفتگو کا حکم واضح طور پر ملتا ہے۔ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ.(النحل: 125) ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کو طعنہ دینے، لعنت کرنے اور بدزبانی سے پاک قرار دیا۔([13]) جو خطابت نفرت کو ہوا دے، مگرعلم میں اضافہ نہ کرے اس سے وقتی مقبولیت تو مل سکتی ہے، مگر اسے اصلاحی سرگرمی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حساس تاریخی ناموں، مختلف مسالک اورموجودہ افراد پرگفتگو میں زبان کی شائستگی علمی دلیل کا بدل نہیں، بلکہ اس کی لازمی شرط ہے۔تحقیق اور مناظرہ دو الگ سرگرمیاں ہیں۔ مناظرہ میں ایک موقف کا دفاع اور اپنے دلائل کی قوت کو باور کرایا جاتاہے، جب کہ تحقیق میں دستیاب شواہد کا تنقیدی جائزہ لیا جاتا ہے اور مخالف دلیل کو بھی دیانت سے پیش کیا جاتا ہے۔ نصب و رفض پر تحقیقی تحریر اگر محض مناظرانہ زبان اختیار کرے تو اس کا علمی اعتماد کم ہوجاتا ہے۔ نوجوان علما اسلاف کے ردود سے استفادہ کریں ،مگر انہیں اصل مصادر، جدید تاریخی تحقیق اورواضح حوالہ کے ساتھ پڑھیں۔ کسی اقتباس کو مولانا احمد رضا خان یا دوسرے اکابر کی طرف منسوب کرنے سے پہلے مطبوعہ نسخے، جلد، مقام اور سیاق کی تصدیق ضروری ہے۔
محدود مگر باوقار بین المسالک مکالمہ بھی مفید ہے۔ اس کا مقصد اعتقادی فرق مٹانا نہیں ،بلکہ غلط نسبت، تکفیر آمیز زبان اور مقامی اشتعال کو کم کرنا ہے۔ سنی اورشیعہ علما مشترک شہری مسائل، امن، عبادت گاہوں کے احترام اورنفرت انگیز افواہوں کے رد پر تعاون کرسکتے ہیں، جب کہ اپنے اپنے موقف کو علمی وضاحت کے ساتھ برقرار رکھیں۔ وحدت کا مفہوم عقائد میں یکسانیت نہیں ،بلکہ اختلاف کے باوجود امن و انصاف کی حفاظت ہے۔
اختتامیہ
اہل سنت میں رفض و نصب کے معاصر رجحانات کو صرف تاریخی یا اعتقادی اختلافات کی توسیع سمجھ لینا اس مسئلے کی مکمل تعبیر نہیں، بلکہ اس کے پس منظرمیں عصرحاضرکے فکری، سماجی، ابلاغی اور ادارہ جاتی تغیرات بھی گہرے اثرات کے ساتھ کار فرما ہیں، بالخصوص دینی اسٹیج اور ڈیجیٹل اسکرین نے علمی قیادت کے روایتی معیار کو بڑی حد تک بدل دیا ہے، یہاں تک کہ بہت سے مواقع پر گہری علمی بصیرت، تحقیقی ریاضت اوراستنادی صلاحیت کے بجائے خطیبانہ انداز، جذباتی بیان اورعوامی مقبولیت کو علمی اہلیت کا معیارسمجھ لیا گیا ہے۔ اس فضا میں محدود مطالعہ رکھنے والے افراد نہایت پیچیدہ تاریخی، فقہی اورسیاسی مباحث کو سطحی نعروں اور جذباتی تعبیرات میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف اے آئی اور فوری معلومات تک آسان رسائی سے تحقیق کے بغیر فتویٰ بازی کا تماشہ ہے۔ یوں جس موضوع پر صدیوں سے اہل علم تفصیلی، تاریخی، فقہی، سیاسی اور اعتقادی مباحث پیش کر چکے ہیں وہی موضوع عوامی سطح پر نئی گروہ بندیوں، باہمی طعن وتشنیع اورفکری انتشارکا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ اس صورت حال میں ضرورت نئے تنازعات پیدا کرنے کی نہیں، بلکہ اس علمی اعتدال کی طرف رجوع کرنے کی ہے جسے اکابر اہل سنت نے صحابۂ کرام کے احترام، اہل بیت اطہار کی محبت اور اختلاف کے آداب کے ساتھ متعین کر دیا تھا۔
باعث تشویش ہے کہ کم علمی کے باوجود بعض افراد اظہار رائے میں غیرمعمولی جرأت کا مظاہرہ کر رہے ہیں،حتیٰ کہ وہ شخصیات بھی جن سے علمی احتیاط، تحقیق اور وقارکی توقع کی جاتی تھی، بعض اوقات مسلکی مسابقت، عوامی پذیرائی یا ادارہ جاتی اثر و رسوخ کے دباؤ میں انہی مناظرانہ اور فتویٰ بازی کے رجحانات کا حصہ بنتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں علمی اختلاف بتدریج عوامی تماشے اور مذہبی مارکیٹنگ میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اہل سنت اپنے اسلاف کے علمی ورثے کی صرف آرا کو نہیں، بلکہ اس کے منہج کو دوبارہ زندہ کریں۔ یہی وہ منہج ہے جو تحقیق کو خطابت پر، دلیل کو جذبات پر اورعلمی دیانت کو عوامی مقبولیت پر مقدم رکھتا ہے۔ یہی منہج صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے احترام، اہل بیت اطہارکی محبت، اختلاف کے آداب، فقہی احتیاط اور فکری توازن کو ایک ساتھ جمع کرتا ہے۔ اگراہل سنت اس اعتدال کو دوبارہ اپنی علمی شناخت بنا لیں تو رفض و نصب کی انتہائیں خود بخود اپنی کشش کھو دیں گی اوراختلاف، نفرت اور تکفیر کے بجائے تحقیق، انصاف اورحسن ادب کی روایت کو تقویت ملے گی۔ یہی اس مقالے کا بنیادی پیغام اور اس کی علمی دعوت ہے۔
کتابیات
- القرآن الکریم۔
- احمد، عزیز،Studies in Islamic Culture in the Indian Environment ،آکسفورڈ: کلیرنڈن پریس، 1964
- احمد بن حنبل۔ المسند
- البخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری
- بریلوی، احمد رضا خان،العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ (فتاویٰ رضویہ)، جلد 14 و 29۔ لاہور: رضا فاؤنڈیشن، جامعہ نظامیہ، لاہور، پاکستان۔
- التفتازانی، سعد الدین مسعود بن عمر، شرح العقائد النسفیۃ،کراچی: مکتبۃ المدینہ
- الترمذی، محمد بن عیسیٰ، جامع الترمذی
- جونز، جسٹن،Shi‘a Islam in Colonial India: Religion, Community and Sectarianism، کیمبرج: کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2012
- سانیال، اوشا۔ احمد رضا خان بریلوی: اِن دی پاتھ آف دی پروفیٹ (Ahmad Riza Khan Barelwi: In the Path of the Prophet)۔ آکسفورڈ: ون ورلڈ، 2005
- سانیال، اوشا، Devotional Islam and Politics in British India: Ahmad Riza Khan Barelwi and His Movement, 1870–1920، دہلی: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 1996
- شہرستانی، محمد بن عبدالکریم۔ الملل والنحل۔ تحقیق: محمد سید کیلانی۔ 2 جلدیں۔ بیروت: دار المعرفۃ، 1975۔
- الطحاوی، ابو جعفر احمد بن محمد، العقیدۃ الطحاویۃ، کراچی: مکتبۃ البشریٰ، 2009
- کیمبل، ہائیڈی اے۔ Digital Religion: Understanding Religious Practice in New Media Worlds،لندن: روٹلیج، 2013
- مسلم بن حجاج۔ صحیح مسلم
حاشیہ
[1] – ڈائرکٹر، ہمس لائیو پرائیویٹ لمیٹڈ ، و صدر، نصیریہ فاؤنڈیشن، نئی دہلی، 9873889586
[2] – سانیال، اوشا، ڈیووشنل اسلام اینڈ پولیٹکس اِن برٹش انڈیا: احمد رضا خان بریلوی اینڈ ہز موومنٹ، 1870–1920، دہلی: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 1996
سانیال، اوشا،احمد رضا خان بریلوی: اِن دی پاتھ آف دی پروفیٹ ، آکسفورڈ: ون ورلڈ، 2005
[3] – شہرستانی، محمد بن عبدالکریم۔ الملل والنحل۔ تحقیق: محمد سید کیلانی۔ بیروت: دار المعرفۃ، 1975
[4] – تفتازانی، سعد الدین مسعود بن عمر۔ شرح العقائد النسفیۃ۔ کراچی: مکتبۃ المدینہ، پاکستان
[5] – الطحاوی، ابو جعفر احمد بن محمد۔ العقیدۃ الطحاویۃ
[6] – سانیال، اُوشا، ڈیووشنل اسلام اینڈ پولیٹکس اِن برٹش انڈیا: احمد رضا خان بریلوی اینڈ ہزموومنٹ، 1870–1920۔ دہلی: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 1996
[7] – جونز، جسٹن۔ شیعہ اسلام اِن کالونیل انڈیا: ریلیجن، کمیونٹی اینڈ سیکٹیرینزم،کیمبرج: کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2012
[8] – جونز، جسٹن۔ شیعہ اسلام اِن کالونیل انڈیا: ریلیجن، کمیونٹی اینڈ سیکٹیرینزم ، کیمبرج: کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2012۔
[9] – بریلوی، احمد رضا خان۔ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ (فتاویٰ رضویہ جلد ۱۳ و جلد 29)، لاہور: رضا فاؤنڈیشن، جامعہ نظامیہ، لاہور (پاکستان)
[10] -سانیال، اوشا۔ احمد رضا خان بریلوی: اِن دی پاتھ آف دی پروفیٹ۔ آکسفورڈ: ون ورلڈ، 2005
سانیال، اوشا، ڈیووشنل اسلام اینڈ پولیٹکس اِن برٹش انڈیا: احمد رضا خان بریلوی اینڈ ہز موومنٹ، 1870–1920۔ دہلی: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 1996
[11] – ہائیڈی اے کیمبل، ڈیجیٹل ریلیجن: انڈرسٹینڈنگ ریلیجس پریکٹس اِن نیو میڈیا ورلڈز،لندن: روٹلیج، 2013
[12] – محمد بن اسماعیل البخاری، صحیح البخاری، کتاب العلم، باب کیف یقبض العلم، حدیث 100؛ مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، کتاب العلم، حدیث 2673۔
[13] – محمد بن عیسی الترمذی، جامع الترمذی، کتاب البر والصلۃ، حدیث 1977؛ احمد بن حنبل، المسند، متعدد طرق
Keywords: Ahl Al-Sunnah, Sunni Barelvi, Nasb, Rafd, Ahl Al-Bayt, Maulana Ahmad Raza Khan, Lucknow, Praise of the Companions, Tabarra

