ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا جانا

عالم امکان میں سب کچھ ممکن ہے۔ انسان ہمت تو کرے توفیق خداوندی ہر قدم پر اس کی یاوری کو تیار ہے۔ اصل یہ نہیں ہے کہ حالات خراب ہونے کے سبب معاملات ابتر ہوتے جاتے ہیں، اصل یہ ہے کہ انسان درست انداز سے سوچتا نہیں، اس کے لیے مطلوبہ تحقیق کی زحمت نہیں اٹھاتا ، وہ کھل کر بات نہیں کرتا، وہ اندر سے کڑھتا اور مرتا رہتا ہے، تحقیق وجستجو کے لیے قدم نہیں بڑھاتا، وہ قضا وقدر کے نام پر اپنے کسل وکوتاہی کے لیے عذر تلاش کرتا رہتا ہے۔ اس سے اس کی فکر غلط سمت اختیار کرلیتی ہے۔ پھر اپنے safe zoneمیں بیٹھا اپنے حالات کا مرثیہ پڑھتا رہتا ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ جو انسان آج آسمانوں پر کمندیں ڈال رہا ہے، زمین پرسجدے کی لذت سے محروم ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ جن مسلمانوں نے قرون اولیٰ میں فکر واجتہاد کے اصول مرتب کردیے، قرون اخیرہ میں تخلیقی اور اجتہادی فکر سے درماندہ رہ گئے اور آخر کیاوجہ ہے کہ یونانی اور ہندی سائنسی علوم وافکار کو زندہ کرنے والے مسلمان موجودہ انفجار علمی (explosion of knowkedge) کے عہد میں سائنس وٹکنالوجی کی سلطنت میں حاشیے پر ہیں؟ ہم بالعموم قضا ووقدر کا نام لے کر وَالْقَدرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ مِنَ اللهِ کا ورد شروع کردیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ لَيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى اور یہ کہ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ۔ حکیم الامت فرماگئے کہ پہلے فکر وعمل کی قوت فنا ہوتی ہے پھر کسی قوم کی شوکت پر زوال آتا ہے، خواہ وہ شوکت علمی ہو کہ شوکت عرفانی، شوکت اقتدار ہو کہ شوکت مال ومنال۔ یہاں یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ حکیم الامت نے عمل پر فکر کو مقدم رکھا ہے۔ گویا اشہب فکر کو صحیح سمت میں دوڑایاجائےتو تبدیلی اب بھی ممکن ہے۔ عالم امکان میں امکانات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوئے ہیں۔
اورنگ زیب کی وفات 1707ء، انقلاب 1857ءاور تقسیم وطن 1947 ءہماری تاریخ کے خاص سنگ میل ہیں۔سیاسی پسپائی کے بعد امت کی واحد امید گاہ علما تھے جو بدقستمی سے 1824ء میں شاہ عبد العزیز محدث کی وفات کے بعد گروہوں اور فرقوں میں بٹ کر انگریزوں کی طرف سے ملی آزادی کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف زبانی وقلمی جنگ کے مختلف محاذ کھولے ہوئے تھے۔ شکوہ یہ نہیں ہے کہ وہ اصلاح کے لیے نہیں اٹھے، شکوہ یہ ہے کہ وہ اس شدت سے اٹھے کہ ان کی اصلاحات، فسادات مسلسل کا عنوان بن گئیں۔
1894ء میں بعض علما پہلی بار سنجیدہ ہوئے اور تعلیمی اصلاح اور ملی اخوت ومفاہمت کا علم بلند کیا، لیکن نصف صدی سے زائد عرصے تک ان کے منہ کو مناظروں اور مجادلوں کا جو خون لگا ہوا تھا، اس نے اصلاح کے بجائے فساد کے ایک نئے عنوان سے انہیں آشنا کر دیا۔
تقسیم ہند کے ۸۰ سال ، زوال خلافت کے سو سال اور شاہ عبد العزیز کی وفات کو ۲۰۰ سال ہونے کو آئے، ہماری سیاسی و سماجی حالت بد سے بد تر کی طرف گا مزن ہے۔ یہ تو شکر کیجیے موجودہ حکومت کا کہ بقول اقبال:
مسلماں کو مسلماں کردیا طوفان ’مغرب‘ نے
یہاں لفظ ’’مغرب‘‘ کو کسی ’’سیاسی لفظ‘‘ سے ہرگز نہ بدلیں۔یا بقول جگر:دل کو دعائیں دو تمہیں قاتل بنا دیا
الحمد للہ! اب عام مسلمانوں میں خود احتسابی اور بیداری کی ایک لہر محسوس ہونے لگی ہے۔جہاں تک ہماری اپنی برادری – طبقۂ علما- کی بات ہے تو :
- ان میں ایک گروہ اب بھی خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہے اور جونہی جاگتا ہے اپنے لفظوں کے زہر سے فضا کو مسموم بنا جاتا ہے ۔
- ایک دوسرا طبقہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ سارے مسائل کی جڑ مذہب سے دوری ہے اور مذہب سے اس کی مراد اس کی مخصوص مسلکی ثقافت ہے۔
- ایک تیسرا طبقہ ہے جو مسائل کا تنقیدی تجزیہ کرتا ہے۔ نجی مجالس میں اس پر بات کرتا ہے، اس کے لیے علمی مجالس بھی سجاتا ہے، لیکن پھر بات وہیں رہ جاتی ہے، اس میں تسلسل نہیں ہوتا اور نہ عوام وخواص تک وہ بات پہنچ پاتی ہے۔
- ایک چوتھا طبقہ ہے جو مسائل کا تجزیہ و تحلیل کرتا ہے، لیکن دوسرے سے سننے کو روادار نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی تمام تر روشن خیالی کے باوجود وہ دوسروں سے تحفظات رکھتا ہے۔ اس پر خود دس فتوے جڑے ہوتے ہیں ، لیکن وہ دوسروں کے بارے میں کہتا ہے کہ فلاں مردود ہے۔ اس پر فتویٰ لگاہوا ہے۔ اس سے فاصلہ رکھا کرو۔
الغرض سیاسی، سماجی، مذہبی ومسلکی موضوعات پر مختلف الخيال صاحبان نظر کے علمی و اخلاقی تحلیل و تجزیہ کا تسلسل کہیں بھی نہیں ہے۔ اب اگر آپ اس کے لیے کسی کو دعوت دیں تو آپ کی دعوت کی نوعیت پر غور کرنے کے بجائے فورا ًآپ کی نیتوں اور مقاصد کا تجزیہ شروع کردیتا ہے۔معاملہ یہ ہے کہ لوگوں کو فکر نہیں، فکر ہے تو تجزیہ نہیں، تجزیہ ہے تو اس کا علمی وعوامی اظہار نہیں، یہ بھی ہے تو اس میں تسلسل نہیں اور اگر تسلسل بھی ہے تو صرف اپنا کہا ہی سننا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے لیے اظہار خیال کی ساری حدیں توڑ دینا چاہتے ہیں، لیکن دوسروں کو ہرگز سننا نہیں چاہتے ۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم کوئی ایسی بزم سجانے کی پوزیشن میں ہیں جہاں اختلاف فکرو نظر کے باوجود، اخلاص نیت اور احترام مخاطب کے ساتھ موجودہ زندہ مسائل پر کوئی طويل وسنجیدہ اور صحت مند مکالمہ کرسکیں، جس سے فکر وعمل کی تحریک پیدا ہو؟
انقلاب ممکن ہے۔ فکر ونظر میں ہو کہ کردار وعمل میں۔ ہاں! کوئی ممکن کو محال سمجھنے لگے تو بات الگ ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جس طرح کسی بیمار کی طبیعت کو سمجھے بغیر اس کا علاج نہیں کیا جاسکتا، زمانے کے مزاج کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر کسی بھی انقلاب واصلاح کی جدوجہد خود کو تھکانے کے ہم معنی ہوگا۔
انقلاب ممکن ہے، اس بات کو حالیہ ایرانی سیاست نے عالم عرب کے عیش پرستوں کو بڑی حد تک سمجھا دیا ہے۔ وہ یہ کہ صالح قیادت میں، صحیح خطوط پر، دیر تلک چلتے رہنے سے سمندر میں راستے بن ہی جاتے ہیں۔ حالاں کہ میں بہت زیادہ خوش فہم اب بھی نہیں ہوں۔ کیوں کہ اِن آنکھوں نے صدام حسین، معمر قذافی اور یاسر عرفات کا حشر دیکھا ہے۔اس کے باوجود ناامیدی نہیں ہے۔
انقلاب ممکن ہے، اس بات کو ہندوستان میں کاکروچوں نے سمجھادیا۔جو کام کسان آندولن،کانگریس، سماج وادی پارٹی اور ترنمول کانگریس نہ کرسکی ، نو عمر بچوں نے واٹس ایپ اور فیس بک سے شروع ایک پر امن احتجاج سے کردیا۔ در اصل یہ Gen-Zکا زمانہ ہے اور Gen-Z میں بڑی طاقت ہے۔جین زی وہ بچے ہیں جو ۱۹۹۷ء سے ۲۰۱۲ء کے بیچ پیدا ہوئے۔ یہ پہلی نسل ہے جس نے شعور سنبھالتے ہی اپنے ہر طرف انٹرنیٹ اور نئی ٹکنالوجی کا سیلاب دیکھا ہے۔اس سے پہلے، جینریشن وائی Gen-Yہے، جو ۱۹۸۱ء-۱۹۹۶ء کے بیچ پیدا ہوئی اور اپنی آنکھوں کے سامنے انفارمیشن ٹکنالوجی کو پنپتے ہوئے دیکھا۔ ان دونوں نسل میں -بقدر تفاوت-اس بات کی طاقت ہے کہ جدید ذرائع ترسیل کا استعمال کرتے ہوئے افکاروخیالات کی دنیا میں انقلاب پیدا کردے۔ بطور خاص جین زی سماج کی محبت سے زیادہ ٹکنالوجی کی اسیر ہے۔ اس نےان کے مزاج میں بغاوت کےجذبات بھردیے ہیں۔ اس لیے اس نسل کو اگر نہیں سناگیا تو یہ باغی بن جائے گی۔ اس کے برخلاف اس کی درست تربیت اور ان کی واقعی حیثیت کو تسلیم کرنا صالح انقلاب کا پیش خیمہ بنے گا۔
یہ بات سیاست، معیشت اور تعلیم وتربیت کے اداروں کو ہی نہیں، بلکہ مذہب وروحانیت اور تہذیب وروایت کے علم برداروں کو بھی خوب سمجھنی ہوگی۔
جام نور کی ٹیگ لائن ’’ملت کا ترجمان‘‘ تھی۔حالاں کہ من حیث المجموع وہ ایک مسلکی رسالہ تھا، جس نے بریلوی فکر کے چوکھٹے میں قابل قدر اصلاح وانقلاب کے حوالے سے تاریخی کردار ادا کیا۔ یہ ۲۰۰۲ء کے اواخر میں شروع ہوا تھا۔ ۲۰۰۴ء کے اواخر سے میری ادارتی وابستگی ہوئی۔۲۰۰۶ء-۲۰۰۹ء اس کا عہد شباب تھا۔ ۲۰۱۲ء میں دہلی سے الہ آباد شفٹ ہوگیا۔ جام نور کے دوسرے ستون مولانا اسید الحق بدایونی ۲۰۱۴ء میں شہید بغداد ہوگئے۔ مدیر جام نور ڈاکٹر خوشتر نورانی اپنے یار کے بچھڑنے پر نوحہ زن ہوئے اور پھر جام نور کی بساط سمٹ گئی۔
میں آخری ایام میں خوشتر نورانی سے یہ کہتا رہا کہ جام نور کو مسلکی سطح پر جو کام کرنا تھا وہ کرگیا۔ بریلوی حلقے میں بڑی سطح پر فکر وشعور کی تبدیلی آگئی۔ نئی نسل کا ایک بڑا طبقہ بریلوی چوکھٹے میں کھل کر سوچنے، بولنےاور لکھنے لگا۔ اب اصل کام ملت کی ترجمانی کا ہے۔ زبان پربات آئی گئی، لیکن دل سے کبھی نہیں نکلی۔ ادھر خانقاہ عارفیہ /جامعہ عارفیہ میں میری علمی وتعلیمی ذمہ داریاں، ۲۰۱۳ء تا ۲۰۱۸ء پی ایچ ڈی کی تگ ودو، پھر کرونا کی مہاماری، اس پر طرفہ اپنی کم علمی، کم ہمتی اور اسباب وذرائع کی نارسائی، فکر سینے میں گھٹتی رہی۔ اللہ کا کرنا کہ اس سال اچانک مالک الملک نے ہمت بخشی۔ ۱۸؍ جون ۲۰۲۶ء مطابق ۳؍ محرم الحرام ۱۴۴۸ھ/۱۵۰۱ میلاد نبوی کو راقم آثم نے مکالمات کے نام سے ایک واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا اور اس میں ملک کے قریب ۷۰؍ ارباب علم وفضل کو جوڑنے کے بعد عصر حاضر کے دینی وعلمی اور سماجی وتہذیبی حالات کے تناظر میں ایک مجلے کی تجویز رکھی۔ ان میں سے نصف احباب نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا، ساتھ چلنے کا عندیہ ظاہر کیا اور اپنے اپنے خیالات وتجاویز کا اظہار کیا۔ ہمت بندھی اور اس کا پہلا شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔دیکھیے یہ نئی آواز ملت کی ترجمانی میں اپنا کیاحصہ ڈالتی ہے۔
امکانات پر گفتگو کرتے ہوئے مختلف ارباب نظر نے مختلف باتیں کیں اور تجاویز رکھیں، فکر کے نئے دریچے وا کیے اور عمل کے نئے امکانات کی نشان دہی کی۔ڈاکٹر اجمل فاروق ندوی نے کہا کہ اپنی صفوں میں قائم انتشار کو ختم کرنے اور ملی وحدت قائم کرنے کے لیے بہر حال ایسی مکالماتی میز کا ہونا ضروری ہے جو بین المسالک ہو اور جہاں مناظرے کے بجائے مفاہمت کی سنجیدہ کوشش کی جاسکے۔ مولانا شہباز مصباحی نے اس پر اضافہ کیا کہ ہمیں فی الحال بین المسالک اشتراکات پر کام کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ اختلافات میں الجھ گئے تو پھر ان سے نکلنے کا راستہ مشکل ہوجائے گا۔ ویسے بھی اختلافات پر کام کرنے والوں کا ہر طرف ہجوم ہے۔ مولانا فیضان عزیزی نے کہا کہ ہمیں فرقہ پرستوں اور نفرت کے تاجروں سے ہراساں ہونے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ ہر گروہ اور ہر طبقے میں مخلصین موجود ہیں، جن کے ساتھ مل بیٹھ کر مشترکات پر بات کی جاسکتی ہے۔
مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی نے بین المسالک مسائل پر مکالمے کے لیے یہ اصولی تجویز رکھی کہ یہ مکالمہ اسی وقت ثمر آور ہوسکتا ہے جب کہ ’’کتاب وسنت‘‘ کو بنیادی قدر کے طور پر پیش نظر رکھا جائے۔
یہاں میں عرض کروں گا کہ اس کے ساتھ اجماع کی بھی پاس داری کی جائےاور جمہور امت کی موافقت کی بھی کوشش ہو۔ ’جمہور امت کی متابعت کی کوشش‘ سے ہماری مراد یہ ہے کہ حتی الوسع کوشش کی جائے کہ جمہور امت کے نزدیک متفق علیہ اصول واحکام کو نہ چھیڑا جائے، جس کا حاصل سواے انتشار فکری وعملی کے کچھ نہیں ہوتا۔ البتہ جو مختلف فیہ امور ہیں، ظاہر ہے کہ ان کے حوالے سے ہر گروہ عمل کے لیے آزاد ہے اور اظہار رائے میں ادب واخلاق کا پابند ہے۔ اسی طرح زمانی ضرورتوں کے پیش نظر یا اپنی ذاتی تحقیق کی بنیاد پر کوئی شخص کسی متفق علیہ مسئلے سے علم واخلاق کے ساتھ اختلاف کرتا ہے، تو ظاہر ہے اس کی اجازت دینی ہوگی، لیکن اسے مجموعی رجحان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ موافقت اصلاً ہے اور اختلاف ضرورتاً۔ فَإِنَّ يَدَ اللهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ ۔
اس سیاق میں ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ اس سب کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جدید علمی مباحث کا اسلامی علوم کے ساتھ مکالمہ ہو اور روایت کے ساتھ معاصر فکر میں تطبیق کی راہ تلاش کی جائے۔ ڈاکٹر مجیب الرحمٰن علیمی نے متنبہ کیا کہ امکانات گروپ کو ہمیشہ یہ اصول سامنے رکھنا ہوگا کہ وہ رجال کی شناخت حق کی بنیاد پر کرے، حق کی شناخت رجال کی بنیاد پر نہ کرے۔اس کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا ناظم اشرف مصباحی نے کہا کہ نئے مسائل اور چیلنجز ایسے نہیں کہ ملت کے کسی ایک فردیا کسی ایک دھڑے کی کوششوں سے ان کا جواب تلاش کرنا ممکن ہو،ضرورت اس بات کی ہے کہ اجتماعی دانش (collective wisdom) کی بازیافت کی کوشش کی جائے، تبھی درست جواب تک رسائی ممکن ہوسکےگی۔
مولانا محمد احمد سلفی نے کہا کہ در اصل ہر گروہ نے اپنے اپنے بت بنارکھے ہیں، نتیجے کے طور پر ہم الہ واحد سے دور ہوگئے ہیں، ہماری وحدت بکھر گئی ہے اور ہم مختلف دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ جب تک ہم مسلک ومشرب کے محدود گھروندے سے نکل کر دین کی وسعت وسماحت کو گلے نہیں لگاتے ہمارے مسائل حل ہونے کو نہیں آتے۔اس سیاق میں ڈاکٹر نور محمدلکھنوی نے کہا کہ شروع میں مسلک کی بات ہی نہ کی جائے، ہماری شروعات ہی دین سے ہونی چاہیے، کیوں کہ مسلک سے دین کا سفر اتنا پر پیچ ہوجاتا ہے کہ مسلکی ترجیحات وتحفظات ہمیں اپنی گرفت سے آزاد ہی نہیں ہونے دیتیں کہ دین کی وسعت تک ہماری رسائی ہوسکے۔
اس سلسلے میں ڈاکٹر سید سبطین حیدر زیدی نے چند تیکھے سوالات اٹھائے تو شاہ خالد مصباحی نے اکابر کی سرپرستی میں نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا مشورہ دیا۔شاہ خالد مصباحی کے برعکس مولانا وقار ندوی نے کہا کہ ہر مکتب فکر کے علما ومشائخ میں ’’اکابر مجرمین‘‘ کی تعداد بہت ہے، انہیں آپ ’’صنادید قریش‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں، انہیں آپ اپنی ایمانی فراست اور ان کے سابق کردار سے پہچانیے اور ان سے گریز کیجیے۔جناب احمد جاوید نے نوید جاں فزا سنائی کہ امت کا جدید ذہن زرخیز ہے، اس لیے نئی نسل کوکسی بھی طرح ہراساں ہونے کے بجائے آگے بڑھ کر اپنا متوقع کردار پیش کرنا چاہیے۔
مولانا ناصر رام پوری نے کہا کہ ہمارا میدان عمل الجھاؤ کا شکار اس لیے ہے کہ ہمارا فکری فریم ورک ہی غیر واضح ہے، اس لیے عمل سے پہلے اور اس سے بھی زیادہ اہم، فکرو نظر کی تصحیح وتعمیر ہے۔
ہمارے قدیم کرم فرما مولانا ظفر الدین برکاتی نے اس سلسلے میں اصولی رہ نمائی کی کہ نئی نسل یاسیت میں مبتلا ہے اور ہمیں ایسے ہر عمل کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا جس سے اس یاسیت کا ازالہ ممن ہو۔اس سلسلے میں مولانا نصیر سراجی نے فرمایا کہ الحاد وارتداد کے بڑھتےرجحانات کے پیش نظر یہ کہاجاسکتا ہے کہ تحفظ ایمان کا مسئلہ اہل اسلام کے سامنےوقت کا سب سے بڑا چیلنج ہے، جس کے حل کے لیے تفکیروتدبیر ضروری ہے۔ جناب شاہد مرزا نے یہ خیال ظاہر کیا کہ امت کا سب سے بڑا مسئلہ غربت اور انتشار ہے۔ ان کے خاتمے کے لیے ہمیں بہت ہی سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔ جب تک یہ دونوں داخلی امراض باقی ہیں، امت کو تباہ کرنے کے لیے کسی خارجی دشمن کی ضرورت ہی نہیں ہے۔اس پر جناب عبدالماجد کرمانی نے اضافہ کیا کہ سنجیدہ غور وفکر اسی وقت ہوسکے گا جب امت کے پاس کوئی ایسا پلیٹ فارم ہو جو امت کے معتدل اصحاب فکر کو جمع کرسکے۔ اس سیاق میں یہ امید کی جاتی ہے کہ امکانات کی میز اس ضرورت کی تکمیل کرسکے۔ڈاکٹر احمد رضا مصباحی نے بھی اس خیال کی توثیق کی اور ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری نے دعا کی کہ اللہ کریم امکانات کو اجتماع، تفکیر اور تعمیر کا وسیلہ بنائے۔
جناب سراج الدین امجد نے امکانات کا خاکہ پڑھ کر اس بات پر زور دیا کہ حلقۂ اہل سنت سے ایسے کام کا آغاز ضرورہونا چاہیے۔مقصود احمد سمیجو نے اسے اپنی دیرینہ آرزو کی تکمیل بتایا تو غلام رسول دہلوی نے اس پروجیکٹ کو ایک اہم اور مستند علمی کاوش بتایا، جب کہ پروفیسر معین الدین جینابڑے نے اسے امت کے فکری مستقبل کی طرف ایک بامعنی پیش رفت قرار دیا۔ پہلے خیال تھا کہ یہ سب کچھ آن لائن انجام دیا جائے گا، لیکن مولانا شاہد رضا نجمی کی تجویز وتشجیع نے ہمیں آف لائن اشاعت کے لیے بھی کمربستہ کیا۔ ان تمام حضرات کے خیالات کو پڑھنے کے لیے ’’مکالمہ‘‘ کے کالم کا مطالعہ کیجیے۔
امکانات کاتازہ شمارہ کم وقت میں بہت عمدہ تیار ہوگیا۔ والحمد للہ! ڈاکٹر سید نور محمدلکھنوی کی نظم ’’حرف دانش سے ہمدم گریزاں ہے کیوں؟‘‘ آزادانہ فکر و تحقیق پر قدغن لگانے والوں کے خلاف صداے احتجاج ہے۔مکالمات کے کالم میں ’’مجلہ امکانات کی اشاعت‘‘ کے حوالے سے ارباب فکرودانش کے گراں قدر خیالات اور تجاویز شامل ہیں۔
پروفیسرڈاکٹر سید شمیم الدین احمد منعمی موجودہ علمی وروحانی روایت کے امین ایک نمائندہ شخصیت ہیں۔ پچھلے دنوں خانقاہ اشرفیہ کچھوچھہ میں ان کا عالمانہ اور عارفانہ خطاب ہوا، جس کے بعض جملوں پر بعض اہل نظر کو اختلاف ہوا۔ لیکن یہ اختلاف دیکھتے ہی دیکھتے بد تہذیبی، بد زبانی،تنابز القاب اور تفسیق وتضلیل تک پہنچ گیا، جیسا کہ بعض مذہبی حلقوں میں یہی وتیرہ بن گیا ہے۔اس صورت حال کے پیش نظر ہم نے مناسب سمجھا کہ خود منعمی صاحب سے یہ بات سمجھیں کہ اہل مذہب ومسلک، بلکہ مدعیان تصوف وروحانیت کے اندر اس قسم کے امراض کے پنپنے کے کیا اسباب ہیں اور کس طرح سے ان کا مداوا ممکن ہے۔ امکانات کے پہلے شمارے میں منعمی صاحب کا یہ انٹرویو یقیناً نفع بخش اور یادگار ثابت ہوگا، جس میں انہوں نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ مدارس کے نظام تعلیم کا خالص مسلکی ڈسپلن طلبہ کے اندر شدت مزاجی کا باعث بن رہا ہے، اگر ان طلبہ کو ملٹی ڈسپلنری نظام تعلیم سے مربوط کیا جائے تو اس تشدد کا ازالہ ممکن ہوسکے گا۔
رفیق گرامی مولانا منصور علیمی نے اصلاح امت کی قرآنی اخلاقیات کو موضوع بحث بنایا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ موجودہ مصلحین کی اصلاحات بالعموم فسادات میں اس لیے تبدیل ہوجاتی ہیں کہ وہ قرآنی اصلاح تو چاہتے ہیں، لیکن اصلاح کی قرآنی اخلاقیات سےخود کو آراستہ کرنا نہیں چاہتے۔
فاضل نوجوان ڈاکٹر محمد علی ایک علم دوست اور صاحب نظر اسکالر ہیں۔ ’’روشن خیالی کی روایت‘‘ سے متعلق ان کا مضمون کئی جہت سے دعوت فکر دیتا ہے اور گو کہ اس کے کل مشمولات سے ہر شخص کا اتفاق مشکل ہوگا، لیکن نئی نسل میں علمی وفکری مزاج کی تشکیل کے حوالے سےاس مضمون کی اہمیت سےانکار آسان نہ ہوگا۔
ڈاکٹر جلیس اختر نصیری نے اہل سنت کے بیچ پنپ رہے ایک نئے ظاہرے سے پردہ اٹھایا ہے۔ دراصل اہل سنت میں دو متقابل تصورات ’’نصب ورفض‘‘ کے بڑھتے رجحانات نئی صدی میں ایک نئے فتنے کی شکل میں ظاہر ہورہے ہیں۔اگر اس فتنے کو حکیمانہ انداز میں نہ کچلا گیا تو کیا عجب کہ اگلے سو سالوں تک اہل سنت کے اندر داخلی جنگ کا ایک نیا عنوان بن جائے۔ ڈاکٹرجلیس نصیری نے اپنی اس تحریر سے یہی کام کرنے کی کوشش کی ہے۔
ڈاکٹر وارث مظہری روایت وجدیدیت کے جامع ایک سنجیدہ اسکالر ہیں اور ان کا عنوان مقالہ ’’اسلامی فکر اور مسئلۂ نسواں: ایک اجتہادی مطالعہ‘‘ ان کی شخصیت کے عین مطابق ہے ، جو فقہاے عصر کے حضور بہت سے سنجیدہ سوالات چھوڑ جاتا ہے۔
معروف صحافی جناب احمد جاویدنے’’جنوبی ایشیاکی دلت اقوام اور معاصر ہندوستان‘‘ کے عنوان سے اپنا تحقیقی مقالہ سپرد قلم کیا ہے۔اس میں دلت مباحث کے چند بنیادی نکات اور صورت حال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس میں یہ نشان دہی کی گئی ہے کہ مظلوم و مقہور اقوام کی تعداد یہاں اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی قانوناً درج فہرست ہیں اور یہ کہ دلتوں اور منووادیوں کا ٹکراؤ خطرناک سمت میں بڑھ رہا ہے۔تاریخی وتہذیبی شعور رکھنےوالے قارئین کے لیے یہ مقالہ بطور خاص قابل استفادہ ہے۔
راقم السطور نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی تصنیف لطیف ’’فیصلۂ ہفت مسئلہ‘‘ کو موضوع سخن بنایا ہے۔ راقم کے نزدیک یہ کتاب برصغیر ہند میں مسلکی مفاہمت کاپہلا عارفانہ منشور ہے ۔ یہ معتدل اور منصفانہ محاکمہ اس وقت لکھا گیا جب دیوبندی بریلوی اختلافات کی تخم ریزی ہو رہی تھی۔ افسوس کہ یہ محاکمہ تاہنوز اساطین امت کی واقعی توجہات حاصل نہیں کرسکا۔اس سے اپنی کج فکری اورغلط کاری کی اصلاح کے بجائے اس کی مختلف عبارتوں کو سیاق وسباق سے کاٹ کر طرفین اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔کاش دین اور امت کے بہی خواہ سنجیدہ ہوں تو مسلکی تنازعات اور تنافرات کے خاتمے میں اب بھی یہ کتاب سنگ میل بن سکتی ہے۔
عزیز محترم مولانا ناظم اشرف مصباحی کا مقالہ ’’مسلکی اختلافات- نفسیاتی و شرعی بنیادیں‘‘ بہت ہی اہم ہے۔ یہ نہ صرف فروعی اختلافات کے علمی ونفسیاتی اسباب سے پردہ اٹھاتا ہے، بلکہ اس کے ساتھ اصولی اور فروعی مسائل اور ان کے برتنے کے فرق کے حوالے سے بھی مثالوں کے ساتھ اصولی رہ نمائی کرتا ہے۔
’’ہندوستانی مدارس میں دینی وعصری تعلیم کا امتزاج-امکانات اور چیلنجز‘‘ دراصل ’’سینٹرفار ریسرچ آن مدرسہ ایجوکیشن، جامعہ ہمدرد، نئی دہلی‘‘ کے زیراِہتمام منعقد سیمینارکے مقالات کا مجموعہ ہے،جس کوپروفیسرصفیہ عامر، ڈاکٹروارث متین مظہری اور ڈاکٹرنجم السحر نےمرتب کیا ہے۔انتقادیات کے باب میں ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی نے اس کا عمدہ تعارف اور مناسب تعاقب فرمایا ہے۔ان کی آرا سے اختلاف کے باوجود استفادہ کیا جانا چاہیے۔
افسوس کہ کوئی انگریزی آرٹیکل شائع نہیں ہوسکا۔ آئندہ اس کی تلافی کی جائے گی۔ان شاء اللہ!
ملحوظ خاطر رہے کہ ہمارے ذہن میں جو تصور ہے اس کے مطابق رسالے کا مرکزی تھیم تعمیر ملت کے لیے امکانات کی تلاش ہے، نہ کہ اتحاد ملت یا کچھ اور ۔ ہاں! ضمنی طور پر بہت سے موضوعات بھی یقیناً شامل ہوں گے۔سرسید نے ۱۸۷۰ء میں تہذیب الاخلاق جاری کیا اور پھر ۱۸۷۲ء میں مجلس خازن البضاعۃ لتاسیس مدرسۃ العلوم یعنی دی محمدن اینگلو اورینٹل کالج فنڈ کمیٹی قائم کی جس کا کام مدرسۃ العلوم کی خاکہ سازی، اس کے لیے سرمایہ کی فراہمی اور طریق کار کی منصوبہ بندی تھا۔ امکانات کے ابتدائی تصورکے وقت یہ بات ذہن میں موجود تھی کہ تعمیر ملت کے لیے ایک وسیع تناظر میں عملی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، تاہم دوسالوں تک مجلہ امکانات کے ذریعے ذہن سازی کے بعد یہ غور کیاجائے گا کہ اس کاروان جذب وجنون سے کون کون وابستہ اور مربوط رہتا ہےاور کس طرح کے عملی اقدام کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔ پھر درمیان میں ہمارے بعض محسنین -جن میں سرفہرست سید سبطین حیدر زیدی برکاتی حفظہ اللہ تھے-نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ جو کام ہو اول روز سے واضح خطوط اور تنظیمی نیٹ ورک کے ساتھ ہو اور اس کے لیے ’’امکانات ٹرسٹ‘‘ کا قیام بھی اسی وقت ضروری ہے۔ میں اولاً اس کے لیے قائل بھی ہوگیا تھا، لیکن بوجوہ اس نتیجے پر پہنچا کہ شاید ابھی اس کا وقت نہیں آیا ہے۔ پہلے امکانات کے دو سال مکمل کیے جائیں، پھر دیگر امور زیر بحث آئیں گے۔
اس کے باوجود میں اصحاب الرائے کے مشورے بغور سن رہا ہوں، ہمارے بعض احباب کا کہنا ہے کہ آج دنیا میں سیاسی، تجارتی اور جنگی امور بات چیت سے طے کیے جارہے ہیں، اس سے مشربی، مسلکی اور ملی مسائل ہی کیوں مستثنیٰ رہیں؟بین المسالک مباحث ومسائل میں پچھلے دو سو سالوں سے ہم صرف مناظرے اورمجادلےکرتے رہے ہیں، اب اس کا بھی بند وبست ہو کہ مسلکی ومشربی نزاعات میں امکانات کے صحافتی پلیٹ فارم پر اور اس سے ہٹ کر روبرو صحت مند مکالمے کی صورتیں پیدا کی جائیں۔
بعض احباب نے کہاکہ امکانات کے طول طویل مضامین ہر کس وناکس کے بس کا روگ نہیں ہیں، اس لیے امکانات یوٹیوب چینل پر ہر مقالے کی تلخیص آنی چاہیے۔ کم از کم یہی ہو کہ مضمون نگار خود پانچ سے دس منٹ میں اپنے مقالے کا خلاصہ خود ہی ریکارڈ کرکے بھیج دے اور وہ امکانات یوٹیوب پر نشر ہوجائے۔ یہ کام ہمارے مودی جی کرنے لگے ہیں، پھر ہمارے اہل قلم کیوں نہیں کرسکتے؟
بعض احباب نے کہا کہ امکانات پلیٹ فارم سے نئی نسل کی آن لائن تعلیم وتربیت کا آغاز بھی ہونا چاہیے۔ بعض نے اس نکتے کا اضافہ کیا کہ جو لوگ ملازمت وتجارت سے وابستہ ہیں، ان کے لیے جز وقتی دینی کورسیز کی تشکیل ہو اور امکانات کے پلیٹ فارم سے ان کو دنیا کے ساتھ دین سے جوڑے رکھنے کابند وبست کیا جائے۔
بعض نے کہا کہ دہلی، ممبئی، لکھنؤ، پٹنہ،کولکاتا اور حیدرآبادجیسے شہروں میں امکانات کے بینر تلے سمپوزیم کا انعقاد ہو اور تعمیر امت کے امکانات پر بات کی جائے اور عمل کی راہیں تلاش کی جائیں۔
بعض احباب یہ بھی کہتے ہیں کہ Gen-Zاس وقتYouTube, Instagram, TikTok, اورSnapchatسے مربوط ہے، اس لیے ان کےذ وق ومزاج کے پیش نظر ان سوشل سائٹس پر دینی، تعلیمی، اخلاقی اور تعمیری کنٹینٹ کی اشاعت انتہائی ضروری ہے۔
بعض نے کہا کہ اصل کام زمینی ہے، نظریاتی تشکیل زمین پر نہ اترسکے تو سب تگ ودو بیکار ہے۔ امکانات کو تفکیر، تحقیق اور مکالمہ کے ساتھ زمینی سطح پر تنظیمی ، تعلیمی اور رفاہی نیٹ ورک کی طرف بھی پیش رفت کرنی چاہیے۔
یہ ساری تجاویز بغور سن کر ہم روح غالب سے معذرت کے ساتھ صرف یہی کہیں گے کہ:
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب؟
ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا جانا


ماشاء اللہ
ماشاءاللہ بہت عمدہ
ایسا تبصرہ جو صدی پر محیط ہے۔
In the present era, the Muslim Ummah appears increasingly divided along sectarian and ideological lines. Day by day, controversies among different schools and sects seem to intensify, to the extent that even ordinary Muslims sometimes hesitate to interact with fellow Muslims simply because they belong to a different sect, often without fully understanding the historical or theological reasons behind these differences.
Unfortunately, this tendency is not confined to religious spaces; it is also becoming visible in secular educational institutions, where students sometimes form separate groups even during congregational prayers and other activities. This raises an important question in the minds of those outside Islam: when Muslims believe in one God, one Messenger, and one Qur’an, why do so many divisions exist among them?
This internal fragmentation is, in my view, one of the factors contributing to the educational, economic, and political challenges faced by Muslims. Genuine progress requires mutual understanding, intellectual dialogue, tolerance, and a willingness to distinguish between fundamental matters of faith and secondary ideological differences.
The question, therefore, is not merely when these disputes will end, but how the Ummah can gradually move towards greater unity while preserving legitimate differences of thought. When Muslims learn to respect one another, cooperate on common concerns, and rise above sectarian prejudices, a new sense of collective strength and leadership can emerge.
I sincerely hope that, Insha’Allah, journals such as Imkanat can contribute to this much-needed intellectual and social dialogue and become a platform for reflection, mutual understanding, and the broader unity of the Muslim Ummah.
ماشاءاللہ
بہترین
بہت اچھی اور سلجھی ہوئی لیکن بل کھاتی ہوئی گفتگو چوں کہ بہت سی چیزیں کور کرنا تھیں، غالباً زیادہ بہتر رہتا کہ الگ الگ موضوعات کی گفتگو کو الگ الگ بلاک کی شکل میں پیش کیا جاتا اس سے طوالت کا احساس بھی نہیں ہوتا اور چیزیں بھی سب آجاتیں۔
ایک تعبیر اتنی دل کو بھائی کہ لمحہ بھر کے لیے رک گیا کہ مجموعی طور پر ہمارا مقصد تعمیرِ ملت ہے اتحادِ ملت نہیں نازک فرق ہے لیکن خوب ہے اور گہری مقصدیت کو اجاگر کرنے والا ہے، اسی طرح عالمی تناظر میں ایران اور ملکی تناظر میں جین زی کی مثالیں یاسیت کے ماحول میں نہایت ہمت افزا بھی ہیں اور زمینی بھی۔
مبارک شروعات، ہمتِ مرداں مددِ خدا، اللہ تعالی راہیں آسان فرمائے اور حسناتِ دارین سے نوازے آمین
امکانات کا یہ پہلا قدم اس بات کی دلیل ہے کہ یہ جلد بازی یا محض جذبات میں اٹھایا گیا اقدام نہیں، بلکہ مضبوط ارادے، صدقِ نیت اور روشن دماغی کے ساتھ چند جان نثاروں کی کوشش ہے۔ یہ وہ گروہ ہے جو آفاق کو معطر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؛ جسے احوالِ زمانہ کی واقفیت بھی حاصل ہے، تصوف کا ذوقِ عرفان بھی ہے، فقہا کا تحقیقی شعور بھی ہے، اور سب سے بڑھ کر ملت کا درد اور تصورِ امت بھی اس کے دل میں موجزن ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے بازوؤں کو قوت بخشے، ہمارے حوصلے کو قائم رکھے، اور برصغیر کی امتِ مسلمہ کو علمی، اخلاقی، سائنسی اور معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں ہمیں متحد اور شریکِ کار بنائے۔ آمین۔