کیا تصوف ایک متوازی دین ہے؟

Abstract
This study offers an Usūlī analysis of the claim that Tasawwuf constitutes a parallel religious system to Islam, by examining its constitutive elements under two categories: Usūl (principles) and Furūʿ (branches). The Usūl comprise principles of creed, practice, and ethics, which correspond to the established foundations of Islam and Ahl al-Sunnah. The Furūʿ are examined through methods of Sulūk, Iḥsān-based ijtihād, and Sufi sciences, insights, and spiritual observations. The methods of Sulūk, including Adhkār and Awrād, are assessed within the framework of Sunnah and Sharīʿah; Sufi ijtihādāt within legitimate Islamic reasoning; and Kashf, and spiritual observations remain, according to Sufi affirmations, subject to complience with the Qur’an, Sunnah, and established Islamic principles.
The study concludes that the principles of Tasawwuf are Islamic, its practices operate within Sharīʿah and its spiritual experiences possess no independent authority. As for those who distort religion by misusing the name of Sufism, they have no connection with its authentic teachings. Therefore, portraying Tasawwuf as a parallel religion is not sustainable; rather, it is an Islamic discipline of Tazkiyah, Ihsān, and spiritual formation.
تمہید
اسلامی علوم کی تاریخ میں تصوف کا شمار ان علوم میں ہوتا ہے جن کا تعلق تزکیۂ نفس، احسان، اخلاص، مجاہدہ اور سلوک الی اللہ سے ہے۔ صدیوں تک یہ علم؛ فقہ، تفسیر، حدیث اور عقیدہ کی طرح اسلامی علمی روایت کا ایک مسلم حصہ سمجھا جاتا رہااور ائمۂ امت نے اپنی علمی و تربیتی جہات میں اس کے اصول و مقاصد پر تفصیلی بحث کی۔ یہ الگ بات ہے کہ جیسے علم فقہ پر کتاب الحیل کے حوالے سے، علم حدیث پر موضوعات کے حوالے سے اور علم تفسیر پراسرائیلیات کی جہت سے ہمیشہ اعتراضات کیے گئے اور جس طرح علماے سو کو اساس بنا کر علماے حق کو ہدف تنقید بنایا گیا، بالکل اسی طرح ہر زمانے میں صوفیہ کی اصطلاحات،اشارات، شطحات، اجتہادات، ذاتی تجربات و مشاہدات، متصوفین کے بعض غلبۂ حال والے واقعات اورمستصوفین کے حد شرع سے متجاوز اعمال واشغال کی بنا پر تصوف اور صوفیہ پر بھی شدید تنقیدات کی گئیں، لیکن سابقہ تنقیدات کا امتیاز یہ تھا کہ ان میں تصوف کو دین کے بالمقابل کوئی متوازی نظام نہیں قرار دیا گیابل کہ حافظ ابن جوزی اورحافظ ابن تیمیہ جیسے ناقدین نے بھی تصوف کو شرعی و غیر شرعی میں یا تصوف سلفی وفلسفی میں تقسیم کرکے پہلی قسم کو قبول کیا، جب کہ دوسری قسم کو جزوی یا کلی طور پر مسترد کردیا، تاہم معاصر دور میں تصوف کی تعبیر و تفہیم کے حوالے سے ایک ایسا رجحان سامنے آیا ہے جس میں تصوف کو ایک تربیتی علم یا اخلاقی منہج ماننے اور پھر اس جہت سے اس کے بعض نقائص پر تنقیدی آرا رکھنے کے بجائے اسے ایک متوازی دینی نظام کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اور اس تناظر میں تصوف پر ایسے اعتراضات وارد کیے جارہے ہیں جو اس کے اصولی، نظری، عملی اور تاریخی تمام پہلوؤں کو محلِ نزاع بناتے ہیں۔
ان اعتراضات کا نمایاں اسلوب یہ ہے کہ ان میں تصوف کے جزوی مسائل کو اس کے کلی اصولوں کا قائم مقام بنا دیا گیا ہے، بعض تاریخی یا انفرادی اقوال کو پورے علمِ تصوف کی نمائندگی سمجھ لیا گیا ہے، بعض مخصوص اصطلاحات کو ان کے علمی، تاریخی اور اصطلاحی پس منظر سے الگ کرکے ان پر احکام مرتب کیے گئے ہیں۔ نتیجتاً تصوف کو قرآن و سنت سے ماخوذ ایک تربیتی منہج کے بجائے ایک مستقل مذہبی تعبیر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس طرزِ استدلال نے علمی دنیا میں متعدد ایسے سوالات جنم دیے جن کا ازسرِنو اصولی جائزہ ناگزیر محسوس ہوتا ہے۔
یہ تحریر اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے کہ کیا تصوف دین کے متوازی ہے؟ اس تحریر کا منہج؛ تحلیلی(Analytical)، اصولی(Methodological) اور استنباطی (Inductive-Deductive) ہے۔ اس میں سب سے پہلےاصول محاکمہ ، پھرفہم تصوف کے چند قواعد تحریر کیے جائیں گے، اس کے بعدصوفیہ کی اپنی تصریحات اورمسلمہ اصول کی روشنی میں اصولی وفروعی عناصر تصوف؛ عقائد، اعمال،اخلاق ،طرق تسلیک،احسانی اجتہادات، عرفانی احوال اور ربانی علوم ومعارف کا ایک اصولی تجزیہ کیا جائے گا کہ یہ دین وشریعت کے موافق ہیں یا متصادم ۔
اس تحریر میں شخصیات کے بجائے نظریات، جزئیات کے بجائے کلیات؛اور انفرادی تطبیقات کے بجائے اصولی مباحث کو بنیاد بنایا جائے گا۔
محاکمہ وتجزیہ کے اصول
اس تحریر میں درج ذیل علمی اصولوں کو تجزیہ کی بنیاد بنایا گیا ہے:
- العلوم تُعرَف بأصولها لا بأخطاء المنتسبين إليها۔ (کسی بھی علم کی معرفت اس کے اصولوں سے ہوگی، نہ کہ اس سے منسوب افراد کی غلطیوں سے)۔
- العبرة بعموم الأصول لا بخصوص الوقائع (اعتبار جزئی واقعات کا نہیں ،بل کہ کلی اصولوں کا ہوگا)۔
- لا يُبطِل الخطأُ أصلَ العلم (کسی علم کا کچھ غلط استعمال اس کی اصل کو باطل نہیں کرتا)۔
- القرآن والحدیث هما الحاكمان على جميع التجارب الدينية لا النافيان لها(قرآن واحادیث تمام دینی و روحانی تجربات کا معیار ہیں، ان کی مطلق نفی کرنے والے نہیں)۔
ان اصولِ محاکمہ کے بیان کا مقصود محض زیرِ نظر بحث کے لیے چند رہ نما ضوابط متعین کرنا نہیں، بل کہ اس پورے تحقیقی منہج کی بنیادوں کو واضح کرنا ہے جس کی روشنی میں تصوف سے متعلق مختلف مباحث کا تجزیہ اور ان سے نتائج اخذ کیے جانے چاہیے۔ چناں چہ یہ اصول اس پوری بحث کے لیے بالخصوص اور مختلف مباحث تصوف کے تجزیے کے لیے بالعموم ایک مشترک منہج اور تنقیدی معیار کی حیثیت رکھتے ہیں۔
مزید برآں، تصوف کے مطالعے میں اگر ان علمی و منہجی اصولوں کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے تو اس موضوع سے متعلق بہت سی غیر ضروری الجھنوں، اصولی مغالطوں، سیاق و سباق سے انحراف، ناقص مقدمات اور غیرمحتاط استنتاجات کا سدِّباب ممکن ہے۔ بالخصوص کسی جزوی عبارت، منفرد قول یا مخصوص تاریخی واقعے کی بنیاد پر تصوف کے پورے نظامِ فکر کے بارے میں کلی حکم قائم کرنے جیسے منہجی مسائل سے بھی احتراز کیا جا سکتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ اصول نہ صرف زیرِ بحث مواد کے منصفانہ تجزیے کے لیے بنیادی رہ نما خطوط فراہم کرتے ہیں، بل کہ تصوف کے علمی مطالعے میں ایک متوازن، غیر جانب دار اور اصولی طرزِ استدلال کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
فہم تصوف کے چند أصول وقواعد
کتاب و سنت کے عمومی مواعظ و احکام سے کوئی شخص بھی بغیر کسی رہ نما کےاستفادہ کر سکتا ہے، لیکن اگر کتاب و سنت کی تفقہ مطلوب ہے تو اسے کسی رہ نماکی نگرانی حاصل کرنی ہوگی، ورنہ انسان يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْرًا(البقرہ:۲۶) کے زمرے میں آسکتاہے اورامام سفیان بن عیینہ کے قول : اَلْحَدِیْثُ مِضَلَّةٌ إِلَّا لِلْفُقَهَاءِ
([2])کے مطابق اسے گمراہی ہاتھ آسکتی ہے،یوں ہی کسی فقیہ کی نگرانی کے بغیر فقہ و فتاویٰ کی کتابیں بھی گمرہی کا ذریعہ ہو سکتی ہیں ، کیوں کہ ایک فقیہ جب قرآن و سنت کا مطالعہ کرتاہے تو فقہ قرآن و سنت کے کچھ اصول وضوابط اس کے پیش نظر ہوتے ہیں ،وہ مانتا ہے کہ قرآن و سنت کے نصوص عام بھی ہیں اور خاص بھی ،اس میں اجمال بھی ہے اور تفصیل بھی ،اس میں مواعظ وقصص بھی ہیں اور امثال و حکم وغیرہ بھی، چناں چہ وہ قرآن وسنت کے مطالعے کے وقت اصول فقہ کو مد نظر رکھتا ہے، یوں ہی جب وہ فقہ کی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ ان کتابوں میں کچھ احکام راجح ہیں تو کچھ مرجوح، کچھ ظاہر الروایۃ تو کچھ نادر الروایۃ ،کچھ مفتیٰ بہ توکچھ اس کے برعکس ، جن کتب فقہ میں یہ مسائل درج ہوتے ہیں وہ ان کتابوں اور ان کے مولفین کے درجات کو جانتاہے اور اس طرح کے بہت سے اصول اس کے سامنے ہوتے ہیں جن کی روشنی میں وہ اپنا مقصود حاصل کرتا ہے،چناں چہ جب قرآن و سنت اور کتب فقہ و فتاویٰ کے مطالعے کے ضروری اصول سے ناواقف عام انسان خود سے بغیر کسی رہ نماکے استفادہ کرناچاہتاہے تو وہ گمراہیوں کے دلدل میں پھنس جاتا ہے۔یوں ہی دوسرے اسلامی فنون کی طرح تصوف بھی ایک فن ہے اور دیگر کتب کی طرح کتب تصوف میں بھی عموم وخصوص ،اجمال و تفصیل، ابہام و توضیح، مطلق ومقید،قصص و مواعظ ، حکم و امثال ، محکمات و متشابہات ،شطحات و غلبۂ حال کےاقوال و افعال ہیں۔اس کے بعض احکام ظاہر النص سے حاصل کیے گئے ہیں تو بعض عبارت النص، اشار ت النص، دلالۃ النص اور اقتضاء النص سے ۔اور ان سب کے جداگانہ احکام اور اثرات ہیں اور بعض وہ اسرار ورموز بھی ہیں جن کو شیخ کامل کی بارگاہ میں زانوے ادب تہہ کیے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا؛ کیوں کہ تصوف فقہ باطن اور حقیقت شریعت کا نام ہے اور کتب تصوف دین کے باطنی مسائل کا مجموعہ ،جب دین کے ظاہری مسائل کے استخراج کے لیے اصول مرتب کیے گئے ہیں تو دین کے باطنی مسائل کے استخراج کے لیے اصول کیوں کر نہیں ہوں گے!!
اسی ضرورت کی صراحت کرتے ہوئے صاحبِ آداب المریدین فرماتے ہیں:
وَلَا يَصِحُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَسْلُكَ طَرِيقَ الصُّوفِيَّةِ حَتَّى يَعْلَمَ عَقَائِدَهُمْ وَآدَابَهُمْ فِي ظَاهِرِهِمْ وَبَاطِنِهِمْ، وَاصْطِلَاحَاتِهِمْ فِي كَلِمَاتِهِمْ، وَيَفْهَمَ إِطْلَاقَاتِهِمْ فِي مُحَاوَرَاتِهِمْ، حَتَّى يَصِحَّ لَهُ أَنْ يَحْذُوَ حَذْوَهُمْ وَيَقْفُوَ أَثَرَهُمْ فِي أَفْعَالِهِمْ وَأَقْوَالِهِمْ، فَإِنَّهُ مِنْ كَثْرَةِ الْمُدَّعِينَ جَهِلَ حَالُ الْمُحَقِّقِينَ، وَفَسَادُ الْمُفْسِدِينَ الْفَاسِدِينَ إِلَيْهِمْ يَعُودُ، وَلَا يَقْدَحُ فِي صَلَاحِ الصَّالِحِينَ. ([3])
صوفیہ کی راہ کے سالک کے لیے ان کے عقائد،ظاہری وباطنی آداب، اصطلاحات اور ان کی گفتگو کے اطلاقات کا علم حاصل کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ افعال واقوال میں ان کے نقشِ قدم پر چل سکے؛ کیوں کہ مدعیانِ تصوف کی کثرت کی وجہ سے محققینِ تصوف کا حال پردۂ خفا میں چلا گیا ہے، لیکن ان مفسد وفاسد لوگوں کے فساد کا نقصان خود ان کو ہی ہوگا، اس سے صالحین کے صلاح وتقویٰ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ناقصوں کے لیے کتابیں،خواہ وہ کسی بھی فن کی ہوں استاذ کی نگرانی میں ہی نفع بخش ہوتی ہیں ؛لہذاتصوف کی صحیح فہم کے لیے ائمۂ تصوف کی طرف رجوع ضروری ہوگا۔اسی لیے صحبتِ ائمۂ تصوف کی ضرورت کی جانب متنبہ کرتے ہوئے شیخ ابوالنجیب ضیاء الدین سہروردی(۵۶۳ھ) آداب المریدین میں فرماتے ہیں:
ثُمَّ إِنَّ كُلَّ مَنْ أَشْكَلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنَ الْعُلُومِ الثَّلَاثَةِ فَعَلَيْهِ أَنْ يَرْجِعَ فِيهِ إِلَى أَئِمَّتِهَا، فَمَنْ أَشْكَلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ عُلُومِ الْحَدِيثِ وَمَعْرِفَةِ الرِّجَالِ يَرْجِعُ فِيهِ إِلَى أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ لَا إِلَى الْفُقَهَاءِ، وَمَنْ أَشْكَلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ دَقَائِقِ الْفِقْهِ يَرْجِعُ إِلَى أَئِمَّةِ الْفُقَهَاءِ، وَمَنْ أَشْكَلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ عُلُومِ الْأَحْوَالِ وَالرِّيَاضَاتِ وَدَقَائِقِ الْوَرَعِ وَمَقَامَاتِ الْمُتَوَكِّلِينَ يَرْجِعُ فِيهِ إِلَى أَئِمَّةِ الصُّوفِيَّةِ لَا إِلَى غَيْرِهِمْ، فَمَنْ فَعَلَ غَيْرَ ذَلِكَ فَقَدْ أَخْطَأَ الطَّرِيقَ وَسَلَكَ الْمَضيْقَ. (آداب المریدین ،فصل: الکلام علی فروع الدین واحکامہ،ص:۱۹)
اگر کسی شخص کو مذکورہ بالا تینوں علوم(حدیث، فقہ اور تصوف)کے کسی مسئلے میں کوئی اشکال در پیش ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ ان علوم کے ائمہ کی جانب رجوع کرے،چناں چہ اگر کوئی علوم حدیث اور رجال حدیث کی معرفت سے متعلق کسی مسئلے میں الجھ جائے تو اس کو ائمہ حدیث کی طرف رجوع کرنا چاہیے، فقہا کی طرف نہیں،جو شخص کسی فقہی باریکی میں پھنس جائے تو اس کو فقہا کی بارگاہ سے تعلق قائم کرنا چاہیے اور جس پر علوم احوال، علوم مجاہدہ و ریاضت، ورع کی باریکیاںاور متوکلین کے مقامات سے متعلق کوئی مسئلہ حل نہ ہو تو اس کو ائمہ صوفیہ کے در پر دستک دینی چاہیے،کسی اور کے در پر نہیں، جو دوسری راہ اختیار کرےگا وہ بھٹک جائے گااور اپنے آپ کو تنگی ودشواری کی راہ پر ڈال دے گا۔
لہذا تصوف کی صحیح فہم کےلیے اولاًضروری ہے کہ تصوف کے اصول وفروع کا علم حاصل کیا جائے اور اس پر تنقید کے وقت فہم تصوف کے لیے ضروری کچھ قواعد پیش نظر رکھے جائیں اور ثانیاًکسی مشکل مسئلے کی فہم کے لیے ائمۂ صوفیہ اور ماہرین تصوف کی طرف رجوع کیا جائے۔
ذیل میں فہمِ تصوف کے لیے ضروری چند نظری اصول و قواعد بیان کیے جاتے ہیں، جو صوفیہ کے علمی ذخیرے میں مسلمہ حیثیت رکھتے ہیں۔یہ اصول اس مقالے کے مباحث پر فرداً فرداً انطباق کے لیے نہیں، بل کہ مدخلِ بحث کے طور پر پیش کیے گئے ہیں؛ تاکہ ناقدین وقارئین تصوف کے لیے وہ بنیادی علمی أصول و مناہج واضح ہو جائیں جن کی عدمِ معرفت یا عدمِ رعایت کے باعث بسا اوقات ان کی تنقید استدلالی توازن اور منہجیت سے محروم ہو جاتی ہے۔ وہ قواعد درج ذیل ہیں:
- قاعدہ: دین کے مختلف علوم ایک دوسرے کے متمم ہیں، باہم متعارض نہیں۔
- قاعدہ: تصوف، کتاب و سنت سے ماخوذ علمِ تزکیہ و احسان ہے، کوئی مستقل دینی نظام نہیں۔
- قاعدہ: ہر فن کی صحیح معرفت اسی فن کے ائمہ اور اہلِ اختصاص سے حاصل کی جاتی ہے۔
- قاعدہ: تصوف بھی جو فقہِ باطن ہے ، فقہِ ظاہر کی طرح اپنے اصول و ضوابط رکھتی ہے۔
- قاعدہ: تصوف محض نظری علم نہیں بل کہ تربیت، تزکیہ اور عملی سلوک کا فن ہے۔
- قاعدہ: تصوف پر معتبر نقد وہی ہے جو اس کے منہج اور اصول سے واقفیت کے بعد کیا جائے۔
- قاعدہ: صوفیہ کی اصطلاحات اپنے عرفِ فنی کے مطابق سمجھی جائیں گی، لغوی معنی کے مطابق نہیں۔
- قاعدہ: مدعیانِ تصوف اور محققینِ تصوف میں ہمیشہ امتیاز ملحوظ رکھا جائے گا۔
- قاعدہ: صوفیہ کے اقوال و افعال کو ان کے مقام، حال، مقصد اور سیاق کی روشنی میں سمجھا جائے گا۔
- قاعدہ: کتبِ تصوف بھی دیگر اسلامی علوم کی طرح اصولِ فہم اور مراتب استنباط کی پابند ہیں۔
- قاعدہ: تمام کتبِ تصوف اور تمام مشائخ یکساں درجۂ استناد نہیں رکھتے۔
- قاعدہ: تصوف کے مسائل بھی اپنے مآخذ کے اعتبار سے مختلف درجات رکھتے ہیں۔
- قاعدہ: بعض سلوکی حقائق کی صحیح معرفت صرف صحبتِ اہلِ سلوک سے حاصل ہوتی ہے۔
- قاعدہ: صوفیہ کے تمام منقولات ایک ہی درجے کی حجیت نہیں رکھتے۔
- قاعدہ: صوفیہ کی روایات بھی روایت و درایت کے اصولوں کے مطابق پرکھی جائیں گی۔
- قاعدہ:کبھی ناقل کا فہم اور اجتہاد بھی روایت کا حصہ بن جاتا ہے اور اس سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔
- قاعدہ: صوفیہ کا استدلال بھی قرآن، سنت اور معتبر اصولِ استنباط پر قائم ہوتا ہے۔
- قاعدہ: کشف و الہام شریعت کا مستقل ماخذ نہیں، بل کہ ذاتی ذریعۂ معرفت ہیں۔
- قاعدہ: ہر کشف قرآن و سنت کی میزان پر پرکھا جائے گا۔
- قاعدہ: روحانی واردات میں اشتباہ و خطا کا امکان تسلیم شدہ ہے۔
- قاعدہ: تصوف کا محاکمہ اس کے اپنے اصول، اصطلاحات اور مآخذ کی روشنی میں ہوگا۔
- قاعدہ: کتبِ تصوف میں مذکور ہر حکایت دلیلِ شرعی نہیں ہوتی۔
- قاعدہ: اسلوبِ حکایت اور اسلوبِ استدلال میں فرق ملحوظ رکھا جائے گا۔
- قاعدہ: حکایات کا اصل مقصد تربیت و ترغیب ہے، تشریع نہیں۔
- قاعدہ: حکایات کو نصوصِ شرعیہ کا درجہ دینا صوفیہ کے منہج کے خلاف ہے۔
- قاعدہ: تصوف میں بھی مصالحِ سلوک اور بدعتِ حسنہ کے اصول معتبر ہیں۔
- قاعدہ: سلوکی اعمال کا حکم ان کے شرعی مقاصد کے تابع ہوتا ہے۔
- قاعدہ: کسی رسم یا عمل پر اعتراض سے پہلے اس کی حقیقت معلوم کی جائے گی۔
- قاعدہ: صالحین کے اقوال و افعال کی تعبیر میں حسنِ ظن اصل ہے۔
- قاعدہ: دقائقِ تصوف کا ادراک صحبتِ اہلِ معرفت پر موقوف ہے۔
- قاعدہ: احکامِ طریقت میں مصالحِ مرسلہ اور مقاصدِ تزکیہ کا اعتبار کیا جاتا ہے۔
- قاعدہ: اکابر کی انفرادی لغزشوں سے ان کے اصولی منہج پر حکم نہیں لگایا جائے گا۔
- قاعدہ: مشتبہ روایات میں تحقیق اور حسنِ ظن دونوں مطلوب ہیں۔
- قاعدہ: روحانی مشاہدات کی تعبیر میں شیخِ کامل کی رہ نمائی ناگزیر ہے۔
- قاعدہ: شخصی تربیتی ہدایات کو عمومی شرعی حکم نہیں بنایا جائے گا۔
- قاعدہ: اصل حکم اور عارضی تربیتی مصلحت میں فرق کیا جائے گا۔
- قاعدہ: احسانی مصالح اور سدِّ ذرائع بھی سلوکی اجتہاد کے معتبر اصول ہیں۔
- قاعدہ: کسی مشروع عمل کی عارضی عدمِ ترغیب اس کے انکار کی دلیل نہیں۔
- قاعدہ: ہر مقام کا حکم اس کے حال اور مصلحت کے مطابق ہوتا ہے۔
- قاعدہ: صوفیہ کے اقوال کو ان کے تربیتی سیاق میں سمجھا جائے گا۔
- قاعدہ: موضوع یا ضعیف حکایت سے اصولِ تصوف پر حکم نہیں لگایا جائے گا۔
- قاعدہ: خواب، کشف اور روحانی مشاہدات کو بیداری کے احکام پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔
- قاعدہ: کسی روحانی تجربے کی صحت کا معیار موافقتِ قرآن و سنت ہے۔
- قاعدہ: تربیتِ سالک میں تدریج اور ترجیحِ مصالح ایک مسلم اصول ہے۔
- قاعدہ: تصوف میں ذرائع کو مقاصد پر اور فروع کو اصول پر مقدم نہیں کیا جاتا۔
- قاعدہ: تصوف کا صحیح فہم مجموعۂ اصول، معتبر مصادراور صحبتِ اہلِ فن کی رعایت سے حاصل ہوتا ہے۔
تصوف اور صوفیہ کے مطالعے کے وقت اگر ان اصولوں کو پیش نظر رکھا جائے تو امید ہے کہ بہت سی ممکنہ خطاؤں سے بچا جاسکے گا اور بہت سے اعتراضات کا از خود ازالہ ہوجائے گا۔
تصوف کے اجزاے ترکیبی
چند قواعد تصوف اور اصولِ فہمِ تصوف کی معرفت کے بعد اب یہ ضروری ہے کہ تصوف کے اجزاے ترکیبی کو واضح طور پر سمجھ لیا جائے، تاکہ اس کے ہر پہلو کا الگ الگ تجزیہ کیا جا سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہلِ علم کا مسلمہ اصول ہے:الحُكْمُ عَلَى الشَّيءِ فَرْعٌ عَنْ تَصَوُّرِهِ یعنی کسی بھی چیز کے بارے میں صحیح حکم اسی وقت لگایا جا سکتا ہے جب اس کا درست تصور حاصل ہو۔ لہٰذا تصوف کو ایک ناقابلِ تقسیم اکائی سمجھ کر اس پر کلی حکم لگانا علمی منہج کے خلاف ہے۔اصولی اعتبار سے تصوف دو بڑے اجزاپر مشتمل ہے: اصول اور فروع۔
(۱)اصول:تصوف کے اصول درحقیقت دین ہی کے اصول ہیں، جن کی تین بنیادی قسمیں ہیں:
اصولِ عقائد، اصولِ اعمال، اصولِ اخلاق و تزکیہ۔
یہ وہ بنیادیں ہیں جو قرآن و سنت سے براہِ راست ماخوذ ہیں اور اہلِ سنت وجماعت کے مسلمہ دینی اصولوں سے الگ نہیں۔
(۲) فروع:تصوف کے فروعی پہلو متعدد ہیں، جن میں نمایاں طور پر درج ذیل امور شامل ہیں:
- سلوک و تزکیہ سے متعلق عملی طریقے، آداب و اذکار اور اوراد و اشغال۔
- قرآن، سنت، احادیث اور آثارِ سلف کی روشنی میں اہلِ علم صوفیہ کے اجتہادات، جن کا تعلق بعض فروعی اعتقادی، عملی، اخلاقی اور تربیتی مسائل سے ہے۔
- تزکیۂ نفس اور مجاہدۂ باطن کے نتیجے میں حاصل ہونے والے قلبی احوال، روحانی تجربات، غیبی مشاہدات اور وہبی علوم ومعارف۔
اس تقسیم کے بعد تصوف کا صحیح تجزیہ ممکن ہوسکے گا کہ ان میں کون سے اجزا متفق علیہ ہیں اور کون سےاجزا مختلف فیہ۔اگر تصوف کے اصولی عقائد؛ اسلام اور اہلِ سنت کے مسلمہ عقائد کے موافق ہوں گے، اس کے بنیادی اعمال و اخلاق قرآن و سنت سے ماخوذ ہوں گے اور اس کے اجتہادی مباحث، عملی طریقے، روحانی تجربات اورمشاہدات دین کے قطعی اصولوں سے متصادم نہیں ہوں گےتو تصوف کو اسلامی علمی روایت کے ایک معتبر اور قابلِ قبول شعبے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ البتہ اگر کسی فرد، گروہ یا مخصوص روایت میں کوئی ایسا نظریہ، عمل یا دعویٰ پایا جائے جو کتاب و سنت اور شرع کے محکم اصولوں کے خلاف ہو، تو اس کا حکم اسی مخصوص نظریے یا عمل پر ہوگا، نہ کہ پورے علمِ تصوف پر۔
صوفیہ کے اصولی عقائدواعمال
صوفیہ کے اصولی عقائد وہی ہیں جو اسلام اور اہلِ سنت وجماعت کے بنیادی اور متفق علیہ عقائد ہیں۔ عقائد کے بنیادی ابواب، جیسے توحید، رسالت، آخرت، ملائکہ، کتبِ الٰہیہ، تقدیر اور دیگر اصولِ ایمان میں صوفیہ کا موقف وہی ہے جو اہلِ سنت کا مسلمہ موقف ہے۔ البتہ جن اعتقادی مسائل میں اہلِ سنت کے اندر اجتہادی اختلاف پایا جاتا ہے، ان میں عمومی طور پر متقدمین صوفیہ کا منہج سلفِ صالحین کے قریب نظر آتا ہے، جب کہ متأخرین صوفیہ کی غالب اعتقادی نسبت اشاعرہ یا ماتریدیہ کی طرف پائی جاتی ہے اور غالب فقہی انتساب مذاہب اربعہ کی طرف ملتا ہے ۔تاہم یہ نسبت محض تقلیدی نہیں، بل کہ عموماً تحقیق، استدلال اور شرحِ صدر پر مبنی ہوتی ہے اور اگر کوئی جزوی وفرعی اختلاف بھی ہوتا ہے تو وہ اہلِ سنت کے علمی دائرے کے اندر اجتہادی اور ترجیحی نوعیت کا ہے، نہ کہ اصولِ دین اور مسلمات اہل سنت سے خروج کی سطح کا۔ صوفیہ کے عقائد، ان کے علمی وعملی منہج اور ان کے مصادرِ استدلال کو سمجھنے کے لیے ان کی بنیادی اور مستند تصانیف کا مطالعہ کافی ہے۔ بالخصوص اللمع، الرسالة القشيرية، حلیۃ الاولیا، التعرف لمذہب اھل التصوف، إحياء علوم الدين (خصوصاً کتاب قواعد العقائد)، آداب المريدين، عوارف المعارف، الرسالة المكية اور مجمع السلوك جیسی کتابیں اس حقیقت پر واضح شواہد فراہم کرتی ہیں کہ صوفیہ کے اصولی عقائد بعینہٖ وہی ہیں جو اہلِ اسلام اور اہلِ سنت کے نزدیک مسلمہ ہیں۔
ذیل میں اکابر ائمۂ تصوف کے چند ایسے اقوال نقل کیے جاتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک صحیح عقائد واعمال وہی ہیں جو اہلِ اسلام اور اہلِ سنت کےعقائد واعمال ہیں، اور تصوف کی تمام عملی و روحانی جہتیں کتاب و سنت کی پیروی اور ان کی عدمِ مخالفت کے اصول کی پابند ہیں۔
1. ابویزید بسطامی (۲۶۱ھ)
شیخ ابویزید بسطامی نے فرمایا: وَلِيُّ اللهِ الَّذِي يَأْخُذُ كِتَابَ اللهِ بِيَمِينِهِ، وَسُنَّةَ رَسُولِهِ ﷺ بِشِمَالِهِ، وَيَتَّزِرُ بِالدُّنْيَا، وَيَرْتَدِي بِالْآخِرَةِ، وَيُلَبِّي مِنْ بَيْنِهِمَا لِلْمَوْلَى([4])
ولی وہ شخص ہے جو اللہ کی کتاب کو اپنے دائیں ہاتھ میں اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کو اپنے بائیں ہاتھ میں تھامتا ہے، دنیا کو بطور ازار باندھتا ہے، آخرت کو بطور چادر اوڑھتا ہے، اور ان دونوں کے درمیان اپنے مولا کی پکار پر لبیک کہتا ہے۔
2. امام سہل بن عبد اللہ تستری(۲۸۳ھ)
حضرت ابوسلیمان دارانی اصول تصوف کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
أُصُولُنَا سَبْعَةُ أَشْيَاءَ: التَّمَسُّكُ بِكِتَابِ اللهِ تَعَالَى، وَالِاقْتِدَاءُ بِرَسُولِ اللهِ ـ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ـ ، وَأَكْلُ الْحَلَالِ، وَكَفُّ الْأَذَى، وَاجْتِنَابُ الْآثَامِ، وَالتَّوْبَةُ، وَأَدَاءُ الْحُقُوقِ ([5])۔
(ہمارے اصول سات چیزیں ہیں: اللہ تعالیٰ کی کتاب کو مضبوطی سے تھامنا، رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنا، حلال کھانا، کسی کو تکلیف پہنچانے سے رکنا، گناہوں سے اجتناب کرنا، توبہ کرنا، اور حقوق ادا کرنا)۔
3. امام جنید بغدادی ( 297ھ)
تصوف کی اساس بیان کرتےہوئےامام جنیدفرماتے ہیں:
مَذْهَبُنَاهَذَا مُقَيَّدٌ بِأصُوْلِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ. ([6])
ہمارا یہ طریقہ تصوف کتاب و سنت کے اصولوں کا پابند ہے۔
سالک راہ تصوف کے لیے علم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتےہیں: يَا فَتَى، الْزَمِ الْعِلْمَ وَلَوْ وَرَدَ عَلَيْكَ مِنَ الْأَحْوَالِ مَا وَرَدَ، وَيَكُونُ الْعِلْمُ مُصَاحِبَكَ، فَالْأَحْوَالُ تَنْدَرِجُ فِيكَ وَتَنْفَدُ؛ لِأَنَّ اللهَ يَقُولُ:﴿وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا﴾.([7])
اے نوجوان! علم کو لازم پکڑو، خواہ تم پر کتنے ہی روحانی احوال وارد ہوں؛ کیوں کہ احوال تمہارے اندر آتے جاتے رہیں گے اور ختم ہو جائیں گے، جب کہ علم تمہارے ساتھ باقی رہے گا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اور جو لوگ علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں: ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہے۔
حصول مقصود کی قریب ترین راہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
مقصود تک پہنچنے کا قریب ترین راستہ آٹھ شرطوں پر مشتمل ہے:(۱)ہمیشہ باطہارت رہنا۔(۲)ہمیشہ روزے کا اہتمام کرنا۔(۳)بلا ضرورت أمور سےخاموشی اختیار کرنا۔(۴)خلوت کی پابندی کرنا۔(۵)اللہ تعالیٰ کے ذکر، خصوصاًلا إله إلا الله پر مداومت اختیار کرنا۔(۶)دل میں آنے والے خیالات وخواطرکو دور کرتے رہنا۔(۷)اپنے دل کو شیخ کے ساتھ وابستہ رکھنا، پیش آنے والے روحانی احوال میں اس سے رہ نمائی حاصل کرنا تاکہ سالک کی اپنی خواہش اور تدبیر،شیخ کی تربیت و رہ نمائی کے تابع ہوجائے۔(۸)اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچنے والی ہر تقدیر، خواہ وہ بظاہر نفع کی صورت میں ہو یا ضرر کی صورت میں، اس کی حکمت کے بارے میں معترضانہ سوالات سے اجتناب کرنا۔ ([8])
4. امام ابو القاسم قشیری ( 465ھ)
رسالۂ قشیریہ کے آغاز میں بناے تصوف کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اِعْلَمُوا رَحِمَكُمُ اللهُ أَنَّ مَشَايِخَ هَذِهِ الطَّائِفَةِ بَنَوْا قَوَاعِدَ أَمْرِهِمْ عَلَى أُصُولٍ صَحِيحَةٍ فِي التَّوْحِيدِ صَانُوا بِهَاعَقَائِدَهُمْ عَنِ الْبِدَعِ (الرسالۃ القشیریۃ،فصل فی بیان اعتقاد ہذہ الطائفۃ فی مسائل الأصول،(۱ /19))
جان لو کہ مشائخ نے اپنے طریقے کی بنیاد صحیح عقائدِ توحید پر رکھی اور اپنے عقائد کو بدعات سے محفوظ رکھا۔
ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
إنَّهُمْ مُجْمِعُونَ عَلَى تَعْظِيمِ الشَّرِيعَةِ، مُتَّصِفُونَ بِسُلُوكِ طُرُقِ الرِّيَاضَةِ، مُقِيمُونَ عَلَى مُتَابَعَةِ السُّنَّةِ، غَيْرُ مُخِلِّينَ بِشَيْءٍ مِنْ آدَابِ الدِّيَانَةِ، مُتَّفِقُونَ عَلَى أَنَّ مَنْ خَلَا مِنَ الْمُعَامَلَاتِ وَالْمُجَاهَدَاتِ، وَلَمْ يَبْنِ أَمْرَهُ عَلَى أَسَاسِ الْوَرَعِ وَالتَّقْوَى، كَانَ مُفْتَرِيًا عَلَى اللهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى فِيمَا يَدَّعِيهِ، مُفْتُونًا هَلَكَ فِي نَفْسِهِ، وَأَهْلَكَ مَنِ اغْتَرَّ بِهِ مِمَّنْ رَكَنَ إِلَى أَبَاطِيلِهِ. (الرسالة القشیریة(۱ /۱۴۸)
صوفیہ اس بات پر متفق ہیں کہ شریعت کی تعظیم و توقیر کی جائے گی، وہ ریاضت و مجاہدہ کے طریقوں کو اختیار کرنے والے، سنت کی پیروی پر قائم رہنے والے اور دین کے آداب میں سے کسی ادب کی بجا آوری میں کمی کرنے والے نہیں ہوتے۔صوفیہ کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ جو شخص معاملات و مجاہدات سے خالی ہو، اور اپنے طریقۂ عمل کی بنیاد ورع و تقویٰ پر نہ رکھے، وہ اپنے دعوے میں اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنے والا ہے۔ ایسا شخص خود بھی فریب خوردہ ہو کر ہلاکت میں پڑتا ہے اور جو لوگ اس کے باطل دعووں پر اعتماد کرکے اس کی پیروی کرتے ہیں، انہیں بھی ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔
5. شیخ عبد القادر جیلانی ( 561ھ)۔
اپنے صاحب زادے کوتصوف کے اصول عقائد واعمال واخلاق کی وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللهِ وَطَاعَتِهِ وَلُزُومِ الشَّرْعِ وَحِفْظِ حُدُودِهِ. وَتَعَلَّمْ يَا وَلَدِي وَفَّقَنَا اللهُ تَعَالَى وَإِيَّاكَ وَالْمُسْلِمِينَ أَنَّ طَرِيقَتَنَا هٰذِهِ مَبْنِيَّةٌ عَلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ، وَسَلَامَةِ الصُّدُورِ، وَسَخَاءِ الْيَدِ، وَبَذْلِ النَّدَى، وَكَفِّ الْجَفَا، وَحَمْلِ الْأَذَى، وَالصَّفْحِ عَنْ عَثَرَاتِ الْإِخْوَانِ ([9])
میں تمھیں اللہ سے ڈرنے ،اس کی طاعت و بندگی ، شریعت کو لازم پکڑنے اور اس کے حدود کے تحفظ کی وصیت کرتاہوں۔ اے میرے بیٹے!- اللہ ہمیں ،تمھیں اور تمام مسلمانوں کو توفیق عطا فرمائے-یہ جان لو کہ بے شک ہمارے اس طریقے کی بنا کتاب و سنت پر ہے، میں تمھیں دل کو صاف رکھنے، سخاوت و بخشش کرنے، ایذا رسانی سے بچنے، تکالیف برداشت کرنے اور احباب کی خطاؤں کو درگزر کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔
ایک دوسرے مقام پرکتاب وسنت اور اتباع رسول کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
كُلُّ حَقِيقَةٍ لَا تَشْهَدُ لَهَا الشَّرِيعَةُ فَهِيَ زَنْدَقَةٌ، طِرْ إِلَى الْحَقِّ عَزَّ وَجَلَّ بِجَنَاحَيِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ، أُدْخُلْ عَلَيْهِ وَيَدُكَ فِي يَدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اجْعَلْهُ وَزِيرَكَ وَمُعَلِّمَكَ. ([10])
جس حقیقت کی تائید و گواہی شریعت نہ دے، وہ زندیقیت ہے۔ کتاب و سنت کے دو پر لگاکر حق تعالی کی طرف اُڑ جاؤ۔ بارگاہ حق میں اس طرح داخل ہوجاؤ کہ تمہارا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رہ نما مشیر اور معلم بنا لو۔
ایک اور مقام پراتباع شریعت اور درست عقیدے کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
تم اتباع شرع کو لاز م جانو،بدعتوں سے بچو، سلف صالحین کے مذہب کواختیار کرواور صراط مستقیم پر چلو ،جس میں نہ تشبیہ ہے اور نہ تعطیل، بل کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی ہے۔([11])
6. شیخ نجم الدین کبری (۶۱۸ھ)
اپنے رسالہ السفینۃ میں شریعت، طریقت اورحقیقت کی تمثیل وتوضیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
الشَّرِيعَةُ كَالسَّفِينَةِ، وَالطَّرِيقَةُ كَالْبَحْرِ، وَالْحَقِيقَةُ كَالدُّرِّ، فَمَنْ تَرَكَ هَذَا التَّرْتِيبَ لَمْ يَصِلْ إِلَى الدُّرِّ.فَأَوَّلُ شَيْءٍ وَجَبَ عَلَى الطَّالِبِ الشَّرِيعَةُ،
وَالْمُرَادُ بِالشَّرِيعَةِ مَا أَمَرَ اللهُ تَعَالَى وَرَسُولُهُ مِنَ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ وَأَدَاءِ الزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَتَرْكِ الْحَرَامِ، وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَوَامِرِ وَالنَّوَاهِي.
وَالطَّرِيقَةُ: الْأَخْذُ بِالتَّقْوَى، وَمَا يُقَرِّبُكَ إِلَى الْمَوْلَى مِنْ قَطْعِ الْمَنَازِلِ وَالْمَقَامَاتِ…
وَأَمَّا الْحَقِيقَةُ فَهِيَ الْوُصُولُ إِلَى الْمَقْصَدِ، وَمُشَاهَدَةُ نُورِ التَّجَلِّي. كَمَا قِيلَ فِي الصَّلَاةِ: إِنَّ الصَّلَاةَ خِدْمَةٌ وَقُرْبَةٌ وَوَصْلَةٌ؛ فَالْخِدْمَةُ هِيَ الشَّرِيعَةُ، وَالْقُرْبَةُ هِيَ الطَّرِيقَةُ، وَالْوَصْلَةُ هِيَ الْحَقِيقَةُ. كَمَا قِيلَ: الشَّرِيعَةُ أَنْ تَعْبُدَهُ، وَالطَّرِيقَةُ أَنْ تُحْضِرَهُ، وَالْحَقِيقَةُ أَنْ تَشْهَدَهُ. ([12])
شریعت کشتی کی مانند ، طریقت سمندر کی مانند اور حقیقت موتی کی مانند ہے۔ پس جو شخص اس ترتیب کو چھوڑ دے، وہ موتی تک نہیں پہنچ سکتا۔لہذا طالبِ حق پر سب سے پہلے شریعت کا التزام ضروری ہے۔
شریعت سے مراد وہ تمام امور ہیں جن کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے، مثلاً وضو، نماز، روزہ، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا، حرام کاموں سے بچنا اور اس کے علاوہ دوسرے اوامر و نواہی۔
طریقت سے مراد تقویٰ اختیار کرنا اوران تمام منازل ومقامات کوطےکرناہےجوتمہیں مولیٰ تعالیٰ کےقریب کرتےہیں۔
رہی حقیقت، تو وہ مقصود تک پہنچنے اور نورِ تجلی کا مشاہدہ کرنے کا نام ہے۔جس طرح نماز کے بارے میں کہا گیا ہےکہ نماز خدمت، قربت اور وصال کا ذریعہ ہے؛ پس خدمت شریعت ہے، قربت طریقت ہے اور وصال حقیقت ہے۔اسی طرح کہا گیا ہے:شریعت یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو، طریقت یہ ہے کہ اسے اپنے سامنے حاضر سمجھو، اور حقیقت یہ ہے کہ تم اس کا مشاہدہ کرو۔
7. امام ابو حفص عمر سہروردی ( 632ھ)
عوارف المعارف میں صوفیہ کے حسن اتباع اور حسن اعمال واخلاق واحوال کو بیان کرتے ہوئےلکھتے ہیں:
وَالصُّوفِيَّةُ مِنْ بَيْنِ طَوَائِفِ الْإِسْلَامِ ظَفِرُوا بِحُسْنِ الْمُتَابَعَةِ، لِأَنَّهُمْ اتَّبَعُوا أَقْوَالَهُ، فَقَامُوا بِمَا أَمَرَهُمْ، وَوَقَفُوا عَمَّا نَهَاهُمْ. قَالَ اللهُ تَعَالَى: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ ثُمَّ اتَّبَعُوهُ فِي أَعْمَالِهِمْ مِنَ الْجِدِّ وَالِاجْتِهَادِ فِي الْعِبَادَةِ، وَالتَّهَجُّدِ وَالنَّوَافِلِ مِنَ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، وَرُزِقُوا بِبَرَكَةِ الْمُتَابَعَةِ فِي الْأَقْوَالِ وَالْأَفْعَالِ التَّخَلُّقَ بِأَخْلَاقِهِ، مِنَ الْحَيَاءِ وَالْحِلْمِ، وَالصَّفْحِ وَالْعَفْوِ، وَالرَّأْفَةِ وَالشَّفَقَةِ، وَالْمُدَارَاةِ وَالنَّصِيحَةِ وَالتَّوَاضُعِ، وَرُزِقُوا قِسْطًا مِنْ أَحْوَالِهِ مِنَ الْخَشْيَةِ وَالسَّكِينَةِ، وَالْهَيْبَةِ وَالتَّعْظِيمِ، وَالرِّضَا وَالصَّبْرِ، وَالزُّهْدِ وَالتَّوَكُّلِ، فَاسْتَوْفَوْا جَمِيعَ أَقْسَامِ الْمُتَابَعَاتِ، وَأَحْيَوْا سُنَّتَهُ بِأَقْصَى الْغَايَاتِ.([13])
صوفیہ ؛اسلام کے مختلف طبقات میں سے وہ ہیں جو حسنِ اتباع کی وجہ سے ممتاز ہوئے، کیوں کہ انہوں نے آپ ﷺ کے اقوال کی پیروی کی؛ چناں چہ جن کاموں کا آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا، انہیں بجا لائے اور جن چیزوں سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ان سے رک گئے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اور رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لو، اور جس چیز سے تمہیں روکیں اس سے باز رہو۔پھر انہوں نے آپ ﷺ کے اعمال میں بھی آپ کی پیروی کی؛ یعنی عبادت میں محنت و کوشش کی، تہجد، نوافل، روزے، نماز اور اس کے علاوہ دیگر عبادات میں رسول اللہ کا اتباع کیا ۔ اُنہیں اقوال و افعال میں اتباع کی برکت سے آپ ﷺ کے اخلاق ؛ مثلاً حیا، بردباری، درگزر، معافی، مہربانی ، شفقت، مدارات، خیرخواہی اور تواضع کو اپنانے کی توفیق ملی اور انہیں آپ ﷺ کے احوال ؛ مثلاً خشیتِ الٰہی، سکون و اطمینان، ہیبت و عظمت، رضا، صبر، زہد اور توکل میں سے بھی ایک حصہ عطا ہوا ۔اس طرح انہوں نے اتباع کی تمام اقسام کو اختیار کیا اور آپ ﷺ کی سنت کو انتہائی اعلیٰ درجے میں زندہ کیا۔
8. شیخ ابوالحسن شاذلی(۶۵۶ھ)
کتاب وسنت کی اہمیت اور کشف کی حیثیت واقعی کو بیان کرتے ہوئےامام شاذلی فرماتے ہیں:
إِذَا عَارَضَ كَشْفُكَ الصَّحِيحَ الْكِتَابَ وَالسُّنَّةَ فَاعْمَلْ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَدَعِ الْكَشْفَ، وَقُلْ لِنَفْسِكَ: إِنَّ اللهَ تَعَالَى ضَمِنَ لِيَ الْعِصْمَةَ فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ، وَلَمْ يَضْمَنْهَا لِي فِي جَانِبِ الْكَشْفِ وَالإِلْهَامِ. ([14])
اگر تمہارا کشف کتاب و سنت کے صحیح حکم کے خلاف ہو تو کتاب و سنت پر عمل کرو اور کشف کو چھوڑ دو اور اپنے نفس سے کہو:بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے کتاب و سنت میں حفاظت اور درستی کی ضمانت دی ہے، کشف اور الہام کے معاملے میں میرے لیے اس کی ضمانت نہیں دی۔
9. شیخ قطب الدین دمشقی(۷۸۰ھ)
الرسالۃ المکیۃ میں علم وعمل صالح اور ان کے مصدر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
هَذَا الْعِلْمُ الرَّاجِحُ الَّذِي بِهِ يَصِحُّ اعْتِقَادُهُ، وَمَعَارِفُهُ، وَعَمَلُهُ الصَّالِحُ، هُوَ فِي كِتَابِ اللهِ تَعَالَى؛فَإِنَّ الْقُرْآنَ هُوَ الْإِمَامُ فِي الِاعْتِقَادِ، وَالْإِيمَانِ، وَالتَّوْحِيدِ، وَالْمَعْرِفَةِ، وَالْأَعْمَالِ، وَالْأَحْوَالِ۔([15])
وہ راجح اور معتبر علم جس کے ذریعے انسان کا عقیدہ درست ہوتا ہے، اس کی معرفتیں صحیح ہوتی ہیں، اور اس کا عمل صالح استوار ہوتا ہے، اس کا اصل سرچشمہ کتاب اللہ ہے؛ کیوں کہ قرآنِ کریم ہی عقیدہ، ایمان، توحید، معرفت، اعمال اور احوال، سب میں اصل امام اور رہ نما ہے۔
ایک دوسرے مقام پر فرائض وواجبات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئےفرماتے ہیں:
وَأَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ جَمِيعَ مَا فَرَضَ اللهُ تَعَالَى عَلَى الْعِبَادِ فِي كِتَابِهِ، وَأَوْجَبَهُ رَسُولُ اللهِ ـ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ـ فَرْضٌ لَازِمٌ، وَحَتْمٌ وَاجِبٌ، لَا يَجُوزُ التَّخَلُّفُ عَنْهُ، وَلَا يَسَعُ فِيهِ التَّفْرِيطُ لِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، مِنْ صِدِّيقٍ أَوْ وَلِيٍّ أَوْ عَارِفٍ، وَإِنْ بَلَغَ أَقْصَى الْمَرَاتِبِ وَأَعْلَى الدَّرَجَاتِ، بَلْ كُلَّمَا ازْدَادَ الْقُرْبُ كَانَتِ الْمُطَالَبَةُ بِأَدَاءِ آدَابِ الشَّرِيعَةِ وَالْمُعَاتَبَةُ عَلَى تَرْكِهَا أَكْثَرَ. ([16])
اہلِ علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بندوں پر جو کچھ فرض کیا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کو واجب قرار دیا ہے، وہ لازم اور قطعی واجب ہے۔ اس سے روگردانی کرنا جائز نہیں، اور نہ ہی کسی شخص کے لیے، خواہ وہ صدیق ہو، ولی ہو یا عارف، اس میں کوتاہی کی گنجائش ہے، اگرچہ وہ روحانی مراتب کی بلند ترین منزلوں اور اعلیٰ ترین درجات تک پہنچ چکا ہو، بل کہ حقیقت یہ ہے کہ بندہ جتنا زیادہ اللہ تعالیٰ کے قرب میں ترقی کرتا ہے، اسی قدر اس سے آدابِ شریعت کی پابندی کا مطالبہ زیادہ سخت ہوتا ہے، اور ان میں کوتاہی پر مواخذہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
وَتَصْحِيحُ الْأَعْمَالِ بِمَعْرِفَةِ عُلُومِهَا، وَهُوَ عِلْمُ الْفِقْهِ مِنَ الصَّلَاةِ، وَالصِّيَامِ، وَسَائِرِ الْفَرَائِضِ، وَالسُّنَنِ الرَّاتِبَةِ. ([17])
اور اعمال کی اصلاح ان کے احکام و علوم کی معرفت کے ذریعے ہوتی ہے، اور وہ علمِ فقہ ہے؛ جیسے نماز، روزہ اور تمام فرائض اور پابندی سے ادا کی جانے والی سنتوں کا علم۔
شریعت وطریقت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَأَمَّا الطَّرِيقَةُ فَهِيَ لُبَابُ الشَّرِيعَةِ، لَا هِيَ الشَّرِيعَةُ، وَلَا هِيَ غَيْرُ الشَّرِيعَةِ، وَبِدَايَةُ الطَّرِيقَةِ الْأَخْذُ بِالْأَحْسَنِ وَالْأَحَبِّ، وَالِاحْتِيَاطُ فِي أَحْكَامِ الشَّرْعِ، وَالِاجْتِنَابُ عَنِ الرُّخَصِ وَالتَّسْهِيلَاتِ، ثُمَّ فِي الطَّرِيقَةِ مَنَازِلُ وَمَقَامَاتٌ، وَلِكُلِّ مَنْزِلٍ وَمَقَامٍ بِدَايَةٌ وَنِهَايَةٌ، وَلَا يَصِلُ أَحَدٌ إِلَى النِّهَايَةِ إِلَّا بِتَصْحِيحِ الْبِدَايَةِ. ([18])
اور رہی طریقت، تو وہ شریعت کا لبِّ لباب اور خلاصہ ہے؛ نہ وہ عین شریعت ہے اور نہ شریعت سے الگ کوئی چیز۔ طریقت کی ابتدا اس بات سے ہوتی ہے کہ انسان زیادہ بہتر اور زیادہ محبوب طریقے کو اختیار کرے، احکامِ شرع میں احتیاط سے کام لے، اور شرعی رخصتوں اور آسانیوں سے حتی الامکان اجتناب کرے۔ پھر طریقت میں مختلف منزلیں اور مقامات ہیں، اور ہر منزل و مقام کی ایک ابتدا اور ایک انتہا ہے اور کوئی شخص انتہا تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ اپنی ابتدا کو درست نہ کر لے۔
10. شیخ زروق فاسی(۸۹۹ھ)
اپنی مشہور کتاب قواعد التصوف میں فقہ وتصوف کے باہمی تعلق کی وضاحت کرتے ہوئےلکھتے ہیں:
فَلَا تَصَوُّفَ إِلَّا بِفِقْهٍ، إِذْ لَا تُعْرَفُ أَحْكَامُ اللهِ الظَّاهِرَةُ إِلَّا مِنْهُ، وَلَا فِقْهَ إِلَّا بِتَصَوُّفٍ، إِذْ لَا عَمَلَ إِلَّا بِصِدْقٍ وَتَوَجُّهٍ، وَلَا هُمَا إِلَّا بِإِيمَانٍ، إِذْ لَا يَصِحُّ وَاحِدٌ مِنْهُمَا بِدُونِهِ، فَلَزِمَ الْجَمِيعُ لِتَلَازُمِهِمَا فِي الْحُكْمِ، كَتَلَازُمِ الْأَرْوَاحِ لِلْأَجْسَادِ، إِذْ لَا وُجُودَ لَهَا إِلَّا فِيهَا، كَمَا لَا كَمَالَ لَهُ إِلَّا بِهَا، فَافْهَمْ.وَمِنْهُ قَوْلُ مَالِكٍ رَحِمَهُ اللهُ:مَنْ تَصَوَّفَ وَلَمْ يَتَفَقَّهْ فَقَدْ تَزَنْدَقَ، وَمَنْ تَفَقَّهَ وَلَمْ يَتَصَوَّفْ فَقَدْ تَفَسَّقَ، وَمَنْ جَمَعَ بَيْنَهُمَا فَقَدْ تَحَقَّقَ۔([19])
فقہ کے بغیر تصوف ممکن نہیں؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے ظاہری احکام کی صحیح معرفت فقہ ہی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اور تصوف کے بغیر فقہ بھی کامل نہیں؛ کیوں کہ عمل اس وقت صحیح روح پاتا ہے جب اس میں اخلاص، صدق اور کامل توجہ ہو، اور یہ صفات تصوف کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں۔ پھر فقہ اور تصوف دونوں ایمان کے بغیر درست نہیں؛ کیوں کہ ایمان ہی ان دونوں کی بنیاد ہے، اس کے بغیر نہ فقہ معتبر ہے اور نہ تصوف؛لہٰذا ایمان، فقہ اور تصوف تینوں کا جمع ہونا ضروری ہے، کیوں کہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح وابستہ ہیں جیسے روح اور جسم؛ روح جسم کے بغیر ظاہر نہیں ہوتی اور جسم روح کے بغیر کمال نہیں پاتا۔ اسی طرح فقہ، تصوف اور ایمان ایک دوسرے کے بغیر اپنے مطلوبہ کمال کو نہیں پہنچتے۔ اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لو۔اسی مفہوم کی طرف امام مالک بن انس کے اس مشہور قول میں اشارہ ہے:جس نے تصوف اختیار کیا مگر فقہ حاصل نہ کی، وہ زندیق (گمراہ) ہو گیا اور جس نے فقہ حاصل کی مگر تصوف سے بے بہرہ رہا، وہ فسق میں مبتلا ہو گیا اور جس نے فقہ اور تصوف دونوں کو جمع کر لیا، وہ حقیقتِ دین تک پہنچ گیا۔
تجزیہ
مندرجہ بالا تصریحات سے یہ حقائق واضح ہوتے ہیں کہ صوفیہ کے اصول عقائد واعمال وہی ہیں جو اہل اسلام اور اہل سنت کے ہیں۔انہوں نے اپنے طریقے کو ہمیشہ کتاب و سنت کا تابع قرار دیا،انہوں نے ہمیشہ طالبین کے لیےحصول علم کو لازم قرار دیا؛ کیوں کہ عقائد واعمال کی تصحیح علم کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے فقہ وتصوف کو ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم قرار دیا، فرائض وواجبات کی پابندی سب کے لیے ضروری ٹھہرائی، بڑے سے بڑا ولی وعارف بھی اس سے مستثنی نہیں۔ ان کے نزدیک طریقت؛ نہ عین شریعت ہے اور نہ غیر شریعت، بل کہ مغز شریعت ہے ، جس کی ابتدااحسن اور احب پر عمل ، احکام شریعت میں احتیاط اوربے ضرورت رخصتوں اور آسانیوں سے گریز سے ہوتی ہے۔ سالک سے کسی بھی مقام پر شرعی احکام ساقط نہیں ہوتے بل کہ جو جس قدر ولایت کی بلندی پر ہوگا احکام پر عمل کا مطالبہ اسی قدر سخت ہوگا۔ جو حقیقت قرآن سنت سے متصادم ہو وہ زندیقیت ہے اورجو کشف کتاب وسنت کے معارض ہو وہ شیطانی وسوسہ ہے۔ ان اصولوں سے منحرف شخص کو نہ تو صوفی کہا جاسکتا ہے نہ متصوف، بل کہ اس کا شمار مستصوفین میں ہوگا جن کا حقیقی تصوف سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں، کیوں کہ یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی علم کا تجزیہ ان کے اصولوں کی بنیاد پر کیا جائے گا نہ کہ منتسبین کے انحرافات کی بنا پر اور کوئی کسی علم کا اگر غلط استعمال کرتا ہے تو یہ اس کی اصل کو باطل نہیں کرتا ۔
نتائج
- معلوم ہوا کہ:صوفیہ کے اصول عقائد واعمال کی بنیاد کتاب وسنت اور اجماع سلف ہے اور اس سے انحراف بدعت ہے۔
- کلاسیکی تصوف اپنے اصولی عقائد و اعمال میں اہلِ سنت وجماعت ہی کی نمائندگی کرتا ہے۔
- تصوف اہلِ سنت کے دائرے سے الگ کوئی مستقل اعتقادی یا عملی نظام نہیں۔
- تصوف کا بنیادی مقصد عقائدِ سلیمہ کو دلوں میں راسخ کرنا اور ان پر مضبوط یقین پیدا کرنا ہے۔
- صوفیہ اعمالِ صالحہ پر مداومت اختیار کرنے اور ان کی پابندی کی دعوت و ترغیب دیتے ہیں۔
- تصوف بداعمالی، رذائلِ اخلاق اور نفسانی خواہشات کے خلاف مجاہدہ اور اصلاحِ نفس کی بھرپور جدوجہد کی تعلیم دیتا ہے۔
- معتبر صوفیانہ روایت میں صحیح عقیدہ، مضبوط یقین اور عملِ صالح کو سلوک و تربیت کی بنیادی اساس قرار دیا گیا ہے۔
- اس اعتبار سے حقیقی صوفیہ صحیح عقیدے، پختہ یقین اور صالح عمل کے عملی نمونے ہوتے ہیں اور جھوٹے، مکار اور فریبیوں کا حقیقی صوفیہ اور تصوف سے کوئی تعلق نہیں۔
- تصوف کے ان اصولی اجزا کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو دین کے بالمقابل یا اس کے متوازی نظام کے طور پر دیکھنا کلاسیکی صوفیانہ لٹریچر کے سراسرخلاف ہے۔
صوفیہ کے اصولِ اخلاق
صوفیہ نے اپنی کتب، مکاتیب ، ملفوظات اور مجالس سلوک واحسان میں جن اخلاق و آداب کا ذکر کیا ہے، ان پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ ان میں کوئی ایسا خلق نہیں جس کی بنیاد کتاب و سنت سے ماورا ہو یا جو اسلامی اخلاقی تعلیمات سے مختلف ہو۔ حلم، تواضع، خیر خواہی، شفقت، صبر و تحمل، احسان، ایثار، خدمت، الفت، خوش اخلاقی، سخاوت، وفاداری، حیا، عفو و درگزر، صلح جوئی، حسنِ معاشرت، بزرگوں کا احترام، چھوٹوں پر رحمت اور نفس کو حقیر سمجھناوغیرہ ، یہ سب وہ اخلاق ہیں جن کی تعلیم قرآن مجید اور سنت نبوی میں بار بار دی گئی ہے اور یہی صوفیہ کے اخلاق ہیں۔
شیخ ابو نجیب سہروردی اخلاق صوفیہ پر گفتگو کرتےہوئے فرماتے ہیں:
وَمِنْ أَخْلَاقِهِمْ: الْحِلْمُ، وَالتَّوَاضُعُ، وَالنَّصِيحَةُ، وَالشَّفَقَةُ، وَالِاحْتِمَالُ، وَالْمُرَافَقَةُ، وَالْإِحْسَانُ، وَالْمُدَارَاةُ، وَالْإِيثَارُ، وَالْخِدْمَةُ، وَالْأُلْفَةُ، وَالْبَشَاشَةُ، وَالْكَرَمُ، وَبَذْلُ الْجَاهِ، وَالْفُتُوَّةُ، وَالْمُرُوءَةُ، وَالْمَوَدَّةُ، وَالْجُودُ، وَالْعَفْوُ، وَالصُّلْحُ، وَالسَّخَاءُ، وَالْوَفَاءُ، وَالْحَيَاءُ، وَالتَّلَطُّفُ، وَالْبِشْرُ، وَالطَّلَاقَةُ، وَالسَّكِينَةُ، وَالْوَقَارُ، وَالدُّعَاءُ، وَالثَّنَاءُ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ، وَتَصْغِيرُ النَّفْسِ، وَتَوْقِيرُ الْإِخْوَانِ، وَتَبْجِيلُ الْمَشَايِخِ، وَالتَّرَحُّمُ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَاسْتِعْظَامُ مَا إِلَيْهِ، وَاسْتِصْغَارُ مَا مِنْهُ. (آداب المریدین،فصل اخلاقہم اجل الخصال ص:۲۲)
صوفیہ کے اخلاق میں یہ اوصاف شامل ہیں: حلم، تواضع، خیر خواہی، شفقت، برداشت، حسنِ رفاقت، احسان، مدارات، ایثار، خدمت، باہمی اُلفت، بشاشت، سخاوت، اپنی عزت و وجاہت کو دوسروں کے فائدے کے لیے صرف کرنا، فتوت، مروّت، محبت، جود و کرم، عفو و درگزر، صلح جوئی، فیاضی، وفاداری، حیا، نرمی و لطافت، خوش روئی، کشادہ پیشانی، سکون و اطمینان، وقار، دعا کرنا، لوگوں کی اچھائی بیان کرنا، حسنِ اخلاق، اپنے نفس کو حقیر سمجھنا، دینی بھائیوں کی توقیر کرنا، مشائخ کی تعظیم کرنا، چھوٹوں اور بڑوں سب پر رحم کرنا، دوسروں کے احسان کو بڑا سمجھنا اور اپنے احسان کو معمولی خیال کرنا۔
تجزیہ
شیخ ابوالنجیب کی فراہم کردہ اخلاقی فہرست صوفیہ کے یہاں معتبر اخلاق کا ایک نمونہ ہے۔انہی اخلاق کا ذکر تمام صوفیہ نے اپنی کتابوں میں کیا ہے۔ یہ فہرست اس حقیقت کو بخوبی واضح کرتی ہے کہ تصوف کا اخلاقی سرمایہ دراصل اسلامی اخلاق ہی کا عملی اور تربیتی اظہار ہے۔ ان اوصاف میں سے ہر ایک کی اصل قرآن کریم میں موجود ہے؛ مثلاً حلم، عفو، احسان، ایثار، رحمت، تواضع، حسنِ معاشرت، وفاے عہد اور اخوت، سب قرآنی تعلیمات کا حصہ ہیں ،یہ ایک مسلم الثبوت حقیقت ہے اور ا س میں کسی کا اختلاف نہیں؛ اس لیے صوفیہ کے اخلاق کو اسلامی اخلاق سے الگ یا اس کے مدمقابل قرار دینا علمی اعتبار سے درست نہیں۔ اب جوشخص بھی صحیح عقائد، صالح اعمال اور مندرجہ بالا صوفیانہ اخلاق سے آراستہ ہوگا یا اس کی تحصیل کے لیے کوشش کرنے والا ہوگا، اسی کا حقیقی تصوف سے تعلق ہوگا اور جو ایسا نہیں ہوگا وہ تصوف اور صوفیہ کا حقیقی نمائندہ نہیں ہوگا ؛اس لیے کہ یہ متفق علیہ اصول ہے کہ کسی علم کی سچی معرفت کا اصل معیار ان کے اصول ہیں، نہ کہ نسبت کے دعوے داروں کی خطائیں۔
نتائج
سابقہ تجزیے سے درج ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں:
- اخلاقِ صوفیہ کی بنیاد اسلامی اخلاق و آداب پر ہے۔
- حلم، تواضع، شفقت، احسان، ایثار، خدمت، سخاوت، عفو، وفا، حیا، حسنِ خلق اور اخوت جیسے اوصاف تقریباً تمام معتبر صوفیانہ لٹریچر میں بنیادی اخلاق کے طور پر ملتے ہیں۔
- اخلاقی کمال کا بنیادی معیار شریعت ہے؛ اس لیے صوفیانہ اخلاق کی صحت و قبولیت کا معیار بھی بالآخر کتاب و سنت اور آدابِ شریعت ہی ہیں۔
- تصوف نے کوئی نیا یا مستقل اخلاقی نظام ایجاد نہیں کیا، بل کہ اسلامی اخلاق کو ہی اپنی تربیتی روایت کا مرکز بنایا۔
- لہذاجو اخلاق یا طرزِ عمل شریعت کے منافی ہو، اسے معتبر صوفیانہ اخلاق قرار نہیں دیا جا سکتااور جو ان صوفیانہ اخلاق کا حامل نہ ہو یا اس کے لیے کوشاں نہ ہو اسے صوفی یا تصوف کا نمائندہ نہیں کہا جاسکتا۔
- حاصل یہ کہ اخلاقی اعتبار سے بھی تصوف؛ اسلامی اخلاق کا متوازی نظام نہیں، بل کہ اس کی تزکیاتی، تربیتی اور احسانی تشکیل ہے۔
تربیت سلوک اور اوراد و اشغال
تصوف کے فروعی پہلوؤں میں سب سے نمایاں حصہ سلوک و تزکیہ سے متعلق عملی طریقے، اذکار، اوراد، دعائیں اور مختلف اشغال ہیں۔ من جملہ ان کی بنیاد بھی قرآن و سنت ہے۔عموماً مسنون اوراد واذکارکی تعداد یا ترتیب بھی صوفیہ کے یہاں مسنون ہوتی ہے اور اگر اذکار و اوراد مسنون نہ ہوں، بل کہ صالحین کے اپنے وضع کردہ ہوں، تب بھی ان اوراد کے اوقات کی ترتیب وتنظیم کا تعلق احادیث میں مذکورمستجاب أوقات سے ہوتا ہے یا پھر ان کے ذاتی روحانی تجربات ومشاہدات سے۔البتہ واضح رہے کہ اُن اعمال واوراد کی ترتیب، انتخاب اور بعض عملی صورتیں اجتہادی اور تربیتی نوعیت رکھتی ہیں، نہ کہ مستقل تشریعی حیثیت۔ہاں ان میں بعض اشغال وہ بھی ہیں جن کو بعض صوفیہ نے غلبۂ حال میں انجام دیاہے جیسے صلاۃ معکوس وغیرہ۔
دعاؤں کی تلقین اور ان کی تنظیم وتوقیت
رہی بات اذکار واوراد کی تو قرآن کریم خود متعدد دعاؤں اور اذکار سے معمور ہے۔ انبیاے کرام علیہم السلام، ملائکہ اور صالحین کی بہت سی عمومی دعائیں قرآن میں منقول ہیں، مثلاً: رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا، رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي،رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وغیرہ۔ اسی طرح احادیثِ نبویہ میں اذکار الصباح والمساء، اذکارِ نماز، اذکارِ سفر، اذکارِ نوم، اذکارِ بیداری اور دیگر مواقع اور اوقات کی خصوصی دعائیں کثرت سے وارد ہوئی ہیں، جن میں بعض اذکار وہ ہیں جن کے پڑھنے کی تعداد بھی متعین ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوقات اور تعداد کی پابندی کے ساتھ وہ اذکار اور دعائیں شریعت کا مطلوب عمل ہیں۔
عبادات مطلقہ کی ذاتی تنظیم اوراذکار کی وضع
اسی طرح شریعت نے بہت سی عبادات اور اذکار ودعا کو مطلق رکھا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی سہولت، نظم یا دوامِ عمل کے لیے کسی مطلق عبادت، ذکر یا دعا کو کسی خاص ہیئت، وقت یا مقدار کے ساتھ معمول بنا لے، بشرطے کہ ان اضافی شرائط کو شرعاً لازم یا سنت نہ سمجھے، تو جمہور علماے امت کے نزدیک اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں، بل کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ([20]) اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، اگرچہ کم ہو۔ اس حدیث سے دوامِ عمل اور معمولات اختیار کرنے کی مشروعیت واضح ہوتی ہے۔
اسی طرح دعا کے الفاظ بھی صرف منقول دعاؤں تک محدود نہیں۔ اگر کوئی شخص معنوی طور پر قرآن و سنت کے موافق و مناسب الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرے تو یہ بھی جائز ہے، بل کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کی متعدد مثالیں ثابت ہیں۔چناں چہ ایک صحابی نے رکوع سے اٹھتے ہوئےاپنی طرف سے یہ دعا پڑھی: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيه.
تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ تیس سے زائد فرشتے اس دعا کو پہلے لکھنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت کر رہے تھے۔([21])
اسی طرح ایک صحابی تشہد کے بعد اپنی وضع کردہ جامع دعا کیا کرتے تھے۔جب رسول اللہ ﷺ نےوہ دعا سنی تو اس دعا کو پسند فرمایا اور اُن کی تائید فرمائی([22]) ۔
رہی بات عبادتِ مطلقہ کو خاص وقت اور تعداد کے ساتھ مقید کرنے کی توجمہورصحابہ وتابعین اور اہل علم ائمہ([23]) کے مطابق عبادات مطلقہ کو کسی مشروع سبب، وقت یا وصف کے ساتھ مقید کرنا فی نفسہٖ ممنوع نہیں، بل کہ اگر یہ تقیید کسی معتبر شرعی اصل، اجتہاد یا عمومِ شریعت کے تحت ہو تو اس کی گنجائش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ہر وضو کے بعد نماز ادا کرنے کو اپنا معمول بنایا اور نبی کریم ﷺ نے نہ صرف اس عمل کو برقرار رکھا، بل کہ اسی عمل کو جنت میں ان کی سبقت کا سبب قرار دیا۔([24])
معجمِ طبرانی میں حضرت معاذ بن جبل سے منقول ہےکہ وہ تہجد کے وقت اپنی وضع کردہ یہ مخصوص دعا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ نَامَتِ الْعُيُونُ، وَغَارَتِ النُّجُومُ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ، اللَّهُمَّ طَلَبِي لِلْجَنَّةِ بَطِيءٌ، وَهَرَبِي مِنَ النَّارِ ضَعِيفٌ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي عِنْدَكَ هَدِيَّةً نُؤَدِّيهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ([25])
اے اللہ! آنکھیں سو گئی ہیں، ستارے غروب ہوگئے ہیں، اور تو زندہ اور سب کو قائم رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! جنت کے لیے میری طلب کمزور ہے اور جہنم سے فرار کی میری کوشش بھی کمزور ہے۔ اے اللہ! میرے لیے اپنے پاس ایسا ہدیہ مقرر فرما جسے ہم قیامت کے دن تیرے حضور پیش کر سکیں، بے شک تو وعدہ خلافی نہیں فرماتا۔
شیخ ابن تیمیہ: اذکار کی وضع اورتنظیم عبادات
یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ شیخ ابن تیمیہ اگرچہ بعض اذکار و عبادات کو خاص وقت، جگہ یا تعداد کے ساتھ لازم کرنے سے احتراز کے قائل تھے، لیکن وہ خود بعض اذکار کو وضع کرتے اور اپنے معمول کے طور پر مخصوص اوقات، تعداد اور ہیئت کے ساتھ اختیار کرتے اور ان کی پابندی کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ان معمولات کو اپنے تجربے میں مفید پایا تھا۔
چناں چہ مدارج السالکین میں ہے:
وَمِنْ تَجْرِیْبَاتِ السَّالِكِينَ، الَّتِي جَرَّبُوهَا فَأَلِفُوهَا صَحِيحَةً: أَنَّ مَنْ أَدْمَنَ مِنْ قَوْلِ: يَا حَيُّ، يَا قَيُّومُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَوْرَثَهُ ذَلِكَ حَيَاةَ الْقَلْبِ وَالْعَقْلِ وَكَانَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ ابْنُ تَيْمِيَّةَ شَدِيدَ اللَّهَجِ بِهَا جِدًّا، وَقَالَ لِي يَوْمًا: لِهَذَيْنِ الِاسْمَيْنِ ـ وَهُمَا الْحَيُّ الْقَيُّومُ ـ تَأْثِيرٌ عَظِيمٌ فِي حَيَاةِ الْقَلْبِ، وَكَانَ يُشِيرُ إِلَى أَنَّهُمَا الِاسْمُ الْأَعْظَمُ. ([26])
سالکین کے تجربات میں سے، جنہیں انہوں نے خود آزمایا اور صحیح پایا، یہ ہے کہ جو شخص «يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ» کا کثرت سے ورد کرے، اس کے نتیجے میں اسے دل اور عقل کی زندگی حاصل ہوتی ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ان کلمات کا بہت زیادہ ورد کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے مجھ سے فرمایا: ’’ان دونوں اسماے الٰہی، یعنی الحَيُّ اور القَيُّومُ کا دل کی زندگی پر بہت عظیم اثر ہے‘‘۔ اور وہ اس طرف اشارہ کرتے تھے کہ یہ دونوں اسم الہی اسمِ اعظم ہیں۔
مدارج السالکین میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہر روز فجر کی سنت اور فرض نماز کے درمیان يَا حَيُّ، يَا قَيُّومُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ چالیس مرتبہ پڑھنے کی پابندی جو کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے دل کو زندہ کر دے گا اور اس کا دل مردہ نہیں ہوگا([27])۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ذکر کو ذاتی معمول اور تربیتی تجربے کے طور پر مخصوص وقت یا تعداد کے ساتھ اختیار کرنا اور اسے شریعت کی طرف سے مقرر کردہ حکم سمجھنا، دونوں الگ الگ امور ہیں اور دونوں میں فرق نہ کرنا اہل علم کے مناہج سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔
غلبۂ حال اور اس کا حکم
جہاں تک غلبۂ حال پر مبنی اعمال واشغال کی بات ہے تو غلبۂ حال کوئی بری چیز نہیں بل کہ فی نفسہ محمود ہے ؛کیوں کہ مغلوب انسان یاتو الحب للہ میں مغلوب ہوتاہے یا البغض للہ میں، اور قرآن و احادیث میں الحب للہ اور البغض للہ پرمومنین کی تعریف کی گئی ہے، اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے: مَنْ أَحَبَّ لِلهِ، وَأَبْغَضَ لِلهِ، وَأَعْطَى لِلهِ، وَمَنَعَ لِلهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ([28])،اللہ کی محبت یا اللہ کے لیے شدید محبت یا اللہ کے لیے شدید نفرت یہ ایمان کا حصہ ہے، ایسی شدت محبت اور نفرت کو بھی غلبۂ حال کا نام دیا جاتا ہے۔بسا اوقات غلبۂ حال کے زیر اثر کوئی شخص ایسا عمل کرتا ہے جو بظاہر شریعت کے عمومی منہج کے مطابق نہیں ہوتا، ایسے شخص پر لعن طعن نہیں کیا جاسکتا، ایسا شخص اپنے عمل میں معذور اور عند اللہ ماجور ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے: قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا۔ ہر انسان اپنے شاکلے کے مطابق عمل کرتا ہے،تو آپ کا رب زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ ہے۔
غلبۂ حال میں اگر کسی سے بظاہر خلاف شریعت کوئی قول وعمل ظاہر ہوتا ہےتو ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے، اس کی جانب اُس حدیث پاک سے رہ نمائی ملتی ہےجس میں آیا ہے کہ ایک بندہ بے آب گیاہ میدان میں گم شدہ اپنی سواری اور اپنا ساز و سامان واپس پاکر غلبۂ مسرت کی وجہ سے اللهُمَّ أَنْتَ رَبِّیْ وَأَنَا عَبْدُکَ (اے اللہ! تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔) کہنے کے بجائے اللّٰهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ (اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔) کہہ بیٹھا، لیکن نبی کریم ﷺ نے اس کے اس جملے پر شرک و کفر کا کوئی فتویٰ صادر نہیں کیا، بل کہ صرف اس کو خاطی قراردیتے ہوئے اس کا عذر بھی پیش کیااور ارشاد فرمایا: أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ۔ ’’یہ شخص غلبۂ مسرت میں خطا کر گیا ‘([29])
یہ الگ بات ہے کہ مغلوب الحال اپنے عمل میں مقتدا نہیں ہوتا،البتہ مغلوبانہ احوال کو ذکر کرنے کا فائدہ یہ ہوتاہے کہ اس سے دوسروں کے جذبوں کو مہمیز لگتی ہے اور دین کے لیے اپنی کم ہمتی کا اندازہ ہوتاہے چناں چہ طالبان مولیٰ کےنفس کو مقہور کرنے اور ان کے حوصلوں کو ایڑلگانے کے لیے صالحین کے غلبۂ حال والے واقعات ذکر کیے جا تے ہیں اور مقصود صرف نفس کو زیر کرنا اورحوصلوںکو مہمیز کرنا ہے، نہ کہ غلبۂ حال اختیار کرنے کی دعوت دینا، ہاں یہ ضرور ہے کہ اگر کسی کا حال دوسرے صاحب حال کے مشابہ ہوگا تو دونوں کے افعال میں بھی مشابہت ہوگی لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ دوسرے والے نے پہلے والے صاحب حال کی پیروی کی ہے بل کہ یہاں صرف حال کی مطابقت سے فعل کی مطابقت پائی گئی ہے۔
عہد رسالت میں غلبۂ حال کے واقعات
عہد رسالت میں بھی غلبۂ حال کے بعض واقعات ملتے ہیں۔مثلاًصلحِ حدیبیہ کے موقع پر جب عروہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے گفتگو کرتےہوئے یہ کہا: وَاللهِ لَأَرَى وُجُوهًا، وَإِنِّي لَأَرَى أَشْوَاباً مِنَ النَّاسِ خَلِيقًا أَنْ يَفِرُّوكَ وَيَدَعُوكَ. اللہ کی قسم! میں ایسے چہروں اور مختلف طرح کے لوگوں کو یہاں دیکھ رہا ہوں جو آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ اس جملے کو سن کر حضرت ابوبکر ضبط نہ کرسکے اور محبتِ خدا ورسول اور بغضِ اعداے دین کے جذبات سے مغلوب ہوکر آپ نے ترکی بہ ترکی اسے جواب دیا اور فرمایا:
اُمْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ وَالْعُزَّى، أَنَحْنُ نَفِرُّ عَنْهُ وَنَدَعُهُ([30]) ۔) تم جاکر بتوں کی شرم گاہ چوسو اور چاٹو! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم اپنے رسول کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گےاور ان کو چھوڑ دیں گے(۔
سیدنا صدیق اکبر نے عروہ کی جن لفظوں میں زجر وتوبیخ کی وہ غلبۂ حال میں نکلا ہوا جملہ تھا۔ اس کی بنا پر یہ حکم نہیں لگایا جاسکتا کہ گالی دینا اسلام میں جائز ہے؛ کیوں کہ کسی نص سے استنباطِ احکام قیاس واستدلال کے لیے ضروری ہے کہ جس نص پر قیاس کیا گیا ہے وہ خاص نہ ہو اور خود اس اصل کا حکم خلافِ قیاس نہ ہو۔([31])
اس اعتبار سے جب ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مغلوب الحال شخص کا حال اس کی ایک خاص حالت ہے اور اس کا جواز صرف اسی کے حق میں تسلیم کیا جائے گا جو اسی حال میں ہوگا اور جو اس حال میں نہ ہو اس کے لیے اس کا جواز نہیں ہوگا۔ مغلوب الحال کا حکم عام اس لیے بھی نہیں ہوگا کہ اس کا جو حال ہے وہ خود اصل حکم کے خلاف ہے، پھر اس پر دوسروں کو کیسے قیاس کیا جائے گا۔ مثلا سیدنا صدیق اکبر کا عروہ کوبرا کہنا خلافِ قیاس ہے؛ اس لیے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: إِنَّ اللَهَ لَا يُحِبُّ الفَاحِشَ المُتَفَحِّشَ ([32]) اللہ تعالیٰ فحاش اور فحش گوئی کرنے والے کو محبوب نہیں رکھتا۔
ایسے ہی حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی ایک انگوٹھی دیکھی تو آپ نے اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا تم میں سے کوئی شخص آگ کے انگارے کو اپنے ہاتھ میں لینے کا قصد کرتا ہے؟رسول اللہ ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد اسی شخص سے کہا گیا: جاؤ اپنی انگوٹھی لے لواور اس سے نفع حاصل کرو،اس نے کہا:وَاللهِ، لَا آخُذُهُ أَبَدًا وَقَدْ طَرَحَهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ ([33]) خدا کی قسم !جس چیز کو اللہ کے رسول ﷺ نے پھینک دیا ہو اس کو میں کبھی نہیں اٹھاؤں گا۔
اس روایت میں غور کریں کہ سونا پہننا اسلام میں حرام ہے، سونا رکھنا اور اس سے نفع حاصل کرنا نہیں، لیکن صحابی رسول نے پھر بھی اسے نہیں اٹھایا جب کہ بظاہر یہ مال ضائع کرنا ہے جو اسلام میں حرام ہے،لیکن وہ صحابی اس وقت اتباع رسول اور مخالفت نفس میں مغلوب تھے،اس لیے ایسا فعل ان سے سرزد ہوا اور وہ اپنے اس عمل کی بنا پر ماجور ہیں۔
یوں ہی غلبۂ حال کے بعض واقعات کو اللہ کے رسول ﷺنےمقام مدح میں بھی ذکر کیا ہے ،چناں چہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا ایک آدمی تھاجو اپنی جان پر ظلم کرتارہا، بہت زیادہ گناہوں میں ملوث رہا، لیکن جب اس کی موت کا وقت قریب آیاتو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا: جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر میرے جلے ہوئے جسم کو پیس دینا، پھر میری راکھ ہوا میں اڑادینا،اللہ کی قسم اگر میرے رب نے میری گرفت کی تو وہ مجھے ایسا عذاب دے گا کہ اس جیسا عذاب کبھی کسی کو نہ دیا ہوگا۔جب وہ مر گیا تو اس کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ اس کے اندر موجود اس شخص کے بکھرے ہوئے اجزا کو جمع کر دے ،زمین نے وہ اجزا جمع کر دیے تو وہ پورے جسم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا : اس کام پر کس چیز نےتجھ کو آمادہ کیا تھا؟ اس نے کہا:اے میرے رب!تیری خشیت نے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔([34])
اس واقعہ میں غور کریں کہ کسی ایمان والے کا یہ وصیت کرنا کہ اس کو جلاکر ، پیس کراور راکھ بنا کر اڑا دیاجائے ، ایک ناجائز عمل ہے،لیکن یہ عمل چونکہ غلبہ ٔخشیت کی وجہ سے تھا اس لیے ناپسندیدہ نہیں ہوا، بل کہ اس کی مغفرت کا ذریعہ بن گیا اور رسول اللہ ﷺنے مقام مدح میں اس واقعہ کو اپنے صحابہ سے ذکر بھی فرمایا۔
بزرگان دین کے پر مشقت ریاضات و مجاہدات مثلاً چلۂ معکوس اوران کے مغلوبانہ اقوال و افعال کو جو بظاہر جادۂ شریعت سے خارج معلوم ہوتے ہیں، اگر اس حدیث کی روشنی میں سمجھا جائے تو اُن کے تعلق سے بہت سی الجھنوں اور سوے ظن کا خاتمہ ہو سکتاہے ۔البتہ ہر زمانے میں مشائخ تصوف نے مدعیان تصوف سے اور ان کے اقوال وافعال سے اپنی براءت کا اظہار کیا ہے اور اُن کے انحرافات کی وجہ سے حقیقی صوفیہ اور تصوف پر نکیر نہیں کی جاسکتی۔
تجزیہ
مندرجہ بالا دلائل سے درج ذیل حقائق سامنے آتے ہیں:
- اوراد و اشغال کی اصل مشروعیت پر ہے: صوفیہ کے معمولاتِ ذکر و دعا عموماً قرآن و سنت کے ثابت شدہ اذکار سے ماخوذ ہوتے ہیں، یا ایسے دعائیہ کلمات پر مشتمل ہوتے ہیں جو شرعی اصولوں کے مخالف نہ ہوں۔
- ترتیب و تنظیم تشریع نہیں: کسی ذکر یا ورد کے لیے خاص وقت، تعداد یا ترتیب مقرر کرنا، اگر اسے شرعی طور پر لازم نہ سمجھا جائے، تو عموماً تربیتی و تنظیمی التزام کے درجے میں ہوتا ہے، نہ کہ مستقل تشریع کے۔
- دعائیہ کلمات میں وسعت ہے: غیر مأثور دعائیہ کلمات بھی اصولاً جائز ہیں، بشرطےکہ ان کے معانی درست ہوں اور وہ کسی شرعی اصل سے متصادم نہ ہوں۔
- عبادتِ مطلقہ میں شخصی تقیید کی گنجائش ہے: کسی مطلق عبادت کو کسی مشروع سبب، وقت یا وصف کے ساتھ ذاتی معمول کے طور پر وابستہ کرنا فی نفسہٖ عام اہل علم کے نزدیک ممنوع نہیں، بشرطےکہ اسے شریعت کا مقرر کردہ لازم حکم نہ سمجھا جائے۔
- عملِ حضرت بلال اس کی تائید کرتا ہے: حضرت بلال نے وضو کے بعد نماز کو اپنا مستقل معمول بنایا اور رسول اللہ ﷺ نے اس عمل کو برقرار رکھا۔ ایسے ہی حضرت معاذ بن جبل کے عمل سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جنہوں نے تہجد کے وقت پڑھنے کے لیے خاص دعا وضع کی اور اس کا التزام بھی فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مشروع عبادت کو ایک مباح یا شرعی اصل سے متعلق سبب کے ساتھ التزاماً وابستہ کرنے کی گنجائش ہے۔
- تقیید کا حکم اس کے ماخذ اور اعتقاد سے متعین ہوگا: اگر کسی ورد یا معمول کی تعیین کسی معتبر شرعی اصل، اجتہاد، تربیتی مصلحت یا ذاتی تجربے پر مبنی ہو اور اسے مستقل تشریعی حکم نہ سمجھا جائے تو محض نص میں اس مخصوص ہیئت کے نہ ہونے کی بنا پر اسے بدعت ضالہ قرار دینا درست نہیں۔
- غلبۂ حال کی اصل موجود ہے اور اس میں اعتبار مقاصد اور نیتوں کا ہوگا : غلبۂ حال سے صادر ہونے والے کسی قول یا فعل کے حکم کا تعین کرتے وقت محض ظاہری صورت کو نہیں، بل کہ اس کے پسِ پشت کارفرما نیت، مقصد اور ارادے کو بھی ملحوظ رکھا جائے گا۔ تاہم غلبۂ حال شریعت کے قطعی احکام سے نہ تجاوز کا جواز بنے گا اور نہ ہی غلبۂ حال والے ایسے افعال کی پیروی کی جائے گا ۔
- اگر کوئی اذکار واوراد کے نام پر غیر شرعی معانی والی چیزیں وضع کرتا ہے تو اس کی بنا پر حقیقی تصوف یا اہل تصوف پر اعتراض نہیں کیا جانا چاہیے؛کیوں کہ اس طرح کے لوگوں کا عمل جزئی واقعات کی حیثیت رکھتا ہے اور قاعدہ ہے کہ اعتبار عمومی اصولوں کا ہوتا ہے، جزئی واقعات کا نہیں۔
نتائج
سابقہ گفتگو کے تجزیے سے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:
- صوفیہ کے اوراد و اشغال کو پرکھنے کے لیے جامع اصول یہ ہے کہ ان کے الفاظ، معانی، مقاصد، اوقات، تعداد اور ترتیب کو الگ الگ دیکھا جائے۔
- جو ذکر یا ورد قرآن و سنت کے موافق ہو یا شریعت کے عمومی اصولوں کے تحت آتا ہو، اسے محض اس کی مخصوص ہیئت کی بنا پر رد نہیں کیا جا سکتا۔
- اگر کسی ذکر کی مخصوص تعداد، وقت یا ترتیب کو مستقل شرعی حکم، واجب یا لازمِ دین نہ سمجھا جائے تو وہ تربیتی اور شخصی التزام کے دائرے میں قابلِ گنجائش ہو سکتا ہے۔
- محض کسی ذکر کی مخصوص ترتیب، تعداد یا وقت کو دیکھ کر اسے شریعت سے متصادم قرار دینا علمی طور پر درست نہیں؛ اصل اعتبار اس کے شرعی ماخذ، معنی، مقصد اور اعتقاد کا ہے۔
- کسی صوفیانہ عمل کی صحت کا فیصلہ کرتے وقت مقصد اور اعتقاد کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے، محض ظاہری صورت پر حکم لگانا کافی نہیں۔
- اگر کوئی شخص غلبۂ حال کی بنا پر کسی ایسے عمل میں مبتلا ہو جسے اہلِ علم درست نہ سمجھتے ہوں، تو اس کے عذر اور نیت کو ملحوظ رکھا جا سکتا ہے؛ تاہم اس فعل کی پیروی نہیں کی جائے گی۔
- اگر عباداتِ مطلقہ میں تقیید کے عدمِ جواز سے متعلق بعض اہلِ علم کے موقف کو اختیار کیا جائے تو یہ ایک فقہی و اجتہادی رائے ہوگی۔
- اس موقف کو اختیار کرنے کی صورت میں بھی صوفیہ کے مخصوص اوراد و اشغال کا مسئلہ زیادہ سے زیادہ اجتہادی اور اختلافی مسئلہ قرار پائے گا، نہ کہ ایسا قطعی مسئلہ جس میں ایک دوسرے کی تضلیل یا تکفیر کی گنجائش ہو۔
- خلاصہ یہ کہ تصوف اپنے ایک فرعی پہلو: طرق تسلیک اور اوراد واشغال کے لحاظ سے بھی ایسےعناصر پر مشتمل نہیں جسے دین کے متوازی کہا جا سکے، بل کہ تمام طرق تسلیک یا تو قرآن سنت سے ثابت ہیں یا پھر جمہور علما کےشرعی اصولوں پر مبنی ہیں۔
(جاری ہے۔۔۔۔)
حاشیہ
[1] – استاذ جامعہ عارفیہ، سید سراواں ، کوشامبی، یوپی، 7318263105
([2]) حدیث فقہا کے علاوہ دوسروں کے لیے گمراہ کن بھی ہوسکتی ہے۔ابن أبي زيد القيرواني، الجامع فی السنن والآداب …، باب ذکر السنن التی خلافہا البدع۔۔۔ص:۱۱۸
([3]) آداب المریدین ،خطبۃ المؤلف،ص:۷
([4] (نجم الدین غزی،حسن التنبہ لما ورد فی التشبہ، القسم الاول فی التشبہ۔۔، باب التشبہ بالصالحین،(۳/۲۳۸،۲۳۹)
([5] (الرسالۃ المکیۃ،فصل فی أن الوصول إلی النہایۃ بتصحیح البدایۃ، ص:۴۰
([6]) سید الطائفہ قدس سرہ سے درج ذیل اقول منقول ہیں: مَذْهَبُنَاهَذَا مُقَيَّدٌ بِأصُوْلِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ. وَقَالَ: عِلْمُنَا هَذَا مُشَيَّدٌ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم۔ وَقَالَ: مَنْ لَمْ يَحْفَظِ الْقُرْآنَ، وَلَمْ يَكْتُبِ الْحَدِيثَ لَا يُقْتَدَى بِهِ فِي هَذَا الأمْرِ ؛لِأَنَّ عِلْمُنَا هَذَا مُقَيَّدٌ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ. وَقَالَ:الطُّرُقُ كُلُّهَا مَسْدُودَةٌ عَلَى الْخَلْقِ، إِلَّا عَلَى مَنِ اقْتَفَى أَثَرَ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔(ابوالقاسم عبد الکریم بن ہوازن قشیری،الرسالۃ القشیریۃ، ۱/۷۹)،وَقَالَ:الطُّرقُ كُلُّهَا مَسْدُودَةٌ عَلَى الْخَلْقِ، إِلَّا مَنِ اقْتَفَى أَثَرَ الرَّسُولِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَاتَّبَعَ سُنَّتَهُ، وَلَزِمَ طَرِيقَتَهُ. فَإِنَّ طُرُقَ الْخَيْرَاتِ كُلَّهَا مَفْتُوحَةٌ عَلَيْهِ. (ابو نعیم ،حلية الاولیاء:١٠/٢٥٧ )۔
([7] (ابونعیم اصفہانی،حلیۃ الاولیاء(۱۰ /۲۵۷)
([8]) قطب الدین دمشقی، الرسالۃ المکیۃ،باب فی اقرب الطرق الی حصول المقصود،ص:۵۳
([9] ( شیخ عبد القادر جیلانی،الفیوضات الربانیۃ فی المآثر والاوراد القادریۃ، ص: ۳۵
([10] ( شیخ عبد القادر جیلانی، .،الفتح الربانی، مجلس،۴۴، ، ص: ۱۶۶.)
([11] ( ایضاً،مجلس،۱۰،ص:۶۲
([12] ( نجم الدین کبری،رسالۃ فی الشریعۃ والطریقۃ والحقیقۃ،ص:۲۵،۲۶
([13] ( شیخ شہاب الدین سہروردی، عوارف المعارف،باب:۴ ، ص: ۵۷۔۵۸
([14] ( عبدالوہاب شعرانی، الطبقات الکبری،۲/۹
([15] (الرسالۃ المکیۃ، فصل في أن العلم الراجح هو في كتاب الله تعالى، ص: ۴۱،۴۲
([16] ( ایضاً، فصل في أن طلب العلم أفضل الأعمال عند الصوفية،ص:۴۳
([17] (ایضا،فصل في أن علوم الصوفية علوم الاحوال،ص:۴۱
([18] (ایضاً،فصل فی معنی السلوک والوصال وطرائقہما،ص:۴۰
([19] ( شیخ زروق فاسی،قواعد التصوف ،قاعدہ:۴،ص:۲۲
([20] ( بخاری،صحیح بخاری،کتاب الرقاق، باب القصد والمداومۃ علی العمل،حدیث:۶۴۶۴
([21] (صحیح بخاری،کتاب الاذان، باب :حدیث:۷۹۹
([22] (الفاظ حدیث یہ ہیں:قَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِرَجُلٍ: «كَيْفَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ؟» قَالَ: أَتَشَهَّدُ، وَأَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، أَمَا إِنِّي لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ». فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ»(ابوداؤد ،سنن أبو داؤود،کتاب الصلاۃ،باب فی تخفیف الصلاۃ،حدیث:۷۹۲)
([23] ( فقہ واصول کے جمہور علما کا مذہب یہ ہے کہ عبادات میں قیاس جائز ہے،البتہ بعض علما مثلاً شاطبی اورابن تیمیہ وغیرہ اس کے عدم جواز کے قائل ہیں۔ علما نے صراحت کی ہے کہ عبادات میں قیاس سے ان کی مراد یہ نہیں ہے کہ ایک عبادت کو دوسری عبادت پر قیاس کرکے کوئی نئی عبادت ثابت کی جائے؛ کیوں کہ اس طرح کسی نئی عبادت کا ایجاد کرنا بدعتِ حقیقی ہے، بل کہ ان کی مراد عبادات کی صفات اور ان کی کیفیتوں میں قیاس کرنا ہے، جیسا کہ ان کی ذکر کردہ مثالوں سے واضح ہوتا ہے۔ یہ قیاس ؛بدعتِ اضافیہ کے دائرے میں داخل ہے۔ اس موضوع پر اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ سے محمد منظور الٰہی نے ’’القیاس في العبادات:حکمہ وأثرہ ‘‘ کے عنوان سے ایک مقالہ براے ایم اے تحریر کیا ہے، جس میں مذاہبِ اربعہ کے ہاں عبادات میں قیاس کی بہت سی صورتیں اور مثالیں ذکر کی گئی ہیں۔ مزید تفصیل کے خواہش مند اس مقالے کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔
([24] (پوری حدیث یہ ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ: يَا بِلَالُ، حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ “. قَالَ : مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا فِي سَاعَةِ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصلی(بخاری،صحيح البخاري، بَابُ التَّهَجُّدِ بِاللَّيْلِ، بَابُ فَضْلِ الطُّهُورِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ،حدیث:۱۱۴۹)۔
([25] (سلیمان بن احمد طبرانی،معجم کبیر، باب المیم، ذکر مشاہد معاذ وسنہ ووفاتہ(۲۰/۳۴)۔صحابہ، تابعین ، تبع تابعین اور ائمہ اسلاف سےبدعت مطلقہ کی تقیید کے حوالے سے بہت روایات منقول ہیں۔تفصیل کے لیے دیکھیں: داکٹر عبد الفتاح قدیش یافعی کی کتاب: البدعۃ المحمودۃ و البدعۃ الاضافیہ بین المجیزین والمانعین:دراسۃ مقارنۃ اور ڈاکٹر سیف عصری کی کتاب: البدعۃ الاضافیۃ: دراسۃ تاصیلیۃ۔
([26] (ابن قیم ، مدارج السالکین،منزل التذکر،الأشیاء التی تستبصر بہا العبرۃ،۲/۷۸
([27] (ایضا۔ شیخ ابن تیمیہ اور ان کے تلمیذ خاص شیخ ابن قیم کے اس طرح کے روحانی تجربات کو ان کی کتاب مدارج السالکین کے مختلف مقامات، طریق الہجرتین(فصل فی تقسیم الناس من حیث القوۃ۔۔ص:۲۱۱)اور مفتاح دار السعادۃ(مشاہد الخلق فی مواقعۃ الذنب،ص:۲/۸۴۴) میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
([28] (سنن ابو داؤد کتاب السنۃ، الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ، حدیث: ۴۶۸۱۔
([29] (صحیح مسلم ،کتاب التوبہ،باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بہ، حدیث: ۲۷۴۷،بہ الفاظ: لَلهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ، مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَأَيِسَ مِنْهَا، فَأَتَى شَجَرَةً، فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا، قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا، قَائِمَةً عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا، ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اللهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ، أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ۔
([30] (صحیح البخاری، باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ، حدیث:۲۷۳۱
([31] (غزالی ،المستصفی ، قطب :۳، فن :۳،باب :۴
([32] (المعجم الکبیر، باب الالف،أسامۃ بن زید،حدیث: 399
([33] (مسلم بن الحجاج قشیری، حيح مسلم ،کتاب اللباس والزينۃ،باب طرح خاتم الذہب،حدیث: ۲۰۹۰
([34] (صحیح بخاری، کتاب احادیث الانبیاء،باب من ذلک ،حدیث:۳۴۸۱
Keywords: Tasawwuf, Usūl, Furūʿ, Ahl al-Sunnah, Sulūk, Sufi Ijtihād, Kashf, Ilhām, Qur’an, Sunnah, Sharīʿah, Parallel Islam, Islam

