اسلامی فکر اور مسئلۂ نسواں: ایک تجدیدی واجتہادی مطالعہ

Abstract
This paper offers a critical examination of the contemporary problems facing Muslim women in light of the reformist (tajdīdī) tradition of Islamic thought. Its central premise is that many issues relating to women have arisen from the misreading and misinterpretation of certain texts, and from a non-ijtihādī approach to apply them in the present age. It is therefore necessary, in interpreting and defining women’s rights and social role today, to keep the objectives (maqāsid) of Islamic law in view and to make these matters the subject of renewed, ijtihād-based study. The paper attempts to show that, contemporary Islamic thinking on these questions, it argues, is likewise caught in a reactive psychology, provoked by the unrestrained freedom of women in the West — with the result that most contemporary scholars and jurists remain unwilling to accept the breadth and flexibility already present within the texts and within Islamic tradition.
The paper concludes that formulating a balanced Islamic view of Muslim women’s rights and social role requires a renewed, ijtihād-based perspective, rather than either blind imitation of the West or uncritical adherence to juristic tradition. Rather than proposing or insisting on any final position, the paper seeks to raise the fundamental questions involved, so as to advance serious scholarly discussion and dialogue on the subject.
تمہید
اسلام نے انسانی معاشرے میں عورت کے وقار کو جس طرح بلندکرنے کی کوشش کی اس کا درست اندازہ اس کے بغیرممکن نہیں کہ اسلام سے قبل دنیا کی تہذیبوں پرنظر ڈال کردیکھا جائے کہ وہاں اس کی حیثیت کیا تھی؟حقیقت یہ ہے کہ عرب معاشرےکی ذہنیت بھی دنیا کے بیشتر معاشروں کی طرح عورت کے حوالے سے انتہائی تنگ نظری اورجارحیت پرمبنی تھی۔یہ ذہنیت ظاہر ہے، اسلام آنے کے بعد یکسرختم نہیں ہوگئی،نہ ہی عقلی اور فطری طور پرایسا ممکن تھا۔ چناں چہ عورت کےتعلق سے تنگ نظری کی روش نہ صرف عوامی، بلکہ دینی فکری حلقوں میں بھی باقی رہی۔
اس کا بخوبی اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہےکہ عورت سےمتعلق دسیوں احادیث و آثارگھڑ لیےگئےجن میں اس کے درجےکو نہایت حقیروپست اورقابل نفریں بنا کر پیش کیا گیا ہے۔([2])تقریبا اس موضوع روایت کی بنیاد پر کہ:’’عورتوں کولکھنا مت سکھاؤ۔ان کوصرف روئی کاتنااورسورہ نورسکھاؤ۔‘‘([3])متعدد اصحاب علم کی طرف سے جن میں ہندوستان کی متعدد گرامی قدر شخصیات بھی شامل ہیں، یہ فتوی دیا جاتا رہا کہ عورتوں کو شرعی طور پرلکھناسیکھنے سکھانے کی اجازت نہیں ہے۔([4])حالاں کہ صحیح حدیث کے مطابق، آپ نے حضرت شفا بنت عبد اللہ سے فرمایا کہ وہ حضرت حفصہ کو لکھنا سکھا دیں۔([5])عہد رسالت وعہد صحابہ کے بعد عورت کی سماجی حیثیت عرب معاشرے میں کم زور ہوتی چلی گئی۔([6]) آگے چل کر مزید ایسے واقعات پیش آئے، جن کے دور رس اورغیرمعمولی اثرات عورت کی دینی وسماجی پوزیشن کے حوالے سے اسلامی فکر وروایت پرمرتب ہوئے۔
اس حقیقت سےانکار ممکن نہیں کہ عورت کی آزادی اور حقوق کے جو پرفریب نعرے تحریکات نسواں کی طرف سے دور جدید میں بلند کیے گئے، ان کا بنیادی مقصد مغربی جدیدیت کے ایجنڈے کو عالمی سطح پر آگے بڑھانا اور اسے دوسری تہذیبوں پرمسلط کرنا تھا۔ اسلام مغربی نظریۂ حیات سے سمجھوتہ نہیں کرسکتا،تاہم اسی کے ساتھ یہ بھی امر واقعہ ہے کہ ہماری علمی اورقانونی روایت میں عورت کے فطری اوصاف وخصوصیات کے لحاظ سے ا س کی شخصیت کی درست تعبیر و تفہیم نہیں کی جاسکی۔ اس کو نیم انسانی شخصیت سے زیادہ حیثیت نہیں دی گئی۔ اس کی عقلی اور فکری صلاحیتوں کو قابل اعتبار اوراہم سماجی ذمہ داریوں کی ادائےگی کے لائق تصور نہیں کیا گیا۔ اہل علم وفقہ کے حلقوں میں عام طور پر اس کی شخصیت کی تفہیم مستقل بالذات کے بجائے مرد کی شخصیت کے ضمیمے کے طور پر کی جاتی رہی ہے۔
میرے خیال میں مسلم معاشرے میں عورت کی شخصیت کی درست تفہیم اور قدر پیمائی میں چار بڑی رکاوٹیں حائل رہی رہیں:
- پہلے کا تعلق نصوص کے فہم و تعبیر سے ہے۔عورت کے حوالے سے متعدد نصوص کا تعلق موجود معاشرتی و ثقافتی صورت حال اوراس معاشرے میں عورت کی ذہنی صلاحیت ومعیار سے تھا۔ان میں کوئی دائمی قانون اور ہدایت کا بیان نہیں تھا ،لیکن انہیں اسی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی گئی۔
- دوسری رکاوٹ عربی اسلامی فکر پر یونانی فلسفے کا غلبہ ہے۔ یونانی فلسفے میں عورت کو عقلی طور پرفرومایہ اورکمترمخلوق تصور کیا گیا ہے۔ارسطو و افلاطون سمیت یونانی فلاسفہ کی اکثریت عورت کی فطری صلاحیت وقابلیت کے بارے میں منفی رائے رکھتی تھی۔ مثلاً: ارسطو کا کہنا تھا کہ عورت کے اندر مرد کی طرح اخلاقی صفات اور ان کوبرتنے کی صلاحیت نہیں پائی جاتی۔ فطرت کی پیدا کردہ یہ ایک مسخ شدہ مخلوق ہے۔ کہا جاتا ہے کہ افلاطون کواس بات پرافسوس تھا کہ وہ ایک عورت سے پیداہوا ہے۔ درحقیقت انہی خیالات نے مسیحی روایت میں عورت کی تحقیر کی راہ ہموار کی اوریونانی ومسیحی فکر کے اثرات اسلامی تہذیب پر مرتب ہوئے۔
- اسلامی دنیا پر منگولوں کے حملوں کے بعد مسلم مذہبی طبقات کے اندر شدید تحفظ پسندانہ نفسیات پیدا ہوئیں اورغیراسلامی ثقافت سے آلودہ سماج میں عورت کوزیادہ سے زیادہ خانہ نشیں رکھنے پرزوردیا گیا۔اس کا اثر خود عورت کی نفسیات پربھی مرتب ہوا اور اس کی فکری وعلمی صلاحیتوں کا معیار کم ترہوتاچلا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس ماحول میں زیادہ شدت کے ساتھ یہ بات بحث کا موضوع بنی کہ عورت کو لکھنا سکھانے کی اجازت ہے یا نہیں۔
- چوتھی رکاوٹ کا تعلق عصر حاضر سے ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلم علما واصحاب دانش کا غالب طبقہ بعض انتہائی اہم مسائل میں اس بناپر سنجیدہ غور وفکر کے لیےخود کو تیار نہیں پاتا کہ اس کا ذہن ان مسائل کے حوالے سے مغربی فکر اور اس کی سماجی صورت حال کے حوالے سے رد عمل کی نفسیات کا شکار ہے۔چوں کہ خواتین کی بے محابا آزادی کے بارے میں مغربی معاشرہ اپنی انتہا پر کھڑا نظر آتا ہے،اس لیے ہمارے اصحاب فقہ واجتہاد کی اکثریت، ردعمل کی نفسیات کے تحت، مسلم خواتین کے سماجی کردارکے باب میں نصوص اور اسلامی روایت میں پائی جانےوالی لچک اور گنجائش کو قبول کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔ بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ مسلم خواتین سے متعلق اس وقت روایتی اسلامی حلقوں میں جو تصور پایا جاتا ہے، اس کو قرآن وسنت اور اسلامی روایت سے کم اور ’’دوسروں‘‘ (others) کے غلط طرزِ عمل سے زیادہ اخذ کرنے اورتشکیل دینے کی کوشش کی گئی ہے۔تہذیبی تناظر میں یہ ’’دوسرا‘‘ مغربی دنیا ہے۔ ان چاروں نکات میں سے پہلا نکتہ مزید تشریح وتوضیح کا متقاضی ہے۔باقی نکات کودائرہ بحث میں لایا توجاسکتا ہے، لیکن ان کی کسی مزید توضیح کی ضرورت نہیں۔
محل اشکال نصوص کی تعبیروتطبیق
شرعی طور پر عورت کی حیثیت کی تعیین کے بارے میں سب سے اہم مسئلہ اس ضمن میں وارد آیات واحادیث کی درست توجیہ و انطباق کا ہے۔ان میں سے پہلے نمبر پر تو قرآن کی وہ آیات ہیں جن میں شہادت و وراثت کے مسئلے میں عورت کو مرد کے مقابلے میں نصف حیثیت دی گئی ہے۔
دوسرے نمبر پر وہ صحیح احادیث ہیں جن میں عورت کو ناقص العقل و الدین قرار دیا گیا ہے اور اس کے اندر سیاست و انتظام کی صلاحیت کی نفی کی گئی ہے۔چناں چہ مشہور حدیث کے مطابق، آپ نے ارشاد فرمایا:’’میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود ایک ہوشیارمرد کی عقل کواچک لینے اور اسے دیوانہ بنادینے میں تم سےبڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘ سوال کرنے والی خاتون کی طرف سے اس سوال پر کہ ہماری عقل اوردین کی کمی کیاہے؟آپ نے فرمایا کہ عقل کی کمی تویہ ہے کہ عورت کی گواہی مرد کی گواہی کے نصف کے برابر ہے اور دین کی کمی یہ ہے کہ عورت حیض کی حالت میں نہ نماز پڑھ سکتی ہےاور نہ ہی روزہ رکھ سکتی ہے۔([7]) اسی طرح مثلاً: یہ حدیث کہ :’’وہ قوم فلاح نہیں پاسکتی جو اپنے امورعورت کوسپرد کردے۔‘‘([8])جس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ عورت کو امورریاست کی نگرانی اور سربراہی کا عہدہ نہیں دیا جاسکتا۔
تیسرے نمبر پر وہ احادیث ہیں، جن میں ایسے اسلوب میں عورت کو شوہر کی تابع داری کا حکم دیا گیا ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی شخصیت محض مرد کی ہی رہین منت ہے۔ مثلاً: آپ سے مروی ہے کہ بیوی پر شوہر کا حق اتنا زیادہ ہے کہ اگر میں کسی کو سجدے کی اجازت دیتا تو عورتوں کو دیتا۔([9])یا یہ کہ اگر شوہرکے پاؤں سے لے کر اس کے سرتک زخم پیپ سے بھرے ہوں اور وہ اسے چاٹ کر صاف کرے پھر بھی اس کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔ ([10])
پہلے اور تیسرےزمرے کی احادیث کی تفہیم میں بہت زیادہ پیچیدگی نہیں ہے۔چناں چہ شہادت و میراث کے بارے میں نص قرآنی بہت واضح ہے اور وراثت میں دوسروں کو زیادہ حصہ دیے جانے کی توجیہ بہت معقول ہے کہ کفالت کی ذمہ داری کا بوجھ مرد کے سر پر ڈالا گیا ہے۔اس لیے اس کا خیال رکھتے ہوئے اسے وراثت میں زیادہ حصہ دیا گیا ہے۔ اسی طرح وہ احادیث جن میں شوہر کے حقوق اور اس کی اطاعت پرشدید اسلوب میں تاکید کی گئی ہے ان کی تفہیم بھی دشوار نہیں ہے۔اس قبیل کی احادیث کے الفاظ و مشتملات پر معمولی غور وخوض سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ ان میں بالخصوص عرب معاشرت کی اجتماعی نفسیات اور سماجی روایات و خصوصیات کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ان روایات کا بنیادی مقصود زن و شو کے تعلقات کو استحکام عطا کرنا اور خاندانی نظام کا تحفظ ہے۔گویا شارع کا اصل مقصود صنفین کی برتری یا کمتری کا اظہار نہیں ہے، بلکہ اصل مقصود ان کے اندر باہمی توافق وہم آہنگی کا مزاج پیدا کرنا ہے۔اس مصلحت کے تحت مردوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ عورتوں کے ساتھ آخری حد تک نرمی اور حسن سلوک کا رویہ اختیار کریں، جب کہ عورتوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ انتہائی حد تک شوہروں کی اطاعت کی پابند رہیں جنہیں عورتوں پر ایک طرح کی قوّامیت اور فضیلت حاصل ہے۔ (اس کی مزید توضیح کا یہ موقع نہیں) مہتم بالشان مسائل میں مبالغے کے ساتھ ترغیب وترہیب کا یہ اسلوب احادیث میں کوئی اجنبی امرنہیں ہے۔
اصل پیچیدگی ثانی الذکر زمرے کی روایات کے اندر ہے کہ انہیں کس تناظر میں رکھ کر دیکھنے کی کوشش کی جائے۔ عام طور پر فقہا نے اس روایت کو جس میں اسے ناقص العقل والدین قرار دیا گیا ہے، حقیقت پر محمول کرتے ہوئےعورت کی اہلیت کا معیار اور مختلف امور کے حوالے سے اس کی قانونی حیثیت طے کرنے کی کوشش کی ہے، جب کہ مختلف اصحاب علم و فقہ نے حدیث میں موجود اشکال کو دور کرنے کے لیے عقل کی متعدد اقسام کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ عورت کے اندر فلاں قسم کی عقل تو پائی جاتی ہے جب کہ دوسری فلاں فلاں نوع کی عقل نہیں پائی جاتی، لیکن اس نوع کی عقلی توجیہات مشاہدے اورقیاس پر پوری نہیں اترتیں۔
حدیث کے الفاظ وسیاق پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بات اس مقصد سے نہیں کہی، بلکہ مزاح یا تعجب کے اظہار کےطور پر کہی ہے،جیسا کہ یوسف قرضاوی اور ابواللیث خیرا ٓبادی(فاضل دیوبند، پروفیسر علوم حدیث،ملیشیا) سمیت بہت سے دوسرے علما کا موقف ہے۔([11])جس کا ایک بڑا قرینہ یہ ہے کہ یہ عید کے دن مسرت و شادمانی کے ماحول میں کہی گئی ہے۔ ا س نوع کی باتوں کے لیے یہ موقع مناسب نہیں لگتا۔اسی طرح متعدد طرق سے روایت کردہ اس حدیث کے الفاظ ومشمولات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ایک مخصوص واقعے اور صورت حال کا بیان ہے۔ اس کی بنیاد پر کوئی تشریع اور قانون سازی مقصود نہیں ہے۔ اس حدیث کو مثلاً :اس حدیث پر قیاس کیا جاسکتا ہے جس کے مطابق آپ نے ارشاد فرمایا:’’ہم نا خواندہ قوم ہیں لکھنا اور حساب کرنا نہیں جانتے۔(إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ)([12])ظاہر ہے اس سے یہ مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں امت کو ناخواندہ رہنے کی تعلیم دی گئی ہے، بلکہ اس میں واقعی صورت حال کا بیان ہے جو آئندہ ایام میں یقیناً قابل تغیر ہے اور یہ تغیر فی ذاتہ مقصود ہے۔
اسی طرح یہ نکتہ بھی قابل لحاظ ہے کہ حدیث کے دوسرے ٹکڑے میں حیض کی علت کی وجہ سے عورت کو ناقص الدین قرار دیا گیا ہے، حالاں کہ یہ امر بالکل واضح ہے کہ عورت کی یہ علت فطری ہے،جس میں عورت کی اپنی کسی تقصیر اور کوتاہی کو دخل نہیں ہے کہ اسے دین میں نقص سے تعبیر کیا جائے۔ ظاہر ہے نابالغ بچے کا نماز ادا نہ کرنا اور مسافر یا مریض کا روزہ نہ رکھنا ہی فطرت اورشریعت کا مطلوب و مقصود ہے۔اس کو ان کی کوتاہی پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔
خلاصہ یہ کہ یہ حدیث مناسب شرح و تاویل کی محتاج ہے اور اس نوع کی احادیث سے عورت کی قانونی حیثیت کوطے کرنا محل نظر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سارا مسئلہ اس نوع کی احادیث کی معاصر تطبیق میں غیر اجتہادی نقطۂ نظر پراصرار سے پیدا ہورہا ہے، جس کی پشت پر ہماری فکری اور قانونی روایت کھڑی ہے۔
مسئلہ نسواں کی تفہیم: چند اہم جہات
تاریخ کا جبر
مسئلہ نسواں پر بحث کا ایک زاویہ نظر یہ ہو سکتا ہے کہ اسے ظروف زمان ومکان یا بالفاظ دیگر تاریخیت کے جبر کے تناظر میں دیکھنے اورسمجھنے کی کوشش کی جائے یعنی وحی اسلامی کے نزول کے وقت عرب سمیت دنیا کے اکثر معاشروں پر پدریت(patriarchy) غالب تھی۔ پدرسری معاشروں(patriarchal societies) میں عورت کو مرد کی شخصیت کا ضمیمہ تصور کیا جاتا تھا اور اس کی فطری قابلیت کو ایک محدود تناظر میں دیکھنے کی کوشش عام تھی،جس پر اجتماعی معاملات کی بجا آوری میں اعتماد کی گنجائش نہیں تھی۔ اس سماجی جبر کی وجہ سے عملی سطح پر اس کا دائرۂ کار سکڑتا چلا گیا اور اسی نے بعد میں معیاری اقدار وروایات کی شکل اختیار کرلی۔ اس مسئلہ کو مغربی تصور تانیثیت(feminism) کے علم بردار حلقوں میں جس رنگ آمیزی اور انتہا پسندی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، وہ بجاے خود نری سادہ لوحی ہے۔ تاہم فی الجملہ عورت کے حوالے سے اس تاریخی جبر کو مکمل طور پر مسترد کر دینا بھی ممکن نہیں ہے جس کے مظاہر تمدن انسانی کی تاریخ کے ہر مرحلے میں روشن نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ مضمون کے شروع میں تمہیداً عرض کیا گیا، عرب معاشرے کی ذہنیت بھی دنیا کے دیگر مختلف معاشروں کی طرح ذات نسواں کے حوالے سے جارحانہ تنگ نظری و تشدد پر مبنی تھی، جس کا خود قرآن شاہد ہے،جو اسلام کے آتے ہی طلسماتی طور پر ختم نہیں ہو گئی، بلکہ مختلف مسائل کے ساتھ اس مسئلے پر بھی اصلاح کا عمل بتدریج متشکل ہوا اور عہد رسالت کے بعد بہت سی خرابیاں دوبارہ عرب سماج میں عود کر آئیں۔دو طبقات :عورت اورغلام کے بارے میں رسول اللہﷺ کے ذہن میں آخر دم تک تشویش باقی رہی۔ اس لیے آپ نے مرض الموت کے درمیان وصیت میں ان دونوں کے ساتھ خصوصیت کے ساتھ حسن معاملہ کی تاکید کی، تاہم اس معاملے کو قانونی کے بجائے مسلمانوں کے اخلاقی حس کے حوالے کر دیا جس کی نبوی مصلحت یہ تھی کہ اسے باضابطہ قانونی شکل دینے میں خاندانی و معاشرتی اور معاشی نظام کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا اندیشہ تھا۔غلامی پر قانونی بندش نہ لگائے جانے کے حوالے سے علما و اہل نظر کا عمومی بیانیہ یہی ہے، لیکن اس مسئلہ نسواں کی تفہیم و تحلیل میں اس کا استعمال نہیں کیا جاتا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے بغیر بظاہر کوئی چارہ نہیں، ورنہ مایوس ذہنوں کے لیے اس الزام تراشی کا راستہ بند کرنا ممکن نہیں ہوگا کہ کچھ بھی کر لیا جائے صنفین کے درمیان امتیاز کرنے والی نصوص کی توجیہ ممکن نہیں ہے۔([13])متعدد معاصر علما نے اس مسئلے کو اسی تاریخی جبر کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے جیسے یوسف القرضاوی، محمد الغزالی وغیرہ۔ ([14])
اسرائیلی روایات اور فلسفہ ٔ یونان کے اثرات
مسئلۂ نسواں کو دیکھنے کا دوسرا اہم زاویۂ نظر عورت کی شخصیت کے استخفاف اور نیم انسانی شکل میں اس کی صورت گری کی وہ ماقبل اسلام کی روایت ہے جس کے غیر معمولی منفی اثرات اسلامی فکری روایت پر مرتب ہوئے۔عرب کے سماجی عرف و عادت کے علاوہ اس خارجی عامل نے بھی عورت کی ذات و صلاحیت کی منفی شبیہ سازی میں اہم رول ادا کیا۔ عورت کے بارے میں یونانی فلسفہ کے نظریات اور بائبل کے بیانات سے تشکیل یافتہ یہودی و مسیحی ذہنیت کے دو آتشے نے عورت بحیثیت ’’فتنہ و شر‘‘ کے تصور کو جس طرح پروان چڑھایا،اس کے اثرات سے اسلامی فکری روایت کا محفوظ رہ جانا اس لیے بعید از قیاس ہے کہ اہل اسلام کے تمام حلقہ ہاے فکر اور علماے اعلام کا اس نقطے پر اتفاق ہے اور اس موضوع پر درجنوں ضخیم کتابیں موجود ہیں کہ کس طرح اسرائیلی روایات اور فلسفے کی اسلامی فکر میں در اندازی نے دینی فکر و فہم اور تعبیر کی روایت کو متاثر کیا۔مسلمان عورت کی کمتر شبیہ سازی سے متعلق حدیث کے ذخائر میں موجود متعدد کم زورروایات کو بعض اصحاب علم نے اسرائیلی اساطیری روایات سے تقابل کرتے ہوئے اسی ضمن میں رکھ کر دیکھنے کی کوشش کی ہے جس کا مطالعہ اہل علم کے لیے مفید ہے۔([15])
مشرق ومغرب اسلامی کا فرق
عورت سے متعلق اہل علم کے تحقیری موقف کوایک اور زاویے سے بھی دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلامی مشرق کے مقابلے میں اسلامی مغرب سے تعلق رکھنے والے اصحاب علم و اجتہاد کے درمیان عورت کی شخصیت اورعقلی صلاحیت کے حوالے سے رایوں میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ مشرق اسلامی کےعلما وافاضل روزگارکی اکثریت عورت کی عقلی قوت وصلاحیت کولائق اعتبار تصور نہیں کرتی۔ امام رازی جیسے اسلامی عقلیات کے نمائندہ مفکر اس آیت کی تشریح میں کہ ’’ اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کی طرف آرام پاؤ۔‘‘
(وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجاً لِّتَسْكُنُواْ إِلَيْھا الخ) (الروم،۲۱)؛
لکھتے ہیں:
قوله خَلَقَ لَكُم دليل على ان النساء خلقن كخلق الدواب والنبات وغير ذلك من المنافع۔
’’اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اس نے عورت کی شکل میں تمہارے لیے تمہارے جوڑے بنائے اس بات کی دلیل ہے کہ عورتوں کو جانوروں اورپیڑ پودوں وغیرہ کی طرح ہمارے منافع کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔‘‘([16])
ان کا خیال ہے کہ عورت اپنی ضعیف الخلقی میں بچے کی طرح ہے۔ اس لیے مناسب تو یہ تھا کہ اسے شرعی احکام کا مکلف ہی نہ کیا جائے، لیکن اسے اس لیے شریعت کا مکلف کیا گیا کہ ہم مردوں پر خدا کی نعمتوں کا اتمام ہو۔ وہ خدا کے عذاب کا خوف کھا کر شوہر کے تابع اور فرماں بردار رہیں۔ کیوں کہ اگر ایسا نہ ہو تو فساد پھیل جائے گا۔([17])اس’’ تعقل پسندانہ‘‘ تفسیر پر اس کے ماسوا اور کیا تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ وقت کے غالب ثقافتی سانچے میں ڈھلی ہوئی فطین عقلیں بھی کبھی بہت سادہ حقیقت کے ادراک سے قاصر رہ جاتی ہیں۔
دوسرا اہم حوالہ غزالی کا ہے۔ احیاء العلوم میں وہ لکھتے ہیں:
القول الشافي فيه أن النكاح نوع رق، فهي رقيقة له. فعليها طاعة الزوج مطلقاً في كل ما طلب منها في نفسها مما لا معصية فيه.
’’عورت پر مردوں کے حقوق کے بارے میں قول شافی یہ ہے کہ نکاح ایک طرح سے غلامی کا معاملہ ہے۔ عورت نکاح کے بعد باندی کی طرح ہوجاتی ہے۔ اس لیے شوہر جوبھی اس کی ذات کے حوالے سے طلب کرے، جس میں کوئی معصیت نہ ہو، تواس میں علی الاطلاق اس کی اطاعت اس پر واجب ہے۔‘‘([18])
اسی طرح اپنی دوسری کتاب’’التبر المسبوک فی نصیحۃ الملوک‘‘ میں لکھتے ہیں:
يجبُ على الرجالِ مُداراةُ النساءِ لنقصِ عقولِهنّ، وبسببِ نقصِ عقولِهنّ لا يجوزُ لأحدٍ أن يتدبّرَ برأيِهنّ ولا يلتفتَ إلى أقوالِهنّ. كلُّ ما ينالُ الرجلَ من البلاءِ والهلاكِ والمِحنِ فبسببِ النساءِ.
’’مردوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ عورتوں کے ساتھ مدارات کا اظہار کریں، کیوں کہ عورتیں نقص عقل کی شکار ہیں اور اس بناپر کسی کے لیے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ان کی رائے پر غور وفکر کرے اور نہ یہ جائز ہے کہ ا ن کے اقوال کی طرف توجہ دی جائے۔مردوں کوجوبھی آزمائش اور ہلاکت ومصیبت پیش آتی ہے، ا س کی وجہ عورت ہے۔‘‘([19])
بکثرت مفسرین(بیضاوی، نسفی،ابوالسعود وغیرہ) بھی یہ رائے رکھتے ہیں کہ آیت: فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ(النساء:۳) میں’’ مَن‘‘ (جو ذی عقل مخلوق کے لیے استعمال ہوتا ہے)کے بجائے ’’ مَا ‘‘ استعمال کیے جانے کی وجہ یہ ہے کہ عورت اپنی ناقص العقلی کی وجہ سے غیر ذوی العقول(عقل وشعور نہ رکھنے والی مخلوقات) کے مترادف ہے۔([20])
مشرق کے حوالے سے غزالی ورازی جیسےاسلامی عقلیات کے اساطین کی نسوانی شخصیت وصلاحیت کے بارے میں اقوال وآرا کا ذکر پیچھے گزرا۔لیکن اس کے مقابلے میں اسلامی مغرب کی صورت حال بہتر نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے بھی مثالوں کوپیش نظر رکھ کر پھر ان دونوں کے درمیان محاکمے کی ضرورت ہے۔ اس کی سردست دومثالوں میں سے پہلی مثال ابن رشد کی ہے۔ابن رشد جو فقیہ اور فلسفی دونوں تھے، اجتہاد کی زبان میں تو اس موضوع پر لب کشائی کی جرأت نہ کر سکے، تاہم فلسفیانہ زبان میں انہوں نے اس پر احتجاج کرتے ہوئے اپنی اصلاح پسندانہ فکر کا اظہار کیا۔ارسطو کی کتاب الطبیعات کی شرح میں ابن رشد لکھتے ہیں:
’’عورتیں مردوں سے اپنی طبعی صلاحیت کے لحاظ سے نہیں بلکہ مرتبے کے لحاظ سے (درجۃ لاطبیعۃ) مختلف ہیں۔ مردوں کی طرح ہی ان کے اندر جنگ لڑنے اور فلسفے میں اشتغال جیسی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں،البتہ ان میں مردوں کا درجہ ان سے بڑھا ہوا ہے۔(لیکن صلاحیت دونوں میں موجود ہے) تاہم بعض معاملات میں وہ مردوں سے بازی لے جاتی ہیں۔۔۔بعض افریقی ممالک کی مثالوں کو سامنے رکھ کردیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کے اندر میدان جنگ میں اپنا جوہر دکھانے کی بھرپور صلاحیت پائی جاتی ہے۔اور جمہوری حکومت کے منصب تک ان کا پہنچ جانا کوئی معجزہ نہیں ہے۔اس کا اندازہ اس حقیقت سے ہو سکتا ہے کہ کتوں کی طرح کتیا کے اندر بھی جانوروں کے ریوڑ کی حفاظت کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔([21])
۔۔۔ہماری اجتماعی حالت نے ہمیں اس لائق نہیں چھوڑا کہ ہم عورت کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کےامکانات کو واقعہ کی شکل میں دیکھ سکیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ صرف بچے جننے اورانہیں دددھ پلانے کے لیے ہی پیدا کی گئی ہوں۔(لم یخلقن لغیر الولادۃ وإرضاع الأولاد)اس غلامی کی نفسیات اور صورت حال نے عظیم الشان کاموں کی ان کے اندر پائی جانے والی صلاحیتوں کو فنا کر ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے درمیان کوئی بھی ایسی عورت نہیں پاتے جو اعلی اخلاقی فضائل سے آراستہ ہو۔ عورتوں کی زندگی اپنے شوہروں کی کفالت میں پودوں کی طرح گزرتی ہے۔ (تمر حياتهن كما تمر حياة النبات وهن في كفالة أزواجهن)یہی وجہ تو ہے ہماری بدحالی و بدبختی کی جو ہمارے شہروں کو نگلتی جارہی ہے۔اس لیے کہ ان شہروں میں عورتوں کی تعداد مردوں سے دو گنا ہے، لیکن وہ خود سے کسب معاش کر کے اپنی ضرورت پوری نہیں کر سکتیں۔‘‘([22])
دوسری مثال ابن حزم کی ہے۔انہوں نے شخصیت نسواں کوجس تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے اور جن الفاظ میں اس کی عقلی صلاحیت کوموضوع گفتگو بنایا ہے، وہ پہلی مثال کے بالکل برعکس ہے۔اس پرتفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کے نقص عقل سے متعلق احادیث اپنے ظاہر پر نہیں ہیں۔ ’’ورنہ اس سے یہ لازم آئے گا کہ: ’’تم(مرد) دین اورعقل میں حضرت مریم، حضرت موسی اور حضرت اسحاق کی والدہ اور حضرت عائشہ وفاطمہ سے زیادہ کامل اوربڑھ کرہو‘‘۔ ان کی نگاہ میں عورت کے نقص عقل ودین کا تعلق صرف انہی دو امور سے ہے، جن کا ذکر حدیث میں آیا ہے یعنی یہ کہ اس کی گواہی مرد کی گواہی کا نصف ہے اور وہ حالت حیض میں نماز وروزہ اد انہیں کرسکتی۔‘‘([23]) اہم بات یہ ہے کہ وہ عورت کی نبوت کے بھی قائل ہیں۔
علاقائی فرق واختلاف کے علاوہ کم ازکم ضمنی طور پر ہی سہی! لیکن اس مسئلے کواس زاویے سے بھی دیکھا جاسکتا ہےکہ ایک عالم ومجتہد کی خانگی زندگی اورشخصی احوال کا بھی اس کی فکری تشکیل میں بہت اہم رول ہوتا ہے۔ امام غزالی نےاپنی خانگی زندگی کو اپنے علمی مشاغل پر قربان کردیا تھا۔ اہل خانہ کو ان کے حال پرچھوڑ کروہ گیارہ سالوں تک علمی وعرفانی صحرا نوردی میں مشغول رہے۔ شاید اس لیے خواتین کے بارے میں ان کی رائے اچھی نہیں بنی۔اس کے مقابلے میں ابن حزم خواتین کے بارے میں بہت عمدہ رائے رکھتے ہیں۔ اس کی ایک یقینی وجہ یہ بھی ہےکہ ان کے اساتذہ میں متعدد خواتین بھی شامل رہی ہیں۔ چناں چہ اپنی کتاب’’طوق الحمامۃ‘‘ میں انہوں نے لکھا ہے کہ : میری تربیت عورتوں کے ہاتھوں ہوئی ہے اور جوانی کی عمر کوپہنچنے تک میرا واسطہ بنیادی طور پر عورتوں سے ہی رہا ہے اور یہ کہ میں نے عورتوں کا اتنا گہرا مشاہدہ کیا ہے کہ شاید ہی میرے علاوہ کسی نے کیا ہو‘‘۔([24])
خواتین کے مسائل :چند اصولی توضیحات
خواتین کے مسائل کے حوالے سے اصولی اور فقہی نقطۂ نگاہ دو نقطوں پر مرکوز نظر آتی ہے، عورت سے متعلق شرعی احکام کے استنباط وتفریع میں جن کا اہم رول رہا ہے۔ اول،عورت کی عقل و تفکر کی صلاحیت کو ناقابل اعتبار تصور کرنا۔دوم، نسوانی شخصیت کو مردانہ شخصیت کے مقابلے میں ادھوری اور غیر کامل سمجھنا۔ دوسرا پہلو جسے اس حوالے سے پیش نظر رکھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ عورت کے حوالے سے جو مسائل زیر بحث اور غور و فکر کے متقاضی ہیں،وہ دو طرح کے ہیں: مسائل کی ایک قسم وہ ہے جو نص کے براہ راست فہم پر مبنی نہیں ہے یا بالفاظ دیگر اس حوالے سے وارد نصوص اپنے ثبوت یاد دلالت میں قطعی نہیں ہیں۔ اس ضمن میں موضوع سے تعلق رکھنے والی بیشتر احادیث آتی ہیں جب کہ دوسرے موضوعات وہ ہیں جو نصوص قرآنی کے براہ راست فہم پر مبنی ہیں اور ان کی قطعیت میں کوئی شبہہ اور کلام نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ ان کے قطعی الدلالہ ہونے کے پہلو پر مختلف زاویوں سے بحثیں ہوتی رہی ہیں اور اسی لیے ان کے بعض پہلوؤں پر مکمل اتفاق کے ساتھ بعض دیگر پہلوؤں میں مفسرین و مجتہدین عظام کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ پہلے زمرے میں مرد کے مقابلے میں عورت کی دیت کی مقدار کا نصف ہونا اور اسلامی ریاست کی سربراہی کے لیے عورت کی نااہلیت جیسے مسائل، جب کہ دوسرے زمرے میں شہادت و وراثت جیسے مسائل زیر بحث آتےہیں جن میں عورت کا استحقاق مرد کے مقابلے میں نصف رکھا گیا ہے۔
جہاں تک پہلے زمرے کے مسائل کا تعلق ہے، ان میں سے بیشتر مسائل کی عصری تطبیق، خواہ چنداں تکلف و تاویل کے ساتھ ہی سہی، لیکن ممکن ہے اور اس کی نظیروں سے ہماری فقہی روایت بھری پڑی ہے۔ اس میں عموما جو مسئلہ پیش آرہا ہے وہ براہ راست نصوص و آثار کو مرجع فکر بنائے جانے اور ان کی تنقیح کے بجائے مجتہدین کرام کے اقوال و آرا پر بنیادی طور پر انحصار و ارتکاز کرنا ہے۔دیت کا مسئلہ اسی قبیل سے ہے۔ عورت کی دیت مرد کے مقابلے میں نصف ہے۔جمہور اسی کے قائل ہیں۔ حالاں کہ اس موقف کے حق میں نہ تو قرآن سے کوئی دلیل پیش کی جا سکتی ہے کہ اس میں مرد و عورت کے دیتوں میں فرق کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے اور نہ صحیح احادیث سے۔ اس سلسلے میں وارد تمام احادیث کم زورہیں۔([25])اپنے آپ میں یہ بات کچھ کم حیرت افزا نہیں کہ دیت میں تو اس کو صرف نصف کا مستحق قرار دیا گیا ہے تاہم قصاص کے معاملے میں اسے ناقص العقل ہونے کا فائدہ نہیں دیا گیا کہ اقدام قتل اس کی بے عقلی اور عاقبت اندیشانہ صلاحیت میں پائے جانے والے فطری نقص کا نتیجہ ہوسکتاہے۔
عصری تطبیق اور اس حوالے سے توجیہ و استدلال کا اصل مسئلہ ثانی النوع مسائل سے تعلق رکھتا ہے جن میں، جیسا کہ اوپر مذکور ہوا، بالخصوص عورت کی شہادت و وراثت کے مسائل ہیں۔ میرے خیال ناقص میں اول الذکر مسئلے میں توضرورت اس بات کی ہے کہ اس حوالے سے نظر و استدلال کی ترتیب پر نظر ثانی کی جائے، جب کہ ثانی الذکر مسائل میں مقاصد شریعہ کے نظری فریم ورک کو استعمال کرتے ہوئے ان احکام کی حکمت و علت کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ تھوڑے سے غور و فکر سے ان کی حکمت و علت بخوبی سمجھ میں آجاتی ہے۔وراثت میں عورت کے مقابلے میں مرد کا حصہ زائد رکھے جانے کی یہ توجیہ معقول ہے کہ خاندان کی مالی کفالت کا مکمل بوجھ مرد کے شانوں پر رکھا گیا ہے۔ یہ علت و حکمت ادنی غور و فکر سے بھی سمجھ میں آسکتی ہے۔ اسی پر دوسرے اس نوع کے مسائل کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔([26])
اسی طرح جمہور کی متفقہ رائے کے مطابق عورت کسی اسلامی ریاست کی سربراہ نہیں ہوسکتی۔ لیکن مستند اور علماے راسخین کی ایک بڑی تعداد اس کے برخلاف رائے رکھتی ہے۔ مولانا تھانوی کی نگاہ میں ایسی شخصی حکومت جس میں کلی اختیار شخص واحد کے ہاتھ میں ہو، صرف ایسی حکومت کی سربراہی کی ذمہ داری سے عورت کو حدیث میں منع کیا گیا ہے،جب کہ موجودہ عہد کی جمہوری حکومتوں میں قانون کی تشکیل وتنفیذ مجلس نمائندگان کے باہمی مشوروں سے ہوتی ہے،جوممنوعہ دائرے میں نہیں آتی۔([27])جیسا کہ اوپر مذکور ہوا،یوسف قرضاوی اور محمد الغزالی جیسے علما بھی اسی کے قائل ہیں۔ وہ ممانعت والی مذکورہ بالا حدیث (وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جس نے حکمرانی کسی عورت کے سپرد کی ہو)کو ایران کی مخصوص صورت حال پرمحمول کرتے ہیں، جہاں وراثتی نظام کے تحت باصلاحیت لوگوں کے رہتے ہوئے ایک عورت کوحاکم مطلق بنادیا گیا تھا۔([28])
خلاصۂ کلام یہ کہ مسئلہ نسواں فکر اسلامی کے لیے ایک اہم چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنی حساسیت ونزاکت کی وجہ سے یہ بلاشبہہ ایک دودھاری تلوار ہے، لیکن ضرورت ہے کہ اس مسئلے میں پائی جانے والی افراط وتفریط کی کیفیت ختم ہو اور فکر اسلامی اس تعلق سے واضح موقف اختیار کرے۔
کتابیات
- ابن حزم، ابو محمد علی بن احمد، الفصل في الملل والأهواء والنحل. ج ۳، القاهرة: شركةُ السحّارِ للطباعة والنشر، ۲۰۱۰
- ابن حزم، ابو محمد علی بن احمد، طوق الحمامة في الألفة والأُلّاف،بیروت: المکتبة العصریة، ۲۰۲۱
- ابو داؤد، سلیمان بن الأشعث السجستانی،سنن أبي داود
- احمد بن حنبل، أبو عبدِ اللهِ، المسند
- بخاری، محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح
- ترمذی، محمد بن عیسیٰ، سنن الترمذی( احادیث کے نمبرات ، ویب سرچ انجن’الباحث الحدیثی‘ کے مطابق ہیں)
- تھانوی، اشرف علی، امداد الفتاوی، ج ۵،کراچی: مکتبہ دار العلوم، ۲۱۰
- جاسر عودہ،علم مقاصد الشريعة: ایک تعارف. ترجمہ: الیاس نعمانی۔ امریکہ: المعہد العالمی للفکر الإسلامي، سن ندارد
- رازی، فخر الدین، مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر)، بیروت: دار الفکر للطباعة والنشر، ۱۹۸۱
- راشد الغنوشی، المرأة بين القرآن وواقع المسلمين،لندن: المرکز المغاربي للبحوث والترجمة، ۲۰۰۰
- رینان، إرنست ۔ ابن رشد والرشدية ، اصل فرانسیسی: Averroès et l’Averroïsme)، الترجمة: عادل زعیتر، القاہرۃ: دار إحیاء الکتب العربیة، ١٩٥٧
- غامدی، جاوید احمد، البیان. ج ۱، لاہور: المورد، ۲۰۱۰
- الغزالی، ابو حامد محمد بن محمد، إحياء علوم الدين،ج ۲۔ القاهرة: دار الحدیث، ۲۰۰۴
- الغزالی، ابو حامد محمد بن محمد، التبر المسبوك في نصيحة الملوك،بیروت: دار الکتب العلمیة،۱۹۸۸
- الغزالی، محمد، السنة بين أهل الفقه وأهل الحديث، القاهرة: دار الشروق، سن ندارد
- القرضاوی، یوسف،من فقه الدولة في الإسلام، القاهرة: دار الشروق، ۲۰۰۵
- مسلم، مسلم بن الحجاج النیسابوری، صحیح مسلم
- نسائی، أحمد بن شعیب، السنن الكبرى
- ناصر، محمد عمار خان، حدود و تعزیرات: چند مباحث. لاہور: المورد، ۲۰۰۸
- عثمانی، عمر احمد، فقہ القرآن،ج ۳، کراچی: ادارہ فکر اسلامی، ۱۹۸۶
- Fazlur Rahman. Islam and Modernity: Transformation of an Intellectual Tradition. Chicago: University of Chicago Press, 1982
حاشیہ
[1] – اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ہمدرد، نئی دہلی، 9990529353
[2] – مثلاً: ’’عورتوں سے مشورہ کرو اوران کےمشورے کے برعکس کرو۔‘‘ (السخاوی:مقاصد الحسنۃ)،’’عورتوں کی بات ماننا شرمندگی ہے۔‘‘ (ابن عدی: الکامل)’’مرد ہلاک ہوگئے جب انھوں نے عورتوں کی بات مانی۔‘‘( المستدرک)
[3] – طبرانی،۵۷۱۳،بیہقی،۲۴۵۳
[4] – چناں چہ مثال کے طور پر اس حدیث موضوع کی بنیاد پر علامہ خطابی کا موقف ہے کہ عورتوں کو لکھنا سکھانا مکروہ ہے۔
ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ: قلت یحتمل أن یکون جائزا للسلف دون الخلف لفساد النسوان فی هذا الزمان’’ میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے کہ عورتوں کو لکھنا سکھانا سلف کے لیے جائز (بدرجہ مکروہ) ہو، لیکن عورتوں میں پائے جانے والے فساد کی بنا پر اس زمانے میں وہ جائز نہیں ہے‘‘۔ (ملا علی قاری،المرقاۃ۳۶۴؍۸)
مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلوی کے نزدیک عورتوں کولکھنا سکھانا شرعاً ممنوع اورسنت نصاریٰ ہے اور ’’مستان سرشار کے ہاتھ میں تلواردینے کے مترادف ہے۔‘‘(فتاوی رضویہ، ج:۹، ممبئی : رضا ا کیڈمی،ص:۱۵۴)
مولانا خلیل احمد سہارنپوری لکھتے ہیں کہ عورت کو لکھنا سکھانے سے ممانعت والی حدیث اس صورت پرمحمول ہے جب اس سے عورت کے اندرفساد کا اندیشہ ہو۔(بذل المجھود فی حل سنن ابی داؤد، ج،۶،ص،۸)
سوال یہ ہےکہ پھر فساد اور بددینی کی بنیاد پر مرد کے لیے بھی اسے کیوں ناجائز تصور نہ کیا جائے؟
[5] – ابوداؤد،۳۸۸۷
[6] – عہد رسالت میں عورت کے سماجی مرتبے اور کردار کے مطالعے کے لیے دیکھیے: عربی میں عبدالحلیم ابوشقہ کی کتاب ’’تحریرالمرأۃ فی عصرالرسالۃ‘‘ (اس کا اردو میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے) اور اردو میں یٰسین مظہرصدیقی کی کتاب’’ نبی اکرم اور خواتین: ایک سماجی مطالعہ‘‘’ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔
[7] – بخاری،۳۰۴،مسلم،۸۰
[8] – بخاری، ۷۰۹۹، ترمذی،۲۲۶۲
[9] – ترمذی،۱۱۵۹
[10] – مسند احمد،۱۲۶۱۱۴،النسائی،۹۱۰۲،اس نوع کی بہت سی احادیث کوامام غزلی نے احیاء العلوم میں نقل کیا ہے۔ دیکھیے،احیاء علوم الدین،ج،۲، کتاب آداب النکاح، ص،۷۴۔۷۸
[11] – قرضاوی کے حوالے کے لیے دیکھیں: https://al-maktaba.org/book/31615/13516 اس پر نسبتاً ایک تفصیلی اور تحقیقی مقالے کے لیے دیکھیے۔ محمد ابواللیث الخیر آبادی،إشكالية نقصان عقل المرأة ودينها: دراسة حديثية فكرية، وحدة الأمة، اگست ۲۰۱۴ نیز مولانا عمر احمد عثمانی، فقہ القرآن : کراچی: ادارہ فکر اسلامی، ۲۰۰۳، ج،۳،ص: ۲۳۷۔۲۴۰
[12] – بخاری، ۱۹۱۳مسلم، ۱۰۸۰
[13] – ڈاکٹر جاسرعودہ ،علم مقاصد شریعت : ایک تعارف(عربی سے اردو ترجمہ الیاس نعمانی)امریکہ: المعہد العالمی للفکر الاسلامی، سن ندارد،ص،۶۸۔۶۹، بحوالہ: Haideh Moghissi, Feminism and Islamic Fundamentalism: The Limits of Postmodern Analysis. London: Zed Books, 1999, p.141
[14] – یوسف القرضاوی، من فقہ الدولۃ فی الاسلام،ص:۱۷۴۔۱۷۶، محمد الغزالی، السنۃ بین اہل الفقہ واھل الحدیث،ص،۵۶
[15] – اس طرح کے ایک مطالعے کے لیے دیکھیں، راشد غنوشی، المرأۃ بین القرآن و واقع المسلمین، ص،۱۵۵
[16] – فخر الدین رازی،التفسیر الکبیر، بیروت،دار الفکر للطباعۃ والنشر،۱۹۸۱،ص،۱۱۱
[17] – ایضاً
[18] – ابوحامد الغزالی، احیاء علوم الدین،القاھرۃ:دار الحدیث، ۲۰۰۴، ج،۲،ص، ۷۴
[19] – ابو حامد الغزالی، التبر المسبوک فی نصیحۃ الملوک،بیروت: دارالکتب العلمیۃ، ۱۹۸۸، ص،۱۳۰-۱۳۱
[20] – ان تفسیری اقوال کے لیے آیت مذکور کے حوالے سے متعلقہ تفاسیر کی مراجعت کریں۔
[21] – ابن رشد کی یہ دل چسپ مثال اس کی مشاہدات فطرت پر مبنی فلسفیانہ فکرکا پرتو ہے۔اس کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ظاہر ہے عورت کی حاکمانہ صلاحیت کے اثبات میں یہ دلیل منطقی طور پردرست نہیں ہے، کیوں کہ حیوانی جبلت اور انسانی جبلت اوراس کی عقلی وشعوری صلاحیت کے درمیان واضح فرق پایا جاتاہے۔
[22] – ابن رشد و الرشدیہ(فرانسیسی نام: Averroes Et L’Averroismeاز، ارنسٹ رینان،ترجمہ،عادل زعیتر، القاہرۃ: دار احیاءالکتب العربیۃ، ۱۹۵۷ ص، ۱۷۰- ۱۷۱، بحوالہ، الطبیعیات لارسطو ص،۵۰۱
[23] – ابو محمد ابن حزم،الفصل فی الملل والاھواء و النحل،ج،۳، القاھرۃ: شرکۃ السحار للطباعۃ والنشر،ص،۲۳۱
[24] – ابو محمد ابن حزم،طوق الحمامة فی الألفة والائتلاف،باب المساعد من الاخوان، بیروت: المکتبۃ العصریۃ، ۲۰۲۱،ص،۱۱۱
[25] – اس موضوع پر ایک معروضی مطالعے کے لیے دیکھیے، محمد عمار خان ناصر ، حدود وتعزیرات: چند مباحث، لاہور: المورد، ۲۰۰۸، ص،۹۸ وما بعد،عمر احمدعثمانی، فقہ القرآن(ج، ۳) کراچی: ادارہ فکر اسلامی، ۱۹۸۶،ص،۲۲۰ ومابعد
[26] – عورت کی شہادت کے مسئلے میں توجیہ و استدلال کے جو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، اس سے آج کے ذہن کو مطمئن کرنا آسان نہیں ہے۔ بعض اہل علم نے عورت کی گواہی کے نصف ہونے کو مالی معاملات کے ساتھ تخصیص کی کوشش کی ہے(البیان، جاوید احمد غامدی ج،۱،لاہور:المورد ،۲۰۱۰ص،۳۰۷) لیکن اس نوع کے استدلال پر متعدد سوالات و اعتراضات وارد ہوتے ہیں، جن کا جواب آسان نہیں ہے۔ڈاکٹر فضل الرحمن نے اس فکر کی ترجمانی اس طر ح کی ہے کہ یہ کہنا کہ عورت جس قدر بھی عقلی طور پر ترقی کرجائے اس کی گواہی مرد سے کم ہی رہے گی،قرآن کے سماجی ترقی کے نظریے کے بالکل خلاف ہے۔Islam and Modernity, The University of Chicago Press,2019 p.19
[27] – مولانا اشرف علی تھانوی ،امدا د الفتاوی،(ج،۵) کراچی: مکتبہ دار العلوم، ۲۰۱۰،ص،۱۰۴۔۱۰۵
[28] – یوسف قرضاوی، من فقہ الدولۃ، ص،۱۷۴، محمد الغزالی، السنۃ بین أھل الفقہ وأھل الحدیث، القاھرۃ: دار الشروق، سن نداردص،۵۶
Keywords: Human Rights, Objectives of the Shariah, Islam and Women, Renewal and Ijtihad, Circumstances of the Age, Western Civilization


اس مقالے کا بنیادی اختصاص تحقیقی نقد و نظر ہے _ البتہ مصنف نےاگر مغربی فیمنزم پر بھی اظہار خیال کیا ہوتا تو مقالے کے وقیع ہونے میں مزید اضافہ ہوتا _____